Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کیا جندر پیلی بارش سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

پیلی بارش ہسپانوی ناول نگار خولیو لیامازاریس نے لکھا جو 1988 میں شائع ہوا۔ اس ناول کا ترجمہ سٹی پریس کراچی نے چھاپا ہے۔ پیلی بارش دراصل بارش کے بعد ہر طرف چھا جانے والی پیلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ تصور کریں کہ آپ ایک ایسے پہاڑی دیہات میں گئے ہیں جو اپنے مکینوں کے کوچ کر جانے کے بعد سے خالی ہے۔ پھر وہاں پر برسنے والی بارش کے بعد ہر چیز زنگ آلودہ ہو کر پیلے رنگ میں رنگی جاتی ہے۔ پیلی بارش ایک ایسے دیہات کی کہانی ہے۔ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ایک پہاڑی علاقے میں رہتا ہے۔ جس کے آس پاس کے سارے گاوں اپنے مکینوں سے خالی ہو چکے ہیں۔ اس کے اپنے گاوں کے سارے مکین بھی گاوں چھوڑ کر بہتر زندگی کی تلاش میں دوسرے علاقوں میں رہنے چلے گئے۔ وہ اپنی بیوی اور ایک کتیا کے ساتھ ریہہ جانے والا آخری خاندان تھا۔ بیوی کے مرنے کے بعد وہ اکیلے گاوں میں اپنی موت کو قریب آتا دیکھ رہا تھا۔ ناول کی یہ کہانی وہ بستر مرگ پر لیٹا بیان کر رہا ہے اور ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے اپنی موت کے آنے کا انتظار کر رہا ہے۔ موت جو بہت قریب پہنچ چکی ہے بلکہ وہ تو کہانی بیان کرنے والی رات خود کو مر چکا تصور کر لیتا ہے۔ موت پر خولیو لکھتا ہے۔ ” میں نے انجام کا ہمیشہ اسی طرح تصور کیا ہے۔ اچانک میری رگوں میں کہرا دوڑ جائے گا، میرا خون جم جائے گا۔ جیسے پہاڑی سبزہ زاروں کے چشمے جنوری میں جم جاتے ہیں، اور جب سب کچھ ختم ہو جائے گا تو میرا سایہ مجھے چھوڑ کر نیچے، آگ کے پاس اپنی جگہ سنبھالے گا۔ شاید موت اسی کو کہتے ہیں“۔

ناول ماضی کو یادوں کے ذریعے دیافت کرنے کی کوشش ہے۔ یادیں جو مرکزی کردار کی زندگی سے جڑی ہوئی ہیں۔ جس میں گاوں کی زندگی اور موت کے علاوہ اولاد کی چاہت اور والدین کا اولاد سے گہرے تعلق کو دکھایا گیا ہے۔ اگر والدین اپنی اولاد کو گھر سے نکال دیں یا اولاد اپنے مستقبل کی تلاش میں والدین کو چھوڑ کر چلے جائیں تو والدین ان سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ ناراضگی ظاہری طور پر بہت سخت بھی ہوتی ہے جس میں والدین اپنی اولاد کا بائیکاٹ تک کر دیتے ہیں۔ لیکن اپنی اولاد سے برتی جانے والی یہ سختی والدین کو اندر سے توڑتی رہتی ہے۔ انہیں یہ دکھ بستر سے لگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہی والدین جو اپنی اولاد کو گھر میں نہ داخل ہونے کی دھمکی دیتے ہیں وہی بعد میں اُن رستوں کو تکتے رہتے ہیں جس پر چل کر ان کی اولادیں انہیں چھوڑگئی تھیں۔ وہ انتظار کرتے ہیں کہ شاید کبھی بھولے بسرے ان کو پرانی یادیں ستائیں تو وہ واپس آئیں گے۔ ناول کا اختتام ان چار لائنوں پر ہوتا ہے۔۔ ” اگر کبھی آندریاس لوٹ آیا، اگر کسی دن وہ میری پرانی دھمکی کو بھلا بیٹھا یا خود اس کے بڑھاپے نے اس کی دردمندی اور یاد کو جگا دیا، تو شاید وہ ان پتھروں میں اپنے مکان کی باقیات کو تلاش کرے، اپنے ماں باپ کی یادوں کی کھوج میں اس جنگلی گھاس کو کریدے اور کیا پتا شاید ان خاردار جھاڑیوں میں اس پتھر کو ڈھونڈ ہی نکالے جس پر میرا نام کُھدا ہوا ہے اور اس قبر کے خم کو جس میں بہت جلد میں اس کے انتظار میں سو رہا ہوں گا“۔

یہ بھی پڑھئے:   مامتا کی چوری-(ڈرامہ)-سعادت حسن منٹو

میرا اس ناول سے تعارف فکشن پر وسیع مطالعہ رکھنے والے دوست نے کروایا۔ بقول اس کے جندر پر انہیں پیلی بارش کے اثرات نظر آتے ہیں۔ جندر پڑھتے ہوئے اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ دوبارہ پیلی بارش پڑھ رہے ہیں۔ میں نے ”مخصوص عینک“ لگا کر دیکھنے کی کوشش کی کہ کچھ گہری مماثلت مل جائے لیکن افسوس مجھے ایسا کچھ نہیں ملا جس کا آج کل چربہ کے نام پر چرچا کیا جاتا ہے۔ کہانی کی تکنیک کو تو کہہ سکتے ہیں وہ پیلی بارش سے مماثلت رکھتی ہے۔ پھر بھی اگر دیکھا جائے تو موت اور ختم ہوتی تہزیب کو موضوع بنانے کے باوجود جندر اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ موت اور ختم ہوتی تہزیب کو بڑے فکشن نگاروں نے اپنے ناولوں کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔ اگر ہم اس نظر سے دیکھیں تو خود خولیو کی کہانی پر عالمی ادب کے کئی فکشن نگاروں کے اثرات نظر آتے ہیں۔ کسی دیہات کا اپنے مکینوں سے خالی ہو جانا۔ مکینوں کا وباوں کی وجہ سے یا بہتر مستقبل کے لیے اپنے دیہات یا قصبے کو چھوڑ جانا اس سے پہلے ہم گارشیا مارکیز اور نجیب محفوظ جیسے بڑے فکشن نگاروں کے کام میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے حوان رلفو کے ناول پیٹرو پرامو میں بھی خالی گاوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ قصہ گوئی کی روایات بھی ان میں جا بجا بکھری نظر آئے گی۔

یہ بھی پڑھئے:   سندھ کی سیاسی تاریخ . تصویر کا دوسرا رخ | بلال حسن بھٹی

جندر کے مرکزی کردار کی بیوی اس کے بیٹے کو لے کر چلی جاتی ہے۔ جبکہ پیلی بارش میں مرکزی کردار کی بیوی اس کے ساتھ رہتی ہے۔ مجھے تو جندر کے کردار پیلی بارش سے زیادہ پختہ لگے۔ بطور قاری اگر دونوں ناول اکٹھے پڑھ کر دیکھ لیے جائیں تو خود پتا چلتا ہے کہ تکنیکی مماثلت کے باوجود کونسا ناول اپنے کرداروں، منظر نگاری، قرات اور ابلاغ کے حوالے سے کسی کی کاپی ہے یا اپنا اپنا الگ مقام رکھتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
151
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: