Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بے حس حکمرانوں کے نام – امان راہی

Print Friendly, PDF & Email

عالمی سطح پر دنیاکی ناکام ترین ریاستوں کااندازہ لگانے اوردرجہ بندی کرنے کے لئے جوپیمانہ استعمال ہوتاہے، اسے کمزورریاست ہائے انڈیکس (FSI, Fragile States Index)کہاجاتاہے۔یہ پیمانہ 2005میں امریکی ماہرین نے فارن پالیسی میگزین 2005میں ایک رپورٹ کے بعدوضع کیا۔ اس پیمانے کامقصدایسی ریاستوں کی فہرست تیارکرناتھا، جوسیاسی، معاشی اورمعاشرتی طورپر بدترین زوال کے شکارہوکرعالمی امدادکے منتظرہوں۔FSIکے مطابق ممالک یاریاست ہائے کی درجہ بندی چارگروپوں میں کی جاتی ہے یعنی خطرسے دوچار،متنبہہ ہونے والی، معتدل اورپائیدارریاستیں۔سال 2015کی FSIرپورٹ کے مطابق دنیاکی پائیداریعنی ترقی یافتہ، خوشحال اورپرامن ریاستوں میں فن لینڈسرفہرست ہے۔اسکے بعدپرتگال،جرمنی،نیدرلینڈ،اسٹریا، کنیڈا،آئرلینڈ، اسٹریلیا، نیوزیلینڈ، سویٹرزلینڈ،لیگزمبرگ ، ڈنمارک، ناروے اورسویڈن ہیں۔اس فہرست میں 15ممالک ہیں۔ یہ دنیاکی خوشحال ترین ریاستیں ہیں، جن کی ترقی کادارومداروہاں کی تعلیم، صحت، سیاسی نظام،خوشحالی اور ملکی سلامتی پرہے۔اسکے بعدمتعدل ریاستوں کی فہرست ہے، جن میں 38ممالک شامل ہیں، ان ریاستوں کے مجموعی حالات بھی بہترہیں اورعوام کی زندگی نسبتاً خوشحال ہے۔تیسرے درجے میں وہ ریاستیں ہیں جواپناپوزیشن برقراررکھنے میں ناکام ہورہی ہیں اورانکے حالات خراب ہونے اورزوال پذیرہونے کے امکانات موجودہیں، وہ انتباہ یعنی Warningکی حالت میں ہیں۔ ایسی ریاستوں کی تعداد 86ہیں۔سب سے آخرمیں ایسی ریاستوں کی فہرست ہیں ، جن کے لئے ہمہ وقت خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ان میں کل 38ریاستیں شامل ہیں، جن میں پاکستان تیروھویں نمبرپرہے ۔ایسی ریاستیں مسلسل یاتوحالت جنگ میں ہوتی ہیں یاپیہم قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہوتی ہیں۔عراق، شام، افغانستان،یمن،صومالیہ ،وسطی افریقہ اورسوڈان جیسے ممالک میں تباہی اوربربادی کی بنیاد ی وجہ وہاں مسلسل جنگ ہے اوروہاں ریاست کے قیام کے لئے حالات سازگارنہیں ہورہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اس فہرست کاحصہ ہیں۔ دنیاکی ان چند ناکام ترین ریاستوں میں پاکستان کاشمارکیوں ہوتاہے، حالانکہ پاکستان میں نہ تومسلسل جنگ جاری ہے اورنہ ہی ایسی قدرتی آفات یہاں پیش آتی ہیں، جومجموعی طورپر پوری ریاست کو بربادی کی طرف دھکیل دے۔یہاں ایک باقاعدہ جمہوری نظام موجودہے ۔پورے ملک میں براہ نام شفاف انتخابات کے ذریعے حکومتیں بدلتی ہیں ۔ ہرنئی حکومت آنے سے قبل عوام کے ساتھ بلندبانگ دعوے کرتی ہیں ، لیکن یہ دعوے صرف عوام کو بیوقوف بنانے کی حد تک ہوتے ہیں اورعوام ہیں کہ اپنے کمزورحافظہ کی وجہ سے حکومت کے سارے وعدے بھول جاتے ہیں۔ غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے پاکستانی قوم ہمیشہ نااہل اورذہنی اورجسمانی طورپرمعذورحکمرانوں کو اپنے اوپر مسلط کردیتی ہے۔جن کی غلط پالیسیوں اوربے انتہاکرپشن کی وجہ سے ہماری معیشت روبہ زوال ہے۔اخلاقی اقدرکانام ونشان تک نہیں ہے۔ ملک کے تمام وسائل پر صرف حکمرانوں کاقبضہ ہے ۔عوام کی زندگی بدسے بدترہوتی جارہی ہے۔بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے عوام کو خودہی جنریٹریاشمسی شیشے لگانے ہوتے ہیں۔تعلیم اورصحت کے لئے حکومت نے صرف نام کی حد تک ادارے قائم کئے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم اوربہترصحت کے حصول کے لئے عوام کو اپنے پیسے سے نجی تعلیمی اداروں اورہسپتالوں میں جاناہوتاہے۔نقض امن کی یہ صورتحال ہے کہ دن دیہاڑے ، سربازار انسانوں کابے دریغ قتل عام ہورہاہے اورقاتل اس ملک کی گلی کوچوں میں روپوش ہوتارہتاہے۔ معمولی معمولی باتوں پر مارپیٹ اورقتل وغارت روزکامعمول ہے ، لیکن مجال ہے کہ ریاست کے لمبے ہاتھ کبھی مجرم کے گریباں تک پہنچے۔ جرائم کی اس بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھ کر یوں اندازہ ہوتاہے کہ پوری ریاست انسانیت کامقتل بناہواہے۔چوری ڈکیتی، رہزنی اور لوٹ مارکوئی نئی بات نہیں بلکہ ان تمام جرائم کی سرپرستی میں حکمران ہی ملوث ہوتے ہیں۔بقول حفیظ جالندھری
سرپہ راہی کے ’’سربراہی ‘‘ میں
کس صفائی سے ہاتھ پھیراہے
کارواں رہبری میں کس کی چلے؟
کون سب سے بڑالٹیراہے؟
پاکستانی عوام بیرونی جنگوں، دہشت گردوں کے حملوں اورخودکش دھماکوں سے اتنے متاثرنہیں ہوئے ہیں ،جس قدر حکمرانوں کی غلط پالیسیوں، کرپشن، اقرباپروری، جان ومال کاعدم تحفظ اور وسائل کے غیرمنصفانہ تقسیم سے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے عوام کی اکثریت حکومت اورریاست کے مخالف ہیں۔ریاست کے تمام ادارے اپنے فرائض اورذمہ داریاں احسن طریقے سرانجام نہیں دے رہے، عوام کو بنیادی سہولت دستیاب نہ ہیں،مذہب کی بنیادپر نفرتیں اورفرقہ واریت عروج پرہے۔سکیورٹی فورسز پر پراسرارطورپر حملے ہورہے ہیں۔ دہشت گردی کابازارگرم ہے اورحکمران اپنے ذاتی مفادات کی خاطرریاست کوداؤ پر لگارہے ہیں جبکہ عوام کی جان ومال کی کوئی حفاظت نہیں ہے۔ یہ تمام عوامل ریاست کی ناکامی کے لئے سامان فراہم
کررہے ہیں۔پوری قوم اپنی آنکھوں سے اپنی ریاست کی تباہی مناظردیکھ رہی ہے اور اندرکی بے حسی بدستورقائم ہے۔ کاش ہم ایک لمحے کے لئے اس امرکی طرف توجہ دیں اوراپنی ریاست کو بربادی اورتباہی سے بچانے کے لئے خودہی فیصلہ کرے، کیونکہ ریاست کامستقبل ہم سے ہی وابستہ ہے۔

Views All Time
Views All Time
258
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بے نام کہانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: