Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کیسے مذاکرات اور کیسی مفاہمت | اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

آئینی عدالت کے سیاسی فیصلہ کے بعد پارلیمانی ریاست کے دوسرے بڑے رکن انتظامیہ کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، اسی میں قوم اور ملک کا تحفظ ہے۔ گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے کوئٹہ میں شہداءکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام اداروں کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ گویا اداروں کے اتحاد اور متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر پارلیمانی جمہوریت کے دو اہم رکن متفق اور متحد ہیں اور انہوں نے پاکستان کے عوام کو امن اور خوشحالی کی فراہمی کی حکمت عملی پر اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ اس اتحاد و اتفاق کے ابھی کچھ اور مناظر بھی سامنے آئیں گے۔

سینٹ کے چیئرمین اور اٹھارہویں ترمیم کی تیاری اور منظوری میں اہم اور بنیادی کردارادا کرنے والے میاں رضا ربانی نے سانحہ کوئٹہ کی ایک تقریب میں واضح طور پر کہا تھا کہ پارلیمنٹ کمزور ہے اور اُس پر جس کا جی چاہتا ہے چڑھائی کر دیتا ہے۔ آج کل عدلیہ اُس پر حملہ آور ہے انہوں نے اداروں کے درمیان مفاہمتی مذاکرات کی دعوت بھی تھی لیکن ظاہر ہے کہ کمزورکے ساتھ طاقتور مذاکرات کیوں کرے گا اور اگر وہ کسی سیاسی یا عملی دباﺅپر تیار بھی ہوا تو اس میں شرائط بھی اُس کی ہونگی۔ یہی تو قانون قدرت ہے ایک نقطہ نظر ہے کہ اگر پیپلزپارٹی اٹھارہویں ترمیم منظور نہ کرواتی، 58/2B موجود رہتی، ایوان صدر کے اختیارات محدود کر کے پارلیمنٹ کو مضبوط نہ کیا جاتا تو شاید عدالت کی بالادستی یوں سامنے نہ آتی۔ ایک کے بعد دوسرا وزیراعظم برطرفی اور نا اہلی کی زد میں نہ آتا۔ وزیراعظم کے لئے صادق اور امین ہونا لازم نہ ہوتا۔صرف منتخب افراد کیلئے ہی متقی اور پرہیزگار ہونا ہی ضروری نہ ہوتا ورنہ اس شہر میں ”رندوں“ کی کوئی کمی تو نہ تھی جو ہاتھ میں جام لئے سرمحفل ناچتے گاتے اور لہراتے پھرتے ہیں ، ان کی صداقت اور امانت پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ بہرحال پیپلزپارٹی نے اچھے بھلے چلتے ہوئے سیاسی نظام کو پارلیمانی جمہوریت کی طرف واپس لے جانے کی کوشش نہ کی ہوتی تو اُس کے خود اپنے پاﺅں پر کلہاڑی لگتی نہ اُس کا منتخب وزیراعظم توہین عدالت کی کُند تلوار سے ذبح ہوتا اور نواز شریف کو صادق اور امین نہ ہونے کی دو دھاری تلوار کا وار برداشت کرنا پڑتا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نون لیگ یا میاں نواز شریف خود اس کی زد میں آئے ہیں اگراُس وقت جب اٹھارہویں ترمیم ہورہی تھی تو اس شق پر بھی اتفاق رائے سے نظرثانی ہوسکتی تھی لیکن نون لیگ والے اس پر متفق نہیں ہوئے اور پھر خود ہی اُس کا ہدف بن گئے۔ ویسے ایک دلچسپ بات ہے کہ آئین میں ایک آرٹیکل سکس بھی ہے جو جمہوریت کے تحفظ کے لئے شامل کیا گیا تھا۔ آئین توڑا بھی گیا معطل بھی ہوا جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف نے عدالت کے عنایت کردہ اختیارات سے ترامیم بھی کیں لیکن اس آرٹیکل سکس میں کچھ تبدیلی کر کے اسے موثر بنانے کی اٹھارہویں ترمیم میں بھی کوشش نہیں کی گئی۔ مارشل لائی ترامیم میں تو اس کا برقرار رہنا لازم بھی تھا۔ یوں بھی جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ بھی آرٹیکل سکس کے تحت ہی تھا پھر کیا ہوا ؟؟ آئین کو توڑنے والے مکھن سے بال کی طرح بیرون ملک چلے گئے کوئی انہیں روک نہیں سکا۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا تاریخ کے صفحات پر موجود ہے۔ آجکل وہ بیرون ملک بیٹھ پاکستان کی سیاست پر طبع آزمائی بھی کرتے ہیں خودساختہ تیسری قوت کی نمائندگی کا دعوی بھی کرتے اور بہت جلد واپسی کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ ہر جرنیل کی طرح اپنی عوامی مقبولیت اور حمایت کے زعم میں بھی مبتلاہیں لیکن اس وقت تو ہم جے یو آئی کے راہنما حافظ حسین احمد کی اس بات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ مشرف کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوگی۔ دوسرا انہوں نے جاوید ہاشمی سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر مائنس فور نہیں مائنس سکس کی بات کی ہے گویا یہ جو نیا غیر سیاسی اتحاد بزور بازو سامنے آرہا ہے اس کے جو عملی مظاہرے سامنے آرہے ہیں اُس میں صرف نام اللہ کا ہی باقی رہے گا اور اُس کی صدائیں فضاوں میں گونجیں گی۔ اسی لئے تو صداقت اور امانت کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی وہ منی پاکستان کراچی میں نئے حلقہ انتخابات بنائے گئے تھے وہاں ایک حلقہ کے امیدوار مصطفی کمال نے پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے، یہ وہ پسندیدہ نظام ہے جس کی شان میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے صفحات بھرے ہوئے ہیں۔ شاید یہ نظام اپنی ہیئیت میں ملوکیت اور بادشاہت کے زیادہ نزدیک ہے اس لئے مسلم حکمرانوں کی پسند میں اولیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   پیپلزپارٹی – چند تلخ حقیقتیں

بہرحال دوستو، حرف آخر کی صداقت اور امانت تو یہی ہے پاکستان کا سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر تبدیلی کے طوفان کی زد میں ہے۔ یہ وہ تبدیلی نہیں جسے ”نیازی“ صاحب بیان کرتے تھے اور نہی طاہر القادری کی ایک بار پھر واپسی میں چھپی ہے۔ یہ تو کچھ اور سیاسی جماعتوں اور چہروں کی طرح تبدیلی کی تیز ہواﺅں میں اڑنے والے محض خس و خاشاک ہیں۔ کمزور پارلیمنٹ پہلے سے بھی لاغر و ناتواں ہونے والی ہے۔ اُس کی طاقت قابل قبول ہے نہ قابل برداشت ویسے بھی اگر کنٹرول جمہوریت کی ضرورت ہے تو پھر پارلیمنٹ بھی 85ء والی چاہئے جو آئین کو ایک بار پھر مکمل طور پر صادق اور امین بناسکے۔ یہ جو جمہوریت پسند ہیں ، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں انہوں نے شکست قبول کر کے ہی مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ بد قسمتی تو یہ بھی ہے کہ دو مقتدر ادارے تو متحد اور متفق ہیں لیکن کمزور ترین ادارے کی جزئیات بھی آپس میں دست و گریبان ہیں۔ پھر کیسے مذاکرات کیسی مفاہمت ؟؟؟

Views All Time
Views All Time
663
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: