Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کامریڈ جام ساقی: تاریخ توکھے نہ وسرائیندی

Print Friendly, PDF & Email

کامریڈ جام ساقی(1944-2018)نے سانس لینا اور سوچنا بند کردیا اور ہم ایک عظیم دانشور،تجربہ کار عوام دوست محنت کش فلسفے کے حامی سیاست دان سے محروم ہوگئے۔مارچ کا مہینہ ہے اور تاریخ ہے چھ ،سن ہے 2018ء ۔یہ وہ مہینہ ہے جس کی 14 تاریخ کو دنیا کے ایک اور عظیم عوام دوست مفکر نے سانس لینا بند کیا اور سوچنا بند کردیا تھا۔دنیا اسے کارل مارکس کے نام سے جانتی تھی۔

مجھے اصغر زیدی صاحب نے اس اندوہناک خبر کی اطلاع دی اور میرے ذہن میں مارچ 1887ء کا وہ دن آیا جب کارل مارکس کا عظیم ساتھی اور محنت کش فلسفے کا معاون معمار فریڈرک اینگلس کارل مارکس کی قبر پہ کھڑا ایک تقریر کررہا تھا۔آپ عرس اور یادگاری میلوں کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں مگر جب سورماؤں اور کامریڈوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو قبر پہ حاضری اگر ممکن ہو تو ضرور دی جاتی ہے۔اینگلس نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

فریڈرک اینگلس نے کارل مارکس کی قبر پہ کھڑے ہوکر کیا کہا تھا؟اسے جاننا بہت ضروری ہے تاکہ آپ کو پتا چلے کہ کس چیز نے جام ساقی کو چاروں صوبے کی جیلوں میں بند رہنے، فوجی اور پولیس کے گرگوں کا تشدد سہہ لینے اور ان کے کہنے پہ معافی نامہ داخل نہ کرنے کا حوصلہ دیا۔

جام ساقی نے شعور کا پہلا سبق اپنے تھر کے ایک ریٹائرڈ پرائمری استاد عنایت اللہ سے پڑھا تھا جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کا رکن تھا۔اور دوسرا سبق کامریڈ عزیز سلام بخاری نے پڑھایا تھا جو کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے بانی اراکین میں سے تھے اور پوری کمیونسٹ تحریک کارل مارکس کے انقلابی نظریات کی پیرو ہے۔اینگلس نے کارل مارکس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا تھا:

یہ بھی پڑھئے:   دارشکوہ کے نام بلوچ ادیب کا خط

“جیسے ڈارون نے ‘ترقی کا قانون/نامیاتی ساخت کا قانون دریافت کیا تھا،ایسے ہی مارکس نے انسانی تاریخ کی ترقی کا قانون دریافت کیا تھا:سادہ حقیقت کہ ابتک تجاوز کرگئی گروتھ/نمو کی آئیڈیالوجی نے جسے چھپایا تھا کہ بنی نوع انسان سب سے پہلے کھاتے ہیں، پیتے ہیں،گھر اور کپڑے لتے کی ضرورت ہوتی ہے ان کو،پھر وہ سیاست، سائنس، آرٹ اور مذہب وغیرہ بارے سوچتے ہیں؛اس لئے فوری بنیادی ضروریات زندگی کی پیداوار، اور ایک خاص دور کے لوگوں کی جانب سے حاصل کردہ معاشی ترقی کا درجہ وہ بنیاد ہے جس پہ ریاستی اداروں، قانونی تصورات، آرٹ اور یہاں تک کہ مذہب بارے لوگوں کے خیالات استوار ہوتے ہیں نہ کہ اس کے الٹ۔

لیکن مارکس نے صرف یہی دریافت نہیں کیا تھا کہ سماج کے زیریں ڈھانچے یعنی طریق پیداوار پہ بالائی ڈھانچے کی بنیاد ہوتی ہے بلکہ اس نے موجودہ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اور اور اس سے جنم لینے والے سرمایہ دارانہ معاشرےکو کنٹرول کرنے والے قانون حرکت کو بھی دریافت کیا تھا۔قدر زائد کے تصور کی دریافت نے اچانک ان سب مسائل کو روشنی میں لاکھڑا کیا تھا جن کو حل کرنے میں تمام گزشتہ تحقیقات چاہے سرمایہ دارانہ ماہرین معشیت کی ہوں یا سوشلسٹ ناقدین کی تاریکی میں بھٹک رہی تھیں۔

مارکس سب سے پہلے ایک انقلابی تھا۔اس کا حقیقی مقصد زندگی اور مشن ایک یا دوسرے طریقے سے،سرمایہ دارانہ معاشرے اور ریاستی اداروں کو اکھاڑ پھینکنا تھا جوکہ کہ اس سماج کو وجود میں لاتے ہیں۔وہ محنت کشوں کو نجات دلانے میں اپنا حصّہ ڈالنا چاہتا تھا۔اس نے محنت کشوں کو سب سے پہلے ان کے اپنے حقیقی مقام بارے شعور دلایا،ان کی ضرورت بارے ان کو آکاہی دی اور ان کو اپنی نجات کی شرائط سے آکاہ کیا۔لڑنا ،جدوجہد کرنا ہی تو اس کا بنیادی وصف تھا اور وہ پورے جوش و جذبے کے ساتھ اتنے غیر مصالحانہ انداز میں لڑا کہ اس کے حریف میں سے چند ہی اس کے انداز سے لڑے ہوں گے۔”

یہ بھی پڑھئے:   پانامہ لیکس ہے کیا اور اس میں کس کس کے نام ہیں

جام ساقی نے بھی کارل مارکس کے فلسفہ تاریخ اور فلسفہ معشیت دونوں کے عظیم اصولوں کی روشنی میں اپنی فکر تشکیل دی اور اسی کے زیر سایہ اپنا عمل بھی۔وہ بھی ایک عظیم انقلابی مجاہد تھا۔ جس نے ساری عمر جدوجہد کی۔انقلاب ہی اس کا اول و آخر نصب العین اور مقصد تھا۔اس نے 15 سال جیل کاٹی۔اور اپنے اصولوں سے کہیں انحراف نہیں کیا۔اس نے اپنی یاد داشتوں کا ٹھیک عنوان رکھا تھا
” تاریخ موکھے نہیں وسرائیندی “

کامریڈ جام ساقی! تاریخ توکھے نہ وسرائیندی ۔۔۔ تاریخ واقعی آپ کو نہیں بھولے گی
سرخ سلام

Views All Time
Views All Time
481
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: