Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ایک کامیاب اور مضبوط عورت

Print Friendly, PDF & Email

جب لوگ ایک مضبوط عورت کو معاشرے میں دیکھتے ہیں تو گمان کرنے لگتے ہیں کہ اس کو نہ کسی کے سہارے کی اور نہ ہی کسی بھی چیز کی ضرورت ہے۔ معاشرہ گمان کرنے لگتا ہے کہ ایک مضبوط عورت کسی بھی مسئلے کو اور تکلیف کو خوشی کے ساتھ جھیل بھی لے گی اور مستقبل قریب میں اس مشکل اور مصیبت کے صدمے کو بھی باآسانی بھلا دے گی ۔یعنی ایک مضبوط عورت کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا کہ کوئی اسے سنتا ہے ،اس کا احساس کرتا ہے یا اسے خاص انداز میں تحفظ فراہم کرتا ہے یا نہیں ۔ایک مضبوط عورت کو معاشرے میں اپنی بقا کی جنگ ایک بہترین انداز میں لڑتا دیکھ کر معاشرہ اس بات کا فیصلہ خودہی کر لیتا ہے کہ ایک باہمت ،با صلاحیت اور مضبوط عورت اپنے اقربا اور معاشرے کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے ہر وقت موجود ہے مگر اسے کسی کے ساتھ کی یا سہارے کی قطعاََ ضرورت نہیں ہے ایک مضبوط عورت کو یہ معاشرہ ایک ایسے بے حس انسان کی صورت میں دیکھتا ہے جسے نہ کبھی کسی چیز کا خوف ہے نہ کبھی کسی پریشانی کا سامنہ ہے اور نہ ہی اسے کبھی اکیلے پن کا احساس محسوس ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   اسلام آباد ایئرپورٹ کا منظر

ایک مضبوط عورت معاشرے کا وہ فرد ہے جسے لوگ انسانی احساسات سے ماورہ ایک خلائی مخلوق کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ باہمت عورت کو کبھی بھی انسان ہونے کا مارجن فراہم نہیں کیا جاتا۔ اگر ایک باہمت مضبوط عورت اپنے احساسات پر قابونہ پا سکے تو اس کی سالوں کی جدوجہد کو بھلا کر اسے کمزور ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔غصے کے اظہار پر اسی عورت کو طنز و طعنے کے نشتر بھی جھیلنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ معاشرے کی نظر میں ایک مضبوط عورت کو اپنے احساسات کے اظہار کی کوئی گنجائش نہیں دی جاتی۔ ایسی خواتین کی غیر موجودگی پر فوراََ سوالات کی بھرمار کھڑی ہو جاتی ہے مگر ان کی موجودگی کسی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔معاشرے کا کوئی فرد عورت کی مضبوطی کے پیچھے کی جانے والی جدو جہد کو کبھی بھی محسوس نہیں کر سکتا کہ کن منازل کو طے کرنے کے بعد ایک عورت اس قدر مضبوط اور حوصلہ مند کردار کی مالک بن جاتی ہے

ایسی عورت کو معاشرہ کبھی بھی قبول نہیں کر پاتا جو معاشرے میں رہتے ہوئے نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے بلکہ معاشرے میں ازل سے چلنے والے بے بنیاد رسومات کی نفی بھی کرتی ہے

یہ بھی پڑھئے:   نیا پاکستانی سیٹلائٹ اور کمیونیکیشن سروسز کا گورکھ دھندا

موجودہ وقت کی اولین ضرورت ہے کہ اپنے ارد گرد موجود ایسی باہمت اور نڈر خواتین کو سراہا جائے تاکہ ہمارا معاشرہ ایک اچھی نسل کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کر سکے ۔بہترین باہمت نڈر خواتین ہی ایک بہترین معاشرے کی تعبیر فراہم کر سکتی ہیں

Views All Time
Views All Time
261
Views Today
Views Today
6

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: