Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

“ایک چپ سو دکھ” آدم شیر کا افسانوی مجموعہ

Print Friendly, PDF & Email

ایک چپ سو دکھ آدم شیر صاحب کا افسانوی مجموعہ ہے۔ ویسے تو یہ مقولہ مشہور ہے کہ”ایک چپ سو سکھ”۔ لیکن ایک چپ ایسی بھی ہوتی ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کاٹتی رہتی ہے۔ جس سے جذبات میں خاموش اور گہرا طلاطم پیدا ہوتا ہے۔ ایسی چپ بظاہر تو انسان کو پرسکون دکھاتی ہے لیکن انسان اندر ہی اندر گھلتا رہتا ہے۔ خاص طور پر ایسا شخص جو اپنے اردگرد ہونے والے ظلم، زیادتی، حادثات اور واقعات کو اپنی تمام تر حساسیت کے ساتھ محسوس کرتا ہو۔ آدم شیر صاحب بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔ چونکانا اور کچھ الگ کر دکھانے کا شوق ان میں نظر نہیں آتا۔ ان کی کہانیاں اور نثر نگاری انتہائی سادہ لیکن مشاہدے میں گہرائی نظر آتی ہیں۔ وہ سادہ لیکن روایتی لاہوری زبان کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں پرانے لاہور کے لوگوں کی محرومیوں، تکلیفوں، رہن سہن اور سوچ کے انداز سے آگاہ کرتے ہیں۔ جو اس لاہور سے بہت مختلف ہے جو زندگی کی تمام تر تیز رفتاری اور رنگینیوں کو اپنے اندر سموئے دوڑتا بھاگتا نظر آتا ہے۔ آدم شیر کے افسانے پڑھتے ہوئے ایک ایسے باپ کا تصور ابھرتا ہے جو اپنے بلکہ سب کے بچوں کے لیے فکر مند رہتا ہے۔ ایک ایسے انسان کا تصور ابھرتا ہے جو انسان نما مخلوق کو عزت دینے کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ عورت کو معاشرے میں عزت دینے کی التجا کرتے نظر آتا ہے۔ ایسا شہری ہمیں نظر آتا ہے جو دہشت گردی کا شکار ہونے والے اپنے بھائیوں کے لیے فکر مند نظر آتا ہے۔

افسانہ دُبدھا میں والدین کی ترجمانی کرتے ہوئے جب بارہ دری کے قریبی سکول کے چار بچوں کو خون کی چھپڑی میں کانے مارتے دیکھ کر ایک باپ پریشان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو لے کر کہاں جائے۔ کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں کم از کم بچے بچے تو رہیں۔ آج ہر طرف جب بچوں کے ساتھ ہونے والے حادثات کی خبر ملتی ہے تو ایک دفعہ والدین سوچتے تو ہوں گے کہ وہ کس ماحول، کس معاشرے میں اپنے بچوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ دُبدھا والدین کی معاشرے کے بارے میں اس کشمکش کو ہمارے سامنے خوبصورتی سے پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ دُبدھا کے علاوہ ہیولا ایک ایسا افسانہ ہے جس میں قاری کو جکڑ لینے کی تمام خوبیاں ہیں۔ ایک خرادیہ کیسے اپنے لخت جگر کو ایک بڑے ہسپتال میں لے جا کر بھی بچا نہیں پاتا۔ ایک ماں جو وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے ایمبوبیگ سے اپنے بچے کی سانسیں بحال کیے رکھنے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے۔ یہ سب مناظر ہیولا کو دل دہلا دینے والی لکھت بنا دیتے ہیں۔ ایمبوبیگ چلانا کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب آپ نے ایمبوبیگ چلایا ہو۔ مختلف قسم کے وہموں، سوچوں اور پریشانیوں میں گھرے ہوئے جب آپ کے ہاتھ میکانکی انداز میں اس ایمبوبیگ کو دبا رہے ہوتے ہیں جس سے آپ کے کسی پیارے کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ تو آپ کا وجود تو وہاں موجود ہوتا ہے لیکن آپ کی سوچ وہاں نہیں ہوتی اور جب کسی کے بلانے اور ہلانے پر آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کہاں بیٹھے ہیں۔ اس وقت آپ خود کو تھکے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی آپ کی مدد کے لیے آئے تو آپ اخلاقی طور پر بھی انکار نہیں کر سکتے بلکہ فوراً ایمبوبیگ اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ایک ماں پتا نہیں کن سوچوں اور وسوسوں میں گم اپنے لخت جگر کو مصنوعی سانس دیتی ہو گی۔ یہ تو ایک ماں کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔ پھر اس ماں پر پتا نہیں کیا بیتی ہو گی جب نرس نے اسے کہا کہ ”بچے کا دل گھٹا نہیں ڈوب گیا تھا“۔ یہ دل ڈوب جانا کی ترکیب خوب ہے جیسے دل کوئی بڑا گھڑیال ہو یا کوئی انجن ہو جس جوں دور دور ہوتے جائیں تو آواز کم ہونے سے زیادہ دور کہیں ڈوبتی محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا سعودی نوازی ، تکفیر ازم، جہاد ازم و اینٹی روشن خیال اقدامات پہ عسکری و سویلین قیادت میں اتفاق ہے؟ تجزیہ و تلخیص : مستجاب حیدر

آپ اگر افسانہ نگار کا نمائندہ افسانہ ایک چپ سو دکھ پڑھیں گے تو آپ کو لاہور کے مشہور قہوہ خانے کے سامنے ایک بچہ لیٹا نظر آئے گا۔ جب اس بچے کو کہا جاتا ہے کہ دروازے سے دور ہو کر سو جاؤ کہ دروازہ کھلنے سے تمہاری نیند خراب ہو جاتی ہے تو اس کا جواب دل چیر دینے وال ہوتا ہے۔ ”ایتھے ٹھیک آں دروازے تھلیوں ہوا آندی اے“ـ اور اسی افسانے کے آخر میں ایک جگہ لکھا ہے ” میں نے اسے اُس بچے کی لاش بھی دکھائی جو ماں کے پیٹ میں تھا اور اس کی ماں کو نہ ناچنے پر گولی مار دی گئی تھی جو بچے کے دل کو جا لگی تھی۔ وہ بھاگ سڑی مرتے مرتے بھی باجا بجانے والے جیون ساتھی کی بچت کر گئی کہ اسے دو قبروں کے پیسے نہیں دینے پڑے“ـ اس سادہ انداز میں دل دہلا دینے والی حقیقتوں کو سامنے لانا بہت مشکل ترین کام ہے جس میں آدم شیر ہر جگہ کامیاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

“انسان نما” اور “دس ضرب دو برابر صفر” ایسے افسانے ہیں جو ہم کو انسانیت کے احترام، عورتوں اور ہیجڑوں سے روا رکھے گئے سلوک کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ انسان نما کا کردار رفیق ہمیں جہاں یہ سمجھاتا ہے کہ اگر شبیر جیسے انسان نما لوگوں کی مدد کی جائے تو وہ بھی عام انسانوں کی طرح زندگی میں پڑھ لکھ کر اچھے عہدوں پر پہنچ سکتے ہیں تو دوسری طرف اس درمیانی مخلوق کو ان کی تمام تر خامیوں کے ساتھ قبول کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ افسانہ والدین کو ہمت دیتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہیجڑوں کی ٹولیوں کو دے دینے کی بجائے ان کی ہمت بن کر ان کا ساتھ دیں گے تو وہ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ دس ضرب دو برابر صفر کی بلو جو کہ گھر سے باہر کام کرتی ہے تو اسے گلی محلے کے بچے بھی ”بِلو ڈیڑھ بِلو ڈیڑھ سو“ پکارتے ہیں۔ جبکہ سارا دن محنت مزدوری کر کے گھر پہنچنے والی بِلو چیخ چیخ کر سب کو بتاتی ہے کہ وہ دو نمبر نہیں بلکہ وہ لوگ جو اس پر الزام لگاتے ہیں وہ دو نمبر ہیں بلکہ دس نمبر ہیں۔ بِلو کہتی ہے ” میں دو نمبر نئیں۔۔ دو نمبر تھانیدار۔۔۔۔ دو نمبر محلے دار۔۔۔ دونمبر میدا کنجر۔۔۔۔ وڈے آئے اک نمبر۔۔۔ میں دونمبر آں تے تسی دس نمبر کنجرو“۔ ایسے میں ماں کے پاس تھڑے پر بیٹھے بچے اور بچی کو دکھا کر جو کہ انجانے خوف سے ڈر اور سہم کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے بیٹھے ہیں۔ ایک کام کرنے والی خاتون کو تنگ کر کے ہم کس طرح اس کی آنے والی نسل کو خوف زدہ اور چڑچڑا بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   شپنگ شپانگ - گل نوخیز اختر

اپنی تمام تر حساسیت، سادگی اور روزی روٹی کمانے کے چکروں میں گھرے کرداروں سے ہٹ کر ارتعاش اور بھکاری جیسے افسانوں کے کردار ہمیں ریاستی ظلم اور دہشتگردی کی سفاکیت سے آشنا بھی کرواتے ہیں اور سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ارتعاش میں ایک جگہ دہشتگردوں کو پروانوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسے پروانے دوسروں کی جلائی ہوئی آگ میں جل کر خود کو ختم کر دیتے ہیں۔بالکل ویسے ہی دہشتگرد بھی خود کو دوسروں کی جنگ میں استعمال ہو کر برباد کر لیتے ہیں۔ پھر افسانہ “بھکاری” کا بھکاری جو نائن الیون کے بعد قبائلی علاقوں میں ہونے والی تباہی کی تلخ تصویر پیش کرتا نظر آتا ہے۔ یہ تصویر اس قدر تلخ ہے کہ بھکاری کے ہر جواب میں گھلی کرواہٹ اپنی تمام تر شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ بے شک اگر کسی کے گھر پر میزائل گرا دیا جائے اور اس کا سب کچھ تباہ ہو جائے تو اس پر جو گزرتی ہے وہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ معاشرے کی سنگ دلی اور دوغلاپن دکھاتے ہوئے بھکاری کہتا ہے ”یہاں لوگ حق دار کو اس کا حق نہیں دیتے لیکن بھیک دے دیتے ہیں“ـ

مجموعی طور پر آدم شیر صاحب اندرون شہر کے باسیوں کی زندگیوں میں پائی جانے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ مجبوریاں بس اندرون لاہور کے رہنے والوں کی ہی نہیں بلکہ وہ معاشی، معاشرتی اور فکری مجبوریاں ہر جگہ کے رہنے والے غریب طبقے کو دیکھنا پڑتی ہیں۔ جن حالات و واقعات کا ذکر آدم شیر صاحب کرتے ہیں وہ صرف اندرون لاہور تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی المیہ ہے۔ اکثر پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اندرون شہر کی زندگیوں پر بات کرتے ہوئے لکھاری کی قلم میں عجیب روانی در آتی ہے۔ وہ ایسے اندرون لاہور کی تصویریں دکھانا شروع کرتا ہے۔ جہاں کئی راجے مہاراجے اور بادشاہ اپنے تمام تر جاہ وجلال کو پیچھے چھوڑ کر ویران قبروں میں پڑے ہیں۔ جہاں وینٹی لیٹر جیسی مشینیں نہیں ہیں۔ جہاں بچوں کی حساسیت اور ان کا بچپنا ختم ہو گیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہانی لکھنا اور اس کو محسوس کر کے پڑھنا بہت تکلیف دہ اور مشکل کام ہے۔ لیکن اس کہانی پر بات کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ آدم شیر کی کہانیاں بھی ایسی ہی ہیں۔ جو بات کرنا بظاہر تو آسان ہے لیکن ان کہانیوں کو محسوس کر کے اس پر سوچنا بہت کٹھن کام ہے۔ یہ کہانیاں نہایت سادہ زبان اور تکنیکی اعتبار سے روایتی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ خاص کر جس روایتی پنجابی زبان کو استعمال کیا گیا ہے وہ نثر کی خوبصورتی بڑھا دیتی ہے۔ اس شاندار آغاز کے بعد امید کرتے ہیں آدم شیر صاحب اپنے قلم سے مزید سادہ لیکن حقیقت سے سےقریب تر کہانیاں لکھتے رہیں گے۔

Views All Time
Views All Time
294
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: