Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

غالب ثنائے خواجہؐ بہ یزداں گذاشتیم

Print Friendly, PDF & Email

چند برس قبل مدینہ منورہ میں ’’جستجوئے مدینہ‘‘ کے مصنف عبد الحمید قادری صاحب سے ملاقات ہوئی، بڑی حلیم اورعلیم شخصیت ہیں، ان سے دریافت کیا کہ سیرت کی کون سی کتاب پڑھنی چاہیے؟ انہوں نے ایک فارمولہ سمجھا دیا، سیرت کی کتابوں کے انتخاب کے سلسلے میں ہمیشہ کیلئے رہنمائی ہو گئی، کہنے لگے‘ جس کتاب کے چند صفحے پڑھنے کے بعد دل میں عشقِ مصطفیٰﷺ میں مدّ کی کیفیت پیدا ہو‘ سمجھ لو یہ کتاب فائدہ دے گی، جس تحریر سے تمہارا مدّھ بھرا کیف جزر کا شکار ہو جائے‘ اسے ایک طرف کر دو۔ 
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے ” مؤرخ بدل گیا تو تاریخ بدل جائے گی”۔ سیرت محض تاریخی واقعات کا تسلسل نہیں، بلکہ ہمارے ایمان اور عشق کی کیفیات کا بھی ایک تسلسل ہے۔ سیرت نویسی ٗتاریخی واقعات کا خام مال لے کر سبب اور نتیجے کی کڑیاں ملانے کا نام نہیں، بلکہ سیرت نگاری کی کڑیاں ہمارے ایمان سے جڑی ہوئی ہیں۔ جہاں رہنمائی براہِ راست وحی کے تابع ہو‘ وہاں کسی سبب کی کیا مجال کہ سبب اور نتیجے کی اندھی دنیا میں لگے بندھے نتائج پیدا کرنے کی کوشش کرے …اوراَمر کے منافی کوئی نتیجہ پیدا کرے۔ “کرن کرن سورج” میں حضرت واصف علی واصفؒ ایک جگہ فرماتے ہیں ” منافق وہ بھی ہے …جس کو اپنے سے بہتر کوئی انسان نظر نہ آئے، جو اپنے دماغ کو سب سے بڑا دماغ سمجھے ، جو یہ نہ سمجھ سکے کہ اللہ جب چاہے‘ مکڑی کے کمزور جالے سے بھی ایک طاقتور دلیل پیدا فرما سکتا ہے‘‘


سیرت کے حوالے سے واقعات کی ترتیب ہمارے ایمان کا تعین نہیں کرتی ، بلکہ ہمارااُس ذاتِ پاکؐ کے ساتھ تعلق تاریخی واقعات کی اہمیت اور معنویت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ تعلق ہی ہمارے ایمان کی اساس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کی دنیا میں صداقت کسی معروضی ، تاریخی اور سائینسی حقیقت کا نام نہیں، بلکہ صداقت کا تعلق براہِ راست انسان کے ساتھ ہے۔کسی سائینسی حقیقت کی دریافت اور دینی حوالے سے صداقت کی پہچان میں فرق ہوتا ہے۔ حقیقت پر ایمان لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کسی سائینسی کلیے کی دریافت آپ بے دین ہوکر بھی کر سکتے ہیں ،لیکن صداقت تک رسائی صادقؐ پر ایمان لائے بغیر ممکن نہیں۔ ہر صداقت حقیقت بھی ہوتی ہے لیکن ہر حقیقت لازم نہیں کہ صداقت بھی ہو۔ نیوٹن کے کلیات کو سائینسی حقیقت کہا جائے گا ٗ کلیۂ صداقت نہیں۔ ان کلیات کوجاننے اور پرکھنے کیلئے نیوٹن کی شخصیت کو ماننا ضروری نہیں۔اس کے برعکس “اعمال کا دارومدار نیت پر ہے” یہ قول صداقت ہے ۔۔۔۔کیونکہ قولِ صادقﷺ ہے۔ اِس اصول کو جاننے کیلئے لامحالہ ہمیں اصول دینے والی شخصیت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ سائینس میں جاننا کافی ہوتا ہے ٗ ماننا ضروری نہیں۔دین میںماننا پہلی شرط ہے… جاننا ٗ ماننے کا ثمر ہے۔ واصف علی واصف ؒ کا قول ہے ” سچ وہ ہے ٗ جو سچے کی زبان سے نکلے”۔ گویا صداقت کسی حسابی کتابی کلیے کی دریافت کا نام نہیں،بلکہ انسان کا خیال اور احساس صداقت کے منظر نامے کا اہم حصہ ہے۔ نظارہ …اسباب و علل کا نہیں‘ دیکھنے والی آنکھ کا بھی محتاج ہے۔ صداقت محض دماغ میں جاری تجرباتی اور تجزیاتی عمل کا حاصل وصول نہیں ،بلکہ محسوس کرنے والے دل کی داستان بھی ہے۔ آگہی… ذات کا ذات کے ساتھ تعلق کا ماحاصل ہے۔صداقت تحقیق سے نہیں ٗ تسلیم سے میسر آتی ہے۔ ایمان دلیل کا نہیں‘ دل کا سودا ہے۔ کسی مستشرق کی لکھی ہوئی سیرت اور ایک عاشقِ رسولؐ کی سیرت نگاری میں وہی فرق ہے جو قرآن کو ڈکشنری کی مدد سے پڑھنے اور صاحبِ قرآنؐ کی مدد سے پڑھنے میں صاف دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں کچھ عرصے سے ایک عجب بدعت نے جنم لیا ہے، سیرت النبیؐ کے حوالے سے غیرمسلم مشاہیر کے اقوال بڑھ چڑھ کر بیان کیے جاتے ہیں ۔

 
سوال یہ ہے کہ یقین اور ایمان کے باب میں ایک غیر مسلم کی بات مسلم کیلئے سند کیسے ہو سکتی ہے۔ ہاں! غیر مسلم دنیا میں اُن کے مشاہیر کے اقوال انہیں جی بھر کر سنایئے تاکہ اُن پر کھلے کے دینِ حق کے بارے میں اُن کے بڑوں کی بے لاگ رائے کیا تھی۔ اسی طرح ہم کسی دینی حکم کی حکمت سائینس میں تلاش کرنے کودین کی خدمت سمجھتے ہیں… یہ طرزِ فکر ٗ ایمانی فکر کی کمزور ی ہے۔ سائنس کی مدد سے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے والا ٗ عملی طور عقل کو قلب پر فائق قرار دیتا ہے۔ دراں حالیکہ ٗجائے ایمان قلب ہے ٗ عقل نہیں۔ عقل محتاجِ دلیل ہے… اور ایمان کے باب میں دلیل کے کمزور ہونے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہر دلیل کے مقابلے میں ایک دلیل موجود ہے۔ یہ دعویٰ غلط ہے کہ میں خدا کواِس لئے مانتا ہوں کہ مجھے خدا کے نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیںملی۔ اس دعوے میںزعمِ عقل بول رہا ہے۔ دل میں محبت جاگزیں نہ ہو ٗتو انسان محققانہ انداز سے لاکھ تفسیریں پڑھ لے ٗ مدعائے قرآن اُس پر وارد نہیں ہوتا۔ ایک اور بدعت جو آج کل بڑے زوروں پر ہے ٗ وہ قرآن فہمی کے نام پر اُمت کو صاحبِ قرآنؐ سے دُور کرنے کی کوشش ہے۔ آئے روز لوگ فرقہ پرستی پر لعنت بھیجتے ہوئے ایک نیا فرقہ تشکیل دیتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو

 
قرآن کو صاحبِ قرآنؐ کی مدد سے سمجھنا چاہیے اور صاحبِ قرآنؐ کی سیرت قرآن میں تلاش کرنی چاہیے۔ اُمّ المومنین حضرت عایشہ صدیقہؓ سے رسولِ کریمؐ کے اخلاقِ حسنہ کی بابت دریافت کیا گیا، آپؓ نے رہتی دنیا تک رہنمائی کرنے والا ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ’’ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا‘‘؟ قرآنِ پاک شاہد ہے ’’وانّکَ لَعَلیٰ خْلقٍٍ عظیم‘‘۔ گویا قرآن جس اِخلاق و کردار کا تقاضا کرتا ہے، وہ اخلاقِِ محمدیؐ ہے…اتباع ِسنت دراصل کردارِ محمدیؐ کا اتباع ہے۔” صبغۃ اللہ “کی تشریح اخلاق و کردارِ عالی جنابؐ کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ غور کرو، قرآن نازل ہونے سے پہلے بھی آپؐ کا کردار عین اسلام تھا، اب یہ کہو کہ نزولِ قرآن سے قبل بھی آپ ؐکی زندگی عین اسلام تھی ، یا پھر یہ کہو کہ اللہ نے آپؐ کی زندگی کا نام اسلام رکھ دیا … ’’اِنّ الدّین عند اللّٰہ الاسلام‘‘ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔ 
جس طرح محبت کے بغیر نعت کہنا ممکن نہیں ٗاس طرح محبت کے بغیر سیرت نگاری بھی ممکن نہیں۔ عارفین اسی محبت کو جوہرِ ایمان کہتے ہیں۔ یہی عیار(کسوٹی) معیارِ دین ہے۔حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک نعتیہ شعر ہے:
دین کیا ہےعشقِ احمدؐ کے سوا 
دین کا بس اک یہی معیار ہے 
بات مدینہ منورہ حاضری سے شروع سے ہوئی تھی…ہر بات وہیں بنتی ہے۔ تقویٰ کا ایک مفہوم روضہ پاک کی حاضری کے سمے کھلا۔ جالیوں کے سامنے سلام کرتے ہوئے خیال القا ہوا کہ تقویٰ تکریمِ نبیؐ کا نام ہے۔ اب تجسس ہوا کہ اس خیال کی سند کہاں سے ملے، کچھ ہی عرصے بعد سورۃ الحجرات کی یہ آیت نظروں کے سامنے ضو فشاں ہوئی تو اس خیال کی تصدیق ہو گئی۔ اِنَّ الَّذِینَ یَغْضّْونَ اَصوَاتَْھم عِندَ رَسْولِ اللہ اْولاَٰئَک الَّذِینَ امتَحَنَ اللَّہْ قْلْوبھْم لِلتَّقوَی، لَھْم مَّغفِرَۃ وَاَجر۱ً عَظِیما …بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنی آواز کو اَدب کے سبب اللہ کے رسولؐ کے حضور مدھم کیا ٗان کے دلوں کا تقویٰ اللہ نے جانچ لیا، ان کیلیے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے۔ متجسس ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے دور میں اس آیت کا مفہوم کیسے متعین ہوگا، قرآن آفاقی ہے تو اس کے احکام کا اطلاق بھی تا قیامت ہے۔ اس کا عملی مفہوم آج کے دور میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اپنی رائے کی آواز احکامِ شریعت ِ محمدیؐ پر حاوی نہ ہونے پائے، عقل خواہ نورِ عقل ہی کیوں نہ ہو‘ اسے نورِ ایمان پر ترجیح نہ دی جائے، کسی اور نظام کو اللہ اور اس کے رسولؐ کے لائے ہوئے نظام پر فوقیت نہ دی جائے… یہ تکریمِ رسولؐ کا تقاضا ہے۔


قرآن کو صاحبِ قرآنؐ کی سیرت کی روشنی میں پڑھنا چاہیے اور سیرت کو قرآن کی آیات کی مدد سے پڑھنا چاہیے … یہی ہے وہ مستحسن انداز ٗجو جوہر آباد خوشاب سے موصول ہونے والی سیرت کی کتاب “پیغامِ حبیب ِ کبریاﷺ” میں اپنایا گیا ہے۔ کتابِ مذکور کے مؤلف جناب محمدسرور رانانے کم و بیش ہر واقعے کا سیاق و سباق قرآنی آیات سے اخذ کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ کتاب سیرت کے الم تا والناس سب پہلوؤں کا تذکرہ نہیں کرتی لیکن یہ ایک اپنی سی کوشش ہے، رب تعالیٰ اس کاوش کو قبول اور مقبول کرے۔ مستقبل کے سیرت نگاروں کو اس کتاب کی صورت میں ا یک مختلف زاویۂ نگاہ میسر آئے گا۔ این سعادت بزورِ بازو نیست … سیرت نگار واقعہ نگاری نہیں کرتا بلکہ حسن نگاری کرتا ہے …اوراِس طور وہ روحِ اِسلام کی مشاطگی کرتا ہے۔ جس طرح نعت کا ایک مصرع کسی نعت گو کی بخشش کیلئے کافی ہوتا ہے‘ بعینہٖ سیرت نگاری کا ایک جملہ کسی سیرت نگار کی بگڑی بنانے کیلئے کافی ہوسکتا ہے۔ برسبیلِ تذکرہ ٗ ہمارے ہاں ایک روایت رہی ہے کہ بزرگوں کے وصال کے بعد عالم رویا یا کشف میں اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ اللہ نے اُن کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا۔ حضرت فرید الدین عطارؒ کی” تذکرۃ الاولیا” میںبہت سے بزرگوں کے ایسے واقعات درج ہیں۔حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے ساتھ بھی ایسا واقعہ منقول ہے، بعد اَز وصال اُن کے ایک محب کا رابطہ ہوا، تو اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت بتلائیں ٗ حضرت ِ حق کے حضور کیا معاملہ پیش آیا، علامہؒ فرماتے ہیں کہ بس ایک نعت کے مصرعے نے قسمت یاوری کی ٗوگرنہ حسابِ زیست بہت سخت تھا، علامہ اقبالؒ کا وہ زبان زدِ عام نعت کا مصرع یہ تھا: 
ع لوح بھی توؐ قلم بھی توؐ ، تیراؐ وجود الکتاب
خالقِ کون مکان کا اِرشاد… بصورتِ حدیث ِ قدسی… ہر صاحبِ ایمان کا جزوِ ایمان ہے … “لولاک لما خلقت لافلاک “( اگر آپؐ نہ ہوتے تو زمین و آسمان پیدا ہی نہ کیے جاتے)۔ وجۂ تخلیق ِ کائنات آپؐ ہی کی ذاتِ والا صفات ہے …اسلیے جو بھی خوش نصیب نظم اور نثر کسی بھی صورت توصیف ِ پیغمبرؐ میں مشغولِ حق ہے ‘ وہ درحقیت مقصدِ تخلیق کائنات کا تائید و تصدیق کندہ ہے … وہ شاہد ِ فطرت بھی ہے اور معاونِ فطرت بھی۔ “فاطر السموٰاتِ والارض” ایسے شاہدین کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ مبارک ہیں ٗوہ جنہیں سیرت نگاری کی توفیق میسر آئی… جن کے قلم ‘ نگار ِ دین میں قلم ہوئے، جن کی قلم کاری نے قلوب کی آبیاری کی … اور اُن کی سعئ حمیدہ نے ذوق اور شوق کے ایسے قافلے تیار کیے جو سوئے مدینہ و نجف رواں ہیں۔ 
اُس ناطقِ قرآں کی مدحت انسان کے بس کی بات نہیں
ممدوح ِ خدا ہیں وہ واصفؔ ، صد شکر کہ ہم ہیں گداؤں میں
یہ نقطۂ عجز وعرفان غالب ؔ پر بھی کھلا ٗ وہ بھی پکار اٹھا: 
ثنائے خواجہ ؐ بہ یزداں گذاشتیم 
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐ است

یہ بھی پڑھئے:   علامہ اقبال اردو کی ادبی آفاقیت کے نقیب | سہیل انجم (انڈیا) - قلم کار

اس کالم کے عنوان میں غالب کے شعر کادوسرا مصرع لفظ بہ لفظ پانے کی جستجو میں غالب کا دیوان کیا کھولا کہ گنجینۂ معانی ہی کھل گیا۔ خیال وارد ہوا ٗغالبؔ کی یہ معروف و بیش قیمت نعت محو ہوتی ہوئی یادداشتوں میں اَزسرِ نَو ثبت کرنے کا اہتمام کیا جائے ، چنانچہ احبابِ ذی ذوق کی ضیافت قلب و نظر کیلئے نعت کے سب اشعار ترجمے کے ساتھ پیش کیے دیتے ہیں:

حق جلوہ گر، زطرزِ بیان محمد است
آرے کلام حق، بزبان محمد است
( خدا محمدﷺ کے حسنِ بیان سے جلوہ گر ہوتا ہے ،جی ہاں! محمد ﷺکی زبان پر ہی خدا کا کلام ہے)

آئینہ دارِ پرتو مہر است ماہتاب
شانِ حق آشکار زشان ِ محمد است
( چاند ٗ سورج کے جلوے کا آئینہ دار ہے، اور خدا کی شان محمدﷺ کی شان سے آشکار ہے)

تیر قضا، ہرآئینہ در ترکش حق است
اما ، کشادِ آں زمکان محمد است
( بلاشبہ تیرِ قضا ٗترکش ِ حق میں ہے ، لیکن اسے چلانے کے لئے محمدﷺ کی کمان ہوتی ہے)

ہرکس، قسم بہ آنچہ عزیز است، می خورد
سو گند ِ کردگار، بجان محمد است
( ہر ایک اپنے عزیز از جاں دوست کی قسم اٹھاتا ہے ، اور خدا (قرآن میں) محمدﷺ کی جان کی قسم کھاتاہے)

واعظ حدیث سایۂ طوبیٰ فرو گزار
کاینجا، سخن ز سرو ِ روان ِ محمد است
( اے واعظ !سایہ طوبیِٰ کی بات چھوڑ کہ یہاں سرو ِ روان ِ محمد کی بات ہو رہی ہے)

بنگر دو نیمہ کشتن ِ ماہ تمام را
آن نیز نامور زنشان محمد است
( پورے چاند کے دو ٹکڑے کرنے کو دیکھ ، چاند بھی محمدﷺ کے نشان کرنے سے معروف ہوا ہے)

غالبؔ ثنائے خواجہ ؐبہ یزداں گذاشتیم
کان ذات ِ پاک مرتبہ دان ِ محمد است
( غالبؔ! ہم نے خواجۂ دوجہاںﷺکی مدح کو خدا پر چھوڑ دیا کہ وہی ذات پاک ہے جو محمدﷺ کا مرتبہ جانتی ہے)



Views All Time
Views All Time
195
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: