Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بھرم افسانہ

Print Friendly, PDF & Email

“اماں مجھے شادی نہیں کرنی۔ آپ اس رشتے سے انکار کردیں۔”
شبم لڑکے والوں کے اٹھ کر جانے کے بعد بولی۔
“ارے کیوں منع کردوں۔ اچھے رشتے ملتے کہاں ہیں۔ اور جو ملتے ہیں۔ اس سے تو انکار کر دے۔”
اماں نظر چراتے قدرے مضبوط آؤاز میں اپنا بھرم قائم رکھتے ہوئے بولی، کہ یہ بھرم ہی تو ہیں جنہیں برقرار رکھنے کے لیئے ہم انسان خود کے ساتھ ساتھ دوسروں پہ بھی ظلم کرتے ہیں۔ اورشبنم نے اماں کے اسی بھرم کو تو قائم رکھنے کے لیئے شبنم نے انکار کہلوایا تھا ۔کیونکہ رشتے والوں کے جہیز کے مطالبات پہ ماں کے کپکپاتے ہاتھ وہ بخوبی دیکھ چکی تھی۔
“اماں ایسے اچھے رشتے لا کر اپنی اور میری تذلیل مت کروایا کرو۔” 
وہ بوجھل دل سے کہتی تیزی سے مڑگئی کہ اس نے ماں کی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو دیکھ لیے تھے۔
۔۔۔۔
“کیا نام ہے آپ کے بیٹے کا؟”
“جی زمان۔”
“بہت خوب۔ صاحبزادے کیا کرتے ہیں۔”
“جی وہ ایک نجی آفس میں کافی اچھی پوسٹ پہ ملازم ہے۔”
“کتنا کما لیتا ہوگا؟ زیادہ سے زیادہ پچیس پینتیس ہزار۔ ہوں۔۔۔”

اس بار موصوف نے خود ہی سوال کا جواب دیا تھا۔ انہیں محسوس ہورہا تھا ۔جیسے وہ صاحب کے گھراپنے بیٹے کا رشتہ لے کر نہیں آئیں ۔بلکہ نوکری کے انٹرویو کے لیئے آئی ہیں۔ اس وقت انہیں اپنا آپ کافی سے زیادہ چھوٹا محسوس ہورہا تھا ۔زمان ان کا اکلوتا بیٹا اور تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اور سب ماں بہنوں کی طرح ان کی بھی یہی خواہش تھی کہ اسکی شادی چاند جیسی حسین، پڑھی لکھی لڑکی کے ساتھ ہو۔ جو لاکھوں کا جہیز لائے ۔جبھی وہ اس وقت صاحب کی کوٹھی میں بیٹھی عزت افرائی کروا رہی تھیں۔
“اگر ہم اس رشتے کے لیئے ہاں کر دیں ۔تو ہماری بیٹی رہے گی کہاں۔ لاکھوں کا جہیز لے کر تمہارے اس بدبودار محلے میں رہنے تو نہیں جائے گی۔ ہاں اگرزمان گھر داماد بن کر رہے ۔تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔میں اسے کاروبار اور گھر تحفتاََ دے دوں گا۔ وہ کبھی کبھی آکر ماں بہنوں سے مل آیا کرے گا۔”
“یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔ زمان میرا اکلوتا بیٹا ہے میرے بڑھاپے کا واحد سہارا۔”
“واحد کیسے آپ کی بیٹیاں بھی تو ہیں ۔ماں باپ کی خدمت بیٹا بیٹی دونوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔”
“شکریہ مگر ہمیں اپنا بیٹا بیچنا نہیں ہے۔”
اماں کہنے کے ساتھ ہی اٹھ گئیں ساتھ ہی رمشہ کو خوب لتاڑا ۔جو ضرورت رشتہ کا اشتہار دیکھ کر انہیں ذلیل کروانے لے آئی تھی۔ 
۔۔۔۔
“مس شبنم مجھے ذرا آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ “
وہ ٹیبل سے اپنی چیزیں سمیٹتی اٹھ رہی تھی۔ جب زمان نے اسے آؤاز دی ۔وہ واپس چیئر پر بیٹھ گئی۔ وہ اس کے سامنے آبیٹھا۔ کولیگز ہونے کے ناطے کبھی سلام دعاہوجاتی تھی ۔مگر کبھی پہلے انہوں نے یوں بات نہ کی تھی۔ اسے تھوڑا عجیب لگا ۔وہ گھڑی کو دیکھنے لگی۔
“مس شبنم یہ بات کرتے میں بھی عجیب محسوس کر رہا ہوں۔ مگر یقین کیجیئے گا ،میرا ارادہ قطعاََ غلط نہیں ہے۔ “

یہ بھی پڑھئے:   زخموں کا حساب


وہ الجھن بھری نظروں سے اسے تمہید باندھتے دیکھ رہی تھی۔ وہ مزید بولا۔
” میں ہمارے اور آپ کے گھریلو ماحول میں زیادہ فرق محسوس نہیں کرتا۔ ہمارے عادات و اطوار بھی ملتے ہیں ۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ساتھ قابل رشک زندگی گزار سکتے ہیں۔ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو، تو میں اپنی والدہ کو آپ کے گھر بھیجنا چاہوں گا۔ میری شادی کو لے کر نہ کوئی ڈیمانڈ ہے نہ ضرورت ۔ شرعی حق مہر سے زیادہ عزت ہی دے سکتا ہوں۔ آپ جہیز میں نیک سیرت و کردار لے کر آجائیے۔ ایک سیدھا سادا فرض باآسانی ادا ہوجائے گا۔ جسے ہم لوگوں نے بلاوجہ رواجوں میں الجھا کر پیچیدہ بنا رکھا ہے۔” 
وہ بولتے بولتے رکا سر اٹھا کر بغور اسے دیکھا اس نے آسودگی سے سر کرسی کی پشت سے ٹیکتے آنکھیں میچ لی تھیں ۔تو وہ بھی اپنی مرضی کا جواب پاکر مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
۔۔۔۔ 
“صفیہ نے آج ایک رشتہ بتایا ہے ۔لڑکا امریکہ ہوتا ہے بڑا امیر گھرانہ ہے۔ تو کہے تو اسے وہاں بات چلانے کو کہوں؟”
وہ ابھی آفس کے کچھ دستاویزات لے کر بیٹھی تھی۔ جب اماں اس کے پاس بیٹھتے جھجھکتے ہوئے بولی۔ اس نے پرسوچ انداز میں انہیں دیکھا۔
“اماں بڑے گھروں میں بیاہنے کے لیئے بڑے گھروں کی لڑکیاں بہت ہیں۔ جو بنگلے اور کاریں جہیز میں دے سکتے ہوں۔ گارے مٹی کے گھروں سے اٹھ کر ہم محلوں کی خواہش میں بیٹیوں کے بالوں میں چاندی کیوں اتار لیتے ہیں۔ مجھے عزت سے زیادہ حق مہر میں کچھ نہیں چاہیئے ۔کیونکہ اس سے زیادہ میں کسی کو جہیز میں کچھ دے بھی نہیں سکتی۔ رشتے برابری میں ہوں تبھی خلوص پہ مبنی ہوا کرتے ہیں ۔ورنہ بس سودے بازی ہوتی ہے۔” وہ رکی پھر تھوڑا جھجھکتے ہوئے بولی۔

یہ بھی پڑھئے:   تپسیا


“کل زمان کے گھر والے آپ کے پاس رشتہ لے کر آئیں گے۔زمان میرے آفس میں کام کرتا ہے ۔اس کا کوئی بڑا بینک بیلینس نہیں ہے ۔گھر بھی ہماری طرح ہی چھوٹا سا ہے۔ تنخواہ بھی لاکھوں میں نہیں ہے۔ مگر گھر کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے ۔اور ان لوگوں کی جہیز کے نام پر کوئی فرمائش بھی نہیں ہے۔ پیسہ صرف اتنا ہو کہ زندگی کی گاڑی آسانی سے چل سکے۔ سکون ، عزت ، خلوص اور قدر ہی وہ چیزیں ہیں جو ایک کامیاب گھر کی ضمانت ہو سکتے ہیں ۔ آپ میرا بوجھ اتارنا چاہتی ہیں ۔مجھے اپنے گھر میں آباد دیکھنا چاہتی ہیں ،تو یہاں ہی ہاں کر دیں۔”
اس نے خاموش بیٹھی اماں کو دیکھا۔ جو کسی گہری سوچ میں گم نظر آرہی تھیں۔ اس نے ان کا گھٹنا ہلایا۔ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگیں۔ پھر اس کا منہ چومنے لگیں ۔وہ سمجھ چکی تھیں کہ بعض دفعہ ماں باپ بھی بچوں کی بھلائی سوچتے اتنا آگے نکل جاتے ہیں ،کہ کچھ جائز اور شرعی کاموں کو بھی مشکل ترین بنا دیتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
362
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: