Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

وہ کون تھا

Print Friendly, PDF & Email

میری سستی اور نالائقی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ پانج دن قبل پیش آیا واقعہ آج تحریر کر رہا ہوں..
ہوا کچھ یوں کہ بدھ والے دن صبح سات بجے جب پندرہ گھنٹے کی شفٹ ختم کر کے بس سٹاپ پہ موجود تھا تو خیال آیا کہ کچھ دن سے طبیعت اچھی نہیں ہے تو کیوں نا فزیشن سے اپائنمنٹ لے لی جائے جو کئی دن سے تاخیر کا شکار تھی ..کلینک چونکہ میرے نئے گھر سے دو سٹاپ پہلے آتا ہے تو طے یہ پایا کہ وہاں اتر کے کلینک جاوں گا اور وہاں سے فارغ ہو کے گھر ہو جاوں گا کیونکہ دوسری صورت میں اگر پہلے گھر چلا جاتا تو پھر کلینک نہ جا پاتا کیونکہ پچھلے ایک ہفتے سے ایسا ہی ہوتا آ رہا تھا ..خیر پلان کے مطابق میں کلینک کے نزدیکی اسٹاپ جہاں سے کلینک کا پانچ سے سات منٹس کا پیدل رستہ ہے اتر گیا..پندرہ گھنٹے شفٹ کی تھکن اور بیگ کمر پہ لادے کلینک کی طرف چل پڑا..اس وقت تقریبا سات بج کر پچاس منٹس ہو چکے تھے..(یہاں یہ بتاتا چلوں کہ فزیشن کی اپائنمنٹ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پہ ملتی ہے جس کا وقت صبح آٹھ سے دس بجے تک مختص ہوتا ہے)..کلینک کی طرف چل پڑا تھکن کی وجہ سے ذہن مکمل طور پہ خالی تھا کوئی ایک چیز بھی فوکس نہیں کر پا رہا تھا حتی کہ سڑک کراس کرتے دونوں اطراف کی ٹریفک دیکھنا بھی عذاب لگ رہا تھا..بوجھل قدموں سے چلتے کوئی پانچ منٹ بعد کلینک کے بلکل سامنے والے روڈ پہ موجود تھا جس کے چند قدم پہ کلینک کا دروازہ میرا منہ چڑا رہا تھا.

جونہی دروازے کی طرف دیکھا تو نظر دروازے کے ساتھ سڑک پہ کھڑے ایک عجیب و غریب شخص پہ پڑی جو اتنی صبح سویرے سڑک کے کنارے کھڑا جھوم رہا تھا لیکن تھکن اتنی تھی کہ یہ غیر معمولی منظر بھی چند سیکنڈز سے زیادہ میری توجہ حاصل نہ کر پایا..میں نے چونکہ اسی راستے سے گزر کے کلینک تک پہنچنا تھا اس لئے اسے اگنور کرنے کے انداز میں روایتی مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہوئے پاس سے گزر گیا..بے دھیانی میں کلینک کے آٹومیٹک دروازے کو کھولنے کے لئے بٹن پریس کیا تو دروازہ دو برقی جھٹکے کھا کے جوں کا توں رہا تب مجبورا ٹائم دیکھا تو آٹھ بجنے میں تین منٹ باقی تھے اور کلینک آٹھ بجے کھلنا تھا..اس حالت میں یہ تین منٹ کا انتظار بھی اتنا مشکل لگا کہ گالی بکتے بکتے رہ گیا..وقت گزارنے کے لئے واپس پلٹ کے سڑک کی طرف دیکھا تو سامنے وہی منظر تھا .اسے دیکھتے تھوڑا اطمینان ہوا کہ چلو وقت گزارنے کا سامان تو ہوا اسی بنیاد پہ میں مسکراتے ہوئے اسے غور سے دیکھنے لگا جو پہلے ہی میری طرف دیکھ رہا تھا..وہ ایک چھوٹے قد کا ادھیڑ عمر آدمی تھا جو روڈ سایئڈ پہ لگے وائر بکس کے اوپر تین ڈرنکس اور چپس کا پیکٹ سجائے جھومتے ہوئے ایڑیوں کے بل گھوم رہا تھا ..مجھے اپنی طرف متوجہ پایا تو اس انداز میں مسکرایا جیسے بات کرنا چاہ رہا ہو میں چونکہ اس بار اس کی حرکات سے لطف اندوز ہو رہا تھا اس لئے جوابا ایک خوش کن مسکراہٹ کا تبادلہ کیا.

یہ بھی پڑھئے:   نئی فلمیں | دردِ جمہوریت کمپنی کی وارداتیں، پنجابی کامریڈ ان ٹربل

میں اندر ہی اندر یہ سوچ کے ہنس رہا تھا کہ اسے اتنی صبح سویرے “ٹن” ہونے کی کیا پڑی تھی. اتنے میں کلینک کا دروازہ کھلا اور میں اندر چلا گیا. کچھ دیر بعد کلینک سے فارغ ہو کے باہر نکلا تو وہ عجوبہ اسی حالت میں موجود تھا . اچانک میرے ہونٹوں پہ ایک فطری مسکراہٹ پھیل گئی جو کسی بھی دلچسپ کردار کو دیکھ کر ہوتی ہے.میں نے واپسی پہ بھی اس کے پاس سے گزر کے جانا تھا بیگ کی طنابیں سیٹ کرتے ہوئے وزن دونوں کندھوں پہ برابر کیا اور اسی رستے پہ چل پڑا. وہ مجھے مسلسل دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ بات کرنا چاہ رہا ہے ..میں بھی مسکرا کے جب اس کے پاس سے گزرنے لگا تو اس نے Morning Mate کہا جس کا جواب میں نے اسی انداز میں دیا جس پہ وہ تھوڑا اور قریب آ گیا ..کچھ لمحے تو ایک دوسرے کو فقط مسکرا کے دیکھتے ہوئے گزرے پھر ایک دم سے اس کے چہرے پہ سنجیدگی پھیلتی گئی اور وہ اپنے ہاتھ مسلنے لگا.میں نے غور سے دیکھا تو اس وقت اس کے ہاتھ اور پاؤں بلکل اس طرح کانپ رہے تھے جیسے کسی زمانے میں کلاس پریزنٹیشن کے دوران میرے ہاتھ پاوں کانپتے تھے اور کسی طور نہ رکتے تھے یہاں تک کہ پریزنٹیشن ختم ہونے کے بہت دیر بعد تک جسم شل رہتا تھا اور سانس کسی پتھر کی مانند گلے میں اٹکی رہتی.اس کی حالت دیکھتے ہوئے میرے لئے یہ فیصلہ کرنا چنداں مشکل نہیں تھا کہ یہ شخص ضرورت مند ہے لیکن کس قسم کا ضرورت مند ہے یہ ایک سوالیہ نشان تھا لیکن تاثر یہی تھا کہ یہ شخص نشے کا عادی ہو گا اور ضرور کسی بہانے سے چند سکوں فرمائش کرے گا.

اسی اثناء میں اس نے کانپتے ہونٹوں اور لڑکھڑاتی زبان سے کہا can you please do me a favour میں نے yes ,sure کہا اور یہ کہتے ہوئے ہاتھ خودبخود پتلون کی جیب میں سکہ تلاش کرنے لگے تاکہ جان چھڑائی جا سکے.لیکن اس سب کے باوجود میرے چہرے پہ ناگواری نہیں تھی لیکن مسکراہٹ کی جگہ تجسس بھری سنجیدگی نے لے لی تھی اور ایک عجیب سی جلد بازی کے تاثرات میرے چہرے پہ عیاں تھے.شاید اسی کو بھانپتے ہوئے اس نے دوسرا جملہ بولا .
Sir can you please say one liner for me.?
اس کی نظریں تاحال نیچی تھی اور اس کا یہ جملہ کسی حد تک میری بدگمانی زائل کرنے میں کامیاب ہوا تھا اور میں نے قریب ہوکے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
Why not.
اب اس نے اوپر دیکھنا شروع کیا تو مجھے اس کا اعتماد مجسم شکل میں واپس آتا نظر آیا تو اس نے اس بار قدرے ہمت سے کہا
It’s my birthday 
اس جملے نے ایک لمحے میں مجھے ہزار بار خود کے روبرو کیا اور ہر بار میں ، میں اپنے آپ سے نظریں نہ ملا پایا کہ میں کتنا غلط تھا اور اس بارے کیا کچھ نہ سوچ رہا تھا. 
جب بولنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہ رہے تو میں نے بے اختیار گلے لگا لیا اور سالگرہ مبارکباد کے ساتھ دعا دی .
اس کا نام مارگن تھا اپنی پچاسویں سالگرہ منا رہا تھا .بیوی کافی عرصہ سے چھوڑ کے کسی اور پارٹنر کے ساتھ رہ رہی تھی کوئی قریبی عزیز دوست نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے سات سالوں سے اپنی سالگرہ ایسے ہی منا رہا ہے..مجھے اس نے وائر بکس پہ رکھے تین ڈرنکس میں سے ایک ڈرنک افر کیا تو میں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ شراب نہیں پیتا جس پہ اس مجھے دو ٹافیاں گفٹ کیں..اجازت لے کے سیلفی بنانے لگا تو مارگن نے زوردار نعرہ لگایا “Happy birthday to me”
میں اسے دوبارہ گلے مل کے جب واپس چل پڑا تو اس قدرے سنجیدگی سے پکارا “Hey My Mate” میں نے پیچھے دیکھا تو میرے جواب کا انتظار کیے بغیر بولا 
“Probably you would be the last lovely man on the earth”
اس پہ میں اسے ہوائی بوسہ دیتے ہوئے اپنی راہ چل پڑا.

Views All Time
Views All Time
427
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: