پاکستانی حکومت پر امریکی دباؤ کی ایک مثال

Print Friendly, PDF & Email

نیوکلیئر پروگرام اور خارجہ پالیسی دو ایسے موضوعات ہیں جن کی وجہ سے ہمارے جنوب مغربی ہمسائے ایران کو اکثر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے “حداکثر دباؤ” کی پالیسی اپناتے ہوئے ایران اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اقدامات کے جامع جوہری منصوبے سے علیحدگی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر یک طرفہ طور پر نئی پابندیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔

ان پابندیوں کو ایران نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یک طرفہ پابندیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایرانی حکومت کے بقول کسی بھی ملک پر پابندیاں لگانے کا اختیار صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو حاصل ہے۔ ایرانی حکومت کے بقول سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی تمام پابندیاں مشترکہ اقدامات کے جامع جوہری منصوبے کے بعد سے غیر موثر ہوچکی ہیں۔

اسی سال جون میں جب امریکہ نے یک طرفہ طور پر ایران پر مزید پابندیاں عائد کیں تو کسی بھی بین الاقوامی ادارے یا قانون کو خاطر میں لائے بغیر اپنے زیر اثر تمام ممالک کو کہا کہ وہ امریکی پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ امریکہ کی نئی پابندیوں میں ایران کا پیٹرو کیمیکل سیکٹر بھی شامل ہے۔

پاکستان کے پٹرولیم سیکٹر کا تقریباً تمام انحصار درآمدات پر ہے۔ بطور مثال پاکستانی پیٹرو کیمیکل صنعت میں ایک ہیٹرو کیمیکل آئٹم “ایل پی جی گیس” کی ماہانہ کھپت ایک لاکھ ستر ہزار ٹن ہے جس میں سے بمشکل 15 سے 20 فیصد ضرورت پاکستان کی اپنی پیداوار سے جبکہ بقیہ 80 سے 85 فیصد ضرورت پاکستان باہر سے ایل پی جی درآمد کر کے پوری کرتا ہے۔ یہ 80 سے 85 فیصد ایل پی جی گیس تمام کی تمام تقریباََ  ایران سے درآمد کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   باغِ شہزادہ، ہامان کے صحرا میں جنت

ستمبر کے آغاز میں امریکی سفارت خانے نے پاکستانی وزارت پیٹرولیم اینڈ گیس کو ایک خط لکھ کر ایرانی تیل کی مصنوعات پر امریکی پابندی کی یاد دہانی کروائی ہے۔ امریکی سفارت خانے نے اس خط میں جہاں ایرانی تیل کی مصنوعات خصوصاً ایل پی جی کی درآمد پر تشویش کا اظہار کیا ہے وہیں یہ بھی کہا کہ ایران اور پاکستان کے مابین ایل پی جی کی تجارت مستقبل میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

18 ستمبر کو پاکستان کی وزارت پٹرولیم اینڈ گیس نے امریکی سفارت خانے کے خط کو self-explanatory قرار دیتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو ایک خط جاری کیا اور امریکی پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا کہا۔ 24 ستمبر کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک بھر کی ایل پی جی کمپنیوں اور اسٹیشنز کو ایک خط کے ذریعے امریکی سفارت خانے کی تشویش سے آگاہ کیا اور وزارت پٹرولیم اینڈ گیس کی طرح امریکی سفارت خانے کے خط کو self-explanatory قرار دیا۔

امریکی سفارت خانے کے حکم نامے کو پاکستانی تاجر تک پہنچنے میں گو دو سرکاری اداروں سے گزرنا پڑا لیکن پاکستانی سرکار نے آقا کی تشویش اور حکم کو بغیر کسی کمی بیشی کے تاجر تک پہنچایا اور حکم نامے کی تشریح تاجر پر چھوڑ دی ہے اور ساتھ اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ آقا کا حکم نامہ از خود واضح ہے اور مزید کسی اضافی وضاحت یا تشریح کی ضرورت نہیں ہے بس اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھئے:   پیرا ڈائز لیکس کے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

آپ بین الاقوامی فورمز پر لاکھ دھواں دھار تقریریں کرلیں، اپنے فیصلے خود کرنے کی قسمیں کھا لیں، بین الاقوامی دباؤ پر قومی مفادات کو ترجیح کی گردان سنا دیں کوئی نہیں مانے گا کہ آپ ایک خود مختار اور باوقار ریاست ہیں۔ کیونکہ ریاستی خودمختاری اور قومی وقار کو جانچنے کے پیمانے جو آپ دکھاتے ہیں ان سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔

اوگرا کا ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیز اور ٹرمینلز کو لکھا گیا خط
Views All Time
Views All Time
579
Views Today
Views Today
5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: