حلقۂِ اربابِ ذوق اسلام آباد میں علامہ اقبال پر پرویز ہود بھائی کے لیکچر کا مکمل متن

Print Friendly, PDF & Email

ترجمہ: سلمیٰ صدیقی

میں بات یہاں سے شروع کرتا ہوں کہ ہم سب فخر کرتے ہیں کہ ہم بت شکن ہیں۔ ایک ہزار سال سے ہم بت توڑتے آئے ہیں۔ محمود غزنوی کے زمانے سے۔ اور بہت سے بت ہم نے توڑے ہیں۔ پرانے بت توڑے ہیں مگر نئے بت بنانے کا ہمیں کچھ شوق بھی زیادہ ہے۔ خاص طور پر ایسی شخصیتیں جو پہلے سے بہت قد آور ہیں ان کو ہم اور زیادہ قد آور کرتے ہیں۔ جو 6 فٹ کا ہے اس کو ہم 12 فٹ کردیتے ہیں۔ جو 7 فٹ کا ہے اس کو 14 کردیتے ہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔ آج کا موضوع علامہ اقبال ہیں۔ اور وہ بہت بڑی شخصیت ہیں۔ بہت بڑے بڑے لوگوں نے ان کی تعریف کی ہے۔ فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، بہت سے پروگریسو لوگوں نے بھی ان کو بہت اچھا کہا ہے۔ اور کیوں نہ کہیں۔ ان کی جو باتیں ہیں واقعی بہت فکر انگیز ہیں۔
“ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں”
آج ہمیں ایکسو پلینیٹس کا پتہ چل رہا ہے جو دوسرے ستاروں کے گرد گردش کرتے ہیں۔ وہاں بھی جہاں ہونگے۔ اور جو بات انہوں نے کہی کہ “ہر قطرۂِ دریا میں دریا کی ہے گہرائی”۔ اور آج ہمیں پتہ ہے کہ جب ہم ایٹم کو چیرتے ہیں تو اس میں سےایک نیوکلیس نکلتا ہے۔ اس نیوکلیس کے اندر دیکھتے ہیں تو اس میں سے کوارٹس نکلتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تو واقعی ہر قطرۂِ دریا میں دریا کی گہرائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ بہترین باتیں انہوں نے کی تھیں۔
“سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں”
“ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں”
ایسی بڑی فکر انگیز باتیں انہوں نے کہی تھیں۔ لیکن فکر انگیز باتوں سے کوئی فلسفی نہیں بنتا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مفکر ہے۔ مفکر وہ ہے جو فکر اور غور کرتا ہے۔ کائنات میں، دنیا پر۔ اور ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو کرتے ہیں۔ لیکن ہم میں وہ صلاحیت نہیں ہے کہ ہم ایسے خوبصورت اشعار سے وہ باتیں بیان کرسکیں۔ اقبال کو میں یہ کہوں گا کہ وہ جینئس تھے۔ اور اس میں ذرا بھی شک نہیں۔ اور مختلف موضوعات پر جو انہوں نے اپنا قلم اٹھایا تو کیا کمال کرکے ہمیں دکھایا۔ لیکن کچھ غلط فہمیاں ہیں اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ فلاسفر تھے۔ فلسفی تھے۔

دیکھیے فلاسفر آجکل کے زمانے میں کچھ زیادہ آسانی سے نہیں بنتے۔ اگر آپ کو سٹینفورڈ میں، اگر آپ کو یونیورسٹی اوف کیمبرج میں کوئی ملازمت چاہیے، آپ کو پروفیسر بننا ہے وہاں پر تو آپ کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو اس شعبے میں فلسفے کے شعبے میں کتاب لکھنی پڑتی ہے۔ ایسے تحقیقی مقالات لکھنے ہوتے ہیں جو فلسفے کے شعبے کے جرائد میں شایع ہوئے ہوں۔ پبلیکیشنز جن کو کہتے ہیں۔ اور ڈھیر ساری چاہئیں۔ اور ایسی چاہئیں جو دنیا مانے کہ واقعی یہ بہت بڑا کام ہے۔ علامہ اقبال سنہ1905 میں یونیورسٹی اوف کیمبرج کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اور تین سال انہوں نے فلسفہ پڑھا۔ اور اس کے بعد پھر وہ انہی تین سالوں کے دوران یونیورسٹی اوف میونخ گئے جہاں انہوں نے پی ایچ ڈی فلسفے کے شعبے میں کی تھی۔ ڈیپارٹمنٹ اوف فلاسفی، یونیورسٹی اوف میونخ۔ وہاں انہوں نے اپنی تھیسس بھی جمع کرائی۔ ڈیپارٹمنٹ اوف فلاسفی میں، جس کا عنوان تھا “دی ڈیویلپمنٹ اوف میٹا فزکس ان پرشین”۔ اب دیکھیے کیا اس کو فلسفے کے شعبے میں شمار کرنا چاہیے یا تاریخ کے شعبے میں شمار کرنا چاہیے؟ یہ ایک تھوڑا سا متنازع مسئلہ ہے کیونکہ اس میں کوئی نئی سوچ تو نہیں ہے نا۔ یہ وہ سوچ ہے جو مولانا روم کی تھی۔ جو صوفیائے کرام کی تھی۔ اس کی وضاحت علامہ اقبال نے کی۔ تو چلیے فلاسفی کی ڈگری تو مل گئی۔ لیکن اس کو فلاسفی سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ ایک متنازع مسئلہ ہے۔ مگر اصل میں فلاسفی ایک بڑی ٹیکنیکل چیز ہے۔ اس میں ایسے ایسے شعبہ جات ہیں جن کے نام سے ہی انسان گھبرا جاتا ہے۔ ایپسٹیمالوجی، ایتھکس، ایگزسٹینشئیلزم۔ بیس اس طرح کے ہیں۔ جن کا اردو میں بھی کوئی ترجمہ نہیں۔ شاید ہولیکن بہت مشکل ہوگا۔ تو علامہ اقبال کا ایک مخصوص شعبے میں تھا اور وہ تاریخ کا تھا اور وہ اسلام سے متعلق تھا۔
ویسے بھی جب علامہ اقبال گئے یورپ تو ان کا دل اچاٹ ہو گیا۔ ان کو مغرب پسسند نہیں آیا۔ سال دو سال کے بعد ان کا موڈ بالکل بدل گیا۔ بڑا شوق تھا جس وقت وہ یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج میں وہ اس وقت پڑھا رہے تھے۔ طالبعلم تھے اس سے پہلے۔ ادھر جا کرایک نفرت سی ہوگئی۔ مغرب سے۔ اور فلسفے سے بھی ان کا دل اچاٹ ہوگیا۔ اب دیکھیے فلسفے میں اگر آپ کو کوئی تحقیق کرنی ہے، اگر اس میں کوئی بڑا کام کرناہے تو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کا دماغ کھلا ہونا چاہیے۔ ذہن کھلا ہونا چاہیے۔ کیونکہ فلسفہ جو ہے وہ بات کی تہہ تک پہنچتا ہے۔ سچ کیا ہے جھوٹ کیا، اس میں آپ وہاں ایمان کی باتیں نہیں لا سکتے۔ اس میں عقل، دلیل، تجربہ وہ چیزیں ہیں جس کی بناء پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بات درست ہے وہ غلط ہے۔ تو ان کا دل لگا نہیں۔ اور یہ پھر انہوں نے اپنی شاعری میں بھی بیان کیا۔ ایک ان کی نظم ہے جس کے چند اشعار میں پڑھ کر سناتا ہوں۔
اس قوم میں ہے شوخئِ اندیشہ خطرناک جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
گو فکرِ خداداد سے روشن ہے زمانہ آزادئِ افکار ہے ابلیس کی ایجاد

اگر کھلا ذہن ابلیس کی ایجاد ہے، آپ فلسفہ پڑھ نہیں سکتے۔ آپ کا دل اس میں نہیں لگے گا۔ اور علامہ اقبال کا دل نہیں لگا فلسفے کی طرف۔ گو کہ شروع میں وہ اس کی طرف مائل تھے۔ تھے ضرور۔ لیکن ادھر جا کر جو ان کے مشاہدات تھے، جو ان کی فکر میں تبدیلی آئی ۔۔۔ انہوں نے کہا نہیں نہیں ۔۔۔ یہ چیز مجھے نہیں پسند۔
لہذا جب 1908 میں اقبال لاہور پہنچے تو اس وقت پہلا کام تو انہوں نے یہ کیا کہ وہ گورنمنٹ کالج چلے گئے۔ اپنے اساتذہ سے ملے وہاں۔ انتظامیہ سے ملے۔ اور انتظامیہ نے پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ یہاں لیکچررشپ قبول کریں۔ اس کے بعد پھر ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ تو اقبال نے کہا نہیں نہیں۔ مجھے یہاں پڑھانا نہیں ہے۔ اور ان کی سوچ اب بدلتی جارہی تھی۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ ان کی بڑی پذیرائی تھی۔ ان کی شاعری میں اتنا ولولہ تھا، اتنا جوش تھا کہ لوگ ان کے گرد جمع ہو رہے تھے۔ ادھر طرح طرح کی ادبی محفلیں ہوتی تھیں۔ تو انہوں نے کہا مجھے ٹیچر بن کے کیا کرنا ہے۔ میں تو اب کہیں اور جانے والا ہوں۔ لہذا کچھ وقت کے بعد ۔۔۔ اچھا کچھ سال گزر گئے۔ اور ان کے خیالات اور زیادہ پختہ ہوتے چلے گئے۔ تو میں ایک اقتباس پڑھ کے سنانا چاہتا ہوں “زندہ رود سے”۔ “زندہ رود” علامہ اقبال کی سوانح حیات ہے جو ان کے صاحبزادے نے لکھی ہے۔ جاوید اقبال نے۔ یہ بہت تفصیل سے ہے۔ تقریبا 2000 صفحے ہیں۔ 1800 روپے مجھے خرچ کرنے پڑے اس کے لیے۔ تو میں تھوڑا سا یہ پڑھ کے سناتا ہوں آپ کو۔

“میرا عقیدہ بھی ہے کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو نئی زندگی عطا فرمائے گا۔ جس قوم نے آج تک اس کے دین کی حفاظت کی ہے اس کو ذلیل ورسوا نہ کرے گا۔ مسلمانوں کی بہترین تلوار دعا ہے۔ سو اسی سے کام لینا چاہیے۔ ہر وقت دعا کرنا چاہیے اور نبی کریم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیے۔ کیا عجب کہ اللہ تعالی اس امت کی دعا سن لے اور اس کی غریبی پر رحم فرمائے”۔
یہ شروع میں کچھ لکھا۔ اب میں اصل چیز کی طرف آتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ “میں جو اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمریورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔ خدا تعالی نے مجھے قوائے دماغی بہت اچھے عطا فرمائے تھے۔ مگر یہ قوا دینی علوم پڑھنے میں صرف ہوتے تو آج خدا کے رسول صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خدمت کرسکتا۔ اور جب مجھے یاد آتا ہے کہ والد مکرم مجھے دینی علوم ہی پڑھانا چاہتے تھے تو مجھے اور بھی زیادہ قلق ہوتا ہے”۔ یہ دسمبر1919 کو لکھا گیا۔ یعنی کہ ٹھیک ایک سو سال پہلے۔ یہاں وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ میں نے جا کے کیا اپنا وقت ضائع کیا فلسفہ پڑھنے میں۔ مجھے تو دین کی خدمت کرنی چاہیے تھی۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ ان کو فلسفی کیوں بنانا چاہتے ہیں جب وہ اپنے منہ سے، اپنے قلم سے یہ کہتے ہیں کہ اس شعبے ہپر لعنت ہو۔ اس پر وہ لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ وہ اس شعبے کے بڑے ایک لیڈر تھے۔ دیکھیے نا جب بت بناتے ہیں تو پھر کس قسم کی غلطیاں ہم کرتے ہیں۔
اچھا چلیے۔ بات، جیسا کہ خلیق صاحب نے ابتدا ہی میں کہا کہ، مجھے سائنس کے حوالے سے کرنی ہے۔ سائنس سے بھی اقبال خوش نہیں تھے۔ ان کی جو کتاب ہے۔ ایک کتاب ہے جو سات خطبات پر مشتمل ہے “ریکنسٹرکشن اوف ریلیجس تھاٹ ان اسلام” اچھا دیکھیے۔ جب اقبال کو کوئی سنجیدہ بات کرنا ہوتی تھی وہ اردو یا فارسی میں نہیں کرتے تھے۔ وہ کرتے تھے انگریزی میں۔ کچھ وجوہات بھی تھیں اس کی۔ ایک تو یہ کہ اس وقت بھی ملا ٹائپ لوگ بہت تھے۔ اور وہ پھر پیچھے پڑ جاتے تھے۔ ایک تو اس سے بچنے کا ارادہ بھی تھا۔ دوسرا یہ کہ شاید انگریزی زبان سنجیدہ سوچ کے لیے انہوں نے زیادہ موزوں سمجھی۔ جو بھی ہے ۔۔۔ بہر حال۔ یہ سات خطبات ہیں۔ اور ان میں سے آپ کو میں پھر کچھ اقتباسات بھی پڑھ کر سناؤں گا۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ جو سائنس ہے یہ تو محض ظاہری چیزوں کی وجوہات بتاتی ہے۔ ان کی توجیہات بتاتی ہے۔ لیکن جو اصل چیز ہے وہ سائنس کی دسترس سے باہر ہے۔ اس کو صرف دل ہی سمجھ سکتا ہے۔ تو پھر انہوں نے کئی ایسی نظمیں لکھیں ۔ دل اور دماغ ۔ جو کہ شاید آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں۔ میں نے شاید اتنا نہیں پڑھا جتنا کہ شاید آپ لوگوں نے پڑھا ہوگا۔ ان کو سائنس سے کچھ اختلاف تھا۔ نظریاتی اختلاف۔ اور یہ نظریاتی اختلاف بہت گہرا تھا اور بہت بنیادی تھا۔ یہاں تک کہ جن مسلمان سائنسدانوں نے سائنس کے کام کیے تھے ان کاموں کو بھی اقبال دھتکارتے تھے۔ وہ کہتے تھے یہ تو محض یونانی سوچ کا ایک تسلسل ہے۔ اس میں نئی چیز کیا ہے۔ اس میں تو وہ منطق، ارسطو کی منطق وہ استعمال کرتے ہوئے ادھر سے ادھر پہنچے ہیں۔ یہ کوئی خاص چیز نہیں ہے۔ خاص طور پر ان کو ابن سینا اور الفارابی سے بڑی خفگی تھی۔اس کے اوپر انہوں نے ایک نظم بھی لکھی تھی۔
“عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی”

یہ بھی پڑھئے:   احمد شاہ مسعود، طالبان اور افغانستان - حصہ اول

تو یہ سینا و فارابی جیسے لوگ جو ہیں نا یہ صرف سطحی چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جو اصل چیز ہے وہ دل ہی جان سکتا ہے۔ تو اس دل میں وہ سمجھ ہے جو کبھی عقل میں نہیں ہو سکتی۔ تو اسی لیے انہوں نے معتزلہ کو بھی اچھا نہیں سمجھا۔ اب آپ سب جانتے ہیں کہ معتزلہ وہ لوگ تھے جنہوں نے یہ سوچا تھا کہ اسلام کی بنیاد، اسلام کی اساس صرف ایمان نہیں ہے، عقل ہے۔ عقل بھی ہے۔ اور یہ جو قدرتی مظاہر ہیں ہمارے آس پاس ان کو ہم سمجھ سکتے ہیں عقل سے۔ اور یہ کہ ہم خود مختار ہیں۔ ہمارے اندر۔ ہم اپنے اوپر قادر ہیں۔ تو جو مخالف لوگ تھے جو عشری کہلاتے تھے وہ کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہے۔ جبروقدر کی جنگیں بھی ہوتی تھیں اس زمانے میں۔ اور اقبال جو ہیں وہ مکمل طور پر اس کی طرف قائل تھے کہ معتزلہ غلطی پر ہیں۔ اور خاص طور سے وہ ابن رشد سے بہت خفا تھے۔ کہتے تھے ۔۔۔ اچھا ابن رشد ایک ایسی شخصیت تھی جس کو پورے یورپ میں مانا جاتا تھا۔ تو اگر آپ ایم آئی ٹی (میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ اوف ٹیکنالوجی) جائیں تو اوپر بڑے بڑے لوگوں کے نام لکھے ہیں۔ اور ان میں کوئی مسلمان نہیں ہے سوائے ابن رشد کے جو انگریزی میں ایویروز کہا جاتا ہے۔اقبال ان کے اوپر الزام دھرتے ہیں کہ یہ تو دہریت کا مبلغ تھا۔ یہ وہ تھا جس نے مسلمانوں کو دین سے بھٹکانا چاہا۔ بڑی سخت باتیں لکھی ہیں ری کنسٹرکشن اوف ریلیجس تھاٹ ان اسلام میں۔ تو وہ سائنس سے نظریاتی اختلاف کرتے تھے۔ چلیے نظریاتی اختلاف تو ایک چیز ہوتی ہے نا۔ لیکن میں نے پچھلے ایک سال کے دوران ری کنسٹرکشن اوف ریلیجس تھاٹ ان اسلام کو کافی غور سے پڑھا۔ اور خاص طور سے وہ حصے جو سائنس سے متعلق ہیں۔ کچھ تو سیاست سے ہیں۔ کچھ دین سے ہیں۔ کچھ اسلامی ریاست سے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جو سائنس سے متعلق ہے وہ میں نے بہت غور سے پڑھا۔ اب یہ کہ ایک پورا خطبہ اس کے اوپر ہے۔ جس میں اقبال نے بہت بڑے لوگوں کا نام لیا ہواہے۔ ادھر آئن سٹائن ادھر رسل ادھر ڈیڈیکنڈ ادھر آرونگ ادھر فلاں فلاں۔ اوریوں تاثر ملتا ہے جیسا کہ انہوں نے وہ سارے کام سمجھے ہیں۔ زینوز پیراڈوکس انہوں نے سمجھا ہے۔ اور ایسے لگتا ہے کہ وہ واقعی سیریس فلاسفر تھے۔ تو میں نے تھوڑا سا پڑھ کے دیکھا۔ آخر جب آپ سائنس کے شعبے کے کسی جائنٹس کو للکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تم نے لکھا کیا تو اس کے بعد تو ایک تجسس سا پیدا ہوتا ہے کہ آخر اقبال نے انہیں کیا سمجھا اور کیا دیکھا۔ تو چلیے۔ یہ بات آپ ذہن میں رکھیں کہ اقبال بہت ذہین آدمی تھے۔ اور ان کی شاعری سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسقدر انہیں الفاظ پر عبور تھا۔ لیکن کتنا کچھ انہوں نے پڑھا ہے۔ لیکن سائنس انہوں نے پڑھی نہیں تھی۔ مجھے پتہ نہیں میٹرک، ایف ایس سی میں پڑھی تھی یا نہیں لیکن ڈیفینیٹلی جب وہ مرے کالج سیالکوٹ گئے تو وہاں بی اے انہوں نے کیا آرٹس میں۔ تو آرٹس میں تو آپ سائنس نہیں پڑھتے تھے اس زمانے میں۔ نہ آج پڑھتے ہیں۔ گویا سائنس انہوں نے پڑھی نہیں۔ بالکل زیرو پڑھی تھی۔ تو پھر جب آپ سائنس سے —– ہیں تو پھر آپ یہ کہتے ہیں کہ آئن سٹائن اور رسل یہ سارے غلطی پر ہیں۔ اصل میں کچھ اقتباسات پڑھ کر سنانا چاہئیں۔

Scientific materialism has finally ended in a revolt against matter. The concept of matter has received the greatest the blow from the hand of Einstein” Page 37
میں تو یہ پڑھ کر حیران ہوا۔ کیونکہ یہ چیزیں جو ٹھیک میرے شعبے سے متعلق ہیں، جو اٹامک فزکس اور نیوکلیر فزکس سے متعلق ہیں۔ اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آئن سٹائن نے کوئی یہ جو کہا کہ
The concept of matter has received greatest the blow from the hands of Einstein
ہاں تو آئن سٹائن نے کیا کہا۔ آئن سٹائن نے کہا کہ توانائی اور مادہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہے۔ آپ مادے کو توانائی میں تبدیل کرسکتے ہیں اور توانائی کو مادے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ایک بڑی مشہور ایکوایشن ہے: ای = ایم سی سکوئیر۔ جو یہ بتاتی ہے اگر آپ مادے کو تباہ کریں گے تو ایٹم بم پھٹے گا جیسا کہ ہیروشیما میں ہوا۔اتنے سے مادے سے، لٹرلی اتنے سے مادے سے ایک پورا شہر مسمار ہوگیا۔ اچھا الٹا اگر آپ چلنا چاہیں تو انرجی کو آپ مادے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ لیکن اس سے کوئی مادے کی نفی نہیں ہوتی جیسا کہ اقبال کہتے ہیں۔ چلیے اس کا میں بتنگڑ نہیں بناؤں گا۔ آگے چلیے۔ یہ ہے صفحہ نمبر 34
Mathematical conception of continuity as infinite series applies not to movement regarded as an act but rather to the picture of movement as viewed from the outside
کسی کی سمجھ میں آیا۔ میری سمجھ میں بھی نہیں آیا۔ حالانکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو میں پڑھاتا ہوں۔ اور کنٹینیوئٹی، میتھیمیٹکل کنٹینیوئٹی، کوئی اس کا تعلق موومنٹ، موشن، حرکت سے نہیں ہے۔ یہ لفاظی ہے۔ محض لفاظی۔ دیکھیے میں پھر بہت ادب سے یہ کہتا ہوں کہ میں اقبال کا مداح ہوں۔ میں کہتا ہوں بہت بڑے آدمی ہیں۔ مگر یہ معنی سے عاری ہے۔ خالی ہے۔
It does not mean anything
کنٹینیوئٹی ایک میتھیمیٹکل کونسیپٹ ہے جس کو ہم انٹر میں پڑھاتے ہیں۔ بی ایس سی میں پڑھاتے ہیں۔ اگر آپ زیادہ گہرائی میں جانا چاہیں تو ایک سبجیکٹ ہے میتھیمیٹکل انیلیسز جس میں اس کو بہت تفصیل سے پڑھتے ہیں۔ دیکھیے۔ ان کو یہ لکھنا نہیں چاہیے تھا۔ یہ اچھی چیز نہیں ہے کہ آپ کہیں کہ آئن سٹائن تجھے کچھ نہیں آتا۔ زینو تو بیوقوف ہے۔ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جو انہوں نے کیں۔ اچھا۔ جس چیز پر واقعی مجھے حیرانی ہوئی وہ میں پڑھ کے آپ کو سناتا ہوں۔ اور یہ “زندہ رود” سے ہے۔ اس کا صفحہ میں نے نہیں لکھا۔ لیکن میں نکال کے آپ کو دے سکتا ہوں۔ اور یہ میں نے ترجمہ کیا ہے۔ اصل میں تو یہ انہوں نے ۔۔۔ اگر آپ چاہیں تو میں اردو کا بھی اوریجنل نکال سکتا ہوں لیکن تھوڑا سا وقت لگے گا۔ اس میں یہ لکھتے ہیں:
Einstein’s theory of relativity was new for Europe but Islamic scholars had already discovered its basic premises hundred of years earlier ………. to understand ……. philosophy of differentiation unique to Ibn e Khuldoon

یہ بھی پڑھئے:   کیا سعودی نوازی ، تکفیر ازم، جہاد ازم و اینٹی روشن خیال اقدامات پہ عسکری و سویلین قیادت میں اتفاق ہے؟ تجزیہ و تلخیص : مستجاب حیدر

وغیرہ وغیرہ۔ تو وہ کہہ رہے ہیں آئن سٹائن نے جو معلوم کیا ہے یہ تو ہم مسلمانوں نے سیکڑوں سال پہلے پتہ کرلیا تھا۔ آئن سٹائن نے کیا نئی بات کی۔ ہم نریندر مودی کو بہت برا بھلا کہتے ہیں جب وہ کہتا ہے کہ قدیم ہندوستان میں موٹر گاڑیاں چلتی تھیں۔ ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک خلائی جہاز جایا کرتے تھے اور یہ سب ہمارے وید کے زمانے کے ہیں۔ تو یہ بات کہ ہم مسلمانوں نے سب کچھ پہلے جان لیا تھا اور یہ آئن سٹائن جیسے لوگ بعد میں آتے ہیں یہ تو صرف ہماری چیزیں چراتے ہیں۔ یہ ایک بڑے ذہن کو زیب نہیں دیتا۔ یہ بھی ان کو نہیں لکھنا چاہیے تھا۔ مگر چلیں لکھ دیا۔
اب اہم بات جس کی طرف میں آنا چاہتا ہوں۔ ہمارے وزیر اعظم۔ عمران خان۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو اقبال کا پاکستان بنائیں گے۔ اور مجھے اس بات سے تھوڑی سی فکر ہونے لگی ہے۔ پریشانی ہونے لگی ہے کہ یہ کیا پاکستان بنے گا۔ اس لیے کہ دیکھیے اقبال جب یورپ گئے تو ان کے دل میں بڑی نفرتیں پیدا ہوگئیں۔ کدورتیں پیدا ہوگئیں۔ کہ یہ گورے جو ہیں ایسے ہیں ویسے ہیں۔ سائنس جو ہے غلط ہے وغیرہ۔ لہذا انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مسلمانو تمہیں اپنی دلدل سے نکلنا ہے۔ اس انحطاط کو توڑ کے آگے زمانے کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔ تو سیکھو سائنس، سیکھو جدید تعلیم، سیکھو انگریزی۔ جیسا کہ سرسید احمد خان کہتے تھے اور سر سید احمد خان ان سے پچاس سال پہلے کے تھے۔ سرسید کا یہ مدعا تھا کہ مسلمان پھنسے ہوئے ہیں اس لیے کہ انہوں نے جدید تعلیم کو دھتکارا ہے۔ کہا ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ جو پرانے رسوم ورویات تھے وہی ہمارے لیے کافی ہیں۔ سرسید نے کہا کہ اس کو توڑو۔ جب تک ان قدغنوں کو ان بندشوں کو نہیں توڑو گے تو ویسے ہی پھنسے رہو گے۔ اقبال یہ کہتے ہیں کہ دل میں ولولہ پیدا کرو۔ خودی کو بلند کرو۔ لیکن خودی کو بلند کرنے سے بات نہیں بنے گی بھائی۔ وہ تو جب تک آپ نے سائنس نہ سیکھی۔ آجکل آپ سوچیں تو ۔۔۔ اپنے اطراف دیکھیں یہ پنکھا بھی نہیں چل سکتا، بجلی نہیں مل سکتی۔ یہ سائنس کے کمالات ہیں۔ اور یہ سائنس اتنی آگے تک کیسے پہنچ سکی۔ اس لیے کہ ہم نے اپنی عقل استعمال کی، مشاہدہ کیا، تجربہ کیا۔ یہ سب کچھ کرتے کرتے ہم اس جگہ پر پہنچے ہیں۔ اقبال کبھی یہ نہیں کہتے۔ اگر کہتے ہیں تو دیکھیے آپ لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ خاص طور سے اقبال صاحب! آپ ان کے ہم نام ہیں۔ میں نے توکبھی نہیں سنا کہ زمانے کے ساتھ ساتھ چلو اب یہ کہ دل مسلم میں یارب زندہ تمنا دے، تو بھائی زندہ تمنا کہاں تک چلے گی۔ وہ تو جا کے سوکھ جائے گی۔ آخر تیغ اور تلوار تو ہم اٹھاتے رہے ہیں ۔۔۔ اور کیا ۔۔۔ دیں اذانیں ہم نے یورپ کے کلیساؤں میں۔ اب عمران خان آپ کو پتہ ہے نا پچھلے دنوں جنرل اسمبلی میں انہوں نے تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا ۔۔۔ وہ بڑی ایک خبیث، خراب چیز ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سارے دہشت گرد ہیں، تلوار اٹھا کے آجائیں گے یورپ۔ یہ سب آپ کا خوف ہے۔ تو اقبال یہی کہہ رہے ہیں کہ دیں اذانیں ہم نے یور پ کے کلیساؤں میں دیں۔ کوئی آپ کی مسجد میں آکر اس طرح کی بے حرمتی کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ اقبال کے پاکستان سے مجھے بڑا خوف آتا ہے۔ اب مجھے پتہ نہیں کہ اقبال کا پاکستان ہے کیا۔ کیونکہ ان کی سوچ میں وقت کے ساتھ بڑی تبدیلی آئی:- “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” یہ وہ زمانہ تھا 1905 سے پہلے کا تو اس وقت وہ ایک ہیومنسٹ تھے۔ انسان دوست تھے۔ بعد میں جا کے جو فرق آیا ان میں اس کی وجہ سے آج جو اقبال کے مداح ہیں وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے یہ چیز کہی تھی۔ لیکن کوئی اور کہے گا کہ نہیں اس کے بالکل متضاد یہ چیز کہی تھی۔ تو جہاں ایکس ہے وہاں آپ کو مائنس ایکس بھی ملے گا۔ ہمیں ٹھیک طرح سے پتہ نہیں ہے کہ
What is Iqbal’s Pakistan

شاید ہمیں عمران خان سے پتہ کرنا چاہیے کہ آخر کس اقبال کا پاکستان چاہیے۔ پرانا اقبال یا نیا اقبال۔ وہ جو یورپ جانے سے پہلے کا اقبال تھا یا وہ جو یورپ سے آنے کے بعد کا اقبال تھا۔ بہر حال اس موقع پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں تاکہ بات ہوسکے۔ بات ہمارے مستقبل کی ہے۔ بطور قوم ہم کس طرف جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہمیں صرف ماضی کی طرف لوٹنا ہے۔ کیا ساری اچھائیاں ماضی کی ہیں یا ہمارا کوئی مستقبل بھی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم بات کر سکتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
112
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: