Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

انتقال سے چند ماہ پہلے منٹو نے یہ مضمون اپنے بارے میں لکھا تھا

Print Friendly, PDF & Email

منٹو کے متعلق اب تک بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ہے اس کے حق میں کم اور حلاف زیادہ۔۔۔ یہ تحریریں اگر پیش نظر رکھی جائیں تو کوئی صاحب عقل منٹو کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم نہیں کرسکتا۔۔۔ میں یہ مضمون لکھنے بیٹھا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ منٹو کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا بڑا کٹھن کام ہے۔۔۔ لیکن ایک لحاظ سے آسان بھی ہے اس لئے کہ منٹو سے مجھے قربت کا شرف حاصل رہا ہے اور سچ پوچھیے تو منٹو کا میں ہمزاد ہوں۔


اب تک اس شخص کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے مجھے اس پر اعتراض نہیں۔۔۔ لیکن میں اتنا سمجھتا ہوں کہ جو کچھ ان مضامین میں پیش کیا گیا ہے حقیقت سے بالاتر ہے۔۔ بعض اسے شیطان کہتے ہیں اور بعض اسے گنجا فرشتہ۔۔۔ زرا ٹہرائے میں دیکھ لو کہیں وہ کم بخت یہیں سن تو نہیں رہا ۔۔ نہیں نہیں ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے یاد آگیا کہ یہ وہ وقت ہے جب وہ پیار کرتا ہے۔۔۔ اس کو شام کے چھ بجے کے بعد کڑوا شراب پینے کا عادت ہے۔

ہم اکھٹے ہی پیدا ہوئے اور خیال ہے کہ اکٹھے ہی مریں گے لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو نہ مریں اور ہمیشہ مجھے یہ اندیشہ بہت دکھ دیتا ہے۔۔ اس لیے کہ میں نے اس کے ساتھ اپنی دوستی نبھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔۔۔ اگر وہ زندہ رہا اور میں مر گیا تو ایسا ہوگا کہ انڈے کا خول تو سلامت ہے اور اس کے اندر کی زردی اور سفیدی غائب ہوگئی۔۔۔

اب میں زیادہ تہمید میں جانا نہیں چاہتا۔۔۔ آپ سے صاف کہے دیتا ہوں کہ منٹو ایسا ون ٹو آدمی میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، جسے اگر جمع کیا جاے تو وہ تین بن جاے۔۔۔ مثلث کے بارے میں اس کی معلومات کافی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ ابھی اس کی تثلیث نہیں ہوئی۔۔۔ یہ اشارے ایسے ہیں جو صرف باہم قارئین ہی سمجھ سکتے ہیں

یوں تو منٹو کو میں اس کی پیدائش ہی سے جانتا ہوں۔۔ ہم دونوں اکھٹے ایک ہی وقت 11 مئی سنہ 1912 ء کو پیدا ہوئے لیکن اس نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ وہ خود کو کچھوا بنائے رکھے جو ایک دفعہ اپنا سر اور گردن اندر چھپا لے تو آپ لاکھ ڈھونڈتے رہے تو اس کا سراغ نہ ملے۔۔۔ لیکن میں بھی آخر اس کا ہمزاد ہوں میں نے اس کی ہر جنبشِ کا مطالعہ کر ہی لی۔۔۔

لیجئے اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ خر ذات افسانہ نگار کیسے بنا ؟ تنقید نگار بڑے لمبے چوڑے مضامین لکھتے ہیں۔۔۔ اپنی ہمہ دانی کا ثبوت دیتے ہیں۔۔۔ شوپن ہار ، فرائیڈ ،ہیگل ، نٹ شے ، مارکس کے حوالے دیتے ہیں مگر حقیقت کو کوسوں دور رہتے ہیں۔۔۔۔

منٹو کی افسانہ نگاری دو متضاد عناصر کے تصادم کا باعث ہے۔ اس کے والد خدا انہیں بخشے بڑے سخت گیر تھے اور اس کی والدہ بے خد نرم دل۔۔۔ ان دو پاٹوں کے اندر پس کر یہ دانہ ، گندم کی شکل میں باہر نکلا ہوگا ، اس کا اندازہ آپ کرسکتے ہیں۔۔۔

اب میں اس کی سکول کی زندگی کی طرف آتا ہوں۔۔ بہت ذہین لڑکا تھا اور بہت شریر۔۔۔ اس زمانے میں اس کا قد زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین فٹ ہوگا۔۔۔ وہ اپنی باپ کا اخری بچہ تھا۔۔۔ اسکو اپنے ماں باپ کی محبت تو میسر تھی لیکن اسکے تین بڑے بھائی جو عمر میں بھی اس سے بہت بڑے تھے اور ولایت میں تعلیم مار رہے تھے ان سے اسکو کبھی ملاقات کا موقع ہی نہیں ملا تھا، اس لئے کہ وہ سوتیلے تھے۔۔۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس ملیں، اس سے بڑی بھائیوں ایسا سلوک کریں۔۔۔ یہ سلوک اسے اس وقت نصیب ہوا جب دنیائے ادب اسے بہت بڑا افسانہ نگار تسلیم کر چکی تھی۔۔

اچھا اب اس کی افسانہ نگاری کے متعلق سنیے۔ وہ اول درجے کا فراڈ ہے۔۔۔ پہلا افسانہ اس نے بعنوان
” تماشہ ” لکھا جو جلیانوالہ باغ کے حونین حادثے سے متعلق تھا۔۔۔ یہ اس نے اپنے نام سے نہ چھپوایا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پولیس کی دست برد سے بچ گیا۔

یہ بھی پڑھئے:   کہکشاں میری خاک سے روشن نادیہ عنبر لودھی

اس کے بعد اس کے متلون مزاج میں ایک لہر پیدا ہوئی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے۔۔۔ یہاں اس کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس نے انٹرنس کا امتحان دو بار فیل ہوکر پاس کیا ، وہ بھی تھرڈ ڈویژن میں۔۔۔ اور آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ وہ اردو کے پرچے میں ناکام رہا۔

آپ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اردو کا بہت بڑا ادیب ہے اور میں یہ سن کر ہنستا ہوں اس لیے کہ اردو ادب بھی اسے نہیں آتی۔۔۔۔ وہ لفظوں کے پیچھے یوں بھاگتا جیسے کوئی جال والا شکاری تیتلیوں کے پیچھے۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ نہیں آتی۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریروں میں خوبصورت الفاظ کی کمی ہے۔۔۔ وہ لٹھ مار ہے لیکن جیتنے لٹھ اس کی گردن پر پڑے ہیں، اس نے بڑی خوشی سے برداشت کیں۔۔۔ اس کی لٹھ بازی عام محاورے کے مطابق جاٹوں کی لٹھ بازی نہیں ہے۔۔۔ وہ نیوٹ اور پھکیت ہے۔۔۔ وہ ایک ایسا انسان ہے جو صاف اور سیدھی سڑک پر نہیں چلتا، بلکہ تنے ہوئے رسے پر چلتا ہے۔۔۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب گرا ۔۔۔ لیکن وہ کمبخت آج تک کبھی نہیں گرا۔۔۔ شاید گر جائے، اور اوندھے منہ۔۔۔۔۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ مرتے وقت وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں اس لئے گرا تھا کہ گراوٹ کی مایوسی ختم ہو جائے۔۔۔

میں اس سے بیشتر کہہ چکا ہوں کہ منٹو اول درجے کا فراڈ ہے۔ اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ وہ اکثر کہا کرتا ہے کہ وہ افسانہ نہیں سوچتا خود افسانہ اسے سوچتا ہے۔۔۔ یہ بھی ایک فراڈ ہے حالانکہ میں جانتا ہوں کہ جب اسے افسانہ لکھنا ہوتا ہے تو اس کی وہی حالات ہوتی ہے جب کسی مرغی کو انڈہ دینا ہوتا ہے لیکن وہ یہ انڈہ چھپ کر نہیں دیتا۔۔۔ سب کے سامنے دیتا ہے۔۔۔۔ اس کے دوست یار بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ اس کی تین بچیاں شور مچا رہی ہوتی ہیں اور وہ اپنی مخصوص کرسی پر اکڑوں بیٹھا انڈے دئے جاتا ہے، جو بعد میں چوں چوں کرتے افسانے بن جاتے ہیں۔۔۔ اس کی بیوی اس سے بہت نالاں ہیں۔۔۔ وہ اس سے اکثر کہا کرتی ہیں کہ تم افسانہ نگاری چھوڑ دو۔۔۔ کوئی دکان کھول لو لیکن منٹو کے دماغ میں جو دکان کھلی ہیں اس میں منیاری کے سامان سے کہیں زیادہ سامان موجود ہے۔۔۔ اس لئے وہ اکثر سوچا کرتا ہے اگر میں نے کوئی سٹور کھول لیا تو ایسا نہ ہو کہ وہ کولڈ اسٹوریج یعنی سرد خانہ بن جائے۔۔۔ جہاں اس کے تمام خیالات اور افکار منجمد ہو جائیں۔۔۔

میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ منٹو مجھ سے ناراض ہوجاے گا۔۔۔ اس کی ہر چیز برداشت کی جاسکتی ہے مگر خفگی برداشت نہیں کی جاسکتی۔۔ خفگی کے عالم میں وہ بلکل شیطان بن جاتا ہے لیکن صرف چند منٹوں کے لیے اور وہ چند منٹ خدا کی پناہ۔

افسانہ لکھنے کے معاملے وہ نخرے ضرور بگھارتا ہے لیکن میں جانتا ہوں، اس لئے۔۔۔۔ کہ اس کا ہمزاد ہوں۔۔۔ کہ وہ فراڈ کر رہا ہوں۔۔۔ اس نے ایک دفعہ خود لکھا تھا کہ اس کی جیب میں بے شمار افسانے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ حقیقت اس کی برعکس ہے۔۔۔ جب اسے افسانہ لکھنا ہوگا تو وہ رات کو سوچے گا۔۔۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا۔۔۔ صبح پانچ بجے اٹھے گا اور اخباروں سے کسی افسانے کا رس چوسنے کا خیال کرے گا۔۔۔ لیکن اسے ناکامی ہوگی۔۔۔ پھر وہ غسل خانے میں جاے گا۔۔۔ وہاں وہ اپنے شوریدہ سر کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ سوچنے کے قابل ہوسکے لیکن ناکام رہے گا۔۔ پھر جھنجھلا کر اپنی بیوی سے خواہ مخواہ جھگڑا شروع کر دے گا۔۔۔ یہاں سے بھی ناکامی ہوگی تو باہر پان لینے کے لیے چلا جاے گا۔۔۔ پان اس کی ٹیبل پر پڑا رہے گا لیکن افسانے کا موضوع اس کی سمجھ میں پھر بھی نہیں آئے گا۔۔۔ آخر وہ انتقامی طور پر قلم یا پینسل ہاتھ میں لے گا 
” 786 ” لکھ کر جو پہلا فقرہ اس کے زہن میں آئے گا ، اس سے افسانے کا آغاز کر دے گا۔۔۔

یہ بھی پڑھئے:   دسویں عالمی اردو کانفرنس اورعصری ادب اطفال

بابو گوپی ناتھ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، ہٹک ، ممی ، موذیل یہ سب افسانے اس نے اسی فراڈ طریقے سے لکھے ہیں۔۔۔

یہ عجیب بات ہے کہ لوگ اسے بڑا غیر مذہبی اور فحش انسان سمجھتے ہیں اور میرا بھی خیال ہیں کہ وہ کسی خد تک اس درجے میں آتا ہے۔۔۔ اس لئے اکثر اوقات وہ بڑے گہرے موضوعات پر قلم اٹھاتا ہے اور ایسے الفاظ اپنی تحریر میں استعمال کرتا ہے، جن پر اعتراض کی گنجائش بھی ہوسکتیں ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ جب بھی اس نے کوئی مضمون لکھا پہلے صفحے کی پیشانی پر ” 786 ” ضرور لکھا جس کا مطلب ہے۔۔۔ بسم اللہ ۔۔۔۔ اور یہ شخص جو اکثر خدا سے منکر نظر آتا ہے کاغذ پر مومن بن جاتا ہے۔۔۔ یہ وہ کاغذی منٹو ہے ، جسے آپ کاغذی باداموں کی طرح صرف انگلیوں پر توڑ سکتے ہیں، ورنہ وہ لوہے ہتھوڑے سے بھی ٹوٹنے والا آدمی نہیں۔۔۔

اب میں منٹو کی شخصیت کی طرف آتا ہوں۔۔۔ جو چند القابات میں بیان کیے دیتا ہوں۔۔۔ وہ چور ہے ، جھوٹا ہے ، دغا باز ہے اور مجمع گیر ہے۔۔۔۔

اس نے اکثر اپنی بیوی کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی کئی سو روپے اڑائے ہیں۔۔۔ ادھر آٹھ سو لاکے دیئے اور چور آنکھ سے دیکھتا رہا کہ اس نے کہا رکھے ہیں اور دوسرے دن اس میں سے ایک سبزہ غائب کر دیا اور اس بے چاری کو جب اپنے اس نقصان کی خبر ہوئی تو اس نے نوکروں کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔۔۔

یوں تو منٹو کے متعلق مشہور ہے کہ وہ راست گو ہے لیکن میں اس سے اتفاق کرنے کے لیے تیار نہیں وہ اول درجے کا جھوٹا ہے۔۔۔ شروع شروع اس کا جھوٹ اس کے گھر چل جاتا تھا ، اس لئے کہ اس میں منٹو کا ایک خاص ٹچ ہوتا تھا لیکن بعد میں اس کی بیوی کو معلوم ہوگیا کہ اب تک مجھ سے خاص معاملے کے مطابق جو کچھ کہا جاتا تھا وہ جھوٹ تھا۔۔۔

منٹو جھوٹ بقدرِ کفایت بولتا ہے لیکن اس کے گھر والے ، مصیبت ہے کہ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس کی ہر بات جھوٹی ہے۔۔۔ اس تل کی طرح جو کسی عورت نے اپنے گال پر سرمے سے بنا رکھا ہو۔۔۔

وہ ان پڑھ ہے۔۔۔ اس لحاظ سے کہ اس نے کبھی مارکس کا مطالعہ نہیں کیا۔۔۔ فرائڈ کی کوئی کتاب آج تک اس کی نظر سے نہیں گزری۔۔۔ ہیگل کا وہ صرف نام ہی جانتا ہے۔۔۔ ہیولک ایلس کو وہ صرف نام سے جانتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ تنقید نگار ، یہ کہتے ہیں کہ وہ ان تمام مفکروں سے متاثر ہے۔۔۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، منٹو کسی دوسرے شخص کے خیال سے متاثر ہوتا ہی نہیں۔۔۔ وہ سمجھتا ہے کہ سمجھانے والے سب چغد ہیں۔۔۔ دنیا کو سمجھانا نہیں چاہیے ، اس کو خود سمجھنا چاہیے۔۔۔

خود کو سمجھا سمجھا کر وہ ایک ایسی سمجھ بن گیا جو عقل فہم سے بالاتر ہے۔۔۔ بغض اوقات ایسی اوت پٹانگ باتیں کرتا ہے کہ مجھے ہنسی آتی ہے۔۔۔۔

میں اپ کو پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ منٹو ، جس پر فحش نگاری کے سلسلے میں کئی مقدمے چل چکے ہیں، وہ بہت طہارت پسند ہے لیکن میں یہ بھی کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ وہ ایک ایسا پاانداز ہے جو خود کو جھاڑتا پھٹکتا رہتا ہے۔۔۔۔


کتاب : نوادرات منٹو۔ 
مرتب : محمد سعید۔ 
انتخاب: احمد بلال


Views All Time
Views All Time
339
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: