Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بی اے\ ایم اے کی ڈگری ختم ہونے کے بعد ہماری تعلیم پر پڑنے والے اثرات

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے ہاں سیاسی شعور کا مطلب اپنے محبوب لیڈر کے ہر جائز و ناجائز کام کی حمایت کرنا سمجھا جاتا ہے۔ اگر نواز شریف یا زرداری پکڑا گیا ہے تو سوشل میڈیا پر شور مچے گا، دو چار لوگ احتجاج وی کر لیں گے۔ یا پھر یہاں سیاسی شعور کا مطلب فوج کو لوٹ لینے مار دینے کی گالیاں دینا ہے۔ دوسری طرف سیاسی لیڈروں کو چور لٹیرا اور ڈاکو کہہ کر لٹکا دینا ہی اصل سیاسی شعور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن عوامی ایشوز، وہ ایشوز جن سے عوام کا براہ راست تعلق ہے یا عوام اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ اس پر احتجاج کرنے یا آواز اٹھانے والے لوگ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جن بنیادی ایشو پر آواز اٹھائی جاتی ہے اسے بھی سیاست زدہ کر کے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ جس کا نقصان تو براہ راست عوام کو ہوتا ہے لیکن ان معاملات میں الجھائے رکھنے کا فائدہ ان قوتوں کو ہوتا ہے جن کے مفاد اس خاص ایشو کے ساتھ وابستہ ہوں۔

حالیہ دنوں کی تمام سیاسی ریشہ درانیوں کے دوران ایک فیصلہ کی گیا ہے۔ جس کے مطابق سال 2018 تا 2020 کے بعد بی اے\ بی ایس اور ایم اے\ ایم ایس کی ڈگری پاکستان میں ختم کر دی جائے گی۔ اس ڈگری کو ختم کرنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بین القوامی سطح پر چونکہ بی اے یا ایم اے کی کوئی ڈگری نہیں پڑھائی جاتی لہذا طلبہ کو بیرون ملک داخلہ لیتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا بی ایس کی چار سالہ ڈگری بچوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ بین القوامی یونیورسٹیوں میں آسانی سے داخلہ لے سکیں گے۔ یہ فیصلہ بظاہر تو ”دو نہیں ایک پاکستان“ اور ”تعلیم سب کے لیے یکساں“ جیسے نعروں کی طرف عملی قدم ہے۔ لیکن بظاہر یہ ایسی ظالمانہ پالیسی جس کے نقصانات غریبوں کو بھگتنے پڑیں گے۔

نیولبرلزم ایک پچیدہ گورکھ دھندہ ہے۔ اس کو سمجھنے کا دعوی بالکل بھی نہیں ہے۔ ہاں بس سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ ابھی اس کا بالکل ابتدائی سٹیج کا طالب علم ہوں۔ کچھ اہل دانش موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو نیولبرلزم کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر سالار کوکب صاحب کے لفظوں میں لکھا جائے تو ”نیولبرلزم کے حامیوں کا ماننا ہے کہ حکومت صحت اور تعلیم کی سہولیات سمیت کوئی سہولت مفت نا دے۔ اگر کہیں حکومتی مدد کی ضرورت ہو تو یہ مدد امیر لوگ سخاوت کے ذریعے کریں یا حکومت کم از کم حد تک نجی شعبے کی مدد کے ذریعے کرے“۔ اس پالیسی کا آغاز صحت کے شعبے میں مفت ادویات اور دیگر سہولیات کا خاتمے کے ذریعے کیا گیا ہے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگری اور اس کے ساتھ پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے کا خاتمہ کر کے اس پالیسی کو تعلیم کے شعبے میں بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ تعلیم میں بی ایس کی ڈگری کا آغاز سرکاری جامعات میں پائلٹ سٹڈی کے طور پر ہمارے ہاں یو ایس ایڈ کی مدد سے کیا گیا۔ اب جب یہ منصوبہ کامیاب رہا ہے تو اس کو باقاعدہ حکومتی پالیسی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

اس پالیسی کا آغاز سب سے پہلے ستر کی دہائی میں امریکہ میں کیا گیا تھا۔ جس کو سمجھنے کے لیے نوم چومسکی کی کتاب ”امریکی سپنے پر فتح“ پر طارق عباس صاحب ترجمہ اور تلخیص کردہ مضمون کا یہ حصہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

پاول میمورینڈم: پاول نے چیمبر آف کامرس کو 1971میں ایک خط لکھا جس میں اس نے خبردار کیا کہ تاجروں کا معاشرے پر عمل دخل کم ہوتا جا رہا ہے۔ اور اس منہدم ہوتی ہوئی طاقت کو بحال کرنے کیلئے جلد از جلد لائحہ عمل تیار کیا جانا ضروری ہے۔تاکہ جمہوریت کی اس اٹھتی ہوئی لہر کو روکا جا سکے۔ وہ خاص طور پر اس بارے میں فکر مند تھا کہ نوجوان نسل تیزی کے ساتھ آزاد اور خود مختار ہوتی جا رہی ہے۔ پاول کے مطابق یہ آزادی دراصل انسانیت کے آقاؤں کی ناکامی کے باعث تھی۔ سکول، یونیورسٹی، اور چرچ اپنا ’’کام‘‘ ٹھیک طریقے پر نہیں کر پا رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ نوجوان نسل کی سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اور پھر کس طرح سے نوجوان نسل کو ذاتی مفاد کا اسیر اور سیاسی طور پر غیر فعال بنایا گیا، چشم کُشا اور ہوشرُبا داستان ہے۔
سب سے پہلا حملہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے ذریعے کیا گیا۔ ستر کی دہائی کے آغاز سے ہی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کالج کے طلباء کو قابو کرنے کے لئے بہت سے طریقہ ہائے کار عمل میں لائے گئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حیران کُن طور پر کالجز کے طرزِ تعمیر کو باقاعدہ طور پر تبدیل کیا گیا۔ اور عمارات کی تعمیر اس طرز پر کی گئی جہاں ایسی کوئی جگہ موجود نہ ہو جہاں تمام طلباء بیک وقت اکٹھے ہو سکیں، ایسی تمام جگہیں منہدم کی گئیں جو برکلے یونیورسٹی کے Sproul-Hall سے متشابہ ہوں، یہ ایک ایسا ہال تھا جہاں پر طلباء اکٹھے ہوتے اور جہاں یونین کی سطح پر سرگرمیاں تشکیل پاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:   میں بھی | شاہانہ جاوید

عوام کو قابو میں رکھنے کا دوسرا حربہ کالج کے اخراجات کا اچانک بہت زیادہ بڑھ جانا تھا۔ میرے پاس کوئی دستاویزی ثبوت تو نہیں ہے جس سے میں یہ ثابت کر پاؤں کہ ایسا باقاعدہ منصوبے کے تحت کیا گیا تھا لیکن ہم نتائج بہت واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں؛ کالج کی ٹیوشن فیس بڑھنے سے امریکی نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد حصولِ علم سے خود بخود محروم ہو گئی۔ اور جو کسی نہ کسی طرح کالج کے اخراجات برداشت کر پاتا تھا، کالج سے گریجویٹ ہوتے ہوتے اس پر بھی کم و بیش 100،000امریکی ڈالرز کا قرض چڑھ چکا ہوتا تھا جو کہ اس طالبعلم کو ایک قیدی بنا دیتا تھا۔ اور قرض اس شکل میں ترتیب دیا جاتا کہ طالبعلم اسے ادا کر ہی نہ پائے اور دو دھاری تلوار کی طرح تمام عمر آپ کے سر پر لٹکتا رہے اور آپ بس اس پر سود ادا کرتے کرتےمقید حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو جائیں۔

کم و بیش یہی صورتحال K-12 ایجوکیشن میں دیکھنے میں آتی ہے۔ k-12ایجوکیشن میں جو رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ تعلیم کو میکانکی ہنرُ (mechanical-skills) تک محدود کر دیا جائے۔ تخلیقی صلاحیت اور خود مختاری کو اُستاد اور شاگرد دونوں کیلئے مکمل طور پر کالعدم کر دیا جائے۔ اور اس کو عملی جامہ ’’امتحانات کو مدنظر رکھ کر پڑھایا جانا‘‘، ’’کوئی بچہ (نمبر حاصل کرنے میں) پیچھے نہ رہ جائے‘‘، ’’پہلی پوزیشن حاصل کرنے کیلئے سب کا بھاگنا‘‘ جیسے زہر آلود خیالات کو آدرش قرار دے کر پہنایا گیا ہے۔ یہ تمام طریقے نوجوان نسل کو قابو کرنے میں از حد معاون ثابت ہوئے ہیں۔

تیسرا طریقہ جو عمل میں لایا گیا وہ مفت سرکاری تعلیم کے ختم کرنے کا تھا۔ چارٹر سکول سسٹم کا اجراء اسی مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا۔ چارٹر سکولز سرکاری تعلیمی فنڈ کو پرائیویٹ سیکٹر میں کھینچ لانے کا ایک طریقہ ہیں، آپ سرکاری سکول تباہ کر دیں، لوگ وہاں جانا خود بخود چھوڑ دیں گے“ـ

اب جب یہی سرمایہ درانہ پالیسی ہمارے ہاں نافذ کی جا رہی ہے ۔ وہ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ جو ہر سال گورنمنٹ یونیورسٹیز سے پرائیویٹ یا ریگولر تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہ اب بس ایف اے تک تعلیم حاصل کر سکیں گے اور اس کے بعد اگر تو ان کے نمبر پچانوے فیصد ہوئے تو وہ سرکاری یونیورسٹی میں کم فیس پر آگے تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔ ورنہ وہ سرمایہ داروں کی بنائی ہوئی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس میں اس قدر فرق ہو گا کہ اگر بی ایس کے لیے ایک سرکاری یونیورسٹی میں ایک سمیسٹر کی فیس پندرہ سے بیس ہزار ہے تو اسی ڈگری کی فیس پرائیوٹ یونیورسٹیز میں چالیس ہزار سے لے کر ساٹھ ستر ہزار اور بعض پرائیویٹ یونیورسٹیز میں اِسی ڈگری کی فیس ایک لاکھ چالیس ہزار ہے۔ اس لیے یہ آنے والے سالوں میں غریبوں تو دور مڈل کلاسیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی حد تک مشکل ضرور بنا دے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   خداتجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے - علینہ ارشد

اس سب کے باوجود کچھ لوگ اس کو ایک بہترین پالیسی مان رہے ہیں۔ جس کے نافذ ہونے کے بعد پرائیویٹ تعلیم کے ذریعے پیدا کیے گئے ”گھگو گھوڑوں“ کا مکمل صفایا ہو جائے گا اور ایسی نسل پیدا ہو گی جن کا عبور متفرق موضوعات پر ہو گا اور جن کی رسائی جدید معلومات تک ہو گی۔ میں ان دوستوں سے اختلاف رکھتا ہوں۔ سمسٹر یا سالانہ تعلیمی نظام کی خوبیوں اور خامیوں والی مباحث میں الجھے بغیر پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی ایس کرنے والے طلبا بی اے اور ایم کرنے والے طلبا سے زیادہ مضامین تو پڑھتے ہی ہیں۔ لیکن وہ مضامین پڑھائے جانے کا طریقہ ایسا ہے کہ اس میں سیکھنے کو بہت تھوڑا کچھ بچتا ہے۔ طلبا کو ہر مضمون کو پڑھانے والے اساتزہ کی بنائی گئی سلائیڈ میں سے ہی بتائے ہوئے سوالات کو پیپر میں پوچھ کر نوے فیصد نمبر دے دینے سے طلبا میں تحقیق اور علم کی جستجو بڑھنے کی بجائے سہل پسندی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ نوٹس کے علاوہ پڑھائے جانے والے موضوعات پر طلبا کا علم صفر ہوتا ہے۔

دوسری طرف پرائیوٹ یونیورسٹیوں کی منڈی کھلنے سے وزٹنگ لیکچرر کی جو کھیپ پڑھانے آتی ہے وہ خود اس قدر نالائق اور نااہل ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی سلائیڈ کے علاوہ کسی سوال کا جواب دینے کے اہل نہیں ہوتے اور اکثر تو اپنی بنائی ہوئی سلائیڈ کی وضاحت کرنے میں ایسی بونگیاں مارتے ہیں کہ اکثر ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ بات کسی نفرت کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ پانچ سال سے سمسٹر سسٹم کے دھکے کھانے اور مختلف یونیورسٹیوں کے دوستوں سے اسی قسم کے دکھڑے سننے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ جس کی تصدیق اب بھی بہت سے طلبا کریں گے۔ لہذا یہ کہنا کہ اس سے تعلیم کا نظام بہتر ہو گا فل حال قبل از وقت ہے کیونکہ اس کے لیے پورے تعلیمی نظام میں بہت ساری تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔ دوسرا اگر اس پالیسی کا مقصد یکساں نظام تعلیم دینا ہے تو پھر پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں بی ایس کی ڈگری کے لیے فیس کو فکس کرنا پڑے گا تاکہ غریبوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔

ہم اپنی اندھی نفرتوں اور عقیدوں میں مگن جن باتوں پر نعرہ بازی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر دشنام ترازی اور دلائل کے ذریعے لوگوں کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان باتوں کا تعلق ہماری توجہ اپنے بنیادی مسائل سے ہٹانا ہے۔ جس کا مقصد عوام کو ٹیکنیکل ایجوکیشن جیسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر سوشل سائنسز جیسے مضمون سے دور رکھنا ہے۔ کیونکہ یہی وہ مضامین ہے جو عوام کو اپنے حقوق کا شعور دلاتے ہیں۔ انہیں انسان ہونے کا احساس دلاتے ہیں اور ظالمانہ نظام کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے خلاف ہوں یا اسے برا سمجھتا ہوں۔ ہاں لیکن ٹیکنیکل مضامین اور ٹیکنالوجی کے نام ہر سوشل سائنسز کو گھٹیا اور کم تر مضامین بنا دینے پر میں اپنا تحفظات رکھتا ہوں۔

نوٹ: اس مضمون میں لکھی باتیں حتمی نہیں ہیں بلکہ اس کا مقصد دوستوں کی توجہ اس موضوع کی طرف دلانا ہے۔ اس پر بات کرنا اور نئے حقائق سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ اگر آپ اپنی رائے دے کر میرے علم میں اضافہ کریں گے تو مجھے بہت خوش ہو گی۔

Views All Time
Views All Time
299
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: