خس و خاشاک زمانے

Print Friendly, PDF & Email

مستنصر حسین تارڈ عہد حاضر میں اردو ادب کا ایک بڑا نام ہیں۔ وہ اس خطے میں داستان گوئی کی قدیم روایت کے سچے پیروکاروں میں سے ہیں۔ بلکہ انہوں نے داستان گوئی کی قدیم روایت کو نئی بلندی سے روشناس کروایا۔ 2010 میں “خس و خاشاک زمانے” لکھنے سے پہلے وہ اردو ادب کو “راکھ” اور “قربت مرگ” میں محبت کے ساتھ ساتھ “بہاؤ” جیسے منفرد اور لازوال ناول دے چکے تھے۔ “خس و خاشاک زمانے” نہ صرف ان کے چالیس سالہ ادبی سفر کا نچوڑ ہے بلکہ یہ ان کے اندر بسے ایک قدیم داستان گو کی وسیع المشربی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس میں انہوں نے یہ دکھایا کہ وہ نہ صرف وادی سندھ کی تہذیبی ارتقاء کو بیان کرنے پر قدرت رکھتے ہیں بلکہ مقامیت سے بین الاقوامیت کا سفر طے کرتے ہوئے بھی ان کا قلم لڑکھڑاتا نہیں۔ ناول کا پہلا حصہ جہاں تہذیب، روایات، سیاست، تاریخ اور اس خطے کے انسانوں کی نفسیات میں گندھا ہوا ہے، وہیں آخری حصہ ایک جہاں دیدہ آوارہ گرد کے گہرے تجربوں کا اظہاریہ ہے۔ ناول کا دوسرا حصہ پاکستانی نژاد انگلش ناول نگاروں کے نائن الیون کے بعد مسلم شناختی بحران پر لکھے گئے کسی بھی بڑے ناول سے کم تر نہیں ہے۔ ناول میں تاریخ، تہذیب، برصغیر کی تقسیم، پاکستان کے ابتدائی تیس سالوں کی لڑکھڑاتی صورتحال، ہندو پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوں، ضیا الحقی دور کی حشر سمانیوں، شناختی بحران، اسلاموفوبیا، موت و حیات کی کشمکش، سرکش انسانی رویوں، مذہبی شدت پسندی اور نسلی تفاخر جیسے کئی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

“خش و خاشاک زمانے” بیسویں صدی کا تاریخی اظہاریہ ہے۔ بیسویں صدی بین الاقوامی جنگی المیوں، انسان کے شناختی بحران، بدلتی تہذیب و ثقافت اور پرانے دم توڑتے سیاسی، سماجی، فکری اور معاشرتی نظریوں کی صدی ہے۔ یہ ناول تین نسلوں، تین خاندانوں، تین دیہاتوں، تین ملکوں اور بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے بعد خش وخاشاک ہو گئے زمانوں اور لوگوں کی پینٹنگ ہےـ جو قاری کو جی ٹی روڈ پر گجرات سے ہوتا ہوا لاہور اور پھر امریکہ سے کینیڈا تک کے بے شمار رنگ برنگے مناظر سے روشناس کروائے گا۔ “خس و خاشاک زمانے” کی کہانی کوٹ ستارہ، دنیا پور اور نت کلاں کے دیہاتوں سے پھوٹتی ہوئی کینیڈا اور امریکہ کی سرحد پر موجود ایک جنگل بیابان میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ جس کے راستوں میں خوشی محمد کے کتے، کالا شاہ کاکو کا سانپوں بھرا کھیت، وسیع ہوتی ہوئی داتا نگری کا محلہ قادر بخش اور نیا بستا ماڈل ٹاول، منہدم ہوتے ٹوئن ٹاور، چلی کا ادبی کیفے، کنیڈا میں بسایا جانے والا نیا علاقہ مانتڑیال اور کیلیگری میں موجود گفٹ فار بی جیسے اسٹاپ آتے ہیں۔ ہر اسٹاپ پر رکنے کے بعد آپ ایک نئے کردار ایک نئی دنیا، ارتقاء پذیر ہوتی فکر اور بدلتے رویوں سے ملتے ہیں۔ ان وسیع رستوں پر کسی ایک سٹاپ پر کسی ایک کردار کے اندر موجود اندرونی توڑ پھوڑ کسی دوسرے اسٹاپ پر یا تو پرسکون کیفیت میں بدل جاتی ہے یا موت کو گلے لگا کر تاعمر موجود رہنے کا ثبوت دے جاتی ہے۔

ناول کا پہلا حصہ ایک زندہ تہذیب کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔ تہذیب کے جس پر مذہب اور قومیت نے اپنے زہریلے دانت نہیں گاڑھے تھے۔ جہاں جاٹ رہتے تھے جن کی واحد پہچان جاٹ ہونا تھی۔ جو بیلوں کے ساتھ زمینوں میں ہل چلانے کے علاوہ باقی سب کاموں کو گھٹیا تصور کرتے تھے۔ جہاں چوری ایک برائی نہیں مردانگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ جہاں بچوں کو پڑھانا بیوقوفی سمجھی جاتی تھی۔ دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والے چوہدری ہوتے تھے۔ علم سے نفرت سکھوں اور مسلمان جاٹوں کا شیوہ تھی۔ تعلیم سے محبت ہندوؤں کا خاصہ تھی۔ اونچے شملے اور کلف لگے سفید سوٹ پہنے تمام چوہدریوں کی ظاہری اکڑ کے پیچھے ہندو بنیے کا وہ پیسا ہوتا تھا جسے جاٹ لوگ اپنی زمین گروی رکھ کر لیتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب دیہاتوں کے دیہات ہندو بنیوں کے پاس گروی پڑے ہوئے تھے۔ خوشی، غمی، لڑائی جھگڑوں اور میلوں ٹھیلوں پر کی جانے والی عیاشی آج بھی مقامی جاٹوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اپنی تمام تر بری خصلت کے باوجود رشتوں کا مان موجود تھا۔ جبکہ دوسرا حصہ نئی صدی کے مسائل اور بین الاقوامیت کی وجہ در آتا تہذیبی تفاوت ہے۔ جہاں انسان کی تنہائی اور اپنی شناخت کی تلاش سب سے بڑا مسئلہ بن بن کر سامنے آیا۔ جس کی وجہ سے سے اکبر جہاں خودکشی کر لیتا ہے اور بخت جہاں دل برداشتہ ہو کر کینیڈا سے دنیا پور واپس آ جاتا ہے۔ جہاں مسلمانوں کی ساری شناختیں کھو کر انہیں بس دہشت گرد کی شناخت دے دی گئی ہے۔ اس حصے میں امریکہ اور کینیڈا جا کر اپنی زندگیوں کو محفوظ اور بہتر بنانے کی کوشش میں لگے انسانوں کی اندرونی شکست و ریخت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

پوسٹ کلونیئل اور پوسٹ ماڈرن ناولوں میں شناختی بحران ایک نمایاں موضوع بن کر سامنے آیا ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں لکھا جانے والا زیادہ تر ادب اپنی اپنی مقامیت کے حوالے سے اس بحران کو اجاگر کرتا نظر آتا ہے۔ “خش و خاشاک زمانے” میں تارڑ انسانی شناخت کے بحران سے جڑے نسلی، مذہبی، ثقافتی اور قومیتی بیانیوں کی گہرائیوں میں جا کر اسے رد کرتے ہوئے بین الاقوامیت کی طرف مراجعت کرتا نظر آتا ہے۔ جہاں تمام تر شناختوں کے باوجود انسانیت کی شناخت بڑی شناخت بن جاتی ہے اور اس انسانیت کی شناخت سے ایک نیا آدم تخلیق کرنے، ایک نئی دنیا تخلیق کرنے کا عزم بھی نظر آتا ہے۔ جاٹ جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اس کی نسلی اور قومی شناخت کو مذہب جب کھاتا ہے تو ایک دوسرے کی ہر خوشی غمی میں شریک ہونے والے ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے ہیں۔ باقی علاقوں کی نسبت اور باقی تقسیم پر لکھے ادب کی نسبت کوٹ ستارہ اور نت کلاں میں ہونے والے فسادات کو ہجرت کر کے آئے ہوئے جتھوں کا شاخسانہ دکھایا گیا ہے جس میں مقامی لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ شناخت کا یہ بحران سروسانسی جیسے توانا کردار میں دکھایا گیا۔ سروسانسی اپنی شرست میں بہاؤ کے ماما ماسن جیسا کردار کا وہ تسلسل ہے جس کا تعلق وادی سندھ کے قدیمی اور اصل وارثوں سے ہے جو تقسیم کے بعد تقریباً متروک ہو چکے نظر آتے ہیں۔ تقسیم کے بعد برصغیر میں جب انسان کی اندرونی شکست و ریخت میں اضافہ ہوا تو اس نے اس کا ازالہ نئی شناخت کی پناہ لے کر کیا۔ موجو سانسی کا سلمان شاہ ہونا اسی شناختی تبدیلی کی علامت ہے۔ ثقافتی شناخت پر جب ضیا الحقی فکر حملہ کرتی ہے تو وادی سندھ کے اس خطے کی قدیم ثقافتی شناخت کو عربی ثقافتی شناخت میں بدلنے کا ظالمانہ سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ناول میں ہر اس جگہ جہاں ضیاالحقی مذہبی شدت پسندی کو نئی قومی شناخت بنتے دکھایا گیا ہے وہاں ناول میں ایک درد بھری نفرت کے طور پر ابھرتی نظر آتی ہے۔ روشن جہاں جیسے صحافی کا قتل اور انعام اللہ جیسے سینکڑوں ہزاروں ترقی پسند سوچ رکھنے والے لوگوں پر ظالمانہ سزائیں اور جلاوطنی کے ذریعے ملکی شناخت کو مذہبی شناخت میں تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   شبِ ہجراں کو آنسوؤں کی زکوٰۃ دینے والا شاعر

بیسویں صدی کو اگر جنگوں کی صدی کہا جائے تو بے جا نا ہو گا۔ دو عالمی جنگوں اور متعدد انقلابوں کے علاوہ کلونیئل ازم سے آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں انسان جاہ طلبی اور طاقت کی ہوس کے لیے بڑھکائی گئی آگ کا ایندھن بنے ہیں۔ یہی آگ بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں برصغیر کے رہنے والے انسانوں میں عدم تحفظ اور غیر یقینی کی صورتحال کو بہت بڑھا دیا ہے۔ تقسیم اور خاص کر لاہور میں تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کا ایک رنگ ہم شاہ عالمی کی حویلیوں میں اڑتی ہوئی ” راکھ“ میں پڑھ چکے ہیں۔ لیکن خش و خاشاک زمانے میں اس کو بالکل الگ رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ پھر پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں کے احوال دل دہلا دینے والے ہیں۔ خاص کر فتح محمد کی زبان سے ڈھاکہ میں بنگالیوں پر ہونے والا مظالم جنگ سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔جنگ سے یہی نفرت جب اکیسیوں صدی میں داخل ہوتے ہی ایک نئی لہر پکڑتی ہے۔ اسی لہر کے تحت ہزاروں لاکھوں گورے سڑکوں پر نکل کر عراق جنگ کے خلاف زبردست مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔

کہانی بیان کرنے کے لیے ناول میں فلیش بیک کی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیس سالہ پہلے واقعے کا ذکر بطور ایپیٹائزر کر کے گزرے دنوں کی کہانی سنانا اور اس کہانی کو نئے زمانے سے جوڑنے کا بار بار مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس قدر وسیع کینوس اور بے شمار کرداروں کے باوجود ناول کا ربط کہیں بھی ایک دوسرے سے ٹوٹتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ تارڑ کہانی بیان کرتے ہوئے کبھی بھی خاکہ نگاری جیسی کوشش نہیں کرتا کہ بس ایک ہی کردار کو مسلسل بیان کرتا جائے بلکہ ہر کہانی ہر نئے باب میں کہانی کو پچھلے اور آنے والے واقعات سے یوں جوڑتا ہے کہ کہانی اور اس کے کردار کبھی بھی ذہن سے محو نہیں ہوتے۔ اپنے منفرد اسلوب اور مضبوط مکالموں کے ذریعے کہانی مزید جاندار محسوس ہوتی ہے۔ ناول ایک خوبی یہ ہے کہ پنجابی زبان کے بے شمار الفاظ کو اردو میں یوں استعمال کیا گیا ہے کہ مفہوم کے ساتھ ساتھ صوتی تاثر قاری پر گراں نہ گزرے۔

منظر نگاری اس ناول کی ایک شاندار خوبی ہے۔ کسی بھی ناول کا آغاز بہت اہمیت رکھتا ہے۔ تارڑ کے ناول کا آغاز اس شاندار منظر نگاری سے ہوتا ہے کہ قاری ابتدا میں ہی خود کو ایک سحر میں جھکڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔ آغاز ملاحظہ کریں۔۔ ” شیشم کی دبیز چوکھٹ کے پار۔۔۔ جس کی پوروں میں شیشم کے پتوں کی تالیوں کی گونج ابھی باقی تھی اور اس پر سے محمد جہان، الف جہان، نمبردارنی بہشت بی بی اور ماہلو کے جنازے گزر چلے تھے۔ اس کے پار۔۔ دھریک کے موئے ہوئے مردہ پتے ابھی لو کا جو گرم تھپیڑا آیا تھا۔ اس کی تاب نہ لا کر زرد آنسوؤں کی مانند گرتے ہی چلے جاتے تھے۔۔ محمد جہاں نمبردار کے ویہڑے کے کچے فرش پر بچھتے ہی چلے جاتے تھے۔ تو ان کی زردی کے فرش پر ابھی تک اپنے پاؤں پر کھڑے صاحب بہادر مرغ کے زرد پنجے نظر آتے تھے۔ اس کی موت کی منتظر زرد آنکھیں بھی گویا آنکھیں نہ تھیں دھریک کے دو خزاں رسیدہ پتے تھے۔ جو اس کے ناتواں وجود کے سر میں چپکے ہوئے تھے“۔ نت کلاں کو جاتے رستے پر اڑتی دھول، دریا کے بہتے پانیوں کے اوپر اڑتے پرندے ہوں یا خوشی محمد کے کتوں سے ڈر کر بھاگتے امیر بخش کے سفید ہوتے بال سب منظر کشی کی منفرد مثالیں ہیں۔ بعض نقادوں نے سانپوں کے کھیت اور بالوں کی سفیدی کو جادوئی حقیقت نگاری کہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   فیس بک اور ادبی تنقید

اگر کردار نگاری کی بات کی جائے تو ناول میں موجود چھوٹے موٹے تقریباً 74 کردار موجود ہیں۔ ناول کا ہر کردار ایک الگ دنیا ایک الگ کہانی اور ایک الگ موضوع کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ بخت جہاں ناول کے پہلے حصے میں مرکزی کردار ہے۔ جو ایک گھبرو جوان جاٹ کی اتھری زندگی کا علمبردار ہے۔ وہ ظالم ہے اور اپنی بری خصلتوں کے ادارک کے باوجود یہ کہتا ہوا پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی خصلتوں کے ہاتھوں مجبور ہے۔ وہ اتھری گھوڑیوں اور منہ زور جوانی سے بھری عورتوں کا رسیا ہے۔ جو اپنی بھتیجیوں کی ڈولیوں کو روکتا ہے اور اپنے جگری یار کی بیوی سے نکاح کر لیتا ہے۔

پھر امیر بخش ہے۔ جو ایک ترقی پسند سوچ کا نمائندہ کردار ہے۔ جو ذات پات اور رنگ نسل کے تمام تر تعصبات سے پاک ہے۔ جو عقیدے کو انسان کا ذاتی معاملے سمجھتا ہے۔ جو مذہب کا بطور ہتھیار استعمال کے خلاف ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ امیر بخش اور بعد میں انعام کے ذریعے بین السطور ناول نگار اپنی اب تک کی پوشیدہ فکر کا اظہار کر رہا ہے۔

سرو سانسی اس خطے کی قدیم تہذیب اور نسل کا نمائندہ کردار ہے۔ سانسی نسل جو تقسیم کے بعد معدوم ہو رہی ہے۔سانسیوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن پھر بھی سرو سانسی کا بیٹا سلمان شاہ بن کر سماج میں ایک الگ مقام پاتا ہے۔ سرو قدیم دانش کی ایک زندہ مثال ہے۔ سرو کا کردار بہاؤ کے ماما ماسن کے کردار کا ارتقاء محسوس ہوتا ہے۔ ماما ماسن وادی سندھ کا وہ مقامی ہے جو پہاڑوں سے اترنے والوں کو اپنی تہذیب اور اپنی نسل کو مٹانے والا سمجھتا ہے۔ اپنے چوہدریوں کی موت پر روتا ہوا سرو سانسی دراصل اپنی مٹتی ہوئی سانسی شناخت پر روتا ہے۔
انعام کا کردار ایک ناول نگار کا کردار ہے۔ اس کردار کے ذریعے ہی ناول کا دوسرا حصہ قاری کو اپنی طرف متوجہ رکھتا ہے۔ ایک حرامی ہونے اور اپنی حرامی شناخت کا اقرار ناول میں کرنے کی وجہ سے ضیاالحق کے دور میں کوڑے کھاتا ہے۔ امریکہ جا کر نیویارک شہر کا گند ڈھوتا ہے۔ ٹیکسی چلاتا ہے تو اس تجربے کی بنا پر ایک اور ناول لکھتا ہے۔ پھر امریکہ سے کینڈا ہجرت کر جاتا ہے اور ساٹھ سال کی عمر میں ایک لڑکی کی آغوش میں پناہ لے کر اپنے ہیجان اور اجتماعی لاشعور میں پنپتی نفرت کے احساس سے نجات پاتا ہے۔ انعام اور میٹا فکشن کے استعمال نے ہی قاری کو ناول کے باقی تین سو صفحات سے جوڑے رکھا ہے

ماہلو، نور بیگم، امرت کور، مریم اور جولیا کے ساتھ ساتھ دیگر نسوانی کرداروں کے باوجود شباحت کا کردار ناول کے دوسرے حصے میں ظاہر ہو کر ایک توانا نسوانی کردار بن کر ابھرتا ہے۔ جس میں سانسی نسل کا اکھڑ پن بھی ہے۔ ایک جدید نسل کی لڑکی ہونے کے باوجود ٹھہراؤ بھی ہے۔ وہ قدیم سانسی دانش کی پرتو بھی ہے جو زندگی کی حقیقتوں کو انعام جیسے مشہور ناول نگار اور زمانہ شناس شخص سے کہیں بہتر انداز میں بیان کر سکتی ہے۔

اردو ادب میں تاریخی اشکالات، لامتناہی کرداروں، تہذیبی توڑ پھوڑ اور مہا وقتی بیانیے کا جو اسٹینڈرد قرة العین حیدر نے “آگ کے دریا” میں سیٹ کیا تھا نصف صدی بعد “خس و خشاک زمانے” نے اس کو ایک نئی جہت دی ہے۔ دوسرے حصے میں میٹا فکشن کا استعمال غلام باغ کی یاد دلاتا ہے کہ جہاں مرزا اطہر بیگ نے کبیر کے رجسٹر کے ذریعے کہانی کو آگے بڑھانے کی منفرد تکنیک استعمال کی ہے۔ اس ناول میں تارڑ ایک الگ رنگ و روپ اور اپنی فکر کی بلندی پر نظر آتے ہیں۔ “خس و خاشاک زمانے” اردو ادب میں ایک ایسی بلند سطح ہے جس پر پہنچنے کے لیے تارڈ جیسے ہمہ جہت ادیب کو چالیس سال لگے اور اس بلند سطح کی برابری کے لیے اردو ادب میں کسی نئے آدم کو پیدا ہونا ہو گا۔ یا اردو ادب کو ایک نیا آدم تخلیق کرنا جو خش و خاشاک میں موجود آدمیت کے بیانیے کو مزید گہرائی اور گیرائی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔

Views All Time
Views All Time
604
Views Today
Views Today
9

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: