رات، خوف اور بے قابو خواہشات کی کہانی

Print Friendly, PDF & Email

رفاقت حیات صاحب عہد حاضر کے ادیب اور صحافی ہیں۔ ان کا ناول میر واہ کی راتیں 2016 میں چھپ کر ادبی حلقوں میں بہت شہرت سمیٹ چکا ہے اور اردو ادب کے چند نئے لکھے گئے ناولوں میں نمائندہ ناول سمجھا جاتا ہے۔ فکشن کے پنڈتوں نے اس پر بہت داد دی ہے۔ اس سے پہلے ان کا ایک افسانوی مجموعہ ”خواہ مخواہ کی زندگی“ کے نام سے شہرزاد میں چھپ چکا ہے۔ میر واہ کی راتیں کا انداز بیاں انتہائی سادہ لیکن وہ سادگی بھی اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہے۔ ایسی کشش جو قاری شروع سے آخر تک خود کو کہانی کے ساتھ جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔

اگر آپ کسی قصبے یا دیہات سے تعلق رکھنے والے ہیں تو آپ جانتے ہوں گے کہ جوانی کی ابتدا میں جذبات، خیالی اور تصوراتی دنیا کی سیر کا سب سے بہترین وقت رات کی خاموشی اور تنہائی ہے۔ وہ رات آپ تاروں سے بھرے کھلے آسمان کے نیچے گزار رہے ہوں یا کسی کمرے میں، آپ کا واحد مشغلہ اپنے خیالوں میں کھوئے چھت پر پڑے لکڑی کے ”بالوں“ کو گننا یا دور آسمان پر چمکتے تاروں کو گننے کی ناکام کوشش کرنا ہوتا ہے۔ دیہی زندگی میں راتوں کی خوبصورت تصویر کشی سے جب رفاقت حیات صاحب اپنے ناول میر واہ کی راتوں کی ابتدا کرتے ہیں تو یہ ابتدایہ ہی قاری کو جکڑ لیتا ہے۔

میر واہ کی راتیں کو آپ ناولا کہیں ناول کہیں یا ایک طویل کہانی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ میر واہ کی راتوں کا کردار نذیر لکھ کر رفاقت حیات صاحب نے گوٹھوں اور دیہاتوں کے رہنے والے نوجوانوں کے ذہنی انتشار اور رومانوی و تصوراتی دنیا کی ایسی تصویر کشی پیش کی ہے جس کے وجود کو جھٹلانا ممکن نہیں ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستانی اردو ادیبوں کے نئے ناولوں کو پڑھ کر ایک عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اب ہمارے ہاں بھی ایسے شاندار ناول کثرت سے لکھے جا رہے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے موضوع پر گرفت اور گہرائی نظر آتی ہے۔ایسا منفرد موضوع کو ملتی ہے جس کی جڑیں ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات رکھتی ہیں۔

میر واہ کی راتیں ایک نوجوان نذیر کی جنسی و اخلاقی حصوں میں بٹی سوچوں کی کہانی ہے۔ یہ ایک دیہاتی نوجوان کی کہانی ہے جو بس اندرون سندھ کے ایک گوٹھ میر واہ میں اپنے چچے کے گھر رہنے والے نذیر سے متعلق نہیں بلکہ یہ اُسی طرح پنجاب میں رہنے والے ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو نوجوانی کی دہلیز پر قدم جماتے ہی جنسی کشمکش کا شکار ہوتا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ اخلاقی روایت اور نفسانی خواہشات کی کشمکش دنیا میں رہنے والے ہر نوجوان کی کہانی ہے۔ سولہ سے بیس سال کی عمر ایسی عمر ہوتی ہے جب آپ کو ہر عورت اچھی لگتی ہے۔ عورت کے جسم سے کوئی ننگا حصہ دیکھ کر ہیجانی کیفیت طاری ہونا عام سی بات ہے۔ جب دل کرتا ہے کہ اس کا تعلق بھی کسی لڑکی سے ہو۔ چاہے وہ آنکھوں کی حد تک، باتیں کرنے کی حد تک محدود ہو یا جسمانی لذتوں کے رازوں کو پا لینے تک پہنچ جائے۔

یہ بھی پڑھئے:   عادی لکھاری

ایسی ہی ذہنی کشمکش لیے نذیر جو ایک حلوائی کا بیٹا ہے اور آٹھویں میں ہی پڑھائی چھوڑ کر لوفر ہو جاتا ہے۔ سارا دن لوفری کرنا اور لڑکیوں کو بہن سمجھ کر اُن کے گھر تک چھوڑنے جانا جیسے اہم کام سر انجام دیتا ہے۔ وہ بالکل دوستوئفیسکی کے ناول ایڈیٹ کے ایک کردار پرفیون رگوژین کی طرح ایک رنڈی کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر جیسے رگوژین اپنے باپ کے دیے پانچ پانچ ہزار ربل کے بانڈ بیچ کر نستاسیا فلی پونا کی توجہ پانے کے لیے اس کو ادھار کر کے گیارہ ہزار ربل کے بندے بنوا کر دیتا ہےـ نذیر بھی میر پر ماتھیلو کی مشہور رنڈی زوری سے بس بات کرنے کے لیے وہ پچاس ہزار روپے اسے دے دیتا ہے جو اس کا باپ اسے بینک میں جمع کروانے کے لیے دیتا ہے۔ اس واقعے کی وجہ سے اس کا باپ اسے شہر بدر کر دیتا ہے اور وہ میرواہ میں اپنے چاچا غفور کے پاس رہنے لگتا ہے جو کہ ایک درزی ہوتا ہے۔

نذیر کے کردار کے علاوہ شمیم اور خیر النسا کا کردار دیہی زندگی میں کم عمر لڑکیوں کی بوڑھے مردوں کے ساتھ بے جوڑ شادیوں کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کو سامنے لاتا ہے۔ شمیم اور خیر النسا جو کہ دونوں شادی شدہ ہیں۔ اس کے باوجود وہ کسی نوجوان کی نظر الاتفات سے اپنے اندر ایک عجیب سرور اور خوشی محسوس کرتیں ہیں۔ وہ خود کو اہم محسوس کرنے لگتیں ہیں۔ شمیم کی نسبت خیر النسا کا کردار ایک نمازی اور پرہیز گار خاتون کا ہے۔ وہ نذیر کی قربت بھی چاہتی ہے لیکن نماز میں کوتاہی کرنا بھی نہیں چاہتی۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جنسی خواہشات اخلاقی اقدار و روایات اور مذہب کی لگائی ہوئی تمام قدغنوں کو توڑنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں خواہ وہ وقتی طور پر ہی کیوں نا ہوں۔ یہ انسانی جبلت کی ایسی سچائی ہے جسے کسی لبادے میں لپیٹنے کی بجائے اسے تسلیم کرنا ہی حقیقت پسندی ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں منٹو تو پہلے ہی فحش نگار ہے اور اس کی ڈگر پر چلنے والوں کو بھی ایسے ہی القابات سے نوازا جائے گا۔

خوف جو ایسے رشتوں، ایسی سوچوں اور رات میں ہونے والی ملاقاتوں کے درمیان ایسا مضبوط احساس ہوتا ہے جو بعض اوقات جسمانی لذت پر بھی حاوی ہو جاتا ہے۔ خوف آپ کی ذہنی کشمکش میں مبتلا سوچوں کا کسی دوسرے پر عیاں ہونے سے لے کر تنہائی میں ملاقات کے وقت ہونے والی آہٹ تک انسان کو ایسے خوف میں مبتلا کر دیتی ہے جس پر قابو پانا انسان کے بس سے باہر ہو جاتا ہے۔ رفاقت حیات صاحب نے اس خوف کی طاقت کا خوبصورت استعمال کیا ہے۔ خوف کی اس طاقت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب نذیر شمیم سے وصل کی رات میں باہم برسر پیکار ہوتا ہے کہ یک دم کہیں سے ایک بلی اس کی کمر پر چھلانگ مار کر بھاگ جاتی ہے جس کے بعد خوف کا ایک ایسا لرزہ نذیر کو گھیر لیتا ہے کہ وہ دوبارہ پہلے جیسی گرمجوشی دکھانے میں ناکام ہو جاتا ہےـ آخر کار تھک ہار کر ناکام واپس لوٹ جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی اس خوف پر قابو پاتا ہے جیسے خیر النسا نے اپنے شوہر کو گولیاں کھلا کر قابو پایا تو پھر اپنی خواہشات کی تکمیل میں انسان کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جاگے ہیں خواب میں

نذیر کے کردار کو پڑھتے ہوئے مجھے سرخ و سیال از ستاں دال کا مرکزی کردار ژولیاں مسلسل یاد آتا رہا۔ جو یوں تو بہت ذہین اور انقلابی سوچ رکھنے والا لڑکا ہوتے ہے لیکن چھوٹی عمر میں ہی جنسی خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر بھٹکتا رہتا ہے اور آخر کر اپنی ایک شادی شدہ محبوبہ کے عشق میں پھانسی چڑھ جاتا ہے۔ لیکن میر واہ کی راتوں کا نذیر کشمکش بھری راتیں گزارنے کے بعد میر واہ سے نکل جاتا ہے۔ کہانی میں سسپنس شروع سے آخر تک برقرار رہتا ہے۔ قاری کے لیے کچھ بھی طے کر لینا ممکن نہیں رہتااور جو طے شدہ ہوتا ہے وہ بھی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ رفاقت حیات صاحب کا یہ کام بہت ہی جاندار ہے۔ انہوں نے جس طرح نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے لڑکے کے جزبات، خیالات اور ذہنی کشمکش کو ہمارے سامنے پیش کیا ہے وہ بہت مختصر لیکن جامع کام ہے۔ امید ہے وہ اپنی بہترین قلمی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے ہم جیسے قارئین کے لیے یوں ہی اچھوتے موضوع پر خوبصورت ادبی فن پارے تخلیق کرتے رہیں گے۔

Views All Time
Views All Time
558
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: