Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

مرد ہوتی تو میرے ساتھ وہ نہ ہوتا جو ہوا۔۔ فہمیدہ ریاض

Print Friendly, PDF & Email

سوال: ستاسی میں ایک تبدیلی آئی، سنسر شپ وغیرہ ختم ہوئی، اخباروں کے لیے ڈیکلیئریشن وغیرہ ملنے لگے۔ اس کے بعد اب یہ دور آیا ہے، کیا لگتا ہے، اس میں کچھ آزادی ہے یا یہ بھی لگتا ہے کہ یہ بھی صرف دیکھنے ہی ۔ ۔ ۔ ؟
ف ر: میرے خیال میں یہ بڑی ہی زیادتی ہوگی اگر ہم یہ کہیں کہ فریڈم نہیں ہے بالکل فریڈم ہے۔اب آپ کوئی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں مثلاً جنرل پرویز مشرف پر جتنے اعتراضات کیے جاتے ہیں اور جتنا ہمارا پریس ان کو برا بھلا کہتا ہے۔ کسی بھی اور شخصیت کو اتنا نشانہ نہیں بناتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے۔دیکھیے مجھے بھٹو صاحب کادور یاد آتا ہے۔ دیکھیے یہ ایک مائنڈ سیٹ ہوتا ہے ایک جاگیرداری مائنڈ سیٹ اور شہری مڈل کلاس کا۔ بھٹو صاحب کہتے تھے کہ تم کسی کو بھی کچھ لکھ دو سوائے میرے۔ مجھے کچھ نہیں کہنا۔ یہ ایک تھنکنگ تھی یہاں پر معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کسی دوسرے منسٹر، کسی دوسرے وزیر کسی کے لیے کچھ نہیں لکھا جاتا۔ سوائے پرویز مشرف کے یہ ہے فرق۔ ابھی چند روز قبل میں سکھر میں ہونے والی کاروکاری کی ایک کانفرنس میں گئی تھی ایک بڑا ہال تھا جو عورتوں، مردوں، لڑکیوں اور لڑکوں سے بھرا ہوا تھا، اس میں آئی جی پولیس بھی آئے تھے اور وہاں کے ناظم بھی آئے تھے۔ میں یہ دیکھ رہی کہ وہاں جو پیپرز پڑھے جا رہے تھے۔ تو اس میں لوگوں نے اٹھ کر کہا کہ آپ کیا باتیں کر رہے ہیں اس طرح کے قتل تو پولیس خود کراتی ہے۔ اس کے بعد پولیس والوں نے بھی اپنا دفاع کیا لیکن یہ بات پہلے کہاں تھی۔ ایوب خان کے مارشل میں ہم چھوٹے تھے لیکن ان کا مارشل لا شروع میں سخت تھا بعد میں بیسک ڈیموکریسی آگئی لیکن بھٹو صاحب کے دور میں ایک عام جلسے میں کھل کر اس طرح بات نہیں کہی جا سکتی تھی حالانکہ وہ ایک الیکٹڈ پرائم منسٹر تھے۔ شاید واحد ایسے انتخابات میں عوام کی حمایت کے ساتھ منتخب ہو کر آنے والے لیکن ان کے دور میں بھی یہ باتیں نہیں کہی جا سکتی تھیں۔ اس کے بعد ضیا الحق کے دورمیں تو سوال ہی پیدانہیں ہوتا تھا کہ کوئی بات کرسکے لوگ مزاحمت خفیہ طور پر ہی کرتے تھے۔ لیکن ان بہت سارے ٹیلی ویژن چینلوں سے شعور بہت بڑھا ہے پھر ان میں این جی اوز کا بھی بہت ہاتھ ہے حالانکہ یہ اس سلسلے میں بدنامِ زمانہ ادارے بن گئے ہیں کہ یہ تو بس پیسے کھانے کی چیز ہیں۔لیکن ان کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان کی وجہ سے مزید شعور پیداہوا ہے۔ لیکن ان کی وجہ سے لوگوں میں ہمت اور جرات آئی ہے بات کہنے کی لیکن جیسے وہاں بات کرنے والوں کو یہ یقین تھا کہ اس بات کی بنا پر انہیں گھر پہنچنے پر گرفتار نہیں کر لیا جائے گا لیکن دوسری طرف یہ ہے کہ کرپشن ہے۔ کیاؤس ہے اور اس حد تک ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ کرپشن تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔

سوال: ایک عرصے تک شاعری کے بعد آپ نثر کی طرف آئی ہیں اس کی کوئی خاص وجہ ہے، ایسی باتیں جو آپ کو لگا کہ شاعری میں نہیں آ سکتیں؟

ف ر: میں شروع سے بھی کہانیاں لکھتی رہی ہوں۔ ایک چھوٹا سا مجموعہ چھپا ہے: 146خطِ مرموز145 اس میں تو فنون میں شائع ہونے والی کالج کے زمانے کی شارٹ اسٹوریز بھی ہیں۔ تو میں لکھتی تھی، ایرک فرام کی ایک کتاب تھی 146فیئرآف فریڈم145 جو فاشزم کی سماجی بنیادوں کے بارے میں ہے۔ تو اس کا میں نے ایک ایڈاپٹیشن کیا تھا یعنی اس کے اصولوں سے پاکستانی معاشرے کو دیکھنے کی کوشش کی تھی۔ تو نثر میں لکھتی ہی رہی تھی لیکن اتنی جم کر نہیں لکھی تھی۔ پھر بعض ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو اتنی پھیلی ہوئی ہوتی ہیں جن کے ساتھ ایک نظم میں شاید آپ انصاف نہ کر سکیں یا یہ ہے کہ وہ ایک نظم بن کر آپ تک نہیں پہنچتیں۔ تو پاکستان ٹوٹنے کے بعد میں جو لکھا تھا وہ تھا: 146زندہ بہار145 جو بنگلہ دیش کے ان تجربات پر مشتمل تھے جو بہت متاثر کرنے والے تھے۔ جو نظم میں نہیں آ پا رہے تھے یا نظم بن کرآئے نہیں۔ پھر 146گوداوری145 جو ہندوستان کے تجربات پر مشتمل تھی اور اس کے بعد پھر146 کراچی145 کے حالات ہی ایسے تھے۔ تو یہ تین کہانیاں ہیں جو تین حصوں کے بارے میں ہیں۔

سوال: آپ درمیان میں ہیں۔ ایک طرف آپ غزل کے حق میں نہیں ہیں دوسری طرف آپ نثری شاعری کے حق میں نہیں ہیں اس طرح سے۔ ۔ ۔
ف ر: نہیں نہیں یہ سچ نہیں ہے۔ میں تو نثری شاعری کو بہت پسند کرتی ہوں۔ میں ایک پوری کتاب تم دیکھو گے نثری نظم میں ہی لکھی ہے 146کیا تم پورا چاند نہیں دیکھو گے145۔ اس کے سات چیپٹر ہیں۔ وہ نثری نظم میں ہی ہیں لیکن ہاں اس کے بعد نہیں لکھی۔ عادت کی بات ہے۔ ہماری نسل نے، ہم نے شروع ہی سے اس طرح سے لکھا۔ نثری نظم کو میں بہت پسند کرتی رہی ہوں اس کو ڈیفنڈ کرتی رہی ہوں۔ ہر وقت ہر جگہ۔

یہ بھی پڑھئے:   خواتین کا عالمی دن: کلارا زیٹکن سرخ سلام

سوال: اتنا کچھ کرنے کے بعد اب فہمیدہ ریاض اپنے بارے میں کیا سوچتی ہے، کیا کرنے کی کوشش کی کتنا ہو پایا نہیں ہو پایا؟
ف ر: میرے خیال میں اچھا خاصا ہو گیا۔ اگر میں آج صبح نہ اٹھتی یا 146سخی حسن145 (کراچی کا ایک قبرستان) کا رخ ہوتا تو کوئی افسوس نہیں تھا اس لحاظ سے۔ جو کرنا تھا بہت کچھ کر دیا۔ زمین آسمان ہلا دیے اپنے دور کے۔ اس لحاظ سے تو اطمینان ہے لیکن کیا کریں زندہ تو ہیں نا ابھی۔ اور زندگی ختم نہیں ہو رہی تو کچھ نہ کچھ اور کرنا ہے۔

سوال: یہ اردو میں ہی نہیں ہے دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی ہے کہ گاڑی میں کچھ ڈبے خواتین کے لئے مخصوص کر دیئے جاتے ہیں اور خواتین بھی اس پر اصرار کرتی ہیں یہ کہاں تک درست ہے اور کیوں ہے؟

ف ر: دیکھیں اس سے تو آپ بھی اتفاق کریں گے کہ تاریخی طور پر خواتین ایک ایسا طبقہ ہیں جس کو برابر کا تو نہیں سمجھا جاتا نا۔ اس کے ساتھ کافی نا انصافیاں ہوئی ہیں۔ اسی طرح جیسے بلیکس (کالوں) کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ مثلاً جیسے ہندوستان میں اچھوتوں کے ساتھ نہیں ہوا۔ تو جب یہ طبقات جن کے ساتھ تاریخ میں انصاف نہیں ہوا ہے برابر آنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے لیے (یہ ڈبے) بنائے جاتے ہیں۔ لیکن کیا کالے انسان نہیں ہیں؟ امریکہ میں بلیکس کے حوالے سے ایک پوری موومنٹ بنی اور اسے اس حوالے سے شناخت کیا گیا کہ یہ بلیکس ہیں۔ دوسرے ان کی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہے وہ خود کہہ رہے ہیں تو اسے دیکھا جائے۔ دلت ادب انڈیا میں ایسے ہی بنا ورنہ تو کیا دلت انسان نہیں ہیں۔ اس کا علیحدہ سے کوئی ڈبہ کیوں بنایا جائے لیکن تاریخ کے ایک موڑ پر اس کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ اپنی آواز کو دوسری آوازوں سے الگ اور واضح کر کے سامنے لائیں تاکہ دوسرے دیکھ سکیں کے وہ بھی ویسے ہی انسان ہیں۔اسے علیحدہ بنانے کا آغاز بھی ویسٹ سے ہی ہوا۔ ورجینا وولف سے کہہ سکتے ہیں ادب میں کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ خواتین کی چیزوں کو نمبر ایک یا تو توجہ ہی نہیں دینی یا اس کا بالکل غلط مطلب نکال سکتے ہیں۔ مثلاً 146بدن دریدہ145 کے چھپنے کے بعد خود میرے بارے میں جو باتیں کہی گئیں، انور! اگر میں مرد ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ بہت سی چیزیں جو مردوں کے قلم سے نکلیں وہ نہ نکلتیں، خود عذرا عباس ہی کو دیکھ لیں، اس پر جو اعتراضات کی بوجھاڑ ہوتی ہے یہی اگر کسی مرد نے لکھی ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا۔ لیکن ہوتا کیا ہے ایک لائن پر ٹینک دوڑا دیے جاتے ہیں تو باقی سب کو نظرانداز کر دیا جائے اور توجہ ہی نہ کریں۔ کیونکہ عورتیں ابھی تک اس چیز کا شکار ہیں اور ویسے ہر تحریک جب وہ کامیاب ہو جائے تو اس کی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ ختم ہو جائے۔ تحریک کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ ختم ہو جائے۔ آج اگر عورتیں یہ کہتی ہیں کہ انہیں الگ سے دیکھا جائے تو اس کا مطب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ دن آجائے جب انہیں یہ نہ کہنا پڑے۔ اردو ادب کی تاریخ جو لوگ لکھتے ہیں اس میں عورتیں کہاں ہیں اور کیوں نہیں ہیں؟ جس دن خالدہ حسین کو اس کی صنف کو بھلا کر وہ مقام دیا جاسکےگا جس کی وہ مستحق ہیں۔ وہ اس کی پیش رو ہیں نیر مسعود جو آج لکھ رہے ہیں۔ شمس الرحمٰن نے ایک دو چیزیں جو آج لکھی، روحانی جہت سے وہ پہلے خالدہ نے لکھی تھیں۔ ان کا اسکول آف تھاٹ یا مکتبۂ فکر آپ کو کہاں نظر آ رہا ہے، اس کا ذکر کہاں ہو رہا ہے۔ اسی لئے ایک الگ ڈبہ بنایا جاتا ہے ورنہ تو رومی کے الفاظ میں 146یہ تو ان کے ظاہری لباس ہیں اندر سے تو ایک ہیں145۔

یہ بھی پڑھئے:   گارسیا مارکیز سے مکالمہ۔ انٹرویو نگار : مارلائز سائمنز انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال

سوال: بلیکس کی بات کی آپ نے ابھی یا دلتوں کی بات کی تو اس کااصرار یہ ہے کہ انہیں بلیکس کے طور پر یا دلت کے طور پر مت دیکھو۔ ہماری شاعری ہمارے ادب کو ایک الگ مہر لگا کر مت دیکھو، اس کا الگ سے ایک مقام مرتب کرنے کی کوشش مت کرو، برابر کے انسان کے طور پر دیکھو ۔ ۔ ۔

ف ر: نہیں کالوں کا یہ اصرار ہوتا ہے کہ آپ ہماری چیز کو جب پرکھتے ہیں تو آپ ہمیشہ اسے کم تر درجے پر کیوں رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ ہم بلیکس ہیں، ایسا نہ کیجیے۔ عورت کا بھی یہی اصرار ہے۔ اور بلیکس بطور بلیکس بھی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنی شرمندگی کی بات کرتے ہیں اپنی زندگی کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے دکھ یہ ہیں اور آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک پولیس والا گورے کو گرفتار کرے گا اس کا رویہ اور ہوجائے گا وہی ایک بلیک کو گرفتار کرے گا تو اس کا رویہ اور ہو جائے گا۔ دلتوں کا بھی یہی کہنا ہے: ہمارے ساتھ ہوا کیا ایک تو اس کو تسلیم کیجیے اور پھر اپنے اس احساسِ تفاخر کو الگ رکھ کر کہ آپ تو ہیں ہی اعلیٰ اسے ختم کیجیے۔ عورتوں کے بھی مطالبات اسی سے ملتے جلتے ہیں اور یہی ہیں بنیادی طور پر۔ عورتوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ عورتیں یہ محسوس کرتی ہیں لیکن عورت جب کہے وہ کیسا محسوس کرتی ہے تو آپ کو برا لگتا ہے۔ اب سیکسچوّیلیٹی کو ہی لے لیجیے ایک مرد لکھتا رہے گا کہ عورت یوں ہے، عورت یوں ہے لیکن اگر کوئی عورت خود اپنی سیکسچوّیلیٹی کا اظہار کرے تو قیامت آجاتی ہے، آپ دیکھیں تو صحیح۔ کیا زمین لرزنے لگتی ہے کیا آسمان ٹوٹ پڑتا ہے۔ کیوں؟ یہ ایک طرح سے اس کی بنیادی انسانیت کو تسلیم کرنے سے انکار ہے کہ: 146تم ہماری جیسی انسان نہیں ہو کہ کسی موضوع پر کچھ بھی کہہ دو۔ تمہاری یہ حد ہے بس اس کے آگے نہیں جاؤ گی یہیں تک خود کو محدود رکھو۔ آپ کون ہوتے ہیں یہ کہنے والے؟ آپ بلیکس کو کہہ رہے کہ بس یہ مت لکھنا۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔

سوال: لیکن منٹو اور عصمت کو تو، دونوں کو اور منٹو کو تو شاید قدرے زیادہ فیس کرنا پڑا۔ تو کیا آپ کی بات کا اطلاق اس پر کیا جا سکتا ہے؟

ف ر: عصمت چغتائی کے زمانے کا پورا ماحول شاید ہم سے بہتر تھا، ایک پوری تحریک تھی بڑی طاقت ور، عصمت کا ساتھ دینے والے زیادہ تھے۔ اور یہ درست ہے کہ عصمت اور منٹو دونوں پر ہی مقدمے چلے۔ ایسا نہیں تھا کہ صرف عصمت پر چلے منٹو پر بھی چلے لیکن اس وقت کے تمام لکھنے والے ان کے ساتھ تھے بعد میں وہ ماحول بھی بدل گیا۔ لکھنے والی تنہاہوگئیں، بالکل تنہا ہوگئیں۔اچھا یہ جو آپ نے مثال دی، تو میں تو کہوں گی کہ قراۃ العین کو جو مقام دیا گیا، وہ بلاشبہ اس مقام کی حق دار تھیں۔ وہ ایک عظیم ناول نگار کے طور پر ابھریں۔ لیکن یہ ایک دو ایکسیپشنز (استثنا) ہیں جو اس عام صورتِ حال کو تبدیل نہیں کرتیں کہ باقی جو لکھنے والیاں ہیں انہیں کافی برا بھلا بھی کہا گیا یا نظر انداز کیا گیا دیکھیں نا میں نے آپ کو خالدہ حسین کی ایک مثال دی۔ مجھے ہی جو برا بھلا کہا گیا اس کا تو کسی کو حق نہیں پہنچتا تھا۔اس کا مطلب (ہمارے لکھے ہوئے کا) کچھ اور کیوں نکالا گیا اور بعض تو شعبے ایسے ہیں جن میں گھسنے کی اجازت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ مثلاً فلسفہ ہے۔ آپ کچھ لکھیں تو کہا جائے گا: او ہو! یہ تو آپ کا شعبہ ہی نہیں ہے، یہ تو اس کے ساتھ آپ انصاف ہی نہیں کر رہی ہیں یا یہ کہ اس کا بالکل دوسرا مطلب نکال لیا جاتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Views All Time
Views All Time
564
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: