Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

فیس بک اور ادبی تنقید

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے ہاں خاص کر فیس بک پر اکثر ادبی تنقید کے دور چلتے رہتے ہیں۔ تنقید نگار خواتین و حضرات اپنے اپنے پسند کے لکھاریوں کا دفاع اس زور شور سے کرتے ہیں کہ اکثر گمان ہوتا ہے کہ اگر ان کے پسندیدہ لکھاریوں کو عظیم نہ مانا گیا تو وہ فیس بک سے نکل کر دو تین تھپڑ رسید کرنا تو اپنا اخلاقی فرض سمجھیں گے۔ امید ہے اگر آپ پچھلے چند سالوں میں فیس بک پر ادبی تنقید کے نام سے ہونے والے معرکوں کو یاد کریں گے تو آپ خود کو مجھ سے ضرور متفق پائیں گے۔ عموماً ہاتھا پائی والی یہ کیفیت تب سامنے آتی ہے جب موضوع بحث رائٹ و لیفٹ کے لکھاری یا میری زبان میں کہیں تو نیک والے اور برے والے بابے ہوں۔ میری رائے میں مجھ جیسے دوست اکثر کسی ادیب کے کام پر تنقید کرتے ہوئے۔ اُن اہم پہلووں سے چشم پوشی برتتے ہیں جن کو کسی ادبی فن پارے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مختلف تنقید نگاروں نے اپنی تحریروں میں مختلف پہلو کو مدنظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ میرے نزدیک ہمیں یہاں اِن چند پوائنٹس کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے.ہمیں تنقید کرتے ہوئے کسی قسم کے مذہبی نظریاتی یا دیگر تعصب کا شکار نہیں ہونا۔

تنقید کرنے سے پہلے آپ کو اس لکھاری کے سارے یا کم از کم اکثریتی کام کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کسی لکھاری کے ایک ناول کو پڑھ کر اس کے سارے کام پر تنقید کرنا بددیانتی نہ ہو لیکن ناانصافی ضرور کہلائے گی۔تنقید کرنے سے پہلے اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ جس ادبی فن پارے پر تنقید کرنے جا رہے ہیں وہ ادب کی کونسی صنف سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کس پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ ہمیں قطعیت سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:   سوشل میڈیا کا مثبت و منفی استعمال | ممتازشیریں

اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ ادیب جب کوئی ادبی فن پارہ لکھتا ہے تو اُس کے بعد اُس کی تحریر پر سب سے زیادہ حق پڑھنے والوں کا ہوتا ہے۔ تو پھر بھی ہم کیسے مان لیں کہ پڑھنے والے کی رائے سو فیصد درست ہے۔ میں ٹی ایس ایلیٹ کی پیروی کرتے ہوئے یہ تو نہیں کہوں گا کہ نقاد بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص جو نقاد بننا چاہتا ہے وہ یورپ یا اپنے علاقے کے نئے اور پرانے سارے ادب کو گھول کر پی جائے۔ یا تنقید کرتے ہوئے اپنی ذاتی پسند نا پسند کو بالکل اثر انداز نہ ہونے دے۔

لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ آپ جو بھی ہیں جب کسی ادیب کے کام پر تنقید کر رہے ہوں تو مکمل طور پر قطعیت کا شکار نہ ہو جایا کریں۔ پہلے پلان بنا کر کسی کی محبت یا نفرت میں لکھی گئی ایسی تحریر جو آپ ادبی تنقید کے طور پر پیش کرتے ہیں کسی کا دفاع کرنا یا پوسٹ مارٹم کرنا تو کہلا سکتی ہے لیکن ادبی تنقید نہیں کہلا سکتی۔ مثلاً مجھ سمیت فیس بک پر بہت سے دوست عمیرہ، نمرہ احمد اور دیگر خواتین ہوں یا ان سے پہلے لکھنے والے باباز پر مزہب مارکہ ادب لکھنے کا الزام تو جھٹ سے لگا دیتے ہیں۔ لیکن ہم میں ایک فیصد بھی ایسا لوگ نہیں ہوں گے جو ان ادیبوں کے کام میں مزہب سے ہٹ کر ان تحریروں کو موضوع بحث لاتے ہوں جن کا تعلق حقیقی طور پر ہمارے سماج سے ہے۔ یہی حال دوسری طرف کے لوگوں کا ہے جو بے جا مزہب کے استعمال کے حق میں بس یہی جواز دے پاتے ہیں کہ چونکہ آپ نے مزکورہ ادیب کے کام کو پڑھا نہیں اس لیے ایسی تنقید کر رہے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے کہ اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتے ہوئے خاموش رہا جائے اور اس موضوع پر اتھارٹی رکھنے والے لوگوں سے پہلے کچھ سیکھ لیا جائے۔۔

Views All Time
Views All Time
408
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: