Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

Novel The Runaways

Print Friendly, PDF & Email

فاطمہ بھٹو پاکستانی ادیبہ ہیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضی بھٹو کی بیٹی ہیں۔ سیاست کی بجائے انہوں نے ادب کے میدان میں اپنی پہچان بنائی۔ اب تک وہ دو ناولوں اور کہانیوں پر مشتمل کتابیں لکھ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تین نان فکشنل کتابیں لکھ چکی ہیں۔ پندرہ سال کی عمر میں ان کی پہلی کتاب Whispers of the desrt چھپی اس کے بعد انہوں نے کشمیر میں آنے والے تباہ کن زلزلے پر ایک کتاب لکھی جبکہ اپنی خاندانی تاریخ پر مبنی ایک کتاب سانگز آف بَلڈ اینڈ سورڈ 2010 میں لکھی جس میں انہوں نے اپنے وال کے قتل کا الزام آسف علی زرداری اور بینظیر بھٹو پر لگایا۔ ان کا پہلا ناول Shadow of the crescent moon2013 میں چھپا جبکہ ان کا دوسرا ناول The Runaways 2018 میں چھپا۔

پاکستانی نژاد انگلش ناول نگاروں کے پاس نائن الیوں کے بعد بدلتی صورتحال، خاص کر دہشتگردی کے علاوہ لکھنے کے لیے بہت تھوڑے موضوعات ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کے دہشتگردی نے ہماری زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لیکن ایک ہی موضوع تقریباً تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ پڑھنا قاری کے لیے دلچسپی سے زیادہ اکتاہٹ کا ذریعہ بنتا ہے۔ گو کہ دی رن اویز بھی اسلامی جہاد کے اثرات پر کرتا ہے لیکن اس میں اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے بجائے پچھلے تین چار سالوں میں داعش کی وجہ سے دہشتگردی کی پھیلتی لہر بارے آگاہی دی گئی ہے۔ داعش شام کے بعد عراق سے نکل کر اب افغانستان کی پہاڑیوں پر آ بیٹھی ہے۔ اس سے پہلے کاملہ شمسی کا ناول ہوم فائر بھی مسلمان نوجوانوں کا جہادی بن کر شام کی لڑائی میں حصہ لینے جیسے موضوع کا احاطہ کرتا ہے لیکن یہ ناول اس جہادی صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔

نئی نسل میں اپنی شناخت کو لے کر بہت سے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اپنی شناخت سے لڑتے ہوئے وہ ڈرگز، تنہائی اور جنسی بے راہ روی میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ دی رن اویز میں خواب دیکھنا اور ان خوابوں کے پیچھے بھاگنے والوں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ اس ناول میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح داعش کی طرف نوجوان مسلمان لڑکے اور لڑکیاں متوجہ ہوئے۔ انگلینڈ، پاکستان اور دیگر ممالک سے نوجوان مسلمان لڑکے اور لڑکیاں شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں لڑنے کے لیے پہنچ گئے۔ کس طرح برانڈ سکولوں کے طالب علم اسلام اور قرآن سے کم واقفیت کی بنا پر آن لائن کیے جانے والے داعشی پراپیگنڈا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کو درہیش یہ مسائل انفرادیت بمقابلہ معاشرہ کے تناظر میں سمجھنے اور اس کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت جو اس عہد کا ایک بڑا مسئلہ ہے اس پر بات کی گئی ہے۔ غربت کی وجہ سے اپنے خوابوں کو پورے کرنے کے لیے غلط راستوں کا استعمال کرنا اور جہاد کے اس منافع بخش کاروبار میں شریک ہونا عام بات ہے۔

روایتی اسلوب اور تکنیک سے لکھا گیا یہ ناول بہت سست روی سے چلتا ہے۔ اس ناول کو چار حصوں میں تقسیم کر کے تین مختلف مگر مرکزی کرداروں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ ناول پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی کو کافی کھینچا گیا ہے ورنہ یہ ناول تین سو صفحات پر بھی بیان کیا جاتا تو نہ صرف اپنی دلچسپی برقرار رکھتا بلکہ اس کی دلکشی میں مزید اضافہ ہوتا۔ آغاز میں سست روی کے باوجود جو گرفت کہانی میں نظر آتی ہے وہ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتی نظر آتی ہے۔ یہاں تک ڈرامائی یا فلمی انداز میں کیا گیا اختتامیہ بہت مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے۔ جس وقت کراچی کی سڑکوں اور کچی آبادیوں کا ذکر ہو یا امریکن گرائمر سکول کی تصویر دکھائی جا رہی ہو تو ہمیں لکھاری کی مضبوط گرفت نظر آتی ہے۔ لیکن جیسے ہی سنی اور مونٹی شام سے عراق کی طرف سفر کرتے ہیں تو منظر نگاری اس طرح مضبوط نہیں رہتی۔ ڈیڑھ سو کلومیٹر کے اس سفر کے دوران بس صحرا دکھایا جاتا یے جس پر کبھی کبھار پٹرول پمپ بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   انسان ہی رہیں، خدا نہ بنیں | مدیحہ سید

جہاں تک کرداروں کی بات کی جائے تو تینوں مرکزی کردار مختلف طبقوں اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر یہ تینوں مختلف قسم کے کرائسس کا بھی شکار ہیں۔ سنی مونٹی اور لیلی یا انیتا روز تینوں کافی جاندار کردار ہیں۔ جو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔

مونٹی ایک امیر باپ کا بیٹا ہے جو اپنے والدین کے رویوں میں پائے جانے والے تضادات سے متاثر ہو کر تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا باپ ایک امیر کاروباری شخص ہے جس میں وہ تمام بری عادتیں موجود ہیں جو ایک بدنام زمانہ کاروباری میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے پاس اپنے بیٹے کے لیے ٹائم نہیں اور وہ اکیلا بیٹھ کر کسی ہوٹل میں کافی پینے کو اپنے بیٹے سے ملنے پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بیٹے میں لڑکوں جیسی چالاکیاں پیدا ہوں۔ اس کی ماں بالکل مختلف عورت ہے جو مزہب کے بے حد قریب ہے اور وہ اپنے بیٹے پر توجہ دینے کی بجائے ہر وقت کسی پیر صاحب کے کہی ہوئی باتوں پر عمل کرنے اور سوشل گیدرنگ میں شمولیت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ اپنے بیٹے سے شدید محبت کا دعوی کرنے کے باوجود اس کے مسائل سمجھنے سے قاصر ہے جو آج کی نسل کا بہت بڑا المیہ یے۔ والدین کی اس لاتعلقی سے مصطفی عرف مونٹی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی یہ تنہائی جب شدت اختیار کرتی ہے تو اس کی ملاقات اپنے سکول میں آنے والی نئی لڑکی لیلی سے ہوتی ہے جو اس کی زندگی کا رخ مکمل طور پر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ وہ لیلی کے عشق میں کراچی سڑکوں پر مارا مارا گھومنے سے لے کر شام اور عراق کے صحراوں تک کا سفر کرتا ہے۔

سنی کا تعلق انگلینڈ سے ہے اور وہ لکھنو سے آنے والے مسلمان سلمان جمیل کی اکلوتی اولاد ہے۔ وہ بارہ سال کی عمر سے ہی لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر لیتا ہے۔ سکول جانے کی بجائے جم میں پریکٹس کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل میڈیا پر جب وہ محمد علی، عمران خان اور میلکم ایکس کی ویڈیوز دیکھتا ہے تو اس کے اندر اپنی مزہبی شناخت کو لے کر نئی تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ ہمیں مغرب کی پیروی کیوں کرنی پڑتی ہے؟ اور میں یہاں کیوں ہوں؟ یہ سوال جب سکول میں ہونے والے امتیاز سے مل کر شدت اختیار کرتے ہیں تو سنی اس کی تلاش میں سوشل میڈیا کی دنیا میں غوطے مارنے کے ساتھ ساتھ مسجد تک جا پہنچتا ہے۔ جب وہ اپنے شام پلٹ جہادی کزن عزیر سے ملتا ہے تو تب اس کے اندر پیدا ہونے والی شناخت کی کشمکش اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ جس کا استعمال کر کے عزیر اسے شام بھیج دیتا ہے۔ اپنی اٹھان میں سنی کا کردار بہت مضبوط ہے لیکن جس طرح کی شدت پسندی کی تعلیم اسے عزیر نے دی تھی اور پھر عزیر کی دورنگی دیکھنے کے بعد پچھتاوے کا احساس جس طرح سنی کے اندر گھر لیتا ہے۔ اس سے ایک مایوس کن ڈرا ہوا اور بیک وقت بہادر جہادی جنم لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   مدارس کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری

انیتا روز عرف لیلی ناول کا سب سے طاقتور کردار ہے۔ کراچی کی مچھر کلونی کی گندی اور بوسیدہ زندگی سے نکل کر ڈیفینس اور امریکن گرائمر سکول کی عیاش زندگی تک پہنچتے ہوئے انیتا روز لیلی بن جاتی ہے۔ جہاں وہ سگریٹ پینے، ڈیٹ مارنے اور ہر طرح کی سلینگ کا استعمال کرنے سے نہیں کتراتی۔ انیتا ایک ڈری سہمی ہوئی کرسچن لڑکی تھی جسے امیر ہونے اور بڑے گھر میں رہنے کی خواہش نے ایک جہادن بنا دیا۔ وہ فیض کو پسند کرتی ہے اور جالب اس کی زندگی کا اہم رکن بن جاتا ہے۔ اپنی انگلش بہتر بنانے کے لیے وہ سخت محنت کرتی ہے۔ اسامہ شاہ جیسے سوشلسٹ سے ملاقات اور اس کتابیں لے کر پڑھنے سے اس کے علم اضافہ ہوا اور کچھ تبدیلیاں اس کی شخصیت کا حصہ بنیں۔ ہر وقت اپنی سرخ ڈائری کو اپنے پاس رکھنے والی اور خود کو شیرنی سمجھنے والی لیلی جہادیوں کے لیے ایک انسپائریشن بن جاتی ہے۔ شام جنگ میں شامل ہو کر اس کا واحد کام ویڈیوز بنانا اور اپنی ویڈیوز سے نواجون مردوں اور عورتوں کو ان کی اصل کی طرف بلانا ہے۔ مونٹی کے ساتھ ایک بہترین ٹین ایجر رشتے کا باوجود وہ مزید ترقی حاصل کرنے کے لیے اپنے بھائی کے بتائے ہوئے غلط راستوں کا انتخاب کر کے کچھ عرصہ پورن انڈسٹری سے وابستہ رہتی ہے۔

شام کی جنگ میں دلچسپی رکھنے اور جہادیوں کے طریقہ وردات سے آگاہی کے لیے یہ ناول ایک اچھا مطالعہ ثابت ہو گا۔ آج کی نسل جو موبائل متاثرہ نسل کہی جا سکتی ہے۔ کس طرح اس تک اپنا پروپیگنڈا پھیلانا ہے اور کونسا ہتھیار اس ضمن میں زیادہ موثر ہو سکتا ہے وہ ہم ناول میں جا بجا دیکھایا گیا ہے۔ عزیر جیسے کردار یورپین ملک میں مسلمان نوجوانوں کو جہادی بنانے کے ٹھیکے لیتے ہیں۔ ان جہادی ٹھیکداروں کی نشاندہی اور داعش جیسی جہادی تنظیموں کی سفاکی ایسی حقیقتیں ہیں جن سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔ بلکہ جن پر بات کر کے ناول نگار نے بہت ہمت دکھائی ہے۔ اپنی تمام تر کمزوریوں اور خوبیوں کے ساتھ یہ ناول آپ کے لیے ایک دلچسپ فن پاری ثابت ہو سکتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
459
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: