Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

دو سے سو کی امید

Print Friendly, PDF & Email

20 اگست 2003ء کو نیشنل اسٹیڈیم میں 2 رنز سے کیرئیر کا آغاز کرنے والے محمد حفیظ 7دسمبر 2018ء کو اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا اختتام کریں گے تو آئیں ذرا 17 اکتوبر 1980ءکو سرگودھا میں جنم لینے والے آل راؤنڈر کے پندرہ سالہ کیرئیر پر نظر ڈالتے ہیں ۔ حفیظ نے قومی ٹیم کی پچپن میچز میں نمائندگی کی، 37.55 کی اوسط کے ساتھ 3644 رنز بنائے جن میں ایک ڈبل سنچری10 سنچریاں جو تمام بطور اوپنر تھیں اور 12 ہاف سنچریاں ہیں۔ بہتر اسکور بنگلہ دیش کے خلاف 224 رہا اگر اُن کی باؤلنگ کو دیکھا جائے تو وہ صرف 54 وکٹیں حاصل کر سکے ہیں جبکہ 4/16کسی اننگز میں اُن کی بہتر باؤلنگ ہے۔

سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں ناکامی کے بعد 2003ء میں ہی ٹیم سے ڈراپ کر کر دیئے گئے. تین سال کے بعد2006ء میں کم بیک ہوا دوبارہ سلیکٹرز کی نظر میں غیر متاثر کن کارکردگی کی بنیاد پر 2007ء میں ٹیم سے باہر کر دیئے گئے اور 2010ء تک گرین کیمپ کا حصہ نہ بن سکے۔ پھر ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا پرفارم کرنے کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر سلیکٹرز کو کم بیک کرانے پر مجبور کیا اور نومبر 2010 کو ٹیم کا حصہ بن گئے ۔ آل راؤنڈر ایک ٹیسٹ میچ میں پاکستان ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں جس میں قومی کرکٹ ٹیم کو ناکامی ہوئی

یہ بھی پڑھئے:   جازبہ و دافعہ علیؑ | سید منہاج علی

اب جب وہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے دوسرے دن پہلی اننگز میں اپنے ٹیسٹ کیرئر میں آٹھویں بار صفر اسکور پر آؤٹ ہوئے توغالباً محسوس کیا کہ اپنے کیرئیر کے خوشگوار اختتام کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ صرف وائیٹ بال کرکٹ پر فوکس کیا جائے تاکہ ورلڈ کپ کے پلئینگ الیون کا حصہ بنا جائے اور اپنے کیرئیر کا اختتام یادگار لمحات کے ساتھ کیا جائے ہم اور ان کے تمام چاہنے والے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی آخری انگیز کو بھی اپنے لیے اور چاہنے والوں کے لئے سنچری بنا کر یادگار بنائیں گے اور خوشگوار انداز میں اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا اختتام کریں گے۔

Views All Time
Views All Time
292
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: