اپنے دیس میں اجنبی – حصہ دوم

Print Friendly, PDF & Email

سابقہ مشرقی پاکستان میں پہلی شام  گول گپے کھانے میں بیت گئی آفس کے احباب سے ملنے کے بعد  ہوٹل میں واپسی کی راہ لی۔ پاکستان سے چلتے ہوئے معلوم ہو چکا تھا کہ اپوزیشن نے ہڑتال کا اعلان کیا ہوا ہے لہذا صبح شہر کے حالات دیکھ کر نمائش گاہ جانے کا پروگرام ترتیب دیا جائے گا اگر حالات معقول رہے تو پھر صبح نو بجے تیار رہیں کمپنی کی گاڑی ہمیں ہوٹل سے پک کرکے نمائش گاہ لے کر جائے گی جس کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن ڈھاکہ کی سڑکوں میں رش ہوتا ہے اس لیے وقت زیادہ لگ جائے گا۔ رات کو کسی پہر میں بارش ہوئی اور دسمبر کے ایام میں بارش کی آواز سن کر دل ویسے بھی بے حد سردی کا احساس لیے ہوا تھا ۔ صبح بیدار ہوتے ہوئی سب سے پہلے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا کہ موسمی حالات کیا ہیں؟

سردی زیادہ تو نہیں ہو گئی تاکہ اس کی مناسبت سے کپڑوں کا انتظام کیا جائے گا میری نظر بنگالی مزدوروں پر پڑی جو ایک زیر تعمیر عمارت کے کام میں جتے ہوئے تھے دھوتی کو گھٹنوں سے اوپر تک اٹھائے ہوئے ،کام میں مصروف تھے ۔خیال آیا دسمبر کی سخت سردی والے موسم میں بارش کے بعد بھی بنگالی کتنے جفاکش لوگ ہیں کم کپڑوں میں ہی کام کررہے ہیں۔ بہت محنتی قوم ہے ۔لیکن جب تیار ہو کر ہوٹل کے نچلے پورشن میں ناشتہ کے لیے گئے تو معلوم ہوا ڈھاکہ کی سردی پنجاب والوں کے لیے کراچی کی سردی کے برابر ہے فوری طور پر کوٹ اتار کر شرٹ میں ہو لیے۔

ریسٹورنٹ کی دیواروں پر لگی تصویریں بنگالی تہذیب و تمدن  کی مکمل عکاسی کررہی تھیں۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ رحمان صاحب کی فلموں کی شارٹس کو پینٹنگز میں ڈھال دیا ہو۔ ایک بڑے پیڑ کے نیچے ایک  بڑی مونچھوں والا بندہ، دھوتی  پہنے ہوئے سر پر پگڑی مانند کپڑے کو لپیٹ کر چوکڑی کے انداز میں بیٹھا  تھا اور ہاتھ میں بانسری تھامے  یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے  ’’ روبن گھوش ‘‘ کے لازوال گیتوں کو اخلاق احمد  کی مدھر آواز میں بانسری کے سر میں  گا رہا ہو۔ ایک پینٹنگ میں دریا کے بیچ میں ایک کشتی میں سوار شخص چپوؤں کو دھکیل کے نیا کے پارجانے میں مصروف تھا۔ اس وقت مجھ رحمان صاحب کی ایک فلم کا گیت یاد آگیا جس میں رحمان صاحب بعین اسی انداز میں گیت گا کر اپنے  محبوب کو صدا دے رہے ہوتے ہیں۔

کھانے کی میزوں پر کھانوں کا  جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ کھانے کوئی منفرد نہیں تھے البتہ نام بھی پاکستانی تھے حلوہ پوڑی، جلفریزی اور کڑائی کے نام لکھےہوئے دیکھے ۔ بنگال اور مغربی پاکستان کے درمیان طویل فاصلے اور درمیان میں بڑے رقبے اور متنوع ثقافت والے ہندوستان کے باوجود کھانوں میں کوئی خاص فرق نہیں تھا البتہ نام بھی وہی تھے جو مغربی پاکستان میں لیے جاتے تھے۔

ناشتے  سے فارغ ہوئے تو ابھی تک نور مصطفیٰ صاحب کی کال نہیں آئی تھی معلوم یوں تھا کہ حالات ابھی خراب ہیں ۔وہ وقفے و قفے سے بتارہے تھے ہم تھوڑی دیر تک آتے ہیں۔ لیکن اس اثناء میں دوپہر ہو چکی تھی۔ میں ہوٹل کی لابی میں بیٹھا تھا اور تھوڑی دیر بعد ہوٹل سے باہر نکل کر جائزہ لیتا تا کہ کوئی گپ شپ اور شہر کا حال  معلوم ہوسکے ۔ اسی دوران پاکستان سے لائے گئے سگریٹ کا آخری پیکٹ بھی جواب دے گیا۔ میں پاکستانی سگریٹ کا ایک پیکٹ ہی لے کر جاتا ہوں۔ کوشش ہوتی ہے کہ چھوڑدی جائے لیکن ایسی منہ کو لگی ہے چھٹنے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اسی ملک کے سگریٹ کا شوق بھی ہوتا ہے۔ ابھی تک ڈالرز کو بنگالی ٹکہ میں تبدیل نہیں کیا تھا ۔ ہوٹل میں کرنسی تبدیل کروائی تو  سو ٹکے کے نوٹ پر شیخ مجیب الرحمان کی تصویر لگی دیکھی تو عجیب محسوس ہوا کہ مجیب نے شاید یہ کھیل اسی لیے کھیلا  کہ وہ بنگال کا بانی بن جائے۔ بینسن کا پیکٹ منگوایا تو ذائقہ ایسے لگا جیسے ’’ایمبیسی ‘‘ فلٹر کو منہ لگالیا ہو۔ نور مصطفی صاحب نے بتایا یہاں سگریٹ اچھے نہیں ملتے اگر پینا ہو تو صرف مالبرو پینا۔

محمد علی جناح سے ملاقات
نور مصطفیٰ صاحب کے انتظار روز قیامت کا منظر پیش کررہا تھا تھا میں کبھی لابی کے صوفے پر بیٹھ جاتا ، کبھی کوئی اخبار کا پلندہ اٹھاتا تو کبھی مرکزی دروازہ پر کھڑ ا ہوجاتا  ۔کوئی مصروف شاہراہ نہیں تھی  ہوٹل کے ایک جانب ایک پارک تھا اور سڑک پر اکا دکا کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل گزررہی تھی ۔ بوریت شدید سے شدید تر ہورہی تھی اس کا حل نکالا چلو ریسپشن کاونٹر پر جاکر اٹینڈرز سے گپ لگائی جائے ۔دو تین جوان ٹیلفون اور بکنگ میں مصروف تھے  ۔ میں نے ایک دو سے پوچھا کہ ’’ آپ انگلش جانتے ہو‘‘ سبھی نے ایک پیاری بھری مسکراہٹ سے جواب دیا ’’ لٹل لٹل سر‘‘

یہ بھی پڑھئے:   جنگ، عورتیں اور بنگلہ دیش کا قیام - عامر حسینی 

ایک خوبرو سفید رنگت والا جوان  فارغ کھڑا تھا اور بار بار میرے طرف مسکر ا کر دیکھ رہاتھا میں نے سوچا اس سے دوستی لگانے میں مزہ آئے گا  اس کے علاوہ دل میں عجیب سے  کھینچاؤ بھی محسوس ہورہا تھا
میں نے پوچھا ’’ آپ کا نام‘‘
بولا  ’’ محمدعلی‘‘
میں چونکا ’’ محمد علی‘‘
پورا نام بتاؤ
’’ محمد علی جناح‘‘
میرے تجسس میں اضافہ ہوگیا تھا آج تک میں نے بنگالیوں کے ناموں کے آخر میں رحمان اور حسین کے نام ہی سنے تھے کبھی محمدعلی نام  کسی بنگالی کا نہیں گزرا تھا میری چھٹی حس بار بار کہہ رہی تھی یہ بندہ مولائی ہے مجھے اکثر احباب پوچھتے ہیں کہ تم کس طرح پہچانتے ہو کہ فلاں بندہ مولائی ہے میرا جواب ہوتا تھا کہ مجھے اس میں سے خوشبو آجاتی ہے۔ یہی خوشبو مجھے اس نوجوان سے محسوس ہورہی تھی میں بنگال جانے سے پہلے تحقیق کررہا تھا کہ مشرقی پاکستان میں شیعہ ازم  کے بارے میں لیکن بھرپور کوشش کے باجود مجھے ایسی کوئی شخصیت، ادارہ، واقعہ نہیں مل رہا تھا کہ مشرقی پاکستان میں شیعہ ازم کا وجود ہے بھی یا نہیں؟
میں نے اس سے پوچھا ’’ آپ بنگلہ دیشی ہو اور آپ کی پیدائش بھی سقوط بنگا ل کے بعدہوئی تو پھر آپ کے والد نے پاکستا ن کے بانی پر آپ کا نام کیوں رکھا؟‘‘
اس کا جواب تھا ’’ میرے باپ کو محمد علی جناح بہت پسند ہیں اس لیے انہوں نے میرا نام ’’محمد علی جناح ‘‘ رکھا ‘‘ مزید کریدنے کی کوشش کررہا تھا لیکن انگریزی آڑے آرہی تھی اور وہ سر ہلا کر کہہ رہا تھا کہ میں مزید انگریزی نہیں بول سکتا۔

دوسرا سوال جو میرے دماغ میں گردش کررہا تھا کہ ہو نہ ہو یہ لڑکا  شیعہ ہے۔
میں نے اسے پوچھا ’’ تم شیعہ ہو‘‘
کہنے لگا ’’ شیعہ‘‘
مجھے لگا کہ اس کو بھی سمجھ نہیں لگی کہ یہ شیعہ ہے اس کی مزید وضاحت کے لیے میں نے کہا ’’ امام حسینؑ‘‘، ’’ کربلا‘‘، ’’ شیعہ‘‘
وہ مسکرایا ’’ یس  یس‘‘
میں نے ہاتھ ملایا اور کہا ’’ اشھد ان علی ولی اللہ‘‘
اس کو سمجھ لگ گئی تھی کہ میرا کیا سوال ہے جواب دیا ’’ یس ! آئی ایم شیعہ‘‘
میں نے پوچھاکہ ’’تم کہا ں کے رہنے والے ہو؟‘‘
اس نے جواب دیا ’’کومیلا‘‘
مجھے یاد آگیا کہ 1958 ء کی جھڑپ میں کومیلا میں میجر طفیل شہید ہوئے تھے۔

اس سے مزید بات نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ وہ  میری انگریزی کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا ۔ دل میں ایک مسرت ہوئی کہ بنگال میں ایک علی ؑوالے سے نہیں بلکہ ’’ محمدعلی جناح‘‘ سے بھی ملاقات ہوگئی ۔ دسمبر 1971ء کی تلخ یادیں  ابھی بھی مشرقی پاکستانیوں کے دلوں سے  برصغیر کے  مسلمانوں کےعظیم رہنما اور ہمارے بانی ’’ محمد علی جناح‘‘ کو  ابھی دلوں سے نکال نہیں پائی ۔
میں نے اپنے نئے دوست محمدعلی جناح کو مزید  پریشان نہیں کرنا چاہ رہا تھا اور اس سے بائے بائے کہہ کر ایک باہر پھر ہوٹل سے باہر سڑک پر کھڑا ہوا گیا۔ شام کا وقت ہو چلا تھا  اور سیکورٹی گارڈ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا کہ یہ کیا بندہ ہے جو ہوٹل میں ٹک نہیں رہا اور باہر آ کر رکھا ہو جاتا ہے۔ اس بار اس سے رہا نہیں گیا اور بول پڑا ’’   انڈیا؟‘‘
میں سگریٹ کوفوری منہ سے ہٹاتے ہوئے  دھوئیں کو فضا  میں میزائل کی رفتار سے چھوڑتے ہوئے کہا ’’
No, No, Pakistan
پھر مزید اس کو اپنے طرف متوجہ کرتے ہوئے بولا
West Pakistani and You are East Pakistani
اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی کہنے لگا
Yes East Pakistan, Bangladesh
وہ کرکٹ کا شوقین تھا اور انگریزی کی اچھی سدھ بدھ بھی رکھتا تھا کہنے لگا پاکستان کا وسیم اکرم اور شاہد آفریدی اس کے فیورٹ پلیئر ہیں ۔میں وسیم اکرم کی حدتک اس سے متفق رہا لیکن آفریدی کو پلیئر سمجھنے میں تردد کررہا تھا اسی دوران  پارک والی سائیڈ سے کچھ لوگ  ایک بینر اٹھائے ہوئے تھے ان کے ساتھ بینڈ باجہ تھا ایک خاتون ان کی راہنمائی کررہی تھی میں نے اس سے پوچھا یہ کیا شادی کا پروگرام ہے تو اس نے جواب دیا نہیں ’’ یہ وکٹری ڈے‘‘ کی تیاریاں ہورہی ہیں مجھے’’ وکٹری ڈے ‘‘ کی اصطلاح سے جانکاری نہیں تھی تو اس نے بتایا سولہ دسمبر بھی ہم آزاد ہوئے تھے پاکستان سے۔
اوہ میرے ذہن میں آیا کہ سولہ دسمبر کا دن قریب ہے جو میرے ذہن سے محو ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   تعلیمی ادارے یا اکھاڑے؟ -محمد اظہار الحق

اسی دوران ہمیں لینے کے لیے گاڑی بھی آن پہنچی تھی اس نمائش کا وقت بھی ختم ہونے کے قریب تھا۔ جلدی جلدی ویگن میں بیٹھے تھے ایک دو منٹ بعد مضافاتی گلیاں چھوڑ کر ہم مرکزی شاہراہ پر پہنچ گئے تھے اور ٹریفک کا رش تھا ۔ پنجابی میں جسے ’’ بمپر سے بمپر‘‘ جوڑنا کہتے ہیں میں نے زندگی میں پہلی بار بنگلہ دیش میں گاڑیوں کو بمپر سے بمپر جوڑ کر چلتے ہوئے دیکھا ۔ گاڑی کی کھڑکی سے میں اردگرد جائزہ لے رہا تھا کہ کونسی سڑک اور کیا ہے تو یکا یک ایک سرخ عمارت پر نظر پڑی تو لکھا تھا ’’ ایمبیسی آف کینیڈا‘‘ اتنا رش اتنی مصروف سڑک کر لیکن بنگالیوں کی ٹریفک سینس کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا ۔بمپر سے جڑی گاڑیاں کافی کافی دیر ایک جگہ رکیں تھی مجال ہے کسی نے کوئی ہارن بجایا ہوا یا اپنی قطار سے نکل کردوسری قطار میں گھسنے کی کوشش کی ہو۔ ایک دو کلومیٹر کا فاصلہ ایک گھنٹہ میں طے ہوا ۔ جن راہوں سے گزررہے تھے عمارات دیکھ کر محسوس ہورہا تھا جیسے لکشمی چوک سے نکل کر ہم نسبت روڈ سے ہوتے ہوئے نولکھا چرچ کی طرف جا رہے ہوں۔ راستے میں ایک دو جگہ ٹریفک کا کم دباؤتھا ۔ ہڑتال اور ہنگامے کے اثرات نظر آرہے تھے۔  یہ ایک بھرپور ہڑتال تھی ہر طرف سراسیمگی کا عالم تھا ۔راستے میں ایک بس کوآگ میں جلتے ہوئے دیکھا تو احباب نے فی البدیہہ کہا کہ کراچی کی طرح بنگلہ دیشی قوم ہے ۔ڈھاکہ ہر وقت ہڑتال ، جلاؤ گھیراؤ کا منظر پیش کرتا ہےبنگلہ دیش مثل کراچی ہے۔ اللہ اللہ کرکے ٹریفک جام سے نکلے تو شام کے سائے چھا چکے تھے۔ اور  یقین تھا کہ نمائش کا افتتاح ہوچکا ہوگا اور لوگ سامان باندھ کر اپنے ہوٹلز واپس جارہے ہوں۔ واقعی جب ہم نمائش گاہ پہنچے توحسینہ واجد افتتاحی تقریب سے خطاب کرکے ابھی نکلی ہی تھیں اور بٹما کے صدر مین گیٹ پر کھڑے اپنے احباب سے بات چیت میں مصروف تھے۔ ہمارے دوست نے بتایا کہ بٹما کے صدر کے اختیارات بنگلہ دیشی وزیراعظم سے بھی زیادہ ہیں ۔اس کی بات ہر فورم پر بغور سنی جاتی ہے کیونکہ بنگلہ دیش کی کل قومی آمدن کے دو ذرائع ہیں ایک تارکین وطن کی ترسیلات زر اور دوسرا ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹس ۔ اتنے نا مساعد ہنگامی حالات کے باوجود ڈھاکہ سے چٹا گانگ جانے والے ایکسپورٹ کنٹینر بغیر کسی رکاوٹ کے چلتے رہتے ہیں اور احتجاج بھی ساتھ ساتھ چلتاہے۔ بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل کو اپنا ’’ بریڈ اینڈ بٹر‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں اس روٹی کی اہمیت سے ہم سے کئی گنا  واقف ہیں وہ جانتے ہیں اس سیکٹر کو کس طرح ترقی دینی ہے اور اپنے صنعت کا بچانا ہے۔ حالیہ سالوں میں ٹیکسٹائل صنعت میں مضبوط ملک سری لنکا بھی عالمی منڈی میں اپنا حصہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں گنوا رہا ہے۔
ہمارا پہلا دن بوریت میں گزر گیا لہذا کل کے دن سے امید تھی کہ صورتحال بہتر ہوگی اور ہم اپنا دورہ اچھے طریقے سے گزاریں گے۔

جاری ہے۔

Views All Time
Views All Time
531
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: