امام حسین اور شہدائے کربلا کی سب پہلی ذاکر اور عزادار۔۔۔۔۔۔ حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا

Print Friendly, PDF & Email

واقعہ کربلا کے بعد مدینہ کے رہنے والوں نے ایک عجب منظر دیکھا کہ ایک برقعہ پوش ضعیف خاتون جنت البقیع میں جاتی تھیں اور بلند آواز میں گریہ کرتیں اور درد بھرے اشعار پڑھتیں
وہ اشعار کیا ہوتے تھے ؟؟؟
اے وہ شخص!
 جس نے میرے لال عباسؑ کو بڑے لشکر پر اس وقت حملہ کرتے دیکھا جب اس کے ہمراہ حیدری شیر اور بھی تھے،
مجھے خبر دی گئی ہے
کہ میرے لال کے سر پر اس وقت ضربت لگی جب اسکے بازو قلم ہو چکے تھے۔۔۔۔
 اس ضربت نے میرے لال کو گھوڑے سے گرا دیا
 اے میری بہنو! مجھے ام البنین نہ کہو۔۔۔۔۔۔۔۔
 مجھے میرے بیٹے یاد آ جاتے ہیں ، کبھی میرے بیٹےزندہ تھے تو میں ام البنین تھی، اب تو ان میں سے کوئی زندہ بھی نہیں گیا
ہائے میرے چار شیر ، سب ہی گلا کٹائے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
 یہ اس وقت شہید ہوئے جب بھوک اور پیاس نے انکے جوڑ بند تک خشک کر دئے تھے
کیا یہ خبر صحیح ہے کہ میرے عباسؑ کے بازو قلم کر دئے گئے تھے؟
اے کاش!
اے کاش!
عباس !اگر تیرے ہاتھ نہ کاٹے جاتے تو میرا حسین ؑ  نہ مارے جاتے-

جی ہاں !  یہ عزادار اور ذاکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا زوجہ امیرالمومنین حضرت علی ؑاور مادر حضرت عباسؑ تھیں،  حضرت ام البنین ؑ جب تک زندہ رہیں کربلا کے مصائب یاد کرتیں اولاد رسول ؐ کی مظلومیت جنت البقیع میں جا کر بیان کرتیں۔ ان مجلسوں میں خاندان عصمت و طہارت کی عورتیں شریک ہوکر کربلا کے شہیدوں پر آنسو بہاتی تھیں۔مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت ام البنین ؑ بقیع کے قبرستان میں جاتیں اور مرثیہ خوانی کرتیں جس پر شقی القلب بھی رودیتے تھے ۔حضرت ام البنین ؑنے 13جمادی الثانی64 ہجری کو رحلت فرمائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔

تاریخ میں ایسی خاتون کی مثال کم ہی ملے گی کہ جنہوں نے دوسرے بچوں کواپنے بچوں پر اس قدر زیادہ فضیلت اور برتری دی ہو۔ ام البنین ؑنے رسول خداؐکے نواسوں کی تربیت کو اپنا دینی فریضہ سمجھ کر ادا کیا اور ہمیشہ اپنی سگی اولاد پر خاتون جنت بنت رسول ؐ حضرت فاطمہ زہراؑ  کی اولاد کو ترجیح دی کیونکہ ام البنین ؑاس امر سے آگاہ تھیں کہ پروردگار عالم نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں مسلسل اہل بیت ؑسے محبت کا ذکر کیا ہے ، اور رسول خدا ﷺکی جانب سے بھی متواتر احادیث موجود ہیں کہ جن میں اپنی اہل بیتؑ سے محبت کا درس ملتا ہے۔تاریخ کی کتب گواہ ہیں کہ میدان کربلا میں جب فرزند رسول امام حسین ؑ کو کوئی زخم لگتا تھا تو ام البنین ؑکے تربیت یافتہ عبا س کو پکارتے تھے جب  امام حسین ؑ گھوڑے سے گرے تو بھی آپ نے حضرت عباسؑ کو ہی پکارا۔

تاریخ اسلام ایسی عظمت و عفت مآب خواتین سے بھری پڑی ہے جن کا کردارماؤں کیلئے بھی درسگاہ اورنمونہ عمل ہے ۔ایسی ہی ایک عظیم ماں کا نام حضرت فاطمہ کلابیہ زوجہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ہے جنہوں نے اپنی اولاد کی اس انداز میں تربیت کی کہ وفائے مصطفی ؐ کا نمونہ بن گئیں اور ’’ام البنین‘‘ یعنی بیٹوں کی ماں کہلائیں ۔جناب ام البنین ؑایک بہادر وشجاع، مستحکم و راسخ ایمان وایثار اور فداکاری کا بہترین پیکر اور بافضیلت خاتون تھیں آپ کی اولاد نے سخت مشکل ترین حالات میں اولاد رسول ؐ یعنی امام حسن ؑو حسین ؑکے ساتھ محبت و وفاداری کے وہ یادگار نقوش چھوڑے ہیں کہ اب لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے۔آپ کے دلیر فرزند حضرت غازی عباس علمدارؑ ’’شہنشاہ وفا ‘‘ کہلاتے ہیں ۔تاریخ کربلا حضرت عباس علمدار ؑکے ذکر کے بغیر نامکمل ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   نظریہ ضرورت کا مقتول ۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو - حیدر جاوید سید

حضرت عباس ؑ فرزندحضرت علیؑ تھے لیکن یہ ماں حضرت ام البنین ؑکی تربیت ہی تھی جس کے سبب انہوں نے رسول خدا کے نواسوں امام حسنؑ و امام حسینؑ کو بھائی ہونے کے باوجود آقا کہہ کر بلایا۔عباس علمدار ؑاپنے بابا شیر خدا علی المرتضیؑ کی طرح شجاعت کے پیکر تھے جن کی بہادری کا چر چا پورے عرب و عجم میں تھا۔اہلبیت رسول ؐ کو حضرت عباس ؑپر اس قدر مان تھا کہ جب میدان کربلا میں حضرت عباس علمدار ؑشہید ہو گئے تو مورخین نے اس کی کچھ اس انداز میں منظر کشی کی ۔’’نواسہ رسول ؐ امام حسینؑ کے دشمنوں کی جو آنکھیں جو ابو الفضل العباس ؑکی تلوار اور جرات کے خوف کی وجہ سے بیدار رہتی تھیں آپ کی شہادت کے بعد آرام اور سکون کی نیند سوئیں گی اور حرم رسولؐ اللہ اہلبیت کم سن بچے اور خواتین جو وجود عباسؑ کا فخر کرتے تھے اور اس لئے امن سے سوتے تھے کہ عباسؑ کی آنکھیں ان کی حفاظت میں جاگ رہی ہوتی تھیں ۔ عباس علمدارؑ کو کربلا میں امام حسین ؑسے مل کر جنگ لڑنے کی اجازت نہ ملی محض پانی لانے کی اجازت ملی تھی اور یہ ماں کی تربیت ہی تھی کہ عباس ؑنے نبی ؐ کے نواسوں کے کم سن بچوں کیلئے پانی لانے کیلئے بازو کٹا دیئے اور زخمی حالت میں امام حسین ؑسے درخواست کی کہ اے سید و سردار میری لاش کو خیموں میں نہ لے جائیے گامیں خاندان رسالت ؐ کے بچوں سے شرمند ہ ہوں۔آج عباس علمدار ؑ کا مزار کربلا میں وفا کا مرکز بن کر ایستادہ ہے۔آپ کی ماں حضرت فاطمہ بنت حزام زوجہ امیر المومنین حضرت علیؓ ابن ابی طالب کی تربیت کا فیض ہے جنہوں نے اپنے 4فرزند نبی ؐ کے پیارے نواسے امام حسین ؑکی محبت میں میدان کربلا کی قربان گاہ میں پیش کئے۔

حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت کے دس یا بعض روایات کے مطابق 15برس بعد امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب کہ جو عرب میں حسب و نسب کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے کو بلایا اورکہا کہ عرب کے ایک بہادر قبیلہ سے ان کے لئے ایک ہمسر کا انتخاب کریں تاکہ ان کے بطن سے وہ بہادر اور باوفا بیٹا پیدا ہوکہ جو فرزند رسول ؐ امام حسین ؑکی مد ونصرت کر سکے۔جس کی ولادت کی پیش گوئی رسول خدا ﷺاور ان کی دخترحضرت فاطمہ زہراؑ فرما چکے تھے۔

حضرت عقیل نے فاطمہ کلابیہ ؑ(ام البنین) کا انتخاب کیا کیوں کہ ان کا قبیلہ اور خاندان ’’بنی کلاب‘‘عرب میں بے نظیر شہرت کا حامل تھا اور اپنی شجاعت اور بہادری میں تمام عرب میں زبان زد عام تھا۔امیر مومنین علیہ السلام نے بھی اس انتخاب کو پسند کیا اور اپنے بھائی عقیل کے ذریعے شادی کا پیغام پہنچایا۔آپ کے والد نے جیسے ہی اس پیغام کو سنا فوراً خوشی کے عالم میں اپنی بیٹی فاطمہ کلابیہ کے پاس گئے اور اس سلسلے میں ان کی مرضی معلوم کرنا چاہی، ام البنین ؑنے اس رشتے کو سربلندی وافتخار سمجھ کر قبول کرلیا اور پھر اس طرح جناب ام البنین ؑاور حضرت علی ؑ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے۔

حضرت ام البنین ؑکا نام فاطمہ وحیدیہ کلابیہ تھاآپ عرب کے مشہور بہادروں وحید بن کعب اور کلاب بن ربیعہ کے خاندان سے تھیں ۔آپ کی ولادت 5 ہجری بیان کی گئی ہے۔ آپ کے والد شجاعت کے دھنی تھے تو والدہ صاحب دانش خاتون تھیں۔بہادری والد اور فصاحت و بلاغت آپ کو والدہ سے ورثے میں ملی۔ نکاح کے بعدجب حضرت ام البنین ؑ امیر المومنین علی ؑکے گھر تشریف لائیں، نبی کے نواسے حسن ؑ وحسین ؑ رشتے کے تقاضے کے پیش نظر تعظیم کیلئے کھڑے ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے:   ھالیوم نعزی فاطمۃ

 ام البنین ؑنے ہاتھ جوڑ کر کہا: نبیؐ کے شہزادو! اور خاتون جنت کے فرزندو میں ماں بن کے نہیں آئی، بلکہ میں تو تمہاری کنیز بن کر آئی ہوں۔

اس وقت دونوں  شہزادے امام حسن و حسین  علیہم السلام بیمار تھے اور جب آپ نے اس صورت حال کو دیکھا تو حضرت علی ؑ  سے درخواست کی کہ مجھے فاطمہ ؑکے نام سے کہ جو ان کا اصلی نام تھا نہ پکاریں کیونکہ یہ نام سن کر بچوں کو ان کی اپنی ماں فاطمہ زہراؑکی یاد آئے گی۔ حضرت ام البنین ؑنے حسنین علیہم السلام کو بے انتہا محبت دی اور ایک ماں کی طرح ان کی خدمت کی اور ان کی کنیز کہلانے میں فخر محسوس کیا۔

حضرت فاطمہ کلابیہ کے بطن سے چار بیٹے متولد ہوئے  سب سے بڑے حضرت عباسؑ، جنہیں قمر بنی ہاشم کہا جاتا تھا،حضرت ام البنین ؑکے یہ چاروں بیٹے کربلا میں شہید ہوئے اور صرف حضرت عباس ؑکی نسل ان کے بیٹے عبیداللہؑ سے جاری رہی۔ حضرت ام البنین ؑکے فرزندان بھی نہایت ہی شجاع وبہادر تھے۔ ان چاروں بیٹوں کی وجہ سے ہی آپ کو ام البنین ؑ یعنی بیٹوں کی ماں کہا جاتا تھا۔

خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑکی بیٹیوں کو حضرت ام البنین ؑ کے بیٹے اور اپنے بھائی عباسؑ کی شجاعت پر بہت ناز تھا۔جب تک عباس ؑ زندہ رہے دشمنوں کی لاکھوں کی فوج سے بھی خاندان نبوت کی خواتین اور بچوں کو ذرا خوف محسوس نہ ہوتا تھا۔جب عباس  عملدار ؑ شہید ہوئے تو خاندان نبوت میں ایسا کہرام برپا تھا کہ جیسے ان کا حصار اور پناہ ختم ہوگئی ہو۔جب لشکر یزید نے رسول زادیوں کی چادریں لوٹیں تو بھی ان کے نام پر عباس ؑکا ہی نام تھا۔ حضرت ام البنین ؑواقعہ کربلا کے بعد بے حد مضطرب و بے چین تھیں کہ اتنے میں خبرملی کہ بشیرابن جزلم حضرت امام سجاد  ؑکے حکم سے مدینہ میں آیا ہے تاکہ لوگوں کو کربلا کے دلسوز واقعے اور اسیران اہل بیت کی مدینہ واپسی سے مطلع کرے، بشیر مدینے میں منادی سنا رہا تھا کہ

 اے اہل مدینہ!اہل بیت طاہرین کا لٹا ہوا قافلہ مدینہ واپس آگیا ہے جب یہ آواز حضرت ام البنین ؑکے کانوں سے ٹکرائی تو عصا کے سہارے گھر سے باہر نکلیں اور بشیر سے سوال کیا
اے بشیر میرے حسین ؑ کی کیا خبر ہے ؟ بشیر نے کہا خدا آپ کو صبر عطا کرے آپ کا فرزند عباسؑ شہید کردیا گیا
 ام البنین ؑنے دوبارہ سوال کیا اے بشیر مجھے فرزند رسول ؐامام حسین ؑکے بارے میں بتاؤ ؟ بشیر نے آپ کے تمام فرزندوں عباسؑ، عبداللہؑ، جعفر ؑاور عثمان ؑکی شہادت کو ایک ایک کرکے بیان کیا ۔

لیکن حضرت ام البنین ؑمسلسل امام حسینؑ کے بارے میں سوال کرتی اور کہتی جا رہی تھیں اے بشیر میرے تمام فرزند اور جو کچھ بھی آسمان کے نیچے ہے سب حسین  ؑپر قربان ہیں اس وقت بشیر نے امام حسینؑ کی شہادت کی خبر سنائی آپ اس دلخراش خبر کو سن کر لرز گئیں اور کہا جس کا عباس ؑجیسا بھائی ہو تو اُسے کیسے شہید کیا جا سکتا ہے؟

آج کے دن اولاد جناب سیدہ  سلام اللہ کی خدمت گار اور پہلی عزادار  جناب حضرت ام البنین  ؑ کا یوم وفات ہے آ پ نے 13جمادی الثانی64 ہجری کو رحلت فرمائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔

اولادِ فاطمہؑ کی عزادار چل بسی

سر پیٹو آج مادرِ عبّاسؑ چل بسی

Views All Time
Views All Time
545
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: