Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جنگ جب میدانوں سے نکل کر آبادیوں کا رخ کرتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

”سر زمین مصر میں جنگ“ مصری ناول نگار یوسف القعید نے 1975 لکھا ہے۔ جو ہمیں بتاتا ہے کہ جنگ کی وجہ سے کسی ملک کے غریب باشندوں پر کیا گزرتی ہے۔ ناول کا آغاز بہت دلچسپ واقعے سے ہوتا ہے۔ جو نہ صرف مصر کے ایک دیہات کی کہانی ہے بلکہ یہ کہانی تیسری دنیا کے ہر امیر و غریب دیہاتی کی کہانی ہے وہ اپنی زمین کے لیے لڑنے مرنے کو تیار رہتا ہے۔ وادی سندھ کے لوگوں بارے تو مشہور ہے کہ یہ فصل کاٹ کر اس کا بہت بڑا حصہ مقدمہ بازی کی نظر نہ کریں تو انہیں سکون ہی نہیں ملتا۔ گاوں کے سرپنچ، وڈیرے کو مصری زبان میں عمدہ کہتے ہیں۔ تو عمدہ کی زمین ریاست نے پہلے اپنے اختیار میں لے لی تھی بالکل اسی طرح جیسے یہاں بھٹو دور میں قومیانے کی ایک لہر چلی تھی۔ ناول کے آغاز سے اختتام تک آپ تیسری دنیا میں جاری امیر و غریب کی کشمکش، جنگ کی تباہ کاریاں اور اس سے ہونے والی غریبوں کی پامالیوں کو دیکھ سکتے ہے۔ مسلم ممالک میں شہادت جو ایک بہت بڑا رتبہ مانا جاتا ہے جب کسی غریب گھرانے کا رخ کرتی ہے تو پھر شہید کے گھر والوں کو کیا تکلیفیں سہنی پڑتی ہیں یہ کہانی مصری جیسے انفرادی کردار کی کہانی نہیں ریہہ جاتی بلکہ تیسری دنیا کے اکثر غریب شہیدوں کی کہانی بن جاتی ہے۔

جنگ کے دوران امیروں کی طاقت، غریبوں کی بدحالی، مڈل کلاسیوں کی دلالی اور مختلف انتظامی عہدوں پر بیٹھوں کی دفتری بے حسی ایک ایسی اٹل سچائی ہے جو تیسری دنیا تو کیا خود کو سپر پاور اور دنیا کے سیاہ و سفید کے مالک سمجھنے والے برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی دیکھی گئی ہے۔ اسی لیے یہ ناول پڑھتے ہوئے امریکی ناولسٹ آرتھر ملر کے ناول All my sons اور ڈبلیو ایچ آڈن کی نظم The unknown citizen بار بار یاد آتی رہی ہیں۔ خانہ جنگی ہو یا کسی مخالف ریاست سے ہونے والی جنگ، اس کے دوران جنگ کے میدان سے دور گھروں میں بیٹھے افراد کی زندگیوں میں در آنے والی مشکلات او تلخیاں تقریباً ہر سماج میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ یکساں ہوتی ہیں۔ کئی سالوں سے دوسروں کی مسلط کی گئی جنگ کو لڑنے والے ہم جیسے ملک میں موجود ادب کے قارئین کو یہ ناول بہت قریب محسوس ہو گا۔ سماجی ناہمواری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی امیر اور غریب کی ٹسل بیسویں صدی کا ایک بہت طاقتور بیانیہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   قاسم خان ۔۔۔عجیب مانوس اجنبی تھا - رضی الدین رضی

ناول میں استعمال کی گئی تکنیک نہ صرف عربی ادب بلکہ بین القوامی ادب کے حوالے سے بھی نئی یا منفرد نہیں ہاں لیکن دلچسپ ضرور ہے۔ ناول کی کہانی چھے کرداروں کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ ان کرداروں کی اہمیت یہ ہے کہ وہ انفرادی کردار نہیں بلکہ اپنے اپنے طبقے کے نمائندہ ہیں۔ جن کے ذریعے تلخ سچائیوں کو بیان کر کے یوسف القعید نے اپنے بیانیے کو وسعت دی ہے۔ یہ تکنیک اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب تین کرداروں کا تعلق دیہاتی زندگی سے رکھا گیا جبکہ تین کردار شہری زندگی کے نمائند ہیں۔ یہ چھے کردار ایک ایسے کردار کی کہانی بیان کرتے ہیں جس سے ان کا براہ راست تعلق تھا لیکن ناول نگار اس مرکزی کردار مصری کو اپنی کہانی بیان کرنے کی اجازت نہیں دی جو ایک دلچسپ اور منفرد تکنیک ہے۔

عمدہ اعلی طبقے کا نمائندہ ہے۔ جس کے کردار میں وڈیروں کی تمام برائیاں اور چلاکیاں اپنی اصلیت کے ساتھ موجود ہیں۔ دلال جنگ اور ہنگامی حالات میں موجود رہنے والا ایک ایسا زندہ کردار ہے جو کچھ نہ ہو کر بھی بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ بلکل جیسے بعض دفتروں کے باہر کھڑے مختلف ایجنٹ ہوتے ہیں۔ جن کا رابطہ دفتر میں لوگوں سے ہوتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل تر کام معقول رقم لے کر فوری کروا دیتا ہے۔ تیسرا کردار عمدہ کا چوکیدار اور مصری کے باپ کا ہے۔ جو اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جسے ہم مزارعے کہتے ہیں۔ باقی تین شہری کردار مصری کا فوجی دوست، افسر اور تفتیشی ہے۔ جو اپنے اپنے شعبے میںں پائے جانے والے رویوں کے نمائندہ ہیں۔ افسر اور تفتیش کار کا رویہ اس المیے کا نمائندہ ہے جو کسی بھی ملک کی فوج میں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے شہید کی کہانیوں میں نہ صرف مصر میں دکھایا جاتا ہے بلکہ اس کی عملی تصویر ہمارے ہاں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک شہید کی والدہ کے ساتھ روا رکھا جانے ولے رویہ اس کا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ادب اور تقلید

جنگ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بے شمار لکھا گیا ہے۔ انگریزی ادب سے لے کر افریقی، لاطینی امریکی اور اردو ادب تک ہم جابجا جنگوں کی تباہ کاریاں اور ان سے پیدا ہونے والی المیہ کہانیوں بارے پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اس ہر کہانی میں انفرادی انسان کا المیہ اپنی تمام تر انفرادیت کے ساتھ اجتماعیت سے واقعاتی مشاہبت کے حد تک جڑی ہوئی ہے۔ یہ چھوٹا سا ناول اس لیے بھی اردو ادب کے قارئین کو پڑھنا چاہیے کہ یہ ہمارے معاشرتی المیوں سے بہت قریب تر ہے۔



Views All Time
Views All Time
185
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: