Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کائٹ رنر ناول تبصرہ بلال حسن بھٹی

Print Friendly, PDF & Email

خالد حسینی افغانی نژاد امریکی ناول نگار ہیں۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز فزیشن کے طور پر کیا تھا لیکن اپنے پہلے ناول کائٹ رنر 2003 کی کامیابی کے بعد انہوں نے لکھے کو بطور پیشہ اپنا لیا۔ ابھی تک انہوں نے تین ناول لکھے ہیں۔ ان کا پہلا ناول کائٹ رنر تھا۔ دوسرا اے تھاوزنٹ سپلینڈڈ سنز 2007 اور تیسرا ماونٹین ایکو 2013 جس کا ترجمہ پہاڑوں کی چیخ کے نام سے اردو میں ہو چکا ہے۔ ان کے تینوں ناول کئی ہفتوں تک نیویارک ٹائمز کے بیسٹ سیلر لسٹ پر رہے ہیں۔ کائٹ رنر ان کا پہلا اور سب زیادہ پڑھے جانے والا ناول ہے جو ایک سو ایک ہفتوں تک نیویارک ٹائمز کے بیسٹ سیلنگ بکس کی لسٹ میں رہا ہے۔

کائٹ رنر ایک نواجوان لڑکے عامر کی کہانی ہے جو کابل کے ضلع وزیر اکبر خان میں رہتا تھا۔ بلکہ مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کائٹ رنر صرف عامر اور حسن کی کہانی نہیں بلکہ یہ افغانستان کی کہانی ہے۔ یہ کابل کی کہانی ہے اور کہیں کہیں تو محسوس ہوا یہ خالد حسینی کی اپنی کہانی ہے۔ ابھی تارڈ صاحب کا ایک انٹرویو پڑھ رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ بڑے ناولوں میں ادیبوں کی اپنی کہانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یہ ناول ایک ایسے افغانستان کی کہانی جو 1975 سے 2002 تک دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی لڑائی کا میدان رہا ہے۔ ایک ایسے افغانستان کی تاریخ جہاں روسیوں کے آنے سے لے کر ان کے جانے تک، پھر اس کے بعد شمالی اتحاد اور طالبان کی لڑائیوں، بدلتی حکومتوں کے افغانیوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کی کہانی ہے۔

ناول اس قدر شاندار ہے کہ آپ کو تین سو صفحے پڑھتے ہوئے بالکل محسوس بھی نہیں ہو گا کہیں بھی ناول نگار کے ہاتھ سے قلم رتی برابر بھی پھسلا ہو گا۔ ایک ایسا ناول جو شروع سے لے کر آخر تک آپ کو کہانی کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔ ناول کے کردار اور منظر نگاری اس قدر جاندار ہیں کہ پڑھتے ہوئے تمام کردار اور منظر آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ جب علی سجاد شاہ صاحب نے کہا تھا کہ افغان جنگ بلکہ اس کے بعد کی صوتحال پر یہ سب ناولوں کا باپ ہے۔ تو تب اس بات کی سمجھ نہیں لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ خود اس ناول کے ٹرانس سے نہیں نکلے اور ماونٹین ایکو لکھتے ہوئے بھی شاید تھوڑا تھوڑا وہ اسی ناول کے ٹرانس میں تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   خلائی تعزیت کی دنیا؟ - وسعت اللہ خان

یہ بس جنگ کی کہانی نہیں بلکہ یہ کہانی ہے رشتوں کی، افغانی تہذیب کی اور یہ کہانی ہے اس خطے میں رہنے والے اکثریتی بچوں کی ہے جہاں باپ اور بیٹے کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہوتی ہے۔ ادب، احترام اور روایات کی دیوار جسے نہ پھلانگ سکنے والے بچے اکثر نفسیاتی کشمکش کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھ پاتےاُن کے باپ اُن سے کیا چاہتے ہیں۔ ان سے پیار کرتے بھی ہیں کہ نہیں اور وہ ایسا کیا کریں کہ ان کے والد ان سے پیار کرنے لگ جائیں، خوش ہو کر ان کو گلے لگا لیں۔ والد کی خوشنودی حاصل کے لیے وہ اکثر عجیب و غریب حرکت کرتے ہیں جیسا کہ ناول میں عامر کرتا ہے۔

پتنگ بازی ایک نشہ ہے۔ بچپن کا ایسا نشہ جس میں آپ کے ہاتھ کٹ جائیں، خون رسنے لگے، گھر والے ماریں یا کسی چھت سے گر جائیں لیکن یہ پتنگ اُڑانا چھوڑنا ویسے ہی مشکل ہو جاتا جیسے نشئیوں کے لیے نشہ چھوڑنا۔ اور کٹی ہوئی پتنگ کے پیچھے شِکر دوپہرے چھتیں پھلانگنا، بھاگتے بھاگتے جوہڑوں میں چلے جانا، درختوں پر چڑھنا، پانی لگے کھیتوں میں گھس کر سارے کپڑے خراب کر لینا اور پھر گھر آ کر مار کھانا بس ایسا ہی پچپن ہوتا ہے پتنگ اڑانے والے اور پتنگ کے پیچھے بھاگنے والا ہر دوسرے بچے کا۔

یہ بھی پڑھئے:   مچھر۔۔۔ انسان کا دوسرا بڑا دشمن

اس ناول کا ایک اہم تھیم ہزارہ نسل کے خلاف پشتونوں کی نفرت کا ہے۔ اس نفرت کی بڑی وجہ ان کا شیعہ ہونا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے کبھی کبھی محسوس ہو رہا تھا یہ نفرت اب تک ہزارہ کا پیچھا کر رہی ہے اور شاید کرتی رہے گی کب تک اس کا اندازہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں مرنے والے ہزارہ شیعہ بھی زیادہ تر اسی نفرت کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ ایک اُداس کر دینے والا ناول ہے۔ ایک ہنستے بستے افغانستان کے اجڑ جانے کی اداسی، گھر سے بے گھر ہو جانے کی اداسی، اپنوں کے بچھڑ جانے کی اداسی، اپنے ہی ملک میں واپس آنے پر ان علاقوں کو نہ پہچان پانے کی اداسی جہاں آپ نے اپنا بچپن گزارا ہو۔ جب آپ کے لوگ آپ کو شک کی نظر سے دیکھیں اپنا دشمن سمجھیں۔ بے شک خالد حسینی نے افغانی تہزیب، تاریخ، معاشرت اور مزہبی رجحانات کو بہت واضح کر کے دیکھایا جو ہمیں افغانستان کے حالت جنگ میں رہنے کے دور کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
255
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: