Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

نیا افغانستان بنانے کی تیاری | اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

اس زمین پر سب سے زیادہ جنگیں اور ہلاکتیں وسائل اور اختیار پر قبضہ کے لئے ہوئی ہیں مذہب ان میں بطور ہتھیار استعمال ہوا ہے لیکن دوسری بڑی سچائی یہ ہے کہ گذشتہ صدی کے دوسرے نصف میں یہ ہتھیار سرمایہ داری نظام اور اُس کے محافظوں نے زیادہ بہتر اور موثر طریقے سے استعمال کیا. ایران اور عراق کے درمیان جنگ افغانستان کے جہاد سے سوویت یونین کے انتشار میں یہی تو ہتھیار تھا .. مزید بدقسمتی کہ ہم جو سارا جہاں ہمار کی فلاسفی کو اپنی بنیاد سمجتھے اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ..
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے.
برادرانہ تعلقات کے مدعی بن کر میدان میں اُترتے اور پرائی جنگ کو اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں یہ الگ بات کہ ہم میں نہ تو اُس کے مابعد اثرات برداشت کرنے کی قوت ہوتی ہے نہ سکت ، پھر بھی ہمارا جذبہ اخوت اسلامی کے تحت بروقت جوان رہتا ہے.. حالانکہ دنیا میں پچاس سے زائد ممالک ہیں جہاں مسلمان آباد ہیں اور وہاں کے حکمران بھی مسلمان ہیں کوئی کسی کیلئے قربانی کو تیار نہیں ہوتا… یہ کام اگر حکومت اور حکمران نہ بھی کریں تو ہمارے تنخواہ دار علمائے سُو اپنے اپنے جھنڈے اُٹھا کر میدان میں آجاتے اور… اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں.
ایسی ہی صورتحال آجکل روہنگی مسلمانوں کے تناظر میں ہمارے سامنے ہے اخبارات میں مضامین اور کالموں کی بھرمار ہے ہر کوئی اُن سے ہمدردی کا اظہار کررہا ہے. ہونا بھی چاہئے تو اُدھر ہمارے دینی سیاسی راہنما اُمت مسلمہ کا اجلاس بلانے اور حکومت کو واضح موقف اختیار کرنے کو دباؤ ڈال رہے ہیں. ہر کسی کا خیال ہے کہ برما کے بد مست اپنے عظیم رہنما کی تعلیمات کے برعکس مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ، کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ ملا عمر نے جب افغانستان م یں انسانی تخلیق کی عظیم یادگاروں ، تاریخ اور ثقافت کے شاہکار گوتم بدھ کے مجسمے بارود سے اُڑا دیئے تھے.. تو اُس کے پیروکاروں کے کیا جذبات تھے؟؟ خیر چھوڑیئے یہ پچھلی صدی کی باتیں ہیں، یہ اکیسویں صدی ہے اور اس کے معاشرتی او رمعاشی ، سیاسی ، علمی اور فکری تقاضے کچھ اور ہیں انہی تقاضوں نے دنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے اس پر گرفت کے لئے ہر ناجائز کو جائز سمجھا جارہا ہے ، کوئی اصول کوئی ضابطہ کوئی اخلاقیات کوئی روایت ، کوئی قانون مانع نہیں ..جنگ اور تباہی سے بھی گریز نہیں ، انسان اور انسانیت کی بالادستی کے بھی دعوے اور نعرے ہیں، اصل مقاصد و وسائل پر قبضہ ہے ، یہی خواہش اور کوشش یہی سازش اور منصوبہ بندی برما یا میانمار میں ہورہی ہے اور اس کا بنیادی مقصد چین پر نقب زنی کرنا ہے .
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ چین اور پاکستان کے سیاسی اور معاشی اشتراک عمل نے امریکہ اور بھارت کی علاقائی بالادستی ، چین کے بالمقابل سیاسی، اقتصادی اور دفاعی حصار کی منصوبہ بندی کو فی الوقت خطرات میں مبتلا کر دیا ہے . امریکہ زخمی سانپ کی طرح اُچھل رہا ہے وہ کسی کو معاف کرسکتا ہے نہ نظر انداز ، جو بھی اُس کے سامنے آئے گا اُسے ڈسنے کی کوشش کرے گا ، پچھلے کام میں ہم نے پاکستان کے حوالے سے کچھ اشارے وضع کئے تھے لیکن سچ وہی ہے کہ اُس کا دوسرا اور اصلی ہدف چین ہے جس نے امریکہ کی معاشی بالادستی کو دنیا بھر میں چیلنج کررکھا ہے امریکی دفاعی مارکیٹیں بھی تجارتی مارکیٹوں کے بعد خطرات کی زد میں ہیں تو دوسری طرف تیل اور گیس کے ذخائر جو پوری دنیا کے لئے مستقبل کی ناگزیر ضرورت بنتے جارہے ہیں جن پر ملکوں کی معیشت کا انحصار ہوگا. ان پر قبضہ لازم ہوتا جارہا ہے . امریکہ کی وسطی ایشیائی ریاستوں پر گرفت اور افغانستان پر قبضہ کی اولین ترجیح بھی یہی تھی جس کو چین کے ون روڈ ون بیلٹ اور سی پیک منصوبے نے مشکلات میں ڈال دیا ہے….
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکیوں سے زیادہ مفادپرست کوئی ہے اور نہ ہی کوئی مفادات کے لئے اُن سے زیادہ کوئی لڑنے مرنے کو تیار ہوتا ہے . یہی وجہ ہے کہ گذشتہ صدیوں میں سب سے زیادہ جنگیں امریکہ نے لڑیں اور سب سے زیادہ بلاکتیں اور تباہی بھی اُس کی پالیسیوں کے باعث ہوئی ، اب بھی جس نئی جنگ کی تیاری ہورہی ہے اُس کی شکل و صورت اگرچہ مختلف ہے لیکن اُس کا مرکز افغانستان ایران اور پاکستان ہیں اُس محاذ پر روس اور چین بھی خود کو علیحدہ نہیں رکھ سکیں گے، اسی جنگ کے آغاز پر میانمار کو نیا افغانستان بنائے گی واضح منصوبہ بندی ہے یاد وہ ہے کہ افغانستان کی پہلی جنگ میں ہدف سوویت یونین کی سیاست اور وسطی ایشیاء کے وسائل تھے اس جنگ میں نشانہ چین اور برما کے علاقہ راکھا ٹن میں گیس کے ذخائر اور اُس ے نزدیک سمندر میں تیل کا بہت بڑا خزانہ ہے چین نے صرف تین سال پہلے یہاں سرمایہ کاری کی سمندر سے اپنے علاقے تک تیل اور گیس کی پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کیا. روہنگی مسلمان اس وقت ملائشیا ، انڈونیشیا ، بھارت بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ میں آباد ہیں ویسے کراچی میں بھی ایک اراکان کالونی ہے جہاں یہ رونگی آباد ہیں بہرحال چین اور برما کی سرحد کے پاس ایک علاقہ کاچن ہے جہاں علیحدگی پسندی کی تحریک چل رہی ہے . جس کی قیادت ایک عیسائی تنظیم کررہی ہے اس کو مغربی قوتیں اسلحہ فراہم کرتی ہیں.
ایک اور تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے ردعمل میں سینکڑوں کی تعداد میں مدافعتی جنگجو گروپ بن چکے ہیں. جن کے خلاف ریاستی فوج طاقت کا بے دریغ استعمال کرتی ہے. طاقت کے اسی استعمال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے انتباہ کیا ہے کہ فوجی اپریشن روکا نہیں گیا تو اس کے نتیجہ میں خوفناک سانحہ رونما ہوسکتا ہے. ..یاد رہے کہ برما کی حکومت کو اسرائیل اسلحہ اور فوج کو تربیت بھی دیتا ہے…
روہنگی مسلمان گروپوں پر الزام ہے کہ انہیں ایران اسلحہ سپلائی کرتاہے لیکن ادھر سے مسلمانوں کی طرف سے بنگلہ دیش ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے پڑوسی ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ داعش اور القاعدہ کے ارکان کو میانمار میں داخل نہ ہونے دیں ، گویا یہ احساس وہاں تک بھی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ مزاحمت یا مدافعت غلط رنگ بھی اختیار کرسکتی ہے..
ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ … ملائشیا ، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں بہت سارے مسلح گروپ موجود ہیں جو جہاد کے جذبہ سے سرشار اور تیار ہیں او یہ محض برما تک محدود نہیں رہیں گے وہ چین کا رُخ اختیار کریں گے یا پھر انہیں اس طرف دھکیلا جائے گا.
تو صاحبو! سرمایہ داری نظام مفادات کے حصول کو لازم قرار دیتا ہے اسی کی ایک اصطلاح محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز کی ہے تو نئی اصطلاح میں مذہب کا ہتھیار بھی جائز ہے ، افسوس تو اس بات کا ہے ہم مسلما جہاد کے لئے ہر میدان میں کھڑے ہوجاتے اور بھول جاتے ہیں کہ جہاد ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس میص فتح کے امکانات بھی واضح ہونا چاہئیں…

Views All Time
Views All Time
484
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   ڈیرہ، کبھی تھا "پھلاں دا سہرا" – اب لہو لہو ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: