Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

اپنے یوم پیدئش پر احباب ذی مقام کے پیغامِ تہنیت کے شکریے کے ساتھ یوم ِ پیدائش

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے ہاں یوم ِ پیدائش پر مبارک سلامت کہنا اور وصول کرنا معمول ہے، میں بھی اپنے یوم ِ پیدایش پر مبارک سلامت سن رہا ہو ں … لیکن بوجوہ وصول نہیںکر پا رہا۔ خوشی کی بجائے ایک عجب اداسی ہے جو بال کھولے میرے شانۂ فکر پر سو رہی ہے۔ دراصل خوشی جب تک سرخوشی میں تبدیل نہ ہو‘ مزید اداس کر دیتی ہے۔ اپنے یومِ پیدایش پرمبارکباد وصول کرنے سے پہلے مجھے یہ معمہ حل کرنا ہے …آیا میرے پیدا ہونے کا مقصد پورا ہو گیا ہے؟ کیا میں اپنے مقصدِ تخلیق سے ہم آہنگ زندگی بسر کر رہا ہوں؟ اگر حال پر اِس کا جواب نفی میں ہے‘ تو ظاہر ہے مستقبل میں بھی اس سوال کا جواب اثبات میں ہونے کے امکانات کم ہیں۔ زندگی برائے زندگی تو اسی طرح ہے‘ جس طرح لفظ برائے لفظ!! جس طرح لفظ کا مقصدِ وحید معانی کی ترسیل ہے‘ اسی طرح اِس جہان میں آنے کا واحد مقصد جہانِ معانی تک رسائی ہے…کہ جہانِ معانی ہی جہانِ معرفت ہے…اگر یہاںتک رسائی نارسائی کے ہم معنی رہے تویہ کارِ دنیا بیکار ہے… زندگانی بیگار ہے … اور موت ایک گہرے اندھیرے کی پکار ہے۔ زندگی ایک ہی مرتبہ ملتی ہے…اگر اسے موت سے نہ بچا سکے ‘ تو سمجھو پردۂ خاک پر خاک جیے۔ موت یہ نہیں کہ سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے‘ بلکہ موت یہ ہے کہ تعلق کی مالا ٹوٹ جائے!! عدم توجہ ، یقین کی کمی اور عمل کی کوتاہی ‘ اس بندھن کوکمزور کر دیتے ہیں ‘جسے تعلق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔


والدین عالم ِ اسباب اور اجسام میں اس جسم کو برآمد کرنے کا سبب تھے۔ اساتذہ اس جسم میں روح کو بیدار کرنے کاباعث ہوئے۔ اساتذہ میں وہ تمام اہلِ علم اور قلم، فلسفی ، دانشور اور صاحبانِ رشد و ہدایت شامل ہیں‘ جوکبھی براہِ راست اور کبھی اپنی تحریروں کی وساطت سے مجھ سے مخاطب ہوتے رہے…اور اس روحِ ناتواں کی ربوبیت کرتے رہے۔ یہ سلسلہ جاری رہا … یہاںتک کہ عالمِ شباب میں مسبب الاسباب کی ذات نے… کہ جس کا ہر کام ایک ازلی حکمت کا پیام بر ہوتا ہے… ایک ایسی ذات سے متعارف کروا دیا جو خود سے تعارف کا زینہ ثابت ہوئی۔ سچ پوچھیں تو ایسی ذات سے تعارف بجائے خود بمنزلہ حصولِ منزل ہے۔ مرشدِ کامل کسی کو کامل نہ بھی کرے تو اسے اپنی تکمیل کا راستہ ضرور دکھا دیتا ہے۔ پھر خود شناسی کے سفر میں جمع و تفرقہ اور نفع و نقصان مسافر کی اپنی افتادِ طبع اور مقدر پر منحصر ہے۔ وہ نقطہ جو علم کا ماخد و منبع ہے‘ اگربصورت ِانسان میسر آجائے تو انسان بجا طور پر لائیبریریوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ایک سجدے کی طرح بسا اوقات ایک محفل بھی ہزار محفلوں سے آدمی کو نجات دیتی ہے۔ اگر مقدور ہو‘ اوروہ ’’اِکّوالف ‘‘پڑھنے کی سعادت میسر آجائے …توبابا بلّھے شاہؒ کہتے ہیں… چھٹکارا مل جاتا ہے‘ کتابوں اور بحثوں کے نہ ختم ہونے والے جنجال سے!!

یہ بھی پڑھئے:   دودن کے سفر کی باتیں


کسی طوریہ یقین کمال کو پہنچے کہ میں آج بھی اتنا ہی مجبورِ محض ہوں ‘ جتنا آج سے نصف صدی قبل اسی ماہ کی تاریک رات کے ایک مخصوص سمے میں تھا۔ میں آج بھی اُن ارباب کا محتاج ہوں ‘ جنہیں قدرتِ کاملہ نے میری ربوبیت کیلئے مقرر کیا ہے۔ میری قوت‘ کمزوری کا فسانہ ہے، میرا علم‘ کم علمی کی داستان ہے …اورعمل ‘ کوتاہی عمل کے سوا کچھ نہیں۔ باہر نعمتیں اتنی کہ گنتی سے باہر، اندر ندامتیں اس قدر کہ شمار میں نہیں… زندگی میں جو کچھ حاصل ہوا‘ استعداد اور استحقاق سے بڑھ کرتھا…عمل کی صورت میں جو کچھ بھی کیا‘ وہ جملہ فرائض سے بھی کم تھا… نیکی حالات کا جبر تھی، برائی بزدلی کے سبب جامۂ وجود سے باہر نہ نکلی … یوں ہم پارسا ٹھہرے …اور یہ پارسائی بھی آرزؤئے پارسائی کے سوا کچھ نہ تھی!

انسان اس دنیا میں اپنی شناخت پانے کیلئے آتا ہے… ایسی شناخت جو قبر کے اندھیروں میں گم ہو کر نہ رہ جائے ‘ بلکہ موت کے بعد بھی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اظہر من الشمس ہوتی رہے!! یہ پہچان ایک نسبت سے متعین ہوتی ہے۔ آزاد اور فری لانس فکر ہو یا شناخت‘ سلسلۂ روز و شب اِسے فنا کر دیتا ہے…وقت کے دھندلکوں میں یہ شناخت دھندلا جاتی ہے…لیکن اس بے ثبات کارِ جہاں میں ثبات اور اثبات کا راز اقبالؒ نے پایا ‘اور بیان کر دیا:
ہے مگر اس نقش میں رنگِ ثباتِ دوام 
جس کو کیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام 
آج صبح ایک مردِ خدا کے دربارِ اقدس میں حاضر ہوا، اپنی نصف صدی کی کتاب پیش کی، اوراس کی تصحیح کی درخواست بھی … ماضی کا واسطہ دیا… کہ جس طرح آج سے ۳۴ برس قبل آپ نے اس نادان طالب علم کی زندگی کی پہلی کتاب “پہلی کرن” کی لفظ بہ لفظ اصلاح کر دی تھی، اس کی کتابِ زندگی کی بھی تصحیح فرما دیں… یہ کرم بارِ دگرفرما دیں… تاکہ زندگی بچ جائے … اِس ظاہری نسبت کو باطنی نسبت بھی عطا کیجئے… اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے!! آپؒ نے اسے اپنی پہچان دی…اپنا حوالہ اور شناخت دی… اب مابعد کے منظر میں اسے پہچاننے سے انکار نہ کیجیو گا!!
مرشدی واصف علی واصفؒ اپنی محافلِ گفتگو میں حکایاتِ رومیؒ سے اکثریہ حکایت بیان کیا کرتے تھے۔حکائت نماحقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک سوداگر چین کے سفر پر روانہ ہونے لگا تواپنے گھروالوں سے پوچھا‘ کیا تحفہ لے کر آؤں ، سب نے اپنی پسندیدہ چیزیں گنوا دیں، اسی گھر میں روز و شب کی تیلیوں سے بْنے ہوئے قفس میں ایک طائرِ خوش آواز بھی موجود تھا، اس نے درخواست کی کہ چین کی سرحد کے قریب ایک جنگل سے تمہارا گزر ہوگا‘ وہاں ہمارا گرو طوطا اپنے قبیلے کے ساتھ قیام پذیر ہے، اسے میرا سلام پیش کر دینا اور یہ کہنا‘ اے آزاد فضا کے شاد کام پنچھی! تمہارا وہ چیلا تمہیں سلام کہتا ہے جو تماری آزاد فضاؤں سے بہت دُور دانے دنکے کی قید و بند میں گرفتار ہے۔اپنے گرو تک میرا سلام پہنچ جائے ‘ یہ میرے لئے ایک تحفے سے کم نہیں۔ دمِ واپسیں‘ تاجر نے سب کیلئے تحائف لیے اور جاکر اپنے گھروالوں کو دیے۔ پنجرے میں بند طوطے نے پوچھا‘ میرے سلام کا جواب کیا ہوا؟ تاجر نے کہا‘ عجب واقعہ ہوا۔ میں نے تمہارا سلام پہنچایا اور دیکھا کہ گرو طوطا سلام سنتے ہی پھڑپھڑا کر گرا اور مر گیا۔ تاجر کی زبانی اِس پیغام کا سننا تھا کہ قفس عنصری کا قیدی پرندہ بھی پھڑپھڑانے لگا اور گر کر مر گیا۔ تاجر نے کفِ افسوس ملتے ہوئے پنجرے کا دروازہ کھولا اور اسے باہر پھینک دیا۔ وہ طائرِ لاہوتی یکدم فضا میں بلند ہوا اورایک شاخِ بلند پر جا کر سرمدی نغمہ الاپنے لگا۔ تاجر نے متعجب ہو کرپوچھا‘ یہ کیا ہوا؟۔ پرندہ بولا‘ مجھے اپنے گرو کا پیغام مل گیا تھا، پیغام یہ تھا کہ رہائی چاہتے ہو تو مرنے سے پہلے مر جاؤ!

یہ بھی پڑھئے:   وہ دھماکہ کریں،تم کلچر کو پابند سلاسل - عامر حسینی


درحقیقت اپنے گرو سے یہی پیغام ہمیں بھی وصول ہوا تھا … لیکن اس پر عمل کرنے کا حوصلہ اور جرأت کسے ندارد!! آپؒ کے وصال کے بعد میں اپنے ایک رفیقِ طریق علی فراز عابدی سے کہا کرتا تھا ‘ علی بھائی! گرو طوطے نے مر کر دکھا دیا ہے! 
جب تک مرنے کا سلیقہ نہ آئے ‘ جینے کا طریق بھی نہیں آتا۔ انسان حوادثِ زمانہ کے زیرِ اثر‘ ہوا و ہوس کے تھپیڑوں میں‘ خس و خاشاک کی طرح سطحِ آب پر تیرتا رہتا ہے… اسے صرف ظاہر سے کام ہے، باطن سے کچھ علاقہ نہیں!! وہ اسی حرکت اور حرکتوں کو زندگی اور آزادی سے تعبیر کرتا ہے۔مدعا طویل ہے اور مہلت مختصر!! پس! اپنے یوم پیدائش پر مبارکباد وصول کرنے کا حق اسے حاصل ہے جو اپنے یومِ وصال پر بھی مبارک وصول کر سکے…اور دمِ آخر یہ کہہ سکے: 
ع شادم از زندگی خویش کہ کارے کر دم

Views All Time
Views All Time
111
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: