Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آج اور آج کے غم کے نام – اختر عباس

Print Friendly, PDF & Email

بنوں کے ایک ناظم نے ایک اشتہار چھاپا۔ اشتہار ایک خاکروب کی ملازمت کا تھا، اور اہلیت کے
خانے میں عیسائی، ہندو ، بالمیکی اور شیعہ کا لفظ درج تھا۔ عیسایوں، ہندووں ، بالمیکیوں یا شیعوں کے عقائد میں ایسا کون سا جوہر ہے جو انہیں اس ملازمت کے لیے اہل بناتا ہے، میں نہ سمجھ سکا ۔رات تک عنایت اللہ خان صاحب وزیر لوکل بوڈیز کی وضاحت بھی آگئی کہ لفظ شیعہ غلطی سے شامل کیا گیا تھا اور آئندہ کسی اشتہار میں مسلک یا مذہب کا ذکر  نہیں ہوگا۔ چلیں یہ تو اچھا ہے کہ ایسے وزرا بھی موجود ہیں جو غلطی مانتے ہیں اور درست کرنے کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔

 مگر مسئلہ اشتہار میں چھپے الفاظ سے بلند تر ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب ہم سکول میں پڑھا کرتے تھے تو ایک دن ہماری صبح کی اسمبلی میں قران کی تلاوت اور قومی ترانے کے درمیان ایک خاتون آ کر کھڑی ہو گئیں۔  نام تو خدا جانے کیا تھا ان کا، لیکن سب انہیں ماسی کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ ہمارے سکول کی خاکروب تھیں اور ہم نے انہیں ہمیشہ ایک ہاتھ میں جھاڑو یا پوچا لیے فرش چمکاتے دیکھا۔ واپڈا ہائی سکول رچنا  بلاک اقبال ٹاون، ایک نیم سرکاری سکول تھا اور بچوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ایک آدھ ماسی کے بس کا کام نہ تھا۔ دو ایک اور بھی جمعدار تھے مگر سکول کی صفائی کے ڈیپارٹمنٹ کا سارا انحصار اس نحیف جان پر تھا جس کو ہم نے کبھی کسی سے بات کرتے نہ دیکھا۔ خدا جانے اس دن مائیک پر سب کے سامنے وہ کیا کرنے آئی تھی ۔ اسمبلی میں ایک تو مولوی صاحب آیا کرتے تھے جو تھے تو کلرک مگر ساتھ ہی کسی مذہبی جماعت کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ بھی سنبھالتے تھے۔ ان کے گلے سے نکلے الفاظ میں ایک وزن ہوتا تھا، جو ان کے نکلے ہوئے پیٹ کے ساتھ بہت موزوں لگتا تھا۔ کبھی کبھار  کوئی ٹیچر بھی آ جاتیں جنہیں کسی سرکاری مراسلے کا ترجمہ پڑھنا ہوتا تھا۔ جس سے کسی کو کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔ زیادہ تر وہ حافظ صاحب  تھے جو صبح صبح پوری اسمبلی کو نماز کی آیات رٹواتے تھے۔ ماسی کا آنا ہم سب کے لیے خاصا دلچسپ تجربہ تھا۔ جیسے کسی بورنگ ڈرامے کے دوران کوئی دلچسپ اور نیا اشتہار آجائے۔  وہ جھجھکتے ہوے کچھ بولی۔ بات کچھ باتھ روموں کی صفائی کے حوالے سے تھی، سچ یہ ہے کہ وہ باتھ روم جو صبح دم صاف ہوتے تھے ، چھٹی کے وقت تک نا قابل استعمال ہو چکے ہوتے تھے۔ مجھے اور کچھ تو یاد نہیں، لیکن ان کا یہ جملہ ضرور یاد ہے کہ “آپ لوگ ہم سے بہتر صفائی کا خیال رکھا کریں، آپ کے تو دین میں بھی صفای نصف ایمان ہے”۔

مجھے اس وقت تک مذاہب عالم کی تفریق اور پیشوں کی سماجی تقسیم کا زیادہ پتہ نہیں تھا۔ شیعہ سنی کے فرق سےبھی اتنا واقف تھے کہ سنی دو قسم کے ہوتے ہیں، مجلس میں جانے والے اور مجلس میں نہ جانے والے۔ مجلس میں جانے والے سنیوں میں سے کچھ کبھی کبھار مجھے اس بات پر پیٹ دیتے کہ شیعہ اپنے آپ کو پیٹتے کیوں ہیں ۔ اس زمانے میں خود کو پیٹنا جرم سمجھا جاتا تھا، یہ کام ریاست کا تھا۔  ریاست نے  کو اس مقصد کے لیے بغیر تنخواہ کے جتھے مقرر کر رکھے تھے جو میلادوں اور جلوسوں سے لوٹنے والوں کو پیٹا کرتے تھے۔ میں نے اس دن اپنی ٹیچر سے پوچھا  کہ ماسی کے اس جملے کا کیا مطلب ہے اور کیا وہ ہمارے مذہب سے تعلق نہیں رکھتیں؟ ہمارے سکولوں میں استادوں کے نزدیک سوال مکروہ بلکہ بعض جگہوں پر حرام کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مجھے جواب نہ ملا۔

بھلا ہو منٹو ،  ممتاز مفتی ، قدرت اللہ شہاب اور اشفاق احمد کا کہ وہ جواب دے گئے جو معاشرتی علوم کی کسی کتاب میں نہ ملا۔  لائبریری سے ادھارے پر لی گئی کتابوں کے صفحوں میں ہمیں ملا۔  وہ خاتون عیسائی تھیں اور بظاہر جمعدار اور عیسائی ہونا لازم و ملزوم تھے۔ اس کے بعد ساری زندگی میں نوٹ لیتا رہے ۔ میں نے آج تک کوئی مسلمان جمعدار نہیں دیکھا۔ صفائی کی تاکید پر احادیث سنیں، جمعداری کے پیشے کی عظمت پر فیس بک پر چمکتی ہوئی گرافکس بھی دیکھیں مگر کبھی کوئی مسلمان جمعدار سے ملاقات نہ ہو سکی۔ ایک عرصے تک میں سمجھتا رہا کہ شاید کسی مذہبی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ایک مسلمان یہ پیشہ کبھی اختیار نہیں کر سکتا۔ پھر ایک ہندوستانی فلم میں ایک مسلمان جمعدار دیکھا اور تھوڑی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہندوستان میں جمعداری کے پیشے میں مسلمان کافی بڑی تعداد میں ہیں ۔ دھیرے دھیرے یہ عقدہ کھلا کہ پیشے کا تعلق افراد کے انفرادی فیصلوں سے کم اور معاشرے کی اجتماعی تقسیم سے زیادہ ہے۔

برصغیر کے قدیمی نظام میں پیشے ذاتوں اور برادریوں تک محدود تھے۔ برہمن مذہب کے حواری، ویش تجارت کے ذمہ دار ، کھشتری حکومت کے نگران اور شودر کم تر پیشوں کے حقدار۔ سماجی رتبے بھی اسی بنیادی تقسیم کی بنیاد پر قائم تھے۔  یہ نظام ایک کاٹیج انڈسٹری کی طرح تھا کہ جس میں ہر ذات اور برادری ایک معاشی نظام کی رکھوالی کرتی تھی اور اس نظام سے باہر نکلنا نہ صرف معاشی طور پر ناممکن تھا بلکہ معاشرتی طور پر بھی۔ کمہار، میراثی، دھوبی، موچی، ماشکی، چمار، درزی، جولاہا، نائی وہ پست طبقے تھے جن کے استحصال پر یہ وسیع معاشرہ قائم تھا۔ مذہب اور حکمران بدل گئے تو ہم نے طبقوں کی حد بندی کر دی۔ کچھ ذاتیں نیچے سے اوپر چلی گئیں اور کچھ ادھر سے ادھر مگر نظام قائم رہا۔ احمد ندیم قاسمی کو بھی یہی دکھ تھا ، امریتا پریتم بھی اسی روگ میں جل اٹھی اور  فیض صاحب نے بھی اسی لیے زندگی کا غم منایا ۔

آج کے نام

اور آج کے غم کے نام

آج کا غم کہ زندگی کے  بھرے گلستان سے خفا

زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے

درد کی انجمن جو میرا دیس ہے

 ہمارا ادبی اور سیاسی شعور ہر دور میں ان پیشوں کی عظمت کا ترانہ پڑھتا رہا ہے۔ انہیں بادشاہ جہاں، والی ماسوا، نائب اللہ فی الا رض دہقاں کے نام ۔ اور ہمارا معاشرہ ان اشعار پر سر دھن کر وہی کرتا رہا جو وہ ہزاروں سالوں سے کرتا آرہا ہے۔ ۔  الکاسب حبیب اللہ کے ماننے والوں کو ، اپنی جوتی گھانٹھے والے نبیﷺ  کے چاہنے والوں کو ، اپنا چکی پیسنے والی فاطمہؑ کے نام لینے والوں کو اور اپنا لباس سینے والے خلفا رضی اللہ عنہم کے پیروکاروں کو فلسفہ کی حد تک اپنے ہاتھ سے کام کرنے والوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ ان دیواروں کا ہے جو ہم نے ورثے میں پائی ہیں اور سینے سے لگائی ہوئی ہیں۔  مسئلہ اس سماجی تقسیم میں ہے جو معاش کے ذریعے کو سماج کے رتبے تولنے میں استعمال کرتا ہے۔ ایک اسی استحصال کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس میں چمار چوہدری سے کم تر ہے، میراثی ملک سے اور کمہار زردار سے۔ وہ دیواریں جن کے ایک طرف اونچے فرقے یا مذاہب ہیں جو ان “گندے” کاموں کو ہاتھ نہیں لگاتے اور دوسری طرف وہ طبقے ہیں جو کم تر کاموں کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔  اب بھی پنجاب کے کسی گاؤں میں، سندھ کے کسی گوٹھ میں چلے جائیں۔ اب بھی ذاتوں کی نا دیدہ دیواریں پھلانگنے پر بیٹیاں زمین میں دبائی جاتی ہیں، بوڑھے چوپالوں میں بے عزت کئے جاتے ہیں اور جوانوں کے سر مونڈھ کر گدھوں پر پھرایا جاتا ہے۔

جس کی ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گئے

جس کی بیٹی کی ڈاکو اٹھا لے گئے

جس کی پگ زور والوں کے پاوں تلے

دھجیاں ہو گئی

مسئلہ اشتہار کا نہیں ہے وزیر صاحب۔ مسئلہ کسی عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر فوقیت نہیں کا، اعلان کرنے والے کی دھرتی میں چلنے والی تفریقوں کا ہے۔ مسئلہ اشتہار کا غم منانا نہیں، بلکہ آج کا غم منانا ہے۔

Views All Time
Views All Time
849
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ایک اضافی سیب بمقابلہ چائے پانی کی شاہ خرچیاں | عابد ایوب اعوان

اختر عباس

اختر عباس نہ لیفٹ کے ہو سکے نہ رائیٹ کے۔ دونوں کے درمیان صلح صفائی کی کوشش میں اکثر مار کھا جاتے ہیں۔ دہشت گردی، سیاست اور معاشرتی نظام کی بدلتی کہانیاں سناتے ہیں۔ انہیں آپ اس ٹویٹر ایڈرس پر فالو کر سکتے ہیں @Faded_Greens

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: