Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

وسعت مطالعہ ہی تشکیک سے بچنے کا واحد راستہ؟

Print Friendly, PDF & Email

اکثر جب ہم اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دھانے پر ہوتے ہیں تو ہمارے پاس درسی کتب کے ذریعے مذہب، سیاست، حب الواطنی اور اپنے سماج بارے بہت سی معلومات اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ یہ معلومات بہت زیادہ گہری نہیں ہوتیں۔اکثر بہت سی باتوں سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے ہیں۔ اب اگر ایسے میں آپ کو مطالعے کی لت لگ جائے۔ آپ کچھ نا کچھ پڑھنا شروع کر دیں۔ چاہے وہ مطالعہ مذہب کا ہو، سیاست کا ہو، تاریخ کا ہو یا نفسیات کا ہم خود کو باغی سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ لیں ہم خود کو اپنی روایت سے ہٹتا ہوا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ معاشرے میں خود کو اجنبی سا محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے آپ کا سارا علم جھوٹ پر مبنی تھا۔ آپ کو جو پڑھایا گیا وہ تو ویسا تو ہے ہی نہیں۔ آپ کی ساری تاریخ جھوٹ پر مبنی ہے۔ آپ سے جو مذہبی تاویلات بیان کی گئی ہیں۔ وہ تو کسی نے اپنی دکان چمکانے کے لیے خود سے بنائی ہیں۔ آپ کو ملا سے نفرت ہونا شروع ہوتی ہے۔ آپ کو ملکی اداروں سے نفرت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ آپ سیاستدانوں کو واحد لٹیرا سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سب آپ کے مطالعے کی سمت پر منحصر ہے۔ پھر جیسے جیسے آپ اپنے مطالعے کو وسعت دیتے ہیں۔ آپ کسی بلھے کو پڑھتے ہیں۔ کسی منصور حلاج کے بارے میں سنتے ہیں۔ آپ کا یہ سفر کہیں کارل مارکس تک پہنچتا ہے۔ تو محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ آپ کے اندر ایک انقلابی روح بیدار ہونا شروع ہو گئی ہے۔ آپ ظالم حکمران کے خلاف کلمہ حق کہنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہر حد تک جانا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف آپ مذہب پر انگلی اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ شروع میں آپ صرف ان باتوں پر سوال اٹھانا شروع ہوتے ہیں جن کا آپ کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور پھر یہ سوالات کسی بھی راستے کو اپنا سکتے ہیں۔ یہ سوالات اکثر آپ کو تشکیک کا شکار کر دیتے ہیں۔ آپ پڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ مزید جاننا چاہتے ہیں۔ آپ کی آخری منزل سچائی ہے۔ حقیقت کو پانا ہے۔ ایسی حقیقت جو ہر طرح سے مکمل ہو جس میں کہیں کوئی سوال اٹھانے کی گنجائش نا ہو۔

یہ بھی پڑھئے:   سنت ابراہیمی کے تقاضے اور ہماری عیدقربان | انور عباس انور

یہ انقلابی پن، یہ تشکیکی دور اس مطالعے کا نتیجہ ہے جو آپ کرتے ہیں۔ یہ سوالات جن کے جوابات آپ کے لیے لازمی پرچے کی سی صورتحال اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر اس تشکیک اس انقلابی پن کے دور میں آپ کا یہ مطالعہ یک رخا رہ جائے گا۔ تو یہ آپ کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اگر آپ اس تشکیک کے دوران کسی ایسے گروہ کے ہتھے چڑھ گئے۔ جن کا کام ہی اپنے مخصوص نظریات کی ترویج ہے۔ وہ آپ کو ایک بند گلی میں لے کر جائیں گے۔ ہو سکتا ہے وہ گروہ آپ کا استعمال کرے۔ تو ایسے میں آپ جتنا مرضی پڑھ لیں۔ آپ کی جستجو جو خالصتا علمی ہوا کرتی تھی۔ اب وہ جستجو ایک مخصوص شکل اختیار کر کے نفرت، حقارت اور تعصب کی نظر ہونا شروع ہو جائے گی۔

اس صورتحال میں آپ کو ایک ایسے شخص ایسے رہنما، ایسے صاحب علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو آپ کی رہنمائی کر سکے۔ جو آپ کے قائم شدہ نظریات اور آپ کے مطالعے میں خلا کی نشاندہی کرے۔ جس کے پاس ان سوال کے جوابات ہوں۔ جو آپ کے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ وہ رہنما ضروری نہیں کوئی پیر ہو کوئی ولی اللہ ہو کوئی بہت بڑی شخصیت ہو۔ وہ شخص آپ جیسا ایک عام شخص ہو سکتا ہے جو شکل و صورت سے غیر معمولی نظر نہ آتا ہو۔ لیکن وہ آپ کے پڑھے کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو آپ کو بتا سکے کہ دنیا کے تمام نظریات میں کوئی ایسا نظریہ نہیں ہے جو حرف آخر ہو۔ کوئی ایسی تاریخ نہیں ہے جو ملاوٹ سے پاک ہو۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسا ہیرو نہیں جس پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ دنیا کا کوئی ایسا مذہب نہیں ہے جس کے ٹھیکیداروں نے اس میں ملاوٹ نا کی ہو۔ جو آپ کو بتا سکے کے حکمرانوں اور جاگیرداروں کا شیوہ رہا ہے کہ کمزوروں پر ظلم کر کے ان کا استحصال کر کے اپنا پیٹ بھرتے رہیں۔ جو آپ کو بتائے کہ سچائی کی تلاش میں کیا رکاوٹیں ہیں۔ کون سی قیمت ہے جو انسان کو اس سچائی کی خاطر ادا کرنا پڑتی ہے۔ جو آپ کو مطالعہ جاری رکھنے اور نظر آنے والی حقیقتوں کے پیچھے چھپی سچائیوں سے آگاہ کر سکے۔ جو آپ کو بتا سکے کہ یہ یک رخا مطالعہ کس قدر خطرناک چیز ہے۔ یہ کانٹوں بھرا راستہ ہے اس پر آپ کو وہی بہترین رہنمائی دے سکے گا جو خود اس پر چل چکا ہو۔ جس نے ان کانٹوں سے اپنا جسم پر موجود کپڑے تار تار کروائے ہوں۔ جو آپ کو بتائے کے جو بھی چیز ٹھر جائے رک جائے وہ ختم ہو جاتی، یا جوہڑ میں ٹھرے پانی کی طرح بدبودار ہو جاتی ہے۔ جو یہ سمجھا سکے کے مطالعہ کبھی نا چھوڑنا۔

یہ بھی پڑھئے:   مجبور و محصور لبنانی وزیراعظم کا ٹی وی انٹرویو اور سعودی عرب کے عزائم

یہ مسلسل پڑھنے کا شوق، مسلسل جاننے کی جستجو ہی آپ کی باغی روح کو چین دلا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ اس کو کسی وقت مکمل نا سمجھیں۔ اس کے لیے کوئی مخصوص دائرہ تخلیق نہ کریں۔ پھر آپ پلٹ کر اس روایت کے درمیاں خود کو سمجھتے ہیں۔ جس سے پہلے آپ خود کو کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ آپ ظالم حکمران کے سامنے اپنی بات کہنے کا ٹھنگ سیکھ جاتے ہیں۔ آپ ہضم کرنا سیکھ جاتے ہیں علم کو ہضم کرنا جو مشکل ترین کام ہے۔ یہ علمی بدہضمی ہی ہے کہ بہت سے صاحب علم لوگ آپ کو علمی مکالموں میں گالیاں نکلاتے دھمکی دھمکیاں دیتے اور بے پر کی سناتے پائے جاتے ہیں۔ یہ جع علمی بدہضمی ہے یا جسے آپ مہذب زبان میں خبط عظمت کا شکار ہونا کہتے ہیں۔ بس یہی وقت ہوتا ہے جب انسان خود کو مکمل اور اپنا مطالعے کو اٹل سمجھ لینے کی غلطی کر کے ایسی ایسی ناکام کوششیں کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی ساکھ تباہ کرنے کے در پے ہو جاتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
464
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: