Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عوامی بسوں میں سفر خواتین کا دوہراامتحان

Print Friendly, PDF & Email

جیسا کہ منٹو کا کہنا ہے : ہم عورت اُسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو باقی ہمارے لئے کوئی عورت نہیں ہوتی. بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم اس کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ٹکی رہتی ہے. میں منٹو کی دی ہوئی مثال سے سو فیصد متفق ہوں چونکہ کچھ ایسا ہی حال آج کل دکھائی دیتا ہے . جیسا کہ آج کے دور میں بسوں میں خواتین کا سفر کرنادوہرا امتحان ثابت ہوتاہے.جی ہاں آج کل کے مصروف دور میں تقریباََ روز ہی خواتین اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں. کوئی نوکری کے سلسلے میں تو کوئی تعلیم حاصل کرنے کے لئے،بسوں اور چنگچی کا سفران کا روز کا معمول ہے اور پھرسفر کے دوران مرد حضرات خواتین کے لئے سفر کرنا عذاب بنا دیتے ہیں.افسوس مرد حضرات خواتین پر اپنی ہوس زدہ نظر اس طرح جمائے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے شیر اپنے شکار پر جماتا ہے.

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق کراچی کی بسوں میں سفر کرتی ۵۵ فیصد خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے. ۲۰۱۶ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۵۵ فیصد کو دورانِ سفر پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. افسوس جس مرد کو عورت کا محافظ بنا کر اس دُنیا میں بھیجا گیاآج وہی مرد عورت پر گندی نظر ڈالتا ہے. مردوں کی انہیں نازیبا حرکات کے باعث خواتین کا عوامی بسوں میں سفر کرنا بے حد مشکل اور غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے.جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ عورت ماں کے روپ میں ہو،بیٹی کے یا بہن کے روپ میں دراصل اس معاشرے میں وہ محفوظ نہیں اور عوامی بسوں میں سفر کرنا خواتین کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں.چونکہ خواتین کو گھورنا، ان کا پیچھا کرنا، نازیبا حرکات کرنا، اشارے کرنا، سیٹیاں بجانا، آوازیں کسنا اور چھونے تک کے واقعات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں.

یہاں تک کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عورت پردہ نہ کرنے کی وجہ سے ہوس بھری نگاہوں کا نشانہ بنتی ہیں. لیکن ایسا بالکل نہیں ہے. جو خواتین سر سے لے کر پاؤں تک باپردہ رہتی ہیں. وہ بھی اِن گندی نظروں سے نہیں بچ پاتیں اور عوامی بسوں میں خواتین اور مردوں کے لئے علیحدہ حصے موجود ہیں . لیکن رش کے باعث کبھی تو مرد حضرات کو خواتین کے حصے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے او ر پھر آج کل بسوں میں اس بات کو معمولی سمجھا جاتا ہے. بعض اوقات تو عوامی بسوں کے ڈرائیور اور کنڈکٹرز بھی نازیبا حرکات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں. ڈرائیور کے سامنے بیٹھی عورتوں کو گھورنا اور کنڈکٹرز کا کرایہ وصول کرتے وقت خواتین کے ہاتھوں کو چھونا بہت ہی عام بات ہے. یہاں تک کہ خواتین کے حصے میں رش ہونے کے باوجود کنڈکٹرز خواتین کے حصے میں ہی کھڑے رہتے ہیں اورکئی آنکھوں دیکھے واقعات ہیں جن میں جوان لڑکیاں یہاں تک کہ بوڑھی عورتوں کو ہاتھ لگاتے پکڑا گیا ہے. لیکن افسوس کوئی آواز تک نہیں اُٹھاتا.

یہ بھی پڑھئے:   خواتین کا عالمی دن: کلارا زیٹکن سرخ سلام

یہ تو بات ہوگئی عوامی بسوں کی اگر بات کی جائے رکشہ اور چنگچی کی تو ان میں بھی دورانِ سفر کبھی بیٹھی ہوئی سواری تو کبھی ڈرائیور عورتوں کو ہراساں کرتے ہیں. چھ نشتوں پر مشتمل رکشے میں آمنے سامنے کی نشستوں میں مناسب فاصلہ نہیں ہوتا. لیکن کئی خواتین کے بولنے کے باوجود تین خواتین اور تین مردوں کو آمنے سامنے بٹھایا جاتا ہے اور پھرچنگچی کے ڈرائیور کا شیشے میں سے پیچھے بیٹھی خواتین کو گھورنا اور یہاں تک کہ کئی ڈرائیورز اور ڈرائیورز کے ساتھ بیٹھی ہوئی سواریاں شیشے کو صحیح کرتے ہیں تا کہ وہ خواتین کو گندی نظروں کا نشانہ بنا لیں. اسی وجہ سے آج خواتین کی عزت بسوں اور چنگچی رکشوں میں محفوظ نہیں.جس کے باعث اکثر خواتین گھروں سے اکیلے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہیں.اور نہ جانے کیوں گھٹیا اور گندی حرکات کرتے ایسے لوگوں کی روح نہیں کانپتی، ان کا سر شرم سے نہیں جھکتا، ان پر قیامت نہیں ٹوٹتی کیونکہ وہ عورت کی عزت کرنا بھول چکے ہیں یا پھر یوں کہہ لیا جائے کہ وہ عزت جیسے لفظ سے بے خبر ہیں.مرد حضرات یہ بھول چکے ہیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے. اگر ہم دوسروں کے گھرو ں کی خواتین پر گندی نظر رکھیں گے، اُن کو ہوس کا نشانہ بنائیں گے تو کل کو ہمارے گھر کی عورت پربھی کوئی گندی نظر رکھے گااور کل کو جب ہمارے گھر کی عورت کے ساتھ کچھ غلط ہوگا توکوئی آواز تک اُٹھانے والا نہ ہو گا. اسی وجہ سے ان کو چاہیے کہ عورت کی عزت کی حفاظت کریں خواہ وہ ان کی ماں، بہن، بیٹی ہو یا پھر کسی اور کی .

جب کہ آج کے دور میں بھی ایسے کئی خاندان موجود ہیں جو اپنے گھرکی عورت کو تعلیم حاصل کرنے اور نوکری کرنے کی اجازت نہیں دیتے. کیونکہ وہ خواتین کو باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی شخص ان کی ماں، بہن اور بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ نہ بنا لے. یہی وجہ ہے کہ وہ ان کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے انہیں گھر کی چار دیواری میں بٹھانا بہتر سمجھتے ہیں. جبکہ خواتین کو گھر بٹھا لینا کیا اس بات کا حل ہے کہ مرد حضرات کی گندی نظریں پاک و صاف ہو جائیں گی؟ جی نہیں خواتین کو گھر میں بٹھا لینا اس مسئلے کاحل نہیں ہے. بلکہ جو شخص بھی ایسی گھٹیا اور نیچ حرکات کرے اُسے قانون سخت سے سخت سزا دے تا کہ آئند ہ کوئی مرد ایسی حرکت کرتے ہوئے ۱۰۰ مرتبہ سوچے اوراس کے دل میں خوفِ خدا پیدا ہو کہ اگر اس نے ایسا کیا تو اسے سزا ملے گی.

یہ بھی پڑھئے:   وعدوں کی دنیا سے آگے کی حقیقت - حیدر جاوید سید

ایک رپورٹ کے مطابق 76.7% خواتین کی یہ رائے ہے کہ خواتین کے لئے علیحدہ ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے . اس لئے اگر حکومتی سطح پر خواتین کا سفر آسان اور محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کیے جائیں اور اقدامات پر عمل درآمد بھی کیا جائے تو ممکن ہے کہ خواتین اس معاشرے میں عزت و احترام سے اپنی زندگی بسر کر سکیں گی.کیونکہ خواتین کا عزت و احترام ہمارا مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی فریضہ ہے اور اسلام میں بھی عورت کو بلند مقام حاصل ہے. چونکہ حضورﷺ نے عورتوں کے ساتھ عزت و احترام کی خصوصی تلقین فرمائی ہے. مگر افسوس آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ اکثر مرد حضرات دینی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کے ساتھ ساتھ عورت کا عزت و احترام کرنا بُھول چکے ہیں.ایسی صورت حال میں اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں عورت کے احترام اور تقدس کی پامالی کی روک تھام ہو سکے .

Views All Time
Views All Time
491
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: