Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

یونیورسٹی سب کیمپسز کے گورکھ دھندے

Print Friendly, PDF & Email

یہ یونیورسٹیوں خاص کر پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے سب کیمپسز کے نام پر جو بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ہمارے ہاں آگاہی بالکل نہیں ہے۔ ہر سال کے آخر میں چند دن کے لیے شور اٹھتا ہے۔ وہ بھی تب جب کوئی ٹی وی چینل ایک منٹ کا ٹِکر چلاتا ہے۔ ورنہ ہم میں سے اکثریت ان لوگوں کے دھندے سے بالکل واقف نہیں ہوتے۔

میری تو کوشش ہے کے جو بھی مشورہ مانگے اسے پرائیویٹ اور خاص کر کسی پرائیویٹ یونیورسٹی کے سب کیمپس میں داخلہ لینے کا مشورہ کبھی نا دوں۔ بلکہ میں تو اکثر منع کرتا ہوں۔ بی زیڈ یو، سرگودھا یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کے سب کیمپسز نے ہزاروں بچوں کے مستقبل تباہ کیے ہیں۔ یہ لوگ بچوں سے لاکھوں روپے بٹورتے ہیں۔ اور دو سال ان کو پڑھانے کے بعد ڈگری دینے کی باری آئے تو انکار کر دیتے ہیں۔

اس پر پچھلے ایک سال میں بہت افسوسناک واقعات میری نظر کے سامنے سے گزرے ہیں۔ ان کا ذکر کرنا اس لیے مناسب سمجھتا ہوں تا کہ والدین یا جو طالب علم داخلہ لینا چاہتے ہیں وہ احتیاط سے کام لیں اور خاص کر سب کیمپسز میں داخلہ لینے سے پہلے مخصوص ڈگری بارے معلومات حاصل کر لیا کریں.

مثال کے طور پر میں اپنے ضلع میں بننے والے دو سب کیمپسز کا ذکر کروں گا۔ شیخوپورہ شہر میں سینٹرل پنجاب اور ہجویری یونیورسٹی کے سب کیمپس کھلے ہیں۔ سینٹرل پنجاب والوں نے دو دو سال پہلے ایم انگلش کی کلاسز شروع کی تھیں۔ پہلے سال پڑھایا پیپر ہونے کے فوراً بعد دوسرے سال کی تیاری شروع کروا دی۔ اور فیس بھی لے لی، لیکن جب رزلٹ آیا تو ٹوٹل کلاس فیل ہو گئی تھی۔ ان میں وہ بچے بھی شامل تھے جن کا پچھلا سارا تعلیمی ریکارڈ بہت شاندار تھا۔ اس میں سب سے حیران کن واقعہ یہ ہوا کہ زیادہ تر بچوں کا رزلٹ ہی نہیں شو ہوا۔ تمام مضامین کے آگے زیرو زیرو نمبر لگ کر رزلٹ آ گیا۔ کوئی بھی بچہ زیرو سے زیادہ نمبر اسکور کرنے میں ناکام رہا۔ اب ایسی صورت حال میں زیادہ تر بچوں کے دو سال بھی ضائع گئے، دوسرے سال کی فیس بھی ضائع گئی اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا۔ اس سے بھی بڑھ کر بی کام والوں سے ہوئی جن کے پیپر تو ہوئے لیکن رزلٹ ایک سال بعد ابھی تک نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے:   آئیں بائیں شائیں

اُس سے تھوڑا سا آگے تقریبا دو سال پہلے ہجویری یونیورسٹی کا نیا کیمپس کھلا تھا۔ جو والدین اپنے بچوں کو لاہور بھیجنے کے وسائل اور حوصلہ نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے فوراً یہاں اپنے بچوں کا داخلہ ہجویری میں کروا دیا۔ ان میں زیادہ تر ساہ لوح ان پڑھ اور اِس ڈگری والے گورکھ دھندے سے نابلد تھے۔ لیکن وہاں کا ایک حالیہ قصہ سن لیں۔ انہوں نے بی ایس سی کے نام سے کلاسز شروع کیں۔ دو سال میتھ کو بطور میجر مضمون پڑھاتے رہے اور امتحان بھی اسی کا لیا تھا۔ لیکن اب جب انہوں نے رزلٹ دینا تھا تو انہوں نے میتھ کی بجائے کمپیوٹر سائنس کی اسناد یہ کہتے ہوئے دے دی ہیں کہ ہمارے پاس تو بس یہی ڈگری دینے کی اتھارٹی ہے۔ اب وہ بچے جن کا ایم ایس سی میتھ میں میرٹ بن گیا ہے۔ وہ بھی میتھ میں داخلہ لینے سے محروم رہ گئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر دونمبری کیا ہو گی؟

ان دو یونیورسٹیوں کے واقعات آپ کے سامنے بطور مثال پیش کیے ہیں۔ اسی طرح باقی علاقوں میں بھی بہت سی یونیورسٹیوں کا یہی دھندہ ہے۔ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ اگر آپ نے اپنے کسی عزیز کا داخلہ کروانا ہو یا کسی کو مشورہ دینا ہو تو کم از کم ایک دفعہ اُس یونیورسٹی کو ایچ ای سی کی ویب سائٹ سے ضرور چیک کر لیجیۓ۔ بعض اوقات بہت سی یونیورسٹیوں میں بہت سی ڈگریاں بھی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ جس سے سینکڑوں طالب علموں کو لاکھوں روپوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ لہذا کسی کو مشورہ دیتے ہوئے خدارا یہ باتیں ضرور ذہن میں رکھ لیجیۓ گا تا کہ کسی کا مستقبل تباہ ہونے سے بچ جائے۔

Views All Time
Views All Time
385
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: