Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

اور بس۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

ammar-kazmiبلاگز بہت کم پڑھنے کا موقعہ ملتا ہے اور بنیاد پرست مذہبی خیالات کی حامل ویب سائٹس پر تو بہت ہی کم جاتا ہوں۔ وجہ یہ نہیں کہ خدانخواستہ مذہبی اور بنیاد پرست لوگوں سے کوئی عداوت ہے بس صرف یہ سوچ کر نہیں دیکھتا کہ ہر دوسری جگہ پر عقائد کا ٹکراؤ اور پھر فرقہ واریت کی بحث جاری ہوتی ہے۔ لہذا اس متنازع علمیت کی بجائے غیر اسلامی تاریخ، نفسیات، عمرانیات اور سیاسیات وغیرہ پڑھنے لکھنے کو ہی ترجیح دیتا ہوں۔ مگر کل ایک روشن خیال دوست نے کسی مولانا صاحب کی اسی طرح کے بلاگ کی ایک تحریر شئیر کر رکھی تھی۔ دوست کے خیالات کے پس منظر یہ کافی عجیب محسوس ہوا تو رہ نہ سکا اور لنک پر کلک کر کے تحریر پڑھنے پر مجبور ہو گیا۔ جیسے جیسے پڑھتا گیا ویسے ویسے پریشانی اور دکھ کے ساتھ اسرار بڑھتا گیا۔ کافی لمبی تحریر تھی اور مولانا صاحب نے کافی مناسب انداز میں پیش کی تھی۔ یہاں زیادہ تفصیل لکھنا تو مناسب نہیں سمجھتا بس مختصر سا اتنا بتاتا چلوں کہ مزکورہ تحریر ایک عالم دین کی بیٹی کی ایک اور معروف عالم دین کیساتھ دوسری شادی اور ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے ہے۔ خاتون پانچ بچوں کی ماں ہے جو اس کے پہلے شوہر سے ہیں، اور اس نے مصنف کو اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے اپنے دوسرے شوہر اور نامور عالم دین کے حوالے سے کچھ دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ مزید تفصیل بس اتنی بیان کر سکتا ہوں کہ مذکورہ عالم دین یعنی خاتون کے دوسرے شوہر پر خاتون نے نہ صرف ان کی سوتیلی بیٹیوں سے نازیبا حرکات کا ذکر کیا ہے، بلکہ قوم لوط جیسے اعمال سے لے کر ان کے مدرسے کی لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات کے حوالے سے بھی الزام عائد کیے ہیں۔ بلا شبہ یہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی آپ بیتی تھی جو بتا رہے تھی کہ ہمارا دیمک زدہ معاشرہ اندر سے کس قدر کھوکھلا اور پستی کا شکار ہے۔

عالم دین اور اس کے مسلک پر کچھ نہیں کہنا چاہتا، ایسے گندے کردار کے لوگ ہر مسلک میں ہو سکتے ہیں، جج نہیں ہوں سو اس کی سزا پر بھی بات نہیں کرنا چاہتا کہ اس کے لیے اس کا اپنا وفاق المدارس، شرعی عدالت اور سپریم کورٹ موجود ہے۔ متاثرہ خاتون کے زخموں پر نمک پاشی بھی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ پہلے ہی بہت دکھ سہہ چکی ہے۔ میں صرف اس کہانی کے معاشرتی اور فطری پہلو زیر بحث لانا چاہتا ہوں اور پوچھنا چاہتا ہوں کہ، کیا ایک پانچ بچوں کی ماں کو جس کی بڑی بیٹی شادی شدہ، منجھلی 14 سال کی، چھوٹی 9 سال کی اور بیٹا 17 سال کا ہو اسے دوسری شادی کرنی چاہیے؟ ایکسیپشنز یا غیر معمولی واقعات پر تو معاشرتی بحث ممکن نہیں، مگر یہ کب کہاں کتنے فیصد ممکن ہے کہ سوتیلا باپ یا سوتیلی ماں بچوں کو وہی پیار دے جو حقیقی ماں یا باپ دیتے ہوں؟ حقیقی ماں یا باپ کا پیار تو پھر ایک انتہائی کتابی مثال ہے۔ اکثریتی طور پر تو معاشرے میں ایسا بھی بہت کم نظر آتا ہے جہاں سوتیلے باپ یا ماں نے اس سلسلے میں معمولی سا بھی انصاف کیا ہو۔ مطلب یہ خواہش، یہ امید ہی غیر حقیقی ہے۔ تو ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پانچ بچے پیدا کرنے کے بعد بھی بیوہ کو شوہر کی طلب محسوس ہوئی تو کیا وہ محض بچوں کے سر پر دست شفقت کی طلب تھی؟ بیٹا سترہ سال کا، ایک بیٹی شادی شدہ، دوسری چودہ سال کی اور تیسری دس سال کی، خاتون لکھتی ہیں کہ “بھائیوں کی پوری سپورٹ مجھے حاصل تھی، مجھے دنیاوی اعتبار سے کوئی کمی نہ تھی”۔ پھر بھی سوتیلے باپ کے دست شفقت کی ضرورت؟ یتیمی کا درد کب کہاں مٹا ہے؟ “ایخو جیہا نہ لبھا میں بھال تھکی جیہڑا گیاں نو موڑ لیاندا ای”۔

یہ بھی پڑھئے:   عوامی نمائندوں کی عوامی حیثیت

پھر متاثرہ خاتون فرماتی ہیں کہ “جب میں نے بڑے عالم دین کا ٹائٹل اس کے نام کے ساتھ لگا دیکھا تو سوچا شاید خدا کو مجھ پر رحم آ گیا ہے، زندگی میں روٹھی بہاریں پھر سے لوٹ آئیں گی، میرے بچوں کو دست شفقت میسر آ جائے گا اور وہ یتیمی کے درد سے قرار پا جائیں گے”۔ یتیمی اور دست شفقت کے حوالے سے اپنی ناقص رائے پہلے دے چکا، مگر جاننا چاہتا ہوں کہ زندگی میں روٹھی بہاروں کے لوٹنے سے کیا مراد ہے؟ خاتون آگے چل کر فرماتی ہیں کہ “مہینہ میں ایک دو بار آنے، کفالت کی ذمہ داری اٹھانے اور حقوق زوجیت ادا کرنے کی اس نے حامی بھری”۔ “حقوق زوجیت ادا کرنے کی حامی؟” یہ بھی مذہب کے علاوہ معاشرتی حوالوں سے قابل فکر سوال ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ سیکس کی خواہش یا معاہدہ یا شرط کس طرف سے رکھی جا رہی ہے اور کون حامی بھر رہا ہے اور مندرجہ بالا حقائق اور پس منظر میں کیوں بھر رہا ہے؟ یعنی بچوں کی تعداد، ان کی عمریں اور معاشی حالات وغیرہ۔ مذہب کے حوالے سے زیادہ علم نہیں اس لیے خاتون جو خود بھی صاحب علم ہیں ان کی لکھی آدھی بات سے آدھا علم حاصل کرتے یہ تو جان چکا ہوں کہ مرد کو بیوہ عورت سے شادی کرنے پر سو شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا، مگر یہ نہیں جانتا کہ ایک پانچ نو عمر اور تقریباً جوان بچوں کی ماں کو اس شادی سے کتنا ثواب ملے گا؟ اور اگر وہ یہ شادی کرنے سے انکار کر دیتی ہے تو اس کو اس کا گناہ ملے گا یا شادی کرنا نہ کرنا اس کی مرضی پر منحصر ہے؟ بہر حال یہ سوال تو علماء کے لیے ہیں مگر سماجی، معاشرتی اور فطری حوالوں سے اگر بات کی جائے تو سوال پھر وہی بنیادی ہے کہ، پانچ بڑے بچوں کی ماں کو اس ثواب کے علاوہ کون سی شے شادی کے لیے رجوع کرنے پر مجبور کر رہی ہے؟ مہینے میں ایک دو بار حقوق زوجیت ادا کرنے کی حامی اور زندگی کی روٹھی بہاریں؟ کیا ہم مذہب کے پردے میں فطرت سے فرار تلاش کرتے ہیں؟ یتیمی کا سوچا جا رہا ہے، مگر سترہ برس کے لڑکے کی شخصیت اور گھر میں موجود دو بیٹیوں کی نفسیات پر مرتب ہونے والے اثرات کا کیا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ذرا سا سمجھدار بچہ تمام عمر کسی غیر کو ماں یا باپ کی دوسری شادی کے بعد اپنے باپ یا ماں کی جگہ دیکھنا پسند نہیں کرتا، الٹا اس کی شخصیت ماں یا باپ کی دوسری شادی سے مسخ ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہندوستانی معاشرے میں ایسے بچے یا تو تمام عمر کے لیے دب کر رہ جاتے ہیں یا پھر بہت زیادہ ایگریسو ہو جاتے ہیں۔ بچہ اگر ایک آدھ ہو اور حد سات سال تک کا ہو تو بات سمجھ آتی ہے، مگر معذرت کیساتھ پانچ بچوں کے بعد یہ دست شفقت والی بات تو بچوں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے جیسی ہی محسوس ہوتی ہے۔ خاتون نے بالکل درست فرمایا کہ “وہ ایک کمزور عورت ہیں”۔ جو کم از کم انکی ذات کے حوالے سے ایک مضبوط بات ضرور ہے کہ وہ سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہیں، مگر کیا ہی اچھا ہو اگر ہم کھل کر اپنے معاشرے میں اُس باقی پچاس فیصد فطری سچائی پر بھی مذہب کو بیچ میں لائے بغیر مکالمہ شروع کر دیں جسے ہم روایتی طور پر بے حیائی سمجھتے ہیں۔ اور یقیناً وہ بچوں کی خواہش کے بنا جنسی ضروریات کی بات ہے، اور بس۔

Views All Time
Views All Time
1052
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: