Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

درِ آگہی

Print Friendly, PDF & Email

داستانِ تقابل گر آگہی و جبر کے مابین ہو تو جبر کی ظاہری جیت صدیوں کے حوالے فقط خطائیں کرتی ہے.
ایسی ہی اک کہانی کسی دور، کسی صدی میں حاملین و مالکینِ عرش و فرش… اور فرش والوں کے مابین رہی تهی.
جبر ملفوفِ شگفتگی ہو کر؛ درِ آگہی پر تب آیا جب اسے یقینِ کامل ہوا کہ اب اس کے سوا کوئی یارا نہیں ہے. اور جب آگہی کا بول بالا ہو کر چار دانگ عالم اسی کا دور چلا تو ملفوفِ شگفتگی درِ اندرون اس جبر نے درِ آگہی پر رہنا فقط اسی بدولت ترک نہیں کیا کہ اسے اس سے وابستہ و منسلک رہنے میں بے تحاشا بقا و متاع نظر آنے لگی تهی. یعنی جبر آگہی سے جدا و الگ اس لیے نہیں ہوا کہ اسے کُچھ طمع، حرص اور لالچ تها… اور آگہی نے اس کی ساری حقیقتوں سے آگاه و خبردار ہونے کے باوجود اسے کبهی خود سے اس لیے نہیں دهتکارا کہ آگہی بهٹکے ہوؤں کو خود سے یوں دور کب کیا کرتی ہے بهلا؟

خیر قصہ المختصر یہ کہ حالات بنے، واقعات رونما ہوئے اور بذورِ جبر خطے میں رتبوں کی ترتیبات و مساوات ہی بدل دی گئیں. وقت آیا کہ آگہی کی بیٹی جو کہ اس کی “اُم” بهی کہلائی اسے اب اپنا ایک حق منوانے کی خاطر “دربارِ جبر” میں خود سے چل کر جانا پڑا.
اس آمد پر رتبہ کو بهول کر فقط مسند پر قابض ہو چکے جبر نے آگہی کی بیٹی سے وہ، وہ سلوک روا رکها کہ صدیاں تک بلک اٹهیں.

“یہ سلطنت، یہ جاہ و وقار… اور اس کا اک ایک انگ و رنگ بهی… صرف و فقط ہمارا ہے. تمہارا اب اس پر کوئی حق نہیں رہا. کیا تم بهول گئیں کہ “آگہی” کا حقیقی ورثہ و ترکہ تو بس علوم ہوا کرتے ہیں؟”

خوشامدی قہقہوں کی گونج میں، اس نے بطورِ دلیل و ثبوت پیش کیے گئے فرامینِ آگہی کو کئی پرزوں میں تقسیم کرتے ہوئے کہا تها. جواباً آگہی کی بیٹی نے دربارِ جبر پر یوں پتهرائی ہوئی نگاہیں دوڑائیں گویا بدل چکے ماحول کے اسرار ناپتی ہو.

یہ بھی پڑھئے:   مسلمان ممالک حوصلہ ہار رہے ہیں ؟ - انور عباس انور

“میں وہ ہوں جس کی لبوں کی جنبش سے فقط آیات نکلتی ہیں… تم بخوبی جانتے ہو کہ کسی بهی مقام پر میرا کسی بهی بهول پر ہونا ناممکنات میں سے ہے. بهول تو تم رہے ہو کہ میں ہی حقیقی وارث آگہی ہوں… کہ میں ہمہ وقت، ہمہ پہلو اس سے جڑی ہوئی ہوں.”

وہ اس قدر مضبوط لہجے میں گویا ہوئی کہ اس کے لفظوں میں ڈهل کر سچ مچ قرآن بولنے لگا.
دربارِ جبر میں چند ساعتوں کے لیے یوں سکتہ طاری ہوا گویا کائنات بهر کی حرکات رک گئی ہوں.

“اگر آگہی سے جڑے ہونا اس کا وارث کہلانے کی کوئی دلیل ہے تو میں بهی اس کی سنگت میں رہا ہوں اور صرف میں ہی کیا… اس دربار میں موجود اک ایک فرد کا اس سے الحاق رہا ہے. اس حوالے سے تو پهر ہم سب ایک جیسے ہیں.”

جبر بولا تو اس کے سنگلاخ لہجے میں رعونت اور تمسخر تها. دربار ایک بار پهر سے چند خوشامدی قہقہوں سے گونج اٹها.
اس بار آگہی کی بیٹی نے صدمہ سے چور ہو کر آسرا لینے کے لیے ساتھ آئے اپنے دو کم سن بیٹوں کے کاندھوں پر ہاتھ جمایا تها.

“ہم سب ایک جیسے ہرگز نہیں ہیں. تم اب بهی بهول رہے ہو کہ تم آگہی سے یُوں وابستہ رہے ہو کہ گویا اسے بس چهو کر گذرے ہو. جبکہ میں آگہی سے یُوں وابستہ ہوں کہ اس سے جدا ہوں ہی نہیں. یہ میری ذات کا جز ہے کہ ” ظاہراً ” میں بهی تمہاری طرح اس سے وابستہ رہی ہوں کہ میں نے بهی اسے دیکها ہے. لیکن ” باطناً ” میری ذات کا کل یہ ہے کہ میں اس کی ذات کا حصہ ہوں… بلکہ بعد اس کے کئی پہلوؤں سے میں وہی ہوں. افسوس کہ تم نے میرے جز کو مد نظر رکھتے ہوئے میری کل کو بهلا دیا ہے. تم رتبہ بهلائے بیٹهے ہو سو تمہیں یہ مسند مبارک. لیکن یاد رکهنا کہ میری شان… میرا یوں دربار چلے آنا جهٹلا کر؛ آئندگان میں سے بهی شعور والوں کے ہاں سے تم فقط لعنت کماؤ گے.”

یہ بھی پڑھئے:   فیمینزم۔۔۔۔۔۔۔۔ایک خواب یا سراب

ٹهہر ٹهہر کر بات مکمل کرتی آگہی کی وہ ڈهیر عظمتوں کی مالکہ بیٹی… “دربارِ جبر” سے لوٹ گئی تهی.
صد افسوس کہ یوں آئینہ دکهائے جانے پر بے طرح تلملایا ہوا وہ جبر پهر اپنے کُچھ حواریوں کے سنگ “درِ آگہی” پر یوں آیا کہ اس نے “درِ آگہی” کو باقاعدہ آگ لگا دی. اور جبرِ دوراں کے ہاتهوں سے لگائی ہوئی یہ آگ پهر اس قدر پهیلی کہ آگہی کا کنبہ اس آگ کی لپٹوں میں ملکوں ملکوں جلتا رہا. کہیں دشت و بن میں کوئی بیٹا پیاسا کٹ گیا… تو کہیں بازاروں درباروں میں اسی آگہی کی سر برہنہ بیٹیاں؛ دو گهڑی آرام کی غرض سے ٹکنے کے لیے عصائے موسی علیہ السلام کے سہارے تلاشتی رہیں.
وقت کا چاک گهوما اور آگہی کی بیٹی کا یہ فرمان حق ثابت ہوا کہ عقل والوں نے صدیوں بعد بهی جبر کے ہر اس دور پر لعنت کی تهی کہ جو بهی “درِ آگہی” سے دور کہیں اپنی منفیت پالتا اور پهیلاتا رہا تها.
ہاں اُسی “دربارِ جبر” میں سے اٹهی اُنہی خوشامدی قہقہوں کی گونج اور اس کی کُچھ باقیات کو اب بهی “دربارِ جبر” سے ہی ہمدردی تهی… اور ہم نے تو کہانی کی ابتدا میں کہہ دیا تها کہ…
“داستانِ تقابل گر آگہی و جبر کے مابین ہو تو جبر کی ظاہری جیت صدیوں کے حوالے فقط خطائیں کرتی ہے.”


Views All Time
Views All Time
217
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: