قدر اور قدر شناسی

Print Friendly, PDF & Email

ایک نقطے نے محرم سے مجرم کر دیا۔۔۔۔۔ گزشتہ مضمون میں ایک جملے میں محجوب کی جگہ محبوب لکھا گیا، جملے کا مفہوم ہی الٹ ہو گیا۔۔۔۔ قلم کا سہو تھا، خیال کا نہیں۔ مزید یہ کہ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے ایک قول میں لفظ “نوازشات” کی جگہ “نعمتوں” لکھا گیا۔ یادداشت پر بھروسہ درست نہیں۔ مشاہیر ملت کا لفظ لفظ ہمارے پاس امانت ہے، اس میں کسی لفظ کا رد و بدل نہیں ہونا چاہے۔ جملے کی تصحیح کی غرض سے “کرن کرن سورج” کی ورق گردانی کے دوران میں ایک اور خوبصورت جملہ نظر سے گزرتا ہوا دل میں اتر گیا، یہ جملہ بھی زیرِ نظر مضمون میں نفسِ مضمون کے ساتھ حسبِ حال ہے، سنئے اور سر دھنیے ” دعا سے حاصل کی ہوئی نعمت کی اتنی قدر کریں جتنی منعم کی۔ حاصلِ دعا کی عزت کریں۔ دُعا منظور کرنے والا خوش ہو گا” سو ، کچھ الفاظ کی تصحیح کے ساتھ احباب کی خدمت میں گزشتہ روز کا مضمون ایک اشاعتِ مکرر 

انسان ایک قدر ہے ، مقدار نہیں۔ ستم یہ ہے کہ اس نے خود کومقدار سمجھ لیا …اور مقدار کی دنیا کیلئے ہی خود کو وقف کر دیا … حالانکہ مقدار کی دنیا ٗ اِس کو ایک قدر کی حیثیت سے جانتی ہے ۔ مقدار کی دنیا’ مادّہ وقت اور توانائی کی دنیا ہے… دنیا کو اِنسان کی قدر کرنے اوراِس کی خدمت کرنے پر مامور کیا گیا ہے ‘ لیکن یہ پگلا دنیا مسخر کرنے چلا ہے… اس کے لیے تو دنیا پہلے دن سے مسخر کر دی گئی ہے۔ جب اسے مسجودِ ملائک ٹھہرایا گیا تو یہ ٹھہر گیا کہ ارض و سما کی کوئی شئے اس کے دستِ طلب کے سامنے مزاحمت نہیں کرے گی۔ اگر زمین کا کوئی نامعلوم خطہ انسان کی سیاحت ارضی کے درمیان دریافت ہو جائے تو کیا وہ خطہ” مسخر” ہوجاتا ہے۔ خلا اور چاند میں قدم رکھنے سے انسان اگر خلا کو مسخر کرنے کا دعویٰ کرے تو دل کے خوش رکھنے کو غالباً یہ خیال اچھا ہے۔ کائناتی قوتوں کو حکم ہے کہ انسان کی طلب اور ضرورت پر لبیک کہیں۔ خادم حکم کے انتظارمیں ہوتے ہیں ‘ انہیں مسخر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مخدومِ دنیا’ پرستارِ دنیا ہوگیا… ظلم ہے ، ستم ہے!! ظلم اندھیرا ہوتا ہے، ظلم کے عالم میں انسان اندھیرے میں ہوتا ہے، اپنے پرائے کی پہچان نہیں رہتی، دوست دشمن میں تفریق نہیں کر پاتا … وہ خادم کو مخدوم ‘ اور مخدوم کو خادم تصور کر لیتا ہے…ایسے میں وہ قدرکو مقدار اور مقدار کو قدر سمجھ لیتا ہے۔ ظلم یہ ہے کہ ترجیحات کی دنیا بے ترتیب ہوجائے۔ ستم یہ ہے کہ ہدایت کے عنوان سے ضلالت کی راہ اختیار کر لی جائے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ انسان تحقیق کے نام تشکیک کا سودا کرلے!! دولت ، شہرت اور منصب مقدار کی دنیا سے تعلق رکھنے والی اجناس ہیں، معیار کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ان سے ایسے ہی پرہیز کرتے ہیں جیسے ذیا بیطس کے مریض شوگر سے… زندگی کی قدر جاننے والے جانتے ہیں کہ مقدار کی زیادتی ان کیلئے مہلک ثابت ہوگی۔ ایسی دولت کس کام کی ‘ جو مسرت نہ دے سکے، ایسی شہرت کس کارن’ جو عافیت سے محرو م کر دے ، ایسے منصب کا کیا کرنا ‘ جو عاقبت مخدوش کر دے، ایسی لذت کا کیا فائدہ ‘ جس کا انجام ندامت ہو۔ الحذر ! وہ مال جس کا ماٰل بْرا ہے!! دولت ، شہرت، لذت اور منصب یہ سب جائے آفت ہیں … اور ہم ہیں کہ اس میں عافیت تلاش کرتے ہیں!!

دراصل جب انسان قدر کی ناقدری کامرتکب ہوتا ہے ‘ تو اپنے مرتبے سے معزول ہوجاتا ہے۔ مرتبہ انسانیت سے معزول ہونے کی دیر ہے کہ وہ طرح طرح کے دشمنوں میں گھر جاتا ہے اوراپنے معلوم اور نامعلوم دشمنوں سے ایک چومکھی لڑائی لڑتے ہوئے خود بھی مارا جاتا ہے۔ انسان زندہ رہنے کیلئے… بلکہ ہمیشہ زندہ رہنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے’ اسے یوں بے قدر ہوتا دیکھیں تو دکھ ہوتا ہے …اسے بے موت نہیں مرنا چاہیے… شہادت دیتے ہوئے مرنے والا کبھی نہیں مرتا … کیونکہ شہادت دینے والا گواہ ہوتا ہے…وہ جس ذات کی گواہی دیتا ہےٗ وہ اپنے گواہ کا ضائع نہیں ہونے دیتی۔ گواہ مر جائے تو مقدمہ کمزور پڑ جاتا ہے…اس لئے بقا کے گواہ بھی بقا میں داخل کر لیے جاتے ہیں۔ مقدار کی دنیا سے نکل کر قدر کی دنیا میں داخل ہونے کا ایک طریق یہ ہے کہ نعمتوں کی قدر کی جائے۔ نعمتوں کی قدر منعم کی پہچان کے بغیر ممکن نہیں۔ نعمت پا کر منعم کی طرف خیال منعطف نہ ہو ‘ تو اس بات کا قوی احتمال ہے کہ نعمت پانے والا اِس نعمت کو اپنے زورِ بازو کر نتیجہ سمجھ لے… اور نتیجتاً فخر ، غرور اور کبر میں مبتلا ہو جائے۔ ہر نعمت ایک عطا ہے، یہ عطا کرنے والے کی صوابدید پر منحصر ہے ‘ چاہے کوشش کے راستے پر ڈال کر نعمت عطا کرے یا بغیر کسی کوشش میں ڈالے ہماری جھولی میں ڈال دے۔ یوں تو ہر نعمت کی قدر کرنی چاہیے لیکن بالخصوص وہ نعمتیں جو کسی کوشش کے بغیر ہمیں حاصل ہوتی ہیں ‘ ان تمام نعمتوں کی قدر کا اہتمام باالتزام ہونا چاہے۔ انسان کو میسر نعمتوں کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ زندگی ختم ہوجاتی ہے اور یہ فہرست ختم نہیں ہوتی۔ سب سے پہلے زندگی ہی کو لیں۔ہمیں زندگی بن مانگے عطا ہوئی ہے، اس میں میسرآنے والا ہر دن ایک غنیمت ہے، ہر پُرسکون رات جس میں ہمیں بستر اور نیند میسر ہے ‘ ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ آخر! ہمیں کیا حق حاصل تھا کہ ہمیں پیدا کیا جائے، اور انسان ہی پیدا کیا جائے!! ہم جن والدین کے ہاں پیدا ہوئے ‘ وہ بھی ایک نعمت ہیں ، والدین ایسی نعمت کی قدر ‘ ان سے پوچھیں جنہیں یہ نعمت میسر نہیں۔ والدین کی قدر یہ ہے کہ ان کی عزت اور خدمت کی جائے، اُن کا ادب اور احترام کیا جائے۔ اسی طرح اَولاد کا میسرآنا ایک نعمت ہے۔ “بچے تنگ کرتے ہیں، بچوں نے جینا مشکل کر دیا ہے” چھوٹے چھوٹے بچوں کے متعلق ناشکری کے بڑے بڑے کلمات بطور معالج اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:   وقت اور حالات کا جبر - اکرم شیخ


حیرت ہوتی ہے ‘ لوگ مقامِ شکر کو ایک ” نسائی مہارت” سے مقام ِ شکوہ میں بدل دیتے ہیں! صاحبِ اَولاد ہونا کسی میڈیکل سائینس کا زور نہیں’ صاحبِ اولاد ہونا ہمارا قدرتی حق نہیں ‘ بلکہ یہ رب کی عطا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ میاں بیوی دونوں ڈاکٹر ہوتے ہیں ‘ صحت مند ، چاک و چوبند لیکن اَولاد کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں… دینے والے کی مرضی ہے … اُس زبردست کی مرضی پر کسی کا زور نہیں!! صحت کا میسر ہونا… یعنی اَدویات کے سہارے کے بغیر زندگی بسر کرنے کی صلاحیت… ایسی نعمت ہے’ جس کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے’ جب زندگی اَدویات کی بیساکھیاں لگ جاتی ہیں۔ صحت کی ناقدری یہ ہے کہ اِسے بے ڈھب کھانے پینے اور دیگر بے ترتیب واقعات سے خراب نہ کیا جائے۔ صحت کا شکر’ عبادت ہے۔ اپنے قدموں پر خراماں خراماں چلتے پھرنا اور اپنے ہم نشینوں سے گفتگو کے مواقع میسرآنا ایسی نعمت ہے’ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ وَلی دَکنی بہت عرصہ پہلے کہہ چکے :
بے عزیزاں سیرِ گلشن ہے گل ِ داغِ الم
صحبتِ احباب ہے معنی میں باغ زندگی 
زندگی میں ہم خیال انسانوں کا میسر ہونا ‘ روحانی نعمتوں میں سے ہے۔ تبادلۂ خیال سے خیال میں استحکام بھی میسر آتا ہے اور برکت کا نزول اور حصولِ مزید بھی۔ اَحباب ِ ذی ذوق کی قدر کرنا چاہیے، انہیں عزت و اِکرام کی نشست پیش کرنی چاہیے ، ان کے ساتھ بے جااِختلافِ رائے سے ماحول کو مکدر نہ کرنا چاہیے۔ بے تکلف ماحول میں اگر تکلف شروع ہو جائے ‘تو سمجھ لینا چاہیے کہ تعلق کمزور پڑ گیا ہے۔ ہم انسان پیدا ہوئے …اور بحمد للہ مسلمان پیدا ہوئے ، ہمیں کسی تگ و دَو کے بغیر کلمہ گھر بیٹھے میسر آگیا، اس نعمتِ اَزلی پر شکر بجا لانا بھی واجب ہے۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ پیدا ہوتے ہی ہمارے کان میں آذان کی آواز رس گھولنے لگی۔ کلمے ایسی نعمت کا شکر’ یہ ہے کہ اپنے کلمے پر شک نہ کیا جائے … اس وہم میں مبتلا نہ ہوا جائے اور نہ کیا جائے کہ معلوم نہیں’ ہم مسلمان ہیں بھی یا نہیں ، ہمارا کلمہ تو موروثی ہے ، کیا معلوم ، خالی کلمہ پڑھنے سے کیا ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ صاحبان ِ دانش اِس کی مثال یوں دیا کرتے ہیں کہ عام لوگ امریکہ کا پاسپورٹ لینے کیلئے بہت پاپڑ بیلتے ہیں’ جوانی برباد کرتے ہیں’ تب کہیں بڑھاپے میں پاسپورٹ ملتا ہے ‘ لیکن جو لوگ پیدا ہی امریکہ میں ہوئے ‘ انہیں گھر بیٹھے بلیو پاسپورٹ مل جاتا ہے ، پیدائشی پاسپورٹ رکھنے والوں کی شہریت پر شک کیا جاسکتا ہے کیا؟ کلمہ ہمارا گرین پاسپورٹ ہے۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کیلئے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے، باغ ِبہشت میں جانے کیلئے بھی اسی گرین سگنل کی ضرورت ہوگی۔ قصہ مختصر’ ایمان ایسی نعمت کی قدر یہ ہے کہ ایمان کے تقاضوں کے مطابق اپنا فکر اور عمل مکمل کیا جائے۔ ایمانی طرزِ فکر کے برعکس اعمال اور افکار سے اپنا دامنِ خیال بچایا جائے… بے باک افکار اورمناظر میں مشغولیت ‘ ایمان ایسی نعمت کی ناقدری کا نتیجہ بھی ہے اور سزا بھی ! انبیاکرام جو طرزِ فکر لے کر مبعوث ہوئے ہیں’ اس طرزِ فکر کا نقطہ کمال رسولِ ختمی مرتبتؐ کا پیغامِ اسلام ہیں۔’ لاالہ الاللہ محمد الرسول اللہ’ پڑھنے اور قبول کرنے کے مطلب یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ تمام انبیا کو تسلیم کر لیا ہے … اسی لیے ہمارا نام مسلمان ہے۔ مسلمان ہونا گویا اَدیانِ عالم کے گلوبل ویلیج کا معزز شہری ہونا ہے۔ مسلمان کا کسی سے جھگڑا نہیںٗ اس کے پاس کوئی چیز نامکمل نہیں … عبادت ، معاشرت ، معیشت ، اخلاقیات سے لے کر روحانیت تک اس کے پاس سب اسباق مکمل ہیں، اسے کسی احساس کمتری یا برتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ جس کے پاس سرمایہ خیال ہوتا وہ دوسروں کا میزبان ہوتا ہے، بغیر کسی احساسِ برتری کے!!

یہ بھی پڑھئے:   رزق ، برکت اور بابرکت


مالک کائنات کی نعمتوں کا کوئی شمار نہیں، بعض لوگوں کو اسلام اورایمان سے بھی فزوں تر نعمت سے نوازا جاتا ہے … اسے احسان کہتے ہیں، درجہ احسان’ اسلام اور ایمان دونوں کا درجہ تکمیل ہے۔ احسان کے درجے پر فائز ہونے والے اپنے خیال کی قدر کرتے ہیں۔ خیال ایسی نعمت کی قدر یہ ہے کہ اپنے خیال کا دسترخوان ہر خاص و عام کیلئے بچھایا جائے…اس نعمت عظمیٰ ٰ کی ناقدری یہ ہے کہ نزولی خیال کو اپنے علم وہنر کا نتیجہ تصور کیا جائے… روحانی خیال کے زور پر مادّی دنیا فتح کرنے کی ترکیب کی جائے …امیروں وزیروں سے مراسم بڑھائے جائیں اور غریبو ں اور محروموں سےدامن بچایا جائے۔ جو خود کو امیروں تک محدود رکھے ٗ اس کا خیال محدود ہو جاتا ہے…جو خود کو غریبوں سے دُور رکھے ‘ وہ خیال ایسی دولت سے دُور ہو جاتا ہے۔ جو مدعی بن جاتا ہے وہ منزل سے محجوب کر دیا جاتا ے… کیونکہ مدعی’ متلاشی نہیں رہتا۔ رفعت ِ خیال کی نعمت تقسیم کرنے کیلئے ہے… بارش جب برستی ہے تو اَمیر کے محل اور غریب کے محلے میں فرق روا نہیں رکھتی ہے… وہ بارش ہے… اس کا ایک نام رزق ہے… اور سب سے کریم اور خوبصورت رزق ‘ایمان اور خیال کا رزق ہے۔ سجدہ ِ شکر’ نعمت کو محفوظ کرتا ہے… اور توبہ کا سجدہٗ کفران ِ نعمت کا کفارہ بن جاتا ہے!!
مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ فرمایا کرتے ” عاقبت اُس وقت کو کہتے ہیں جب محسن اپنی نوازشات کا حساب مانگے” … ارشادِ ربانی اس پر صاد ہے ۔۔۔۔ “ولتسئلن یومئذٍ عن النّعیم” اس دن تم سےنعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا”۔ آپ ؒ نے فرمایا کہ نعمتوں کو شکر سے محفوظ کیا کرو۔ دراصل شکر قول ہی نہیں عمل بھی ہے… اور نعمتوں کا عملی شکر کیا ہے ؟ شکر کے راستوں پر یہ قولِ واصف ؒ نشانِ منزل ہے ” نعمت کا شکر’ یہ ہے کہ اِسے اُن لوگوں کی خدمت میں صَرف کیا جائے’ جن کے پاس وہ نعمت نہیں” 

Views All Time
Views All Time
635
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: