Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

مزاح کی آڑ میں طنز

Print Friendly, PDF & Email

مزاح اور طنز کے درمیان ایک باریک سی لائن ہوتی ہے۔ اکثر لوگ دوسروں کی ذات کو مسلسل طنز کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر بضد بھی رہتے ہیں کہ وہ مزاح کر رہے ہیں۔ جب تک ہم اس طنز اور مزاح کے درمیان فرق نہیں سمجھ پاتے تب تک ہم دانستہ یا نا دانستہ اپنے دوستوں اور پیاروں کا دل دکھاتے رہتے ہیں۔۔

آپ اگر مزاح کی آڑ میں مسلسل طنز کریں اور وہ بھی اکیلے نہیں بلکہ پانچ سات انجان لوگوں کو ملا کر تو اس سے کبھی بھی کوئی رشتہ دیر تک قائم نہیں رہ پائے گا۔ اگر یہ خونی رشتہ ہو گا تو جس شخص کی ذات کو مسلسل طنز کا نشانہ بنایا جائے گا۔ وہ دانستہ طور پر ایسی محفل اور اشخاص سے لاتعلق اور دوری اختیار کر لے گا۔ اگر کسی دوست کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جائے تو بہت جلد وہ دوستی اور تعلق ختم ہو جائے گا۔

اگر آپ اپنے سے بڑے شخص کے ساتھ مسلسل طنز کریں گے تو چھوٹوں کی نسبت اس کا دل جلد دکھی ہو جائے گا۔ یا وہ آپ سے لاتعلقی اختیار کرے گا۔

اگر آپ کسی سے بھی اچھے تعلق کے دعوی دار ہیں تو اس پر طنز ہر گز نہ کیجیۓ۔ یہ جاننے کے لیے کہ آپ کا مزاح کس وقت طنز یا تضحیک سمجھا گیا ہے۔ اور کس وقت کسی کو دکھی کرنے کا باعث بنا ہے۔ اس کے لیے کسی کا آپ کے مزاح یا طنز پر خاموشی اختیار کرنا ہی کافی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان کی جمہوریت کو کس سے خطرہ ہے ؟| کنول زہرا

اکثر رشتوں میں دراڑیں یا دوریاں مسلسل لاتعلقی اور طنز کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

Views All Time
Views All Time
83
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: