کیا عراق میں نکاح متعہ کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ واقعی حقائق پر مبنی ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شیخ محمد الحلی ، ترجمہ: نور درویش

بچوں کے ساتھ زیادتی کے انکشافات نے کیتھولک چرچ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جس نے نہ صرف دنیا بھر کی نظر میں چرچ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا بلکہ چرچ کے معتقدین کی ایک اچھی خاصی تعداد کے ایمان کو بھی ڈگمگا کر رکھ دیا۔کچھ لوگوں نے یہ قیاس کیا ہے کہ ایسا ہی اسکینڈل شیعہ اسلام میں بھی پھیل رہا ہے جہاں ایسی زیادتیوں میں ملوث کچھ لوگ اپنے جرائم کا جواز تراشنے کے لیے کچھ مذہبی اُصولوں کی غلط اور گمراہ کن تشریح کا سہارا لے رہے ہیں۔

بی بی سی کی(ماہِ صفر کے آغاز میں) “Undercover with the Clerics” کے عنوان سے بنائی جانے والی ایک ڈاکومینٹری اسی موضوع پر بنائی گئی ہے۔ ڈاکومنٹری کے مطابق جنسی مقاصد کیلئے 13 سال تک کی کم عمر لڑکیاں فراہم کرنے والے عراقی مرد وہ لوگ تھے جنہیں بقول اُن کے، اس کام کیلئے مذہبی و قانونی اختیار حاصل تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان مردوں کے مطابق وہ آیت اللہ العظمی سید سیستانی کے فالور تھے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ خود سید سیستانی نے اِن عناصر اور ان کے افعال کی مذمت کرتے ہوئے انہیں نہ صرف اسلامی اقدار بلکہ عراقی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ عراق میں اِن انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے جانے کی کوششیں اور اِس کے تذکرے شروع ہی اُس وقت ہوئے جب 2003 میں صدام حسین کی آمریت کا خاتمہ ہوا۔
عراقی سول سوسائٹی جو کبھی کسی گنتی میں شمار نہیں ہوتی تھی، آج اس خطے کی متحرک سول سوسائٹیز میں سے ایک ہے۔ عراقی آئین ضمانت دیتا ہے کہ ملکی پارلیمان کے ممبران میں سے ایک چوتھائی ممبران خواتین پر مشتمل ہونے چاہئیں، جو امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں خواتین کی نمائندگی سے کچھ زیادہ ہے۔
عراقی شیعہ مسلمانوں میں اِس جدت کا اثر سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔

ملک کا اکثریتی مذہبی طبقہ ہونے کے باوجود اس برادری کے لوگ آج بھی دہائیوں پر محیط صدام کی آمریت کی اثرات سے خود کو نکالنے کیلئے کوشاں ہیں۔ لیکن صدام کی آمریت کے خاتمے کے بعد محض سولہ سال کے عرصے میں عراق کی شیعہ آبادی اور بالخصوص عراقی شیعہ علماء نے خود کو بدترین جبر کا سامنا کرنے والی برادری سے ایک ایسی برادری کی صورت میں ڈھال لیا ہے جو آج اس ملک کی سول سوسائٹی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ لہذا ہمیں یہ سن کر بہت دھچکا لگا کہ وہ ادارہ جو ترقی پسندی اور اور جمہوری اقدار کی حوصلہ افزائی کرتا آیا، اُس پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ کسی جنسی اسکینڈل میں ملوث گروہ کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
وہ شخصیت جو (عراقی سول سوسائٹی کی)اس ترقی کا سب سے اہم کردار ہے، اُس کا نام سید علی سیستانی ہے جن کا شمار دورِ حاضر میں جہانِ تشیع کی اہم ترین اتھارٹی (مرجع دینی) میں ہوتا ہے۔ وہ شخصیت جن کے دنیا بھر میں مقلدین کی تعداد دو سو ملین کے قریب ہے۔ 89 سالہ بزرگ سید سیستانی اسلامو فوبک نظریات کے کٹر مخالفین میں سے ہیں۔ انہوں نے تنِ تنہا (جبر کا شکار رہی)ملک کی ایک اکثریتی برادری کو جمہوریت اور انتخابات کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ وہ انسانی حقوق اور بالخصوص خواتین کے حقوق کیلئے عملی اقدامات اٹھاتے رہے۔
میں نے سنہ 2003 سے اب تک، ہر سال عراق کے کئی دورے کیے۔ ان دوروں میں کئی مرتبہ مجھے سید سیستانی سے ملنے اور گفتگو کا موقع ملا۔ مجھے کوئی موقع بھی یاد نہیں ہے جب اُنہوں نے خواتین کے حقوق کا تذکرہ نہ کیا ہو۔

یہ بھی پڑھئے:   ہاں میں چور ہوں

یاد رکھیں، عراق میں یہ ایشوز ڈرائنگ روم یا آرام کرسی پر بیٹھ کر گفت شنید کرنے والے موضوعات نہیں ہے۔ عراق میں تقریباََ  پانچ لاکھ بیوہ خواتین موجود ہیں جو جنگ کے دوران بیوہ ہوئیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد اُن کی ہے جن کی رسائی کسی فلاحی منصوبے یا مدد تک نہیں ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران یہ صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے کیوں کہ عالمی برادری کی توجہ شام کی طرف مبذول ہوگئی ہے اور عراق کو وہ انسانیت کی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے سیکیورٹی کی آنکھ سے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
عراق کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم العین فاونڈیشن کی بنیاد سید علی سیستانی کے دفتر نے رکھی اور وہی اِس کا انتظام چلاتا ہے۔ اس کے تمام تر اخراجات شیعہ کمیونٹی خود دیکھتی ہے جس کی وجہ سے یہ تسلسل کے ساتھ اپنا کام جاری رکھ پاتی ہے، جو بین الاقوامی این جی اوز اور عطیات پر انحصار کرتے ہوئے شاید اتنا آسان نہ ہو۔

یہ تنظیم 57 ہزار یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرتی ہے۔ جس میں اُن کی صحت سے لے کر تعلیم اور نفسیاتی تھیراپی تک شامل ہے۔ عراقی شیعہ علماء معاشرے کی بہبود کیلئے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں صدام حسین کی آمریت کے بعد بخوبی ہوگیا جب اِن علماء کو آزادانہ طور پر خدمت کا موقع میسر آیا۔
العین تنظیم ہر قسم کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے عالمی معیار کے مطابق قوانین پر عمل کرتی ہے۔ جو کسی بھی مغربی امداد یافتہ ادراے کے معیار سے کہیں زیادہ بہتر اور محفوظ ہے۔ تمام عملے کا سیکیورٹی چیک یقینی بنایا جاتا ہے اور وہ صرف اور صرف آفیشل چینلز یا ذرائع سے متاثرہ خاتون یا بچے سے رابطہ کر سکتا ہے۔ سید سیستانی نے ذاتی طور پر تاکید کر رکھی ہے کہ مثلاََ ادارے کے محض خواتین عملے کو اجازت ہونی چاہئے کہ وہ کسی متاثرہ خاتون سے رابطہ کرے۔
لہذا یہ سب جاننے کے بعد بی بی سی کا یہ الزام لگانا انتہائی ہتک آمیز معلوم ہوتا ہے کہ کچھ نام نہاد شیعہ مولوی مذہبی اداروں کا تحفظ استعمال کرکے عراقی خواتین اور بچوں کو جنسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
کمزور اور متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو قطعی طور پر رد کرنا ہوگا بالخصوص جب یہ کام مذہب کے لبادے میں کیا جائے تو یہ اور بھی قبیح تصور ہوگا۔ سید علی سیستانی نے ان قبیح اعمال کے خلاف قطعی اور واضح رد عمل جاری کیا ہے ، اور اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جہاں بھی ایسے قبیح عمل دیکھیں، اُنہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں ہوسکی کہ (ڈاکومنٹری میں) ان مولویوں کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ واقعی عالم ہیں؟ یا پھر اُن کی یہ مذہبی وابستگی بھی اُن کے جنسی سمگلنگ اسکینڈل کی طرح ایک فریب ہے؟ اسکینڈل میں موجود سب سے مرکزی کردار کا مذہبی وابستگی کا سب سے واضح ثبوت اگر کچھ نظر آیا تو وہ اُس کے نام میں موجود لفظ “سید” تھا، جس کا مطلب ڈاکومنٹری کے مطابق یہ تھا کہ اُس کا تعلق سادات یعنی آلِ رسولؐ سے تھا۔ لیکن سید کا مطلب مسٹر بھی تو ہو سکتا ہے؟
میں عراقی علماء سے دہائیوں پر محیط اپنی نیاز مندی اور اُن کے بارے میں اپنی معلومات کی بنیاد پر آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ تمام لوگ شعبدہ باز بہروپیے یا فریبی ہیں۔ البتہ چاہے وہ بہروپیے ہیں یا نہیں اس سے اس بات پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ شیعہ برادری کو ان انکشافات کے بارے میں کیا جواب دینا چاہئے۔ اگر وہ فریبی بہروپیے ہیں تو ان کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے اور اگر وہ مولوی ہیں یا کبھی بھی تھے تو وہ مذمت کے زیادہ مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ڈ ر کے راج میں مرتی آوازیں-شاہ رخ رشید

اس طرح کی رپورٹس جن میں کسی جائز مذہبی اُصول، مثلا نکاحِ موقت یا متعہ کی تضحیک و تحقیر کی جائے، مجھے اور تمام مسلمانوں کو سخت اذیت دیتی ہیں۔یعنی اس قسم کے جنسی جرائم ایک متاثرہ عورت اور بچے پر تو بار بار ظلم کرتے ہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ اسلام میں بدترین فرقہ واریت کو بھی ہوا دینے کا باعث بنتے ہیں۔ نکاحِ متعہ کے بارے میں گمراہ کن، بے بنیاد اور حقائق کے منافی پراپیگنڈہ کرنے میں داعش جیسے سفاک اور شیعہ دشمن بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ دو بالغ مرد و عورت کے درمیان نکاحِ موقتہ شیعہ اسلام کی مذہبی تعلیمات میں موجود ہے۔ مثلاََ ایک دوسرے سے منسوب جوڑا ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کی نیت سے بھی یہ نکاح کر سکتا ہے تاکہ وہ کسی قسم کی صنفی حدود کی خلاف ورزی سے محفوظ رہ سکے۔ یہ سخت شرائط اور حقوق پر مبنی ازدواجی تعلق ہے، جو دونوں فریق پر عائد ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سید سیستانی کے دفتر میں موجود اُن کے نمائندگان نے بی بی سی کی ٹیم پر واضح کیا کہ نکاحِ موقتہ یا متعہ کا مطلب قطعا کسی عورت کو جنسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا نہیں ہے۔ کسی کم عمر لڑکی کا  تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تاہم کچھ انتہا پسند نکاحِ متعہ کو جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے اس مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں کہ شیعہ تو مسلمان ہی نہیں ہیں بلکہ مشرک و کافر ہیں کیوں کہ انہیں تو نکاح کے تقدس کا بھی احساس نہیں۔
یہ بات اشد ضروری ہے کہ معاشرے میں موجود ہر کمزور اور مظلوم، چاہے وہ امداد کی منتظر عراقی بیوائیں ہوں، کیتھولک چرچ کی دور دراز دنیا کے پارشنرز ہوں یا بی بی سی کے مشہور شوز میں آنے والے برطانوی بچے ہوں،یہ سب محفوظ رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اہم اداروں کو اُن مجرموں اور فریبی لوگوں سے بھی محفوظ رکھنا چاہئے جو نہ صرف معصوم متاثرین پر ظلم کرتے ہیں بلکہ اُن اداروں کا چہرہ بھی داغدار کرتے ہیں جن سے یہ وابستہ ہونے کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن جن کی اقدار سے یہ غداری کرتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
821
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: