Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

!اگر آپ کی کہانی اس سے زیادہ دردناک ہے تو

Print Friendly, PDF & Email

اگر آپ کی کہانی اس لڑکی سے زیادہ دردناک ہے‘ تو مجھے ضرور بتائیے گا۔
سرگودھا کے نواحی گائوں میں بیس برس قبل فوزیہ نامی بچی پیدا ہوئی۔گیارہ ماہ کی عمر میں اس میں پولیو کی نشاندہی ہوگئی۔اس کا والد سکول ٹیچر تھا۔ وہ اسے لے کر ہسپتالوں میں گیا ‘لیکن یہی جواب ملا کہ اس کا کوئی علاج نہیں‘بچی ہمیشہ کے لئے معذور ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود وہ اسے مختلف ڈاکٹروں کے پاس لے کر جاتا رہا کہ شاید علاج کی کوئی امید بن سکے‘ لیکن ہر جگہ سے مایوسی ہوئی۔ایک دن وہ پچھلی گلی سے گھر واپس آ رہی تھی‘ تو ایک شخص نے اسے معذور بھکاری سمجھ کر پانچ روپے دینا چاہے۔ اس نے انکار کر دیا اور کہا: انکل میں بھکاری نہیں ہوں۔ اس سے فوزیہ کی عزت نفس بہت زیادہ مجروح ہوئی۔اس واقعے کے کئی روزبعد تک وہ بخار میں جلتی رہی۔2008ء میں فوزیہ کا والد ایک حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔

والد کا سایہ اٹھا تو گھر کا سارا بوجھ بڑے بھائی اور بڑی بیٹی پر آن پڑا۔ چھ بہن بھائیوں اور والدہ کے اخراجات چلانے کے لئے بھائی نے سولہ گھنٹے نوکری شروع کر دی اور بڑی بیٹی نے گھر میں اکیڈمی بنا لی۔ فوزیہ‘ چونکہ معذور تھی اور چل پھر نہیں سکتی تھی ‘اس لئے محلے والوں نے طعنے دینے شروع کر دئیے۔ قرآن پاک پڑھنے کے لئے ایک گھر میں گئی تو اسے کہاگیا کہ گھر والوں نے اپنا بوجھ ہمارے سر ڈال دیا ہے۔ وہ آٹھ برس کی تھی جب اس نے اپنی کزن کا سوٹ سی لیا اور دس برس کی عمر تک کھانا بنانا‘زنانہ مردانہ کپڑے سینا‘کڑھائی کرنا‘ چارپائی بُننا اور کروشیا وغیرہ کا کام اس نے اپنی والدہ سے سیکھ لیا تھا‘تاہم پڑھنا لکھنا اسے آتا نہیں تھا اور صرف اپنا نام ہی بمشکل لکھ پاتی تھی۔ ان حالات میں وہ اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تھی ‘تو گھر والوں کا بوجھ کیسے بانٹتی۔ بڑی بہن نے مشورہ دیا کہ پڑھنا شروع کر دو۔ 2008ء میں اس کی بڑی بہن جو بی ایس سی کی طالبہ تھی‘ اس نے فوزیہ کو نویں جماعت کی کتابیں لا دیں۔

فوزیہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا ‘لیکن اس کی انگریزی اور اردو انتہائی کمزور تھی‘ تاہم اس کے سر پر اپنا بوجھ اٹھانے کا جنون سوار تھا‘ لہٰذا اس نے گھر میں آنے والی طالبات کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا شروع کر دیا۔ سب نے اس کا مذاق اڑایا‘ کیونکہ وہ تو ٹھیک سے اپنا نام بھی نہ لکھ سکتی تھی۔ فوزیہ نے اردو انگریزی کی بنیادی خوشخطی کی کتابیں اور ڈکشنری وغیرہ کی مدد سے بیس بیس گھنٹے روزانہ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس کی ساتھی طالبات کو محض نویں کا کورس کور کرنا تھا‘ لیکن فوزیہ کو تو الف ‘ب اور اے بی سی سے شروع کرنا تھا۔ وہ اکثر راتوں کو سجدے میںخدا سے گڑگڑا کر دعا کرتی کہ وہ اسے زیادہ سے زیادہ علم عطا کرے‘ تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ معذور ہونا کوئی گناہ نہیں‘ بلکہ ایک امتحان ہوتا ہے اور انسان چاہے تو ہر امتحان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں خدا کبھی بھی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ 2010ء میں فوزیہ کا میٹرک کا رزلٹ آیا‘ تو سب حیران رہ گئے فوزیہ نے 1050میں سے 701نمبر حاصل کئے تھے۔ اس نے قریبی کالج میں انٹرمیڈیٹ اِن کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لے لیا۔

یہ بھی پڑھئے:   باپ تو ہے نا

یہاں آ کر بھی اس کے لئے مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ فوزیہ کا گھر انتہائی تنگ گلیوں میں واقع تھا‘ جہاں گاڑی یا رکشہ بھی پہنچ نہیں پاتا تھا۔ اسے یا تو بھائی موٹرسائیکل پر کالج چھوڑتا‘ وگرنہ اسے طویل فاصلہ طے کر کے مرکزی شاہراہ پر پہنچنا پڑتا جہاں سے وہ رکشے پر کالج جاتی۔ کالج میں اس کی سہیلیاں اس سے تنگ آ گئیں اور کہنے لگیں کہ ہمارے ساتھ نہ بیٹھا کرو‘ کیونکہ جب ہم اکٹھے بیٹھتے ہیں تو ہمیں مجبوراً ایک کلاس سے دوسری کلاس میں لیکچر کیلئے جانے کی خاطر تمہاری بھی کتابیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ ایف اے کے امتحانات سے قبل فوزیہ کے ساتھ ایک اور حادثہ پیش آیا اور اس کا دایاں ہاتھ‘ دایاں بازو اور دایاں پائوں آگ میں جھلس گئے۔ چلنے پھرنے سے تو وہ پہلے ہی معذور تھی ‘اب ہاتھوں کے بغیر بھی زندگی گزارنا پڑ رہی تھی۔ وہ پورا ایک ماہ بستر پر گزرا۔تاہم اس نے امتحان دئیے اور اچھے نمبروں سے پاس بھی ہوگئی۔اب اس کی خواہش تھی کہ لاہور کی سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ لے۔ وہ ٹیسٹ میں پاس ہو گئی‘ لیکن انٹرویو میں یہ کہہ کر ری جیکٹ کر دیا گیا کہ اس نے سکول کی آٹھویں تک باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ۔واپس آئی تو ٹیچر نے بتایا کہ سرگودھا یونیورسٹی میں اپلائی کر دو کہ وہ گھر کے قریب بھی ہے۔

فوزیہ کو معلوم تھا کہ اس دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ ایسا ہے‘ جس کی ہر طرف مانگ ہے؛ چنانچہ اس نے آئی ٹی میں ماسٹرز کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کا داخلہ ہو گیا اور وہ یونیورسٹی جانے لگی‘ تاہم یونیورسٹی میں پھر وہی مسئلہ درپیش تھا کہ یونیورسٹی بہت بڑی تھی اور بہت زیادہ چلنا پڑتا تھا۔ کبھی ایسا ہوتا کہ چلنے میں بہت زیادہ تکلیف ہوتی اور وہ ہمت ہارنے لگتی ۔ اس دوران اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے مرحوم والد آ جاتے اور کہتے کہ ”بیٹی!زندگی میں کبھی ہمت نہ ہارنا کہ زمانہ بدل گیا ہے ؛اگر تم ہمت ہار جائو گی ‘تو کوئی آگے بڑھ کر تمہاری مدد نہیں کرے گا‘ بلکہ سب تمہیں روندتے ہوئے نکل جائیں گے‘ تم نے خود کو حوصلہ بھی دینا ہے اور آگے بڑھنے کا جذبہ بھی‘ پھر دیکھنا یہ زمانہ خود تمہارے قدموں میں آجائے گا‘‘۔ وہ پڑھتی رہی اور نومبر2017ء میں آئی ٹی میں ماسٹرز مکمل کر لیا۔ یہ ایک زندہ معجزہ تھا‘ جس بچی کو نو سال قبل اپنا نام بھی لکھنا نہ آتا تھا اور جو زمین پر ہاتھوں کے بل چلتی تھی‘ آج پاکستان کی بہترین یونیورسٹی سے آئی ٹی کی ڈگری حاصل کر چکی تھی۔ اب اگلا مرحلہ روزگار کا تھا۔ اس نے کچھ عرصہ ایک سافٹ ویئر ہائوس میں کام کیا‘ لیکن آنے جانے کا بہت مسئلہ ہوتا تھا۔ ایک دن اخبار میں پنجاب آئی ٹی بورڈ کے فری لانسنگ پروگرام ای روزگار کا اشتہار پڑھا تو اپلائی کر دیا۔ ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کرنے کے بعد ساڑھے تین ماہ کے تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا۔ وہ موبائل کیلئے اینڈرائڈ ایپلی کیشنز بھی بنا لیتی تھی‘ کانٹینٹ رائٹنگ‘ ایس ای او اور بلاگز بھی لکھ لیتی تھی؛ چنانچہ پہلے ہی ماہ اس نے فری لانسنگ سے تیس سو ڈالر کما لئے۔ یہ اس کی زندگی کا نیا رخ تھا۔ اس نے سافٹ ویئر ہائوس کی نوکری چھوڑ دی۔ گھر میں ایک لیپ ٹاپ‘ انٹرنیٹ کا کنکشن لیا اور ای روزگار کی تربیت لینے کے بعد گھر سے بیٹھ کر فری لانسنگ شروع کر دی۔ آج فوزیہ گھر سے روزانہ چھ سات گھنٹے کام کر کے مہینے کے ستر سے اسی ہزار روپے کما لیتی ہے اور نا صرف اپنا بوجھ اٹھا رہی ہے ‘بلکہ گھر والوں کو بھی سپورٹ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کتابوں کے بوجھ تلے دبی معصومیت

میں ساہیوال کے ایسے غریب خاندان کو بھی جانتا ہوں‘ جس کے بچے نے دو برس قبل فری لانسنگ شروع کی اور اسے حال ہی میں فری لانسنگ سے پینتیس ہزار ڈالر کا ایک پراجیکٹ ملاہے ‘جس سے انہوں نے اپنا ذاتی گھر خرید لیا ہے۔ فوزیہ بھی درست سمت میں چل پڑی ہے۔ فوزیہ نے ثابت کیا‘ انسان غریب ہو سکتا ہے‘ وہ چلنے پھرنے سے معذور بھی ہو سکتا ہے ‘لیکن اگر وہ درست سمت میں محنت کرے تو اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکتا ہے۔کل تک وہی لوگ جو فوزیہ کی معذوری کا مذاق اڑاتے اور اسے بوجھ سمجھتے تھے آج فوزیہ کو ڈالروں میں کمائی کرتے دیکھ کر اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔وہ جو اس سے دور بھاگتے تھے‘ آج اس کے نخرے تک اٹھانے کو بھی تیار ہیں۔ یہ سب کیسے ہوا‘ یہ میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا‘ مگر ذرا سوچئے کہ فوزیہ کو توپولیو کا مرض تھا‘وہ تو معذور تھی‘ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں ‘جو پڑھے لکھے اور صحتمند ہیں‘ شہروں میں رہتے اور وسائل رکھتے ہیں‘ اس کے باوجود بیروزگاری اور ناکامی کا رونا روتے رہتے ہیں۔کیا ہماری کہانی سرگودھا کی فوزیہ سے بھی دردناک ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ معذور فوزیہ نہیں‘ بلکہ معذور وہ نوجوان ہیں‘ جو صرف لگی بندھی نوکری ہی کرنا چاہتے ہیں اور ای روزگار‘ فری لانسنگ تعلیم اور کاروبار کے مواقعوں کے ہوتے ہوئے بھی ناخواندہ‘ بے کار اور بیروزگاررہنا چاہتے ہیں ۔ آپ خود بتائیں‘ کیا اصل معذور یہ نوجوان ہیں یا فوزیہ؟

روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
385
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: