حضرت عائشہؓ کے خلاف گستاخی ہندو توا کی سازش

Print Friendly, PDF & Email

ہندوستان کا ایک مرتد سرکاری اہلکار وسیم رضوی ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر فلم ریلیز کرنے جا رہا ہے۔ جس میں ضعیف اور متنازع روایات کا سہارا لے کر جناب عائشہ کی نعوذباللہ توہین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر پاکستان اور ہندوستان میں شیعہ سنی علماءکی تشویش بجا ہے اور احتجاجی مظاہروں، مذمتی بیانات اور قانونی کارروائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ  کی ناموس پر کسی قسم کا حملہ بغیر کسی مسلکی اختلاف کے ایک ناقابل برداشت عمل ہے۔ اور اس کے پیچھے کارفرما عناصر کی نشاندہی بہت ضروری ہے۔

پچھلے دنوں ہندوستان میں اردو صحافت سے وابستہ فیس بک  کے دوست نے اپنے ایک اخباری کالم میں اسے پاکستانی اداروں کی سازش قرار دے کر سازش کے اصل محرک کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں اس مضمون کو ہندوستانی جبر کے ماحول میں مسلمان دانشوروں کی مجبوری خیال کرتا ہوں اور اس بے ہودگی کی بجائے اصل محرک کی طرف قارئین کی توجہ دلانا چاہوں گا۔

وسیم رضوی نام کا شخص کوئی عوامی رہنماء، مذہبی سکالر یا دانشور اور علمی شخصیت نہیں ہے کہ جس کے خیالات کو کسی خاص فرقہ یا مسلمانوں کی رائے تسلیم کیا جائے بلکہ وہ اترپردیش کے ہندو قوم پرست رہنماء یوگی ادتیہ ناتھ کی نظر کرم سے اہم سرکاری عہدہ پر براجمان ہوا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ ناصرف ایک ہندو قوم پرست ہے بلکہ فرقہ پرست فسادات میں ملوث ہندو یوا واہنی نامی تنظیم کا بانی بھی ہے۔ آر ایس ایس اور ہندو یوا واہنی کے تمام فساداتی تحریکوں میں صف اول کا لیڈر ہونے اور ہندو قوم پرستی کو اجاگر کرنے کے انعام میں بی جے پی نے اسے 2017 کے انتخابات کے بعد اتر پردیش کا وزیراعلیٰ منتخب کرایا۔

یوگی ادتیہ ناتھ جب یو پی کا حکمران بنا تو ہندوستانی عدالت کے  فیصلہ کی وجہ سے بابری مسجد کا معاملہ شدت اختیار کیے ہوئے تھا۔ لہٰذا یو پی حکومت کے زیر انتظام شیعہ وقف سینٹرل بورڈ کا چئیرمین وسیم رضوی جیسے ضمیر فروش انسان کو تعینات کر دیا گیا۔ اس وقت لکھنو کی شیعہ تنظیموں نے اس تعیناتی پر احتجاج بھی کیا لیکن ہندو توا کے مفادات کی خاطر اس تعیناتی کو برقرار رکھا گیا۔ اور پھر جلد ہی یو پی حکومت کے مکروہ عزائم مزید واضح ہوئے جب وسیم رضوی نے بابری مسجد کو شیعہ وقف سینٹرل بورڈ کی ملکیت قرار دے کر مسجد کی اس جگہ دوبارہ تعمیر سے دستبردار ہوتے ہوئے لکھنو میں متبادل جگہ پر تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا اور مندر کی تعمیر میں دس ہزار روپے اپنی طرف سے چندہ دیتے ہوئے ہر قسم کی قربانی دینے کا بھی وعدہ کیا۔ اس اعلان سے شیعہ سنی علماء اور عوام نے برأت کا اظہار کیا اور ایسے کسی بھی ممکنہ عمل کی صورت میں ملک گیر احتجاج کی دھمکی بھی دی۔ مزید شیعہ علماء نے اس مذموم حرکت کے رد میں عراق کے بزرگ مجتہد آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی سے فتویٰ بھی لیا۔ جسے وسیم رضوی سمیت یو پی حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے:   جانے کب ہوں گے کم، ہزارہ برادری کے غم

وسیم رضوی اور یوگی ادتیہ کی شرانگیزیاں جاری رہیں اور رضوی نے اسلامی مدارس کو دہشت گردی کے مراکز کہتے ہوئے انہیں بند کر کے سکول بنائے جانے کی درخواست وزیراعلیٰ کو بھجوا دی جسے وزیراعلیٰ نے مرکزی کونسل کو بھجوا دیا۔ اس پر اہل سنت علماء نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ اور تمام مسالک کے علماء کی مشترکہ کنونشن میں اسلامی مدارس پر لگائے الزام کو رد کیا گیا۔ اس کے بعد یورپی صحافیوں کی ایک ٹیم کو مدارس کا دورہ کرا کے ان الزامات کی نفی بھی کی گئی۔ یوں مسلمانوں میں تفریق اور فسادات کی دونوں کاوشیں اپنے انجام کو پہنچی۔

مرکزی حکومت کے انتخابات سے پہلے رضوی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا جب اس نے رام جنم بھومی نامی فلم ریلیز کرنے کا اعلان کیا۔ کہتے ہیں کہ اس فلم میں ناصرف اسلامی نظریات کا مزاق اڑایا گیا بلکہ ہندو مسلم فسادات کی کوشش بھی کی گئی۔ مسلمان علماء اور عوام کی طرف سے فلم پر پابندی عائد کیے جانے کی درخواست کی گئی لیکن فلم ریلیز ہوئی مگر خوش قسمتی سے بری طرح فلاپ ہوئی اور طے شدہ مقاصد حاصل کرنے میں یہ شر پسند بری طرح ناکام رہے۔ اس کے بعد مجلس علمائے ہند کے جنرل سیکرٹری مولانا کلب جواد نے وسیم رضوی کو خارج از اسلام قرار دیا اور کہا کہ ان شرانگیزیوں کے پیچھے ہندو توا اور ہندو فرقہ پرست رہنماؤں کا ہاتھ کارفرما ہے۔ اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق نے بھی مجلس علمائے ہند کے اعلامیہ کی توثیق کی۔

یہ بھی پڑھئے:   سوچنے کا وقت گزر چکا!

اب جبکہ ہندوستان میں کشمیری مسلمانوں پر کیے جانے والے ظلم و ستم پر بے قراری پائی جاتی ہے تو ایسے موقع پر آر ایس ایس کے اس دلال وسیم رضوی کی طرف سے ام المومنین پر بنائی جانے والی فلم ریلیز کیے جانے کا اعلان یقیناً مسلمانوں کو فرقہ وارانہ فسادات میں دھکیل کر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی کوشش ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے تمام شیعہ سنی رہنماؤں کی طرف سے اس مذموم حرکت کی مزمت کی گئی ہے۔ اور ایسا کوئی بھی عمل توہین رسالت ﷺ قرار دیا ہے۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں جامعہ کوثر کے زیر انتظام شیعہ علماء کے ایک کنونشن میں اس فلم کو توہین رسالت ﷺ اور مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش قرار دیا گیا ہے۔

Views All Time
Views All Time
1047
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: