Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

پاپوش کی کیا فکر ہے

Print Friendly, PDF & Email

خدا مغفرت کرے ، مشفق خواجہ کراچی کے جس علاقے میں رہتے تھے اُس کا نام پاپوش نگر تھا۔ اب یہ تو کوئی ادبی سُراغ رساں ہی کھوج لگائے اور واماندگانِ تحقیق کو بتائے کہ خواجہ صاحب کی یہاں منتقلی سے پہلے بھی یہ محلّہ اِسی نام سے موسوم تھا یا اُن کے یہاں قدم رنجہ فرمانے کے بعد ، خاص طور پر کالم نگار مشفق خواجہ کی صریرِ خامہ میں جوتے کی (سی) خفیف اور لطیف ضربوں کی بدولت اِس جگہ کا نام پاپوش نگر پڑ گیا۔ ویسے اِن ضربوں کولطیف اور خفیف تو ہم کہ رہے ہیں ورنہ مرحوم نے جن جن پر بھگو بھگو کر وار کیے تھے وہ ہم سے متفق تھوڑی ہوں گے! مشفق خواجہ کے اکثر کالم پڑھتے ہوئے نہ جانے کیوں غلام عبّاس کا افسانہ ’جواری‘ یاد آ جاتا۔ ذرا دھیان میں لایئے نا وہ منظرجب قماربازی کے جرم میں پکڑے ہوئے ’شرفا‘ حوالات میں اپنے رہائی کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں کہ ایک سپاہی یہ حکم سناتا ہے:
’سب کے سب دھوتی پاجامہ کھول کے زمین پر ایک قطار میں اوندھے منہ لیٹ جاؤ۔ پھر تم میں سے سرے والا آدمی ایک ایک کر کے اُٹھے اور ہر ایک کے دس دس جوتے لگا کے خود دوسرے سرے پر اوندھا لیٹ جائے۔ غرض اِسی طرح سب کے سب باری باری ہر ایک کے دس دس جوتے لگائیں۔‘
افسانہ نگار مزید بیان کرتا ہے:
’سرے پر لاری ڈرائیور تھا۔سب سے پہلے جوتے لگانے کی اُس کی باری تھی۔ جس وقت وہ اُٹھا تو نِکُّو زور سے کھنکھارا۔ ’مرزا جی ،سنبھل کے‘ ، وہ بولا۔ ’سب اپنے ہی آدمی ہیں۔ ہاں۔ دیکھنے میں زور کا ہاتھ پڑے مگر۔۔۔ سمجھ گئے نا۔۔۔‘

اِس افسانے کا حوالہ دینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خواجہ صاحب قبلہ لفظ سے جوتے کا کام لیتے تھے ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ نِکُّو کی منطق کے برعکس کارروائی کرتے تھے۔ یعنی، ہاتھ نرم اور کام گرم!
بہرحال ، لفظ اور جوتے کا کچھ نہ کچھ رشتہ بنتا ضرورہے۔ اکبر الہ آبادی تو فرما ہی گئے ہیں:
بوٹ ڈاسن نے بنایا ، مَیں نے اِک مضموں لکھا
شہر میں مضموں نہ پھیلا اور جُوتا چل گیا
لیکن شاعری اور خاص طور پر غزل میں جوتا! بات کچھ مضحکہ خیز سی لگتی ہے نا!
ایک آدھ برس پہلے کی بات ہے ہم نے ایک غزل میں جوتے کی ردیف باندھی۔ باندھی کیا ، بندھ گئی ہم سے۔ غزل اِدھر اُدھردو چار دوستوں کو سنائی اور داد بٹوری۔ لیکن جوتا! یعنی مقطع میں آ گئی ہے سخن گسترانہ بات کا سا معاملہ ہو گیا ۔ اکثر کی اُنگلی جُوتے کی طرف تھی۔ ہم نے فون اُٹھا غزل اپنے دو بزرگ شاعروں یعنی کراچی میں جناب رسا چغتائی اور لاہور میں محترم ظفر اقبال کو سنا دی اور یوں اِن مہربانوں کو زندگی میں پہلی بار اپنا کلام سنانے کی جسارت کر ڈالی۔ بزرگوں نے کیا صلاح دی ، یہ بعد میں۔ پہلے امتثالِ امر کے طور پر غزلِ مذکورہ کے دو چار شعر ہو جائیں تا کہ بات کی صراحت ہو سکے:
دِل پہ جو گردِ مسافت ہے کوئی کیا جانے
نظر آتا ہے چمکتا ہُوا جُوتا میرا
ہرزہ گردی کی خلِش تھی تو مِرے پاؤں میں تھی
کیوں مِرے ساتھ گِھسٹتا رہا جُوتا میرا
مَیں کہ ہُوں اپنے کسی دھیان کے بَن باس میں گُم
ہے مِرے تخت پہ رکّھا ہُوا جُوتا میرا
سر لپیٹے ہُوئے پگڑی میں پڑارہ گیا مَیں
اور جُوتے پہ چڑھا رہ گیا جُوتا میرا

رسا بھائی نے کہا: ’بڑی واہیات ردیف ہے لیکن غزل میں تم نے اِسے جس طرح استعمال کیا ہے اُس سے اکھڑ پن ختم ہو گیا ہے۔ مشکل کام تھا مگر تم کر گزرے ہو‘۔
لیکن اُدھرظفر صاحب غزل سنتے ہی بولے: ’ نہیں، نہیں! یہ کام نہ کرو!‘ ۔
’ غزل نہیں بنی؟‘۔ہم نے پوچھا۔
’یار، یہ جوتے ووتے کی ردیف!‘
ہم نے ہمّت کر کے کہا : ’جناب، آپ نے تو خود بہت تجربے کیے ہیں۔‘
بولے: ’نہیں۔ مَیں ایسی ردیف والے تجربے نہیں کرتا۔ اور پھر اِس طرح کے کاموں سے تمھارا امیج خراب ہو گا‘۔
ظاہر ہے غزل سنانے کا مقصد اِن بزرگوں سے رائے لینا تھا ، اپنا موقف منوانا نہیں تھا ورنہ اِتنا تو پوچھ ہی لیا جاتا کہ سرکار، امیج بچایاجائے یا شاعری کی جائے! نہیں صاحب ، ہم نے کوئی تجربہ وجربہ نہیں کیا۔ نہ ہی جوتے کے لفظ یا جوتے کی ردیف کے استعمال میں کسی تقدیم ہی کا کوئی دعویٰ ہے۔ پہلے کیا اور بعد میں کیا! ع: بات اُس کی ہے جو بنا لے جائے۔جوتا یہاں کسی طرح کی لفظی شعبدہ بازی یا چونکا دینے کی کسی خواہش کے زیرِ اثر بھی نہیں آیا ۔ لیکن ،ظاہر ہے ، ہم نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
کہنے کی ضرورت نہیں کہ ’نزاع‘ مذکورہ غزل کی ردیف یا ردیف میں در آنے والے جوتے سے پیدا ہوا ہے۔ غزل کو عام طور پر قافیہ پیمائی کا کھیل تصور کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس صنف میں قوافی کی نسبت ردیف کا کام زیادہ نازک ہوتا ہے اور یہ نزاکت شاعر کی خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ یعنی قافیہ مضمون کی تلاش میں شاعر کی معاونت کرتا ہے لیکن ردیف کے جملہ امکانات اور اِن امکانات میں مُضمِر خطرات پر شاعر کو خود نظر رکھنی پڑتی ہے۔ ہم آپ آئے دِن کتنی ہی ایسی غزلیں دیکھتے رہتے ہیں جن میں ردیف بے معنی ہو کر مصرعے یا شعر سے الگ جھولتی دکھائی دیتی ہے۔ رہی بات غیر مُردّف غزلوں کی تو اِس نوع کی اپنی الگ شعریات اور مسائل ہیں جن پر گفتگو کا یہ محل نہیں۔ یوں بھی اقبال کی اِستثنائی مثال سے قطع نظر ہمارے کسی اہم شاعر نے غیر مُردّف غزلوں پر کوئی خاص توجّہ نہیں دی۔ ایلیٹ کی اصطلاح میں بات کی جائے تو ہم کہ سکتے ہیں کہ غیر مّردّف غزلیات اردو کے کارخانہء شاعری کی ضمنی پیداوار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   فرار اور دوسرے افسانے

جہاں تک ردیف کے کلیدی لفظ یعنی جوتے کا تعلق ہے تو ظاہر ہے یہ ہمارے روزمرّہ استعمال کی ایک چیز یا لباس کا ایک جزو(پا پوش) ہی تو ہے لیکن کیا کیا جائے کہ جوتے کے سامنے آتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں اِس لفظ کے ’عوامی مفاہیم‘ اُجاگر ہونے لگتے ہیں اور یوں معمول کی ایک چیز یا اُس کے لیے مستعمل لفظ مزاح ، تضحیک یا اِس طرح کے دیگر جذبات اُبھارنے لگتا ہے
غور کیا جائے تو جوتے کی اِس معنویت کاسبب جوتے کا پاؤں سے متعلق ہونا ہے۔ انسانی تاریخ اور مختلف تہذیبوں میں اعضائے جسمانی کا ایک واضح سلسلۂ مراتب رہا ہے جس کی رُو سے سر کو جسم کا سردار مانا گیا ہے۔ سر سے سردار اور راس سے رئیس اِسی امر کی غمّازی کرتے ہیں۔ انگریزی میں ہیڈ اور جرمن میں ہاؤپٹ کے ساتھ بھی کم و بیش یہی صورت ہے۔ پگڑی، ٹوپی اور کلاہ وغیرہ کا تعلّق سر کے ساتھ ہے اِسی لیے یہ چیزیں تعظیم ، رعب اور حیثیت کا استعارہ خیال کی جاتی ہیں۔ کچھ معاشروں میں بڑوں یا معزّز ہستیوں کے پاؤں چھونے کی رسم کو بھی اِسی سلسلۂ مراتب کے تناظرمیں سمجھا جا سکتا ہے۔سر کو نہ صرف جسمِ اِنسانی میں بلندی پر متمکن ہونے کی وجہ سے بلکہ انسانی فکر کا منبع ہونے کے باعث ہمیشہ فوقیت حاصل رہی ہے۔ قدیم ہندوستان میں ذات پات کی بنیاد پر منقسم معاشرتی نظام میں شودروں کو ادنیٰ درجہ دینے کا ایک بڑا سبب یہ بتایا گیا تھا کہ شودر بھگوان کے پاؤں سے پیدا ہوئے ہیں۔ اِسی طرح افلاطون نے اپنی مثالی ریاست میں فلسفی حکمران کا تصّور دیتے ہوئے بھی اصل میں سر (دِماغ) کی برتری کے تصّور کا اعادہ کیا تھا۔

تاہم واقعہ ہے کہ جوتے کا ا ستعارہ اپنے ’عوامی مفاہیم ‘کے ساتھ ساتھ کئی تاریخی ، تہذیبی، اساطیری حتیٰ کہ مذہبی جہتیں بھی رکھتا ہے۔ ہم سبھی اپنی زبان میں لفظ ’جوتا ‘کے مترادفات سے بخوبی واقف ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن مترادفات سے عام طور پر کسی طرح کی ناگواری کا احساس نہیں اُبھرتا۔ مثال کے طور پر نعلین ہماری نعتیہ شاعری کا ایک معروف استعارہ ہے۔ نعت سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو اِس لفظ میں تضحیک تو درکنار بلکہ ایک گونہ تقدّس کاسا رنگ جھلکتا ہے۔’کفش‘ کے ساتھ بھی ہمارا تعلّق کچھ ادبی نوعیت ہی کا بنتا ہے۔ حالانکہ قدیم اور جدید فارسی میں یہ لفظ ’عوامی مفاہیم‘ کو ہی اُبھارتا ہے۔ ’کفش‘ اصل میں فارسی والوں کا ’خالص‘ جوتا ہے۔ اور یہ لفظ فارسی کی قدیم و جدید شاعری ( سبکِ ہندی سمیت) میں تواتر سے استعمال ہوا ہے۔کفش کا ایک نادر ترین استعمال تو کلیم کاشانی کے ایک شعر میں ہوا ہے :
بخیۂ کفشم اگر دنداں نُما شد ، عیب نیست
خندہ دارد چرخ ہم برہرزہ گردی ہائے من
یعنی ، اگر میرا جوتا پھٹ گیا، اُس کے بخیے کُھل کر دانت دکھا رہے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میری آوارہ گردی پر خود آسمان قہقہہ زن ہے۔
اِسی طرح ہمارے زمانے کے ایک ممتاز فارسی شاعر سہراب سپہری کی ایک با کمال نظم کا عنوان ہی یہ لفظ لیے ہوئے ہے: کفش ہایم کُو؟ (میرے جوتے کہاں ہیں؟)
’پاپَوش‘ کی صورت بھی کم و بیش یہی ہے کہ اِس لفظ میں موجود واضح فارسیت نے ہمارے لیے پاپوش میں ایک خاص طرح کی نرمی بھر دی ہے۔حالانکہ دیکھا جائے تو نَعلَین اور پاپوش دونوں جوتے ہی کے مترادفات ہیں۔

یادش بخِیر ، فیض صاحب کے ہاں بھی ، جنھیں راشد نے ’ریشمی اسلوب کا شاعر‘ کہا تھا، جوتا وارد ہوا ہے:
پاپَوش کی کیا فِکر ہے، دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج ، گزر جائے گی سَر سے
اور لُطف کی بات یہ ہے کہ معروف ترقّی پسند نقّاد محمّد علی صِدّیقی کے بقول یہ فیض کا ’سب سے پہلا سیاسی شعر‘ ہے۔
ہاں ، جوتے کی ایک اور شکل ’کھڑاؤں‘ کو بھی نہیں بُھولنا چاہیے کہ سادھو سنتوں کا یہ جوتا بھی ہماری شاعری اور خود جدید غزل میں شامل ہے۔ ’آبِ رواں‘ میں موجود ظفر اقبال کی ایک غیر مُردّف غزل کا شعر یاد آتا ہے:
پکّی سڑکوں والے شہر میں کس سے ملنے جائیں
ہولے سے بھی پاؤں پڑے تو بج اُٹھتی ہیں کھڑاؤں
’کھڑاؤں‘ کی یہ گونج بعد میں جمال احسانی کے ہاں بھی سننے کو ملتی ہے:
ایک فقیر چلا جاتا ہے پکّی سڑک پہ گاؤں کی
آگے راہ کا سنّاٹا ہے ، پیچھے گونج کھڑاؤں کی
یہ الگ بات کہ جمال احسانی مرحوم نے ‘کھڑاؤں‘ کو غلط یعنی ’فعولن‘ کے وزن پر باندھا ہے جبکہ اِس کا صحیح وزن ’فعول‘ کا ہے اور اِس طرح اُن کی یہ خوبصورت غزل ، جس کاقافیہ ہی ’کھڑاؤں‘ ہے ، عیبی ہو گئی ۔

یہ بھی پڑھئے:   افسانے کا شکوہ

اب رہی بات ’خالص’ جوتے کی۔ تو اِس کے استعمال میں بھی ہمارے شاعروں کو کبھی کوئی نفور نہیں رہا۔ میر فرماتے ہیں:
اے غیر، میر تجھ کو گر جُوتیاں نہ مارے
سَیّد نہ ہووے پھر تو کوئی چمار ہووے
اور تو اور مولانا حالی جیسے ثقہ بزرگ اور شریف النفس شخصیت بھی جوتے کو بروئے کار لانے میں کوئی عار نہیں سمجھتی :
اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہُشیار
اِک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
یاد پڑتا ہے کہ کچھ نسخوں میں ’جوتوں‘ کی جگہ ’جیبوں‘ بھی ملتا ہے لیکن شعر کی مجموعی فضا کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں اوّل الذکر کا ہونا بعید از قیاس اور غیر فصیح ہر گز نہیں۔
جوتے کے لفظ سے قطع نظر، غزل میں خاص نوع کے نرم، ملائم اور رومانی سے الفاظ کے استعمال پر اِصرار اور اِسی طرز کو تغزّل خیال کر لینا اِس صِنف کی متنوّع اور پُر ثروت لفظیات سے عدم واقفیت کے مترادف ہے۔ کیا کیا لفظ باندھا گیا ہے غزل میں! ایک آدھ نمونہ ملاحظہ ہو:
یاں پلیتھن نِکل گیا ، وَاں غیر
اپنی ٹِکّی لگائے جاتا ہے (میر)

بھلا درستیِ اعضائے پِیر کیا ہووے
کہ جیسے رسّی سے ٹوٹا کِواڑ باندھ دیا
چَنے سے بُھنتے ہیں آنکھوں میں رات دِن آنسو
شبِ فراق نے مژگاں سے بھاڑ باندھ دیا (مصحفی)

اُن کے عُشّاق اِس زمانے میں
جیسے کُتّے قصائی خانے میں (شاد عارفی)

ہم تو سو جھوٹ بھی بولیں وہ اگر ہاتھ آئے
کوئی ٹھیکا تو اُٹھایا نہیں سچّائی کا (سلیم احمد)

سلیم احمد نے توغزل میں ’گُھورے ‘جیسا لفظ بھی باندھ رکھاہے۔
بات یہ ہے کہ کوئی لفظ اپنے طور پر اچھا ، بُرا ، خوش وضع یابد ہیئت، واہیات یا شریف النفس نہیں ہوتا۔ سب استعمال کرنے والے پر ہے کہ وہ اُسے کہاں اور کس ڈھنگ سے استعمال کرتا ہے ۔یعنی لفظ کے استعمال کا جواز یا عدم جواز شعر ہی میں موجود ہوتا ہے یا اسے موجود ہونا چاہیے۔
غالب کا مشہور شعر ہے:
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بَھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہئے

غور کیجئے کہ چچا نے عربی اور فارسی سے مملو الفاظ کے اِس صَوتی خوشے میں غریب ’بَھوں‘ کو کہاں جا پھنسایا ہے!
ادھر غالب سے بہت کم درجے کے شاعر بہادر شاہ ظفرنے ایک شعر میں ’گوپھن‘ جیسا نادر الاستعمال اور شاید بعضوں کے نزدیک ’بھونڈا‘ لفظ استعمال کیاہے۔ ’گوپَھن‘ جیسا کہ ہم جانتے ہیں گُپھا اور گُپت (خفیہ) کا ہم قبیل لفظ ہے۔ گوپھن ، کپڑے سے بنے ہوئے اُس آلے یا اوزار کو کہتے ہیں جس میں پتھر ڈال کر کسان اسے کھیتوں میں پرندوں کر بھگانے کے لیے گھما کر پھینکتے ہیں۔ اِس عمل سے پتھر بلند آواز کے ساتھ دور جا گرتا ہے۔ فارسی اور خود اردو میں ’گوپھن‘ کے لیے زیادہ تر ’فلاخن‘ کا لفظ مستعمل رہا ہے۔ اب بہادر شاہ ظفر کاشعر دیکھیئے:
ہم وہ پتھر ہیں کہ دہقانِ ازل نے جن کو
گردشِ دھر کی گوپھن میں پِھرا کر پھینکا

شعر کی معنوی جہتوں کو تو چھوڑیئے کہ شاعر نے ہمارے روایتی جبری فلسفے کو اس کمال سے پیش کیا ہے کہ یہاں خود ہمارے زمانے کے وجودی فلسفے ، خاص طور پر ہایئڈیگر کے تصوّرِ افکندگی (Thrownness / Geworfenheit) کی حیرت انگیز چُھوٹ پڑتی دکھائی دیتی ہے۔، ہاکاری آوازوں سے بنایا گیا لفظی خوشہ،صوتی آہنگ اور شعر کی نحوی ترتیب ہی دامنِ دِل کو نہیں چھوڑتے۔
اب ایک بار پھر غالب کا ’بَھوں‘ والا شعر دھیان میں لایئے اور دیکھیے کہ اِس بڑے شاعر نے کس طرح شعر کی صَوتی جمالیات کا ناس مارا ہے۔

گاؤں کے چوہدری کا انتقال ہوا تو ظاہر ہے جنازے میں ہر کس و ناکس شریک تھا اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر میّت کو کاندھا دے رہا تھا۔ وہیں ایک غریب میراثی بھی تھا جس نے لپک کر میّت والی چارپائی کا کاندھا کسی سے بدل لیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ باقی تینوں کاندھے تو بدلوائے جا رہے ہیں لیکن بے چارے میراثی کی طرف کوئی توجّہ ہی نہیں۔ چوہدری صاحب کہ زندگی میں بھی اچّھی خاصی لاش تھے، مر کر اور بھاری ہوگئے تھے۔ میراثی غریب کے کڑاکے نکل گئے۔ بہت صبر کیا لیکن آخر کب تک! چارپائی دھڑام سے زمین پر پٹخی ، ایک طرف کھڑا ہو کر اور ایک ہاتھ سے میّت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا: ’کیا اِسے مَیں نے مارا ہے!‘

غالب کے مذکورہ شعر کو بھی لفظ ’بَھوں‘ نے نہیں مارا بلکہ یہ کام اَن مِل اور بے جوڑ آوازوں کی وجہ سے ہوا ہے۔
سراج بھائی (سراج منیر مرحوم) سے ایک بار کسی نے ازراہِ شکایت کہا : ’صاحب ، آپ کی گفتگو اور تحریر میں عربی اور فارسی کے ثقیل اور مشکل الفاظ بہت زیادہ ہوتے ہیں۔‘
سراج بھائی نے جوابی سوال داغا: ’تو کیا، جہا ں مابعد الطبیعات کہنا ہو، بُلبُل کہا کروں؟‘
۔ ۔ ۔

 

 

Views All Time
Views All Time
744
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: