Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

زیف سید کا ناول گل مینہ

Print Friendly, PDF & Email

زیف سید کا ایک تعارف بی بی سی پر لکھے گئے کالم ہیں۔ وہ اپنے منفرد اسلوب کی بنا پر بی بی سی کے چند مقبول کالم نگاروں میں سے ہیں۔ اس سے پہلے ان کا ایک ناول ”آدھی رات کا سورج“ کے نام سے 2013 میں چھپ چکا ہے۔ گل مینہ ان کا دوسرا ناول ہے جو اس سال کے پہلے مہینے میں شائع ہوا ہے۔

گل مینہ صرف ایک قبائلی لڑکی کی کہانی نہیں ہے۔ بلکہ یہ واقعات در واقعات اور حادثات کے ذریعے بُنی گئی ایک ایسی کہانی ہے جو حسن بن الصباح کی جنت، ابدالی کی لوٹ مار، برطانوی سپاہ کا وانا قلعہ سے انخلا، طالبان کے عروج و زوال سے ہوتی ہوئی 2007 میں بینظیر بھٹو کے قتل تک پہنچ کر اختتام پزیر ہوتی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر اب تک تقسیم کا موضوع اردو ادب پر چھایا رہا۔ اب اکیسویں صدی میں دہشتگردی پوری دنیا کے فکشن نگاروں کے لیے ایک بہت بڑا موضوع بن کر سامنے آیا ہے۔ خالد حسینی کے کائٹ رنر کو اس خطے میں ہونے والی تباہیوں پر لکھا جانے والا نمائندہ ناول سمجھا جاتا ہے۔ جنگ ہر جگہ تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ ایک سی محرومیاں اور تباہیاں لاتی ہے۔ ہمارے ہاں دہشتگردی پر لکھی گئی کئی کہانیوں میں بہت حد تک یکسانیت ہوتی ہے۔ گل مینہ کا آغاز روایتی اور گھسے پٹے منظر سے ہوتا۔ ایک پشتون لڑکی جو اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ جاتی ہے۔ جب وہ لڑکی بھاگتے بھاگتے پاکستان کے کسی ترقی یافتہ شہر پہنچنے کے بجائے افغانستان پہنچتی ہے تو کہانی کے منفرد ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ پھر یہی احساس کہانی کے اختتام تک پہنچتے ہوئے ایک ایسے المیے کا روپ دھار لیتی ہے جو بہت سارے یکساں واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بھی اختتام پر اپنی انفرادیت قائم رکھتی ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے چلتی ہے اور اس کی پرتیں کھلتی ہیں تو قاری کہانی کے ساتھ بندھ سا جاتا ہے۔ ایک مسلسل رو میں بہتا، کہیں کہیں ہچکولے کھاتا قاری جب اختتام تک پہنچتا ہے تو یوں محسوس ہوتا جیسے اس کو صبر کا پھل مل گیا ہو۔ مجھے امید ہے فکشن کا ہر قاری ناول کے اختتام سے مایوس نہیں ہو گا۔

78 ابواب اور چار سو صفحات پر مشتمل اس ناول میں بارہویں صدی کے حسن بن الصباح کی جنت، اٹھارویں صدی کے احمد شاہ ابدالی، 1919 میں برطانوی فوج میں شامل قبائلیوں کی بغاوت، 1988 کے لگ بھگ گل مینے اور زرجان کا گھر سے بھاگ کر افغانستان پہنچنے اور اس کے بعد کی کہانی ایک ساتھ چلتی آ رہی تھی۔ کہانی بیان کرنے کا یہ انداز کسی حد تک آگ کے دریا سے مشاہبہ ہے لیکن ظفر سید کا سادہ انداز اس کہانی کو ہر ممکنہ حد تک دل چسپ اور قرات کے قابل بنائے رکھتا ہے۔ سادہ اور عام فہم زبان کے ساتھ کئی پرتوں میں چھپی یہ کہانی آخری صفحے تک اپنے اندر تجسس برقرار رکھتی ہے۔ بظاہر اس قدر وسیع موضوع اور واقعات کا احاطہ کرتے ہوئے چار سو صفحات بھی کم محسوس ہوتے ہیں۔ بطور قاری مجھے محسوس ہوا کہ اگر اِسی کہانی کے ساتھ یہ ناول اِس سے آدھی ضخامت میں ہوتا یا کم از کم حسن بن الصبا اور ابدالی کے واقعات کو شامل نہ بھی کیا جاتا تو ناول کی صحت یا کہانی کے ابلاغ پر کوئی فرق نہ پڑتا۔ ہاں اگر اس کی جگہ زرجان کی وفات کے بعد گل مینہ کی مشکلات اور فتح خان کی ذہنی پچیدگیوں کو سامنے لایا جاتا تو ناول اس سے بھی زیادہ جاندار ہو سکتا تھا۔ ابتدا میں جس قدر کہانی آہستگی سے چلتی ہے آخری حصے پر پہنچ کر اس میں غیر معمولی تیزی آ جاتی ہے۔ جیسے ناول نگار سب کچھ بتا کر جلدی سے ہمیں آخری سین تک لے جانا چاہ رہا ہو۔

یہ بھی پڑھئے:   بھاگ بھری ناول

ناول میں منظر نگاری اس قدر جاندار ہے کہ وزیرستان کی پہاڑیوں پر پڑنے والی برف سے لے کر قندھار کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور راولپنڈی میں ریاست کے ایک بڑے ادارے کے ایک بڑے کمرے میں شیشے کی الماری میں موجود دھڑوں سے خالی سروں کے مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ ناول ویسے تو کئی کرداروں پر مشتمل ہے لیکن زرجان، گل مینہ، پاو جان، فتح خان اور شفیق کے کردار ناول کا اہم حصہ ہیں۔ ناول کا ہر کردار اپنے ساتھ ایک کہانی لیے ہوئے ہے۔ جو ہمیں اپنے عہد، خطے اور وہاں کے لوگوں سے متعارف کرواتا ہے۔ ہر کردار کی کہانی کو ناول سے الگ کر کے پڑھیں تو بھی وہ اپنا مکمل مفہوم قاری تک پہنچا رہی ہے۔

زرجان انگورہ اڈے کا رہنے والا ایک ڈرائیور ہے۔ گل مینہ کے ساتھ بھاگ جانے کے بعد قندھار میں بھی وہ ڈرائیور بن جاتا ہے۔ زرجان بیوی اور بچے سے بہت محبت کرنے والا زندہ کردار ہے۔ جو کئی دن جہادیوں کے ساتھ ریہہ کر گھر پہنچتا ہے تو اپنے بیٹے اور بیوی کو بے شمار کہانیاں سناتا ہے۔ ان کو ہر خوشی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ مجاہدین کا ڈرائیور بننے کے کچھ عرصہ بعد وہ واپس انگورہ اڈے آ جاتا ہے اور ایک دن کسی جھڑپ میں مارا جاتا ہے۔

گل مینے ناول کا طاقتور ترین کردار ہے۔ ایک پشتون لڑکی جو گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن اس پشتون لڑکی کے کندھے پر لٹکتی تھری ناٹ تھری کا پڑھ کر آپ یکدم مرعوب ہو جاتے ہیں۔ وہ افغانستان میں اپنے خاوند کے ساتھ پروقار زندگی گزارتی ہے۔ افغانستان سے واپس آ کر جب وہ انگورہ اڈے پر رہتی ہو تو اس کی زندگی کے ایک الگ گوشہ سامنے آتا ہے۔ زرجان کے مر جانے کے بعد وہی پروقار نظر آنے والی عورت کی زندگی ایک الگ منظر پیش کرتی ہے۔ اسے سماج میں زندہ رہنے کے لیے ایک کے بعد ایک کئی مجاہدین کی منکوحہ بننا پڑتا ہے۔ یہ اس کی بدقسمتی ہے کہ اس کا ہر شوہر جہاد میں اپنی جان پیش کر کے اسے ایک نئے جہادی کے لیے زندہ چھوڑ دیتا ہے۔ ایک بیٹی کے روپ میں نخریلی اور نازوں سے پلی، ایک بیوی کے روپ میں خوشحال اور ایک بدحال بیوہ کے روپ میں سامنے آمنے والی گل مینہ کا ماں والا روپ زیادہ طاقتور ہے۔ وزیرستان کی ایک عورت کا ملک سب سے بڑے ادارے کو ناکوں چنے چبوا کر اپنے بیٹے کے کٹے ہوئے سر کا دیدار کرنے اور اس کے سر کو واپس لے جانے کے لیے جس بہادری اور ہمت کا ثبوت گل مینہ دیتی ہے وہ ایک ماں کے علاوہ کسی اور کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ جہاد زدہ معاشرے میں مذہبی شدت پسندوں کے استحصال کا شکار ہونے والی عورتوں کی زندہ تصویر ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جنگ جب میدانوں سے نکل کر آبادیوں کا رخ کرتی ہے۔

فتح خان زرجان اور گل مینہ کی اکلوتی اولاد ہے۔ باپ کے مر جانے کے بعد وہ سوتیلے باپوں سے نفرت کرتا ہے۔ ایک دن وہ ماں سے مار پیٹ کرتے دیکھ کر اپنے ازبکی باپ کا قتل کر کے مدرسے میں چلا جاتا ہے اور وہاں جا کر فدائی بن جاتا ہے۔ جو جنت کی خاطر خود کو لیاقت باغ میں بمب سے اڑا لیتا ہے۔ فتح جان کا کردار قاری کو بتاتا ہے کہ کس طرح مجاہدین کے بعد طالبان کو اپنی لڑائیوں کے لیے خام مال ملتا تھا۔ اور کس طرح وہ اس خام مال کو ایک قابل عمل خودکش اور جنگجو بناتے تھے۔

زیف سید تاریخ کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ تاریخ پر اس قدر مضبوط گرپ اور کہانی کہنے کا فن ہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناول میں جزیات نگاری کا بہت خیال رکھا گیا ہے۔ بس آخر میں جس تیزی سے گل مینہ کی کہانی کو بیان کیا گیا اس سے گل مینہ کے مشکل کا دورانیہ اور فتح خان کی عمر کا ٹھیک اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دہشتگردی اور اس کے اثرات سے دلچسپی رکھنے والوں اور اس موضوع پر بہت زیادہ علم رکھنے والوں کے لیے اس کہانی میں شاید کچھ نیا نہ ہو لیکن اردو ادب کے قارئین کے لیے پھر بھی یہ ناول بہت دلچسپ اور اہم دستاویز ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ ناول دہشتگردی کا شکار ہر فتح خان، زرجان، گل مینہ اور شفیق کی کہانی ہے جو بڑوں کی لگائی ہوئی آگ کا ایندھن بن گئے۔

Views All Time
Views All Time
151
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: