Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ایک کروڑ نوکریاں فری لانسنگ کے بغیر ممکن نہیں

Print Friendly, PDF & Email

عمران خان کو اس مقام تک پہنچانے میں اہم ترین کردار نوجوانوں کا ہے۔ تحریک ِانصاف کے نوجوان آپ کو دیگر جماعتوں کی نسبت کہیں زیادہ متحرک‘ باشعور اور پڑھے لکھے نظر آئیں گے۔ یہ وہ نوجوان ہیں‘ جنہیں سب برگر کلاس کہتے تھے‘جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ لوگ ووٹ دینے کے لئے باہر نہیں نکلیں گے‘ جو پولیس کے ڈنڈے اور ماریں کھانے سے گھبرائیں گے اور جنہیں سیاست کے اسرار و رموز کی خبر نہیں۔ انہی نوجوانوں نے ثابت کر دیاکہ وہ ملک کی بہتری کے لئے ہر مشکل برداشت کر لیں گے او ر اگر آج نہیں کریں گے‘ تو آنے والا کل ان کے لئے پہلے سے برے حالات لائے گا۔ انتخابات میں ساڑھے دس کروڑ ووٹرز رجسٹرڈ تھے ‘جن میں سے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ نے ووٹ ڈالا ۔ ان میں سے ساڑھے چار کروڑ نوجوان ووٹرز تھے۔ تحریک ِانصاف کو قریباً ایک کروڑ چھیاسی لاکھ ووٹ ملے۔ ان ووٹوں میں غالب اکثریت انہی نوجوانوں کی تھی اور عمران خان سے سب سے زیادہ امید بھی انہیں نوجوانوں کو ہے۔ فی الوقت نوجوانوں کے لئے سب سے سنگین مسئلہ کیریئر پلاننگ اور روزگار کا حصول ہے۔

ملک میں قومی سطح پر کیرئیر پلاننگ کا کوئی شعبہ اور ادارہ موجود نہیں اور اگر کسی صورت میں موجود ہے تو فعال نہیں۔ نوجوان بھی ڈگری لینے کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور یہ دیکھے بغیر کہ ان کا رجحان کس طرف ہے‘ مارکیٹ میں طلب کی چیز کی ہے اور آئندہ دور کی ضروریات کس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں‘ وہ دیکھا دیکھی مضمون کا انتخاب کر کے دھڑا دھڑ سولہ جماعتیں پاس کر لیتے ہیں اور جب مارکیٹ میں جاب نہیں ملتی‘ تو پھر دبائو میں آ جاتے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان تعلیم نوکری کے لئے حاصل کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہ جانے کس نے دلایا ہے کہ نوکری کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔ اس معاملے میں وہ غلطی پر ہیں۔ آج کل روزگار کے انداز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ پوری دنیا میں انٹرپینور شپ کا کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اس میں آپ اپنی تعلیم‘ ہنر اور تجربے کو استعمال کر کے اپنے ساتھ دوسروں کے لئے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔ میں گزشتہ کالموں میں بیان کر چکا ہوں کہ اب دفاتر میں جا کر نو سے پانچ کام کرنے کا کلچر زوال پذیر ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ فری لانسنگ نے لے لی ہے۔

بعض لوگ سمجھتے ہیںفری لانسنگ یونہی کوئی مذاق یا غیر سنجیدہ کام ہے ‘اس میں پیسے نہیں کمائے جا سکتے اور یہ سب فراڈ ہے۔ یہ تینوں باتیں درست نہیں۔ دنیا میں اس وقت ایک سو پچانوے کے قریب ممالک ہیں۔ ان میں سے امریکہ‘ چین‘ روس‘ جاپان‘ برطانیہ وغیرہ دنیا کی بڑی طاقتیں شمار کی جاتی ہیں۔ دنیا کی کل آبادی ساڑھے سات ارب ہے۔ اس میں سے ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں۔ ان ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے بیس کروڑ پاکستان میں رہتے ہیں اور پاکستان فری لانسنگ میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ پہلے نمبر پر بھارت ہے۔ چوبیس فیصد فری لانسرز بھارتی ہیں۔آپ حیران ہوں گے بھارت صرف فری لانسنگ سے چار سو ارب ڈالر سالانہ کما رہا ہے‘ جبکہ پاکستان کی کل برآمدات بیس ارب ڈالر ہیں۔ بھارت میں فری لانسرز کی بڑی تعداد ریٹائرڈ افراد اور خواتین پر مشتمل ہے۔ یہ طبقہ ہر ملک میں بڑی تعداد میں موجود ہے۔ بھارت میں بھی خواتین کیلئے نوکری کرنا انتہائی دشوار گزار عمل ہے؛ چنانچہ خواتین دھڑا دھڑ فری لانسنگ کو اپنا رہی ہیں اور نہ صرف معقول آمدنی کما رہی ہیں‘ بلکہ ملک کیلئے کثیر زرمبادلہ کا بھی سبب بن رہی ہیں۔ اسی طرح ساٹھ برس سے عمر کے بعد کے افراد سوتے جاگتے‘ ڈانٹتے کھانستے وقت سے پہلے لحد تک پہنچ جاتے ہیں۔ ویسے بھی جب انسان کام نہ کرے تو چاہے وہ کسی عمر کا بھی ہو بہت جلد بیمار پڑنے لگتا ہے۔ آپ شو روم سے نئی گاڑی خریدیں گے اور اسے تین چار مہینے کے لئے گیراج میں کھڑی کر دیں گے‘ تو وہ بھی زنگ آلود ہو جائے گی؛ چنانچہ ریٹائرڈ حضرات کے لئے فری لانسنگ مصروفیت کی مصروفیت اور کمائی کی کمائی ہے۔

فری لانسنگ میں دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش ہے‘ یعنی دنیا کے ہر جدید اور ایٹمی ممالک سے آگے۔ اس کے فری لانسرز کل تعداد کا سولہ فیصد ہیں۔بنگلہ دیش میں اوسط تنخواہ چھ ہزار روپے ہے‘ جبکہ فری لانسنگ کرنے والوں کی اوسط ماہانہ آمدن اٹھاسی ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ تیسرے نمبر پر ہمارا محبوب ملک امریکہ ہے۔ وہی ملک جس سے آدھی دنیا ڈکٹیشن لیتی ہے اور جو جب چاہے جس پر چاہے چڑھ دوڑتا ہے۔ یہ ملک پورا براعظم ہونے کے باوجود تیسرے نمبر پر ہے۔امریکہ میں ساڑھے پانچ کروڑ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں‘ جو امریکہ کی کل ورک فورس کا پینتیس فیصد بنتے ہیں۔ ایک امریکی سروے کے مطابق یہ تعداد 2028ء تک چوراسی فیصد ہو جائے گی‘ یعنی صرف دس سال بعد امریکہ میں دفاتر میں جا کر کام کرنے والے صرف سولہ فیصد افراد ہوں گے۔ چوتھے نمبر پر پاکستان ہے۔ اس کی ایک وجہ یہاں کے نوجوانوں کی تعداد اور بیروزگاری ہے۔ اسی فیصد نوجوان انٹرنیٹ سے سیکھ کر خود سے فری لانسنگ کر رہے ہیں۔ بقایا بیس فیصد ای روزگار پروگرام سے تربیت حاصل کر کے اٹھارہ ماہ میں چار کروڑ روپے کما چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی سے حیران کن طور پر ای روزگار کی تین ماہ کی تربیت لینے والے ایک سو ستر نوجوان لڑکے لڑکیوں نے دوران تربیت 67لاکھ ڈالر کمائے۔ ان میں دو نوجوان ایسے تھے جن میں سے ایک نے گیارہ لاکھ اور دوسرے نے چار لاکھ کمائے۔ پاکستان فری لانسنگ سے اس وقت ایک بلین ڈالر کما رہا ہے‘ جو بھارت کے مقابلے میں چار سو گنا کم ہے‘ جبکہ پاکستان میں نوجوانوں کی سکلز اور جذبہ بھارتیوں سے چار سو فیصد زیادہ ہے۔ پانچویں نمبر پر فلپائن ہے۔ فلپائن میں سڑکوں اور ذریعہ آمدورفت کی خراب صورتحال کی وجہ سے لوگوں نے گھروں سے کام شروع کر دیا اور یوں فلپائن پانچویں نمبر پر آ گیا۔ چھٹے نمبر پر برطانیہ ہے۔وہاں یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ستاسی فیصد طلبا اسے بطور کیریئر اپنا رہے ہیں کیونکہ نوکری کے بعد فوری طور پر جاب اب وہاں بھی نہیں ملتی چنانچہ طلبا فری لانسنگ شروع کر دیتے ہیں اور ان میں سے پچانوے فیصد شاندار آمدنی کی بنا پر مستقل فری لانسرز بن جاتے ہیں؛چنانچہ اس سارے منظر میں ایشیا آگے نکلتا دکھائی دیتا ہے ۔

تحریک ِانصاف کی حکومت اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کرے اور ایچ ای سی کے ذریعے ای روزگار جیسے منصوبوں کو تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنا دے تو چند ہی برسوں میں پاکستان فری لانسنگ میں پہلے نمبر پر پہنچ سکتا ہے‘ جس سے ہماری برآمدات کئی گنا بڑھ سکتی ہیں اور ہمارے سارے قرضے بھی اتر سکتے ہیں۔فری لانسنگ کو قومی سطح پر فروغ دیا جائے تو یہ پہلے تین برسوں میں ہی ملک کی حالت یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے‘ اگر بھارت جیسا ملک چار سو ارب ڈالر کما سکتا ہے‘ تو ہم کیوں نہیں؟ ہمارے نوجوانوں میں کیا کمی ہے؟ ہمارے کئی نوجوان تو سالانہ بارہ کروڑ سے بھی زائد کما رہے ہیں۔ ان سے بھی نہ جانے کتنے ٹیلنٹڈ نوجوان ایسے ہوں گے‘ جو اس سے بھی زیادہ کما سکتے ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان سے زیادہ ذمہ داری اب تحریک ِانصاف کے رہنما اسد عمر کی ہے۔ وہ یقینا اسحاق ڈار کی جگہ لینے جا رہے ہیں۔ اگر وہ واقعی تبدیلی کو عملی شکل میںلاگو کرنا چاہتے ہیں ‘تو پھر انہیں یہ قدم اٹھانا ہی ہو گا۔ اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ ہے نہ راستہ۔آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج لینا ‘اگر مجبوری بھی ہے تو یہ عارضی اقدام ہو گا ‘ زیادہ فوکس مڈ ٹرم اورلانگ ٹرم اہداف کے حصول پر کرنا ہو گا‘ وگرنہ سابق اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ تحریک ِانصاف کو مرکز اور صوبوں میں حکومت سنبھالتے ہی فری لانسنگ پراجیکٹ کی فزیبیلٹی پر کام کرنا ہوگا۔ صرف بیروزگار ہی نہیں باروزگار افراد بھی مہنگائی کی وجہ سے کم تنخواہوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ ہر گھر میں تین چار لوگ فارغ بیٹھے ہیں۔ ان سب کو ورک فورس میں بدلے بغیر ملکی حالت نہیں بدلی جا سکتی۔ اکیلا عمران خان جادو کا چراغ رگڑ کر تبدیلی نہیں لا سکتا‘ اس کیلئے ہر فرد کو چینی عوام کی مانند کام کرنا اور اپنا حصہ ڈالنا ہو گا اور میں دعوے سے کہتا ہوں ‘تحریک ِانصاف کیلئے ایک کروڑ نوکریوں کا ہدف فری لانسنگ کے بغیر پورا کرنا ممکن نہیں۔

 بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
370
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   یونیورسٹی سب کیمپسز کے گورکھ دھندے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: