Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جاگے ہیں خواب میں

Print Friendly, PDF & Email

جندر کا نشہ ہی ایسا تھا کہ جب پتا چلا اختر رضا سلیمی صاحب نے ایک اور ناول ”جاگے ہیں خواب میں“ بھی لکھ رکھا ہے تو دل کر رہا تھا کہ فوراً اسے منگوا کر پڑھ لوں۔ آج صبح معمول سے دو گھنٹے پہلے اٹھا ہی تکیے کے نیچے پڑے اس ناول کو پڑھنے کے لیے تھا۔ ”جاگے ہیں خواب میں“ اختر رضا سلیمی صاحب کا پہلا ناول ہے جو 2015 میں شائع ہوا اور اب اس کا تیسرا ایڈیشن چھپ چکا ہے۔ یہ اس بات کی گواہی بھی ہے کہ اگر آپ کچھ اچھا لکھیں گے تو لوگ ضرور خریدیں گے۔ جب ہم کسی ادیب کا کوئی ایک فن پارہ پڑھتے ہیں تو ہم لاشعوری طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کا باقی کام بھی ایسا ہی شاندار ہو گا۔ جاگے ہیں خواب میں پڑھتے ہوئے بھی مایوسی نہیں ہوئی۔

ناول کی ابتدائی منظر نگاری اس قدر جاندار اور آنکھوں کو تسکین پہنچان والی تھی کہ قاری پڑھتے یوں محسوس کرتا ہے جیسے وہ نور آباد میں موجود اس غار کی چٹان پر بیٹھا ہے اور رات کو چاند کی چاندنی برف پر پڑ رہی ہے۔ اس برف پر جس کی سفیدی سورج کی کرنیں پڑنے سے پیلی محسوس ہوتی تھی۔ یہ عدم اور وجود کی بھول بھولیوں کو سلجھانے والا ایک ایسا ناول ہے جو اپنے موضوع کے حوالے سے بہت وسیع اور کئی صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے قاری کا سامنے ادب، فسلفہ، نفسیات، طبیعات، آرکیالوجی اور تاریخ جیسے وسیع مضامین سے ہوتا ہے۔ ان تمام مضامین کو ایک جگہ سمیٹنا انتہائی مشکل کام تھا جسے اختر رضا سلیمی صاحب نے اپنے قلم کی ذرخیزی کو استعمال میں لاتے ہوئے شاندار طریقے سے سر انجام دیا ہے۔ چونکہ نفسیات، طبیعات، مابعدالطبیعات اور تاریخ وسیع مضامین ہیں اور ان پر سب کا متفق ہونا ضروری بھی نہیں ہے۔ اس لیے بعض جگہوں پر پڑھنے والا ناول نگار سے خود کو متفق نہیں پائے گا لیکن پھر بھی صدیوں پر پھیلے اس موضوع کو شاندار احاطہ کرنے پر انہیں داد ضرور دے گا۔۔

ناول کا آغاز ہری پور اور ایبٹ آباد کے پہاڑوں کے درمیان ایک قصبے نور آباد سے تھوڑی اوپر واقعہ غار کے دہانے پر بنے چبوترے پر لیٹے مرکزی کردار زمان کے تعارف سے ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ یہ سب خواب سا ہے بالکل خواب سا۔ زمان کا کردار اس کی نسل کے اجتماعی لاشعور پر مشتمل ہے۔ وہ نور آباد کو بسانے والے جنگجو نور خان کی نسل میں سے ہے۔ وہ نور خان جس نے اپنے چند ساتھیوں سمیت رنجیت سنگھ کے گورنر کا سر قلم کیا تھا۔ جس نے بالاکوٹ میں سید احمد شہید کے ساتھ مل کر سکھوں کا مقابلہ کیا تھا اور جب وہ پسپا ہوا تھا تو بھاگتے وقت اپنے مرشد سید احمد شہید کی لاش کو جب اٹھا نہ سکا تو ان کا سر کاٹ اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ وہ اپنے خاندان کا معزز ترین شخص تھا۔ اس کی اسی مقبولیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے جیمز ایبٹ نے اسے وہاں کے لوگوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے درخواست کی تھی۔ نور خان کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے نے جنگجووں کو ہتھیار ڈالنے ہر آمادہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے اس کی انگلشیہ سرکار سے اچھی بن گئی تھی۔ ایبٹ آباد شہر بسنے کے بعد جیمز ایبٹ کے کہنے پر اس نے نور آباد میں ایک شاندار حویلی تعمیر کروائی تھی جو اب کئی سالوں بعد ویران پڑی ہے۔ جہاں پچھلے بارہ سالوں سے صرف زمان رہتا ہے لیکن وہ رات غار کی چٹان پر اور صبح حویلی میں گزارتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   رات، خوف اور بے قابو خواہشات کی کہانی

جہاں دوہزار پانچ کے زلزلے نے ایک دفعہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہاں اس زلزلے سے آزاد کشمیر بالاکوٹ اور ہری پور کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کیفیت کو سلیمی صاحب یوں بیان کرتے ہیں شمیم بھائی آپ کے گھر کی کیا صورتحال ہے؟ ایک آدمی جب گرے ہوئے مکان کا ملبہ کھودنے میں لگا ہوا تھا اس نے دوسرے آدمی سے پوچھا۔
”بس جی والد صاحب اور میں بچ گئے ہیں۔ میری بیوی کو شدید چوٹیں آئی ہیں لیکن بچ گئی ہے۔ لیکن بیٹا ابھی تک ملبے تلے دبا ہوا ہے۔ کدال کا دستہ ٹوٹ گیا ہے دوسری کدال کا بندوبست کرنے جا رہا ہوں“۔ دوسرے نے کہا ”چلیں جی خدا کا شکر ہے۔ باقی تو بچ گئے ناـ میری بیوی بے چاری مر گئی ہے۔ بیٹا زخمی ہے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے پر میری بہو اور میں معجزانہ طور پر سلامت رہے۔ جب کہ میرا پوتا ابھی تک لاپتا ہے خدا کرے وہ زندہ ہو“۔ پہلے نے کہا بس جی اللہ سلامت رکھے۔ سلمان بیچارے کا تو پورا خاندان ہی صفحہ ہستی مٹ گیا ہے بءچارےبکا کوئی رونے والا بھی نہیں بچا۔ نو کے نو ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ابھی تک صرف چار لاشیں نکالی جا سکی ہیں۔

ناول میں لاشعور پر بحث کرنے کے لیے ژونگ اور فرائیڈ کے نظریات سے رہنمائی لی گئی ہے۔ سلیمی صاحب ژونگ کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے زمان کی بیماری کو اجتماعی لاشعور کی کیفیت قرار دیتے ہیں جس میں ایک انسان کی پچھلی نسلوں میں ہوئے واقعات بار بار اس کے ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کے ازل اور ابد کا درمیانی وقفہ اسے ایک ہی لمحہ محسوس ہوتا ہے۔ اجتماعی لاشعور کی بحث جو کہ شناخت کی بحث اس بحث کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سلیمی صاحب اپنی شناخت کا ذکر کر رہے ہیں۔ ہزارہ کی اس پہاڑی تہذیب و تاریخ کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ شناخت جس کا تعلق ہزارہ کے اس پہاڑوں پر ہے۔ جس کا تعلق آدم سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا تعلق اشوک سے ہے۔ جس کا تعلق ٹیکسلا یونیورسٹی سے ہے۔ وہ سید احمد شہید کا ساتھ دینے والے ہیں اور جس کا تعلق نور آباد سے ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   عبید اللہ سندھی اور ترقی پسندی - عامر حسینی

طبیعات پر بات کرتے ہوئے زمان کہتا ہے کہ وجود کے بارے میں سوچنا حیرت کدے میں داخل ہونا ہے۔
طبیعات تجسس سے اور مابعدالطبیعات حیرت سے جنم لیتی ہے۔ مابعدالطبیعات وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں طبیعات کی حدیں ختم ہوتی ہیں۔ جب آدمی حیرت کھو دیتا ہے وہ طبیعات کی طرف راغب ہوتا ہے۔ وہ غالب کے مصرعے میں من مانی تبدیلی کر کے کہتا ہے کچھ تھا تو خلا تھا کچھ نہ تھا تو خلا تھا۔ خلا ہی کائنات کی اساس ہے۔ الیکڑون جیسے بنیادی ذرے کے اندر بھی خلا ہے۔


یہ ناول جس اختصار سے لکھا گیا ہے اس اختصار سے ان موضوعات کا احاطہ کرتی کوئی اور کہانی اردو ادب میں فل حال میری نظر سے نہیں گزری۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ناول نگار نے ناول کو جن آٹھ ابواب میں بانٹا ہے اس کا مقصد شعوری طور پر ناول کو فکشن، تاریخ، نفسیات، اور طبیعات میں بانٹنا تھا۔ جب ناول شروع کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے بہترین فکشن پڑھ رہے ہیں۔ اگلے دو حصوں میں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ہری پور کی تاریخ پڑھ رہے ہیں۔ جہاں سید احمد شہید، جیمز ایبٹ، ٹیکسلا اور مہاراجہ اشوک کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ جیسے ہی چوتھا باب شروع ہوتا ہے تو ہم زلزلے کا ذکر سنتے ہیں جو ہمارے تعارف موت سے کرواتا ہے لیکن بعد کا باقی حصے نفسیات اور طبیعات کا موضوع پڑھتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ اکثر کہانی سے نکل کر قاری نفسیات اور طبیعات کے موضوع میں کھو سا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا ناول ہے جو صرف کہانی نہیں سناتا بلکہ کچھ نیا سیکھنے اور جاننے کے لیے اکساتا ہے۔ فرائیڈ اور ژونگ کا ذکر طالب علموں کے لیے ایپیٹائزر ہے۔ یہ ایپیٹائزر نفسیات کے موضوع کو مزید ایسپلور کرنے پر اکساتا ہے۔

محمد سلیم الرحمان نے کہا ہے کہ ناول میں اتنا کچھ کھپا دینے کی کوشش کی گئی ہے کے اگلے ناولوں کا موضوع تلاش کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن جندر لکھ کر سلیمی صاحب نے ثابت کیا کہ ان کے پاس نیا موضوع بھی ہے اور اس پر لکھنے کے لیے مواد بھی ہے۔ گو کہ موت کا جو تصور انہوں نے جندر میں پیش کیا تھا وہ جاگے ہیں خواب میں کہیں کہیں نظر آتا ہے لیکن اس تفصیل سے نہیں جس تفصیل سے ہم اسے جندر میں دیکھتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
125
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: