Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

زید ؒ شہید بن امام زین العابدین ؑ

Print Friendly, PDF & Email

امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزندوں میں امام محمد باقرؑ کے بعد سب سے زیادہ نمایاں حیثیت جناب زیدؒ شہید کی تھی ۔آپ بلند قامت، حسین اور پروقار شخصیت کے حامل انسان تھے۔انہوں نے اپنے والد گرامی اور بھائی کے زیر سایہ علم و معرفت کی منازل طے کیں۔تیرہ سال کی عمر میں قرآنی علوم میں دسترس حاصل کی اور “حلیف القرآن” کا لقب حاصل کیا۔ آپ نے دین مبین کی سر بلندی کے لیے حجاز ،شام اور عراق کا سفر کیا۔جناب زیدؒ، امام زین العابدین ؑ کے فرزند تھے ۔ ان کی والدہ کا نام حوریہ تھا جنہیں جناب مختار نے امام زین العابدینؑ کی خدمت میں پیش کیا تھا ۔ زیدؒ نے ہشام کے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ ہشام کی چال بازی سے زید کا یہ عالم ہوگیا کہ چالیس ہزار کی فوج میدان جنگ تک صرف 88 نفر رہ گئی ۔
حضرت زیدؒ بن علیؑ کی آمد امام زین العابدین علیہ السلام کے بیت الشرف واقع مدینہ منورہ میں ہوئی۔ ان کی تاریخ ولادت پرمختلف مورخین کے درمیان اختلاف رائے موجود ہے ۔ شیخ مفید اپنی کتاب مسارالشیعتہ میں ان کا سال شہادت اول ماہ صفر 121ھ لکھا۔ مشہور کتاب مسند امام زید جو کہ حضرت زیدؒ بن علی کی شرح احوال کے بارے میں ہے اس میں آپ کا سال ولادت با سعادت 76 ھ جبکہ سال شہادت 122ھ درج ہے۔اس طرح آپ کی عمر 46 سال بنتی اور زیدی سادات اس کو درست تسلیم کرتے ہیں اور یہی تاریخ قرین قیاس ہے۔

حضرت زیدؒ بن علی کے القابات شہید

  • حلیف القرآن
  • زیدالازیاد
  • عالم آل محمّد
  • فقیہ اہلبیت

حضرت زید بن علی شہیدؒ کی زوجہ محترمہ
حضرت ریطہ بنت محمدحنفیہ۔ زیدابن علی نے مولا علی مشکل کشا ، شیر خدا کی پڑپوتی سیدہ ریطہ دختر سیدنا ابو ہاشم عبداللہ فرزند حضرت محمد حنیفہ بن امام علی سے عقد فرمایا ۔ اس طرح ان کا سلسلہ تین واسطوں سے حضرت علی علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ حضرت ریطہ کا شمار خاندان ہاشمی کی معزز اورمحترم خواتین میں ہوتا ہے۔ ان کی شہادت کوفہ کے ظالم اور جابر حاکم یوسف بن عمر کے ناپاک ہاتھوں سے ہوئی۔اس ظالم حاکم نے حکم دیا تھا کہ حضرت زید کی زوجہ محترمہ پر کوڑے برساۓ جائیں۔تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ اس قدر کوڑے لگائے گئے کہ آپ کا جسم مبارک زخموں سے لہو لہان ہو گیا ۔اس طرح اس شدید زخمی حالت میں ان کو کوفہ شہر سے باہر پھینک آنے کا حکم دیا گیا ۔ یوں خاندان بنی ہاشم کی یہ بہادر اور نڈر خاتون اپنےاجداد اور شوہر نامدارحضرت زیدؒ بن علیؑ شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین حق کی بقا کے لئے شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے:   صادقِ آلِ محمدؑ

کئی بارعلوی سادات نے اپنے اپنے زمانے کی حکومتوں کے ظلم و ستم اوردباؤ کے خلاف تحریکیں شروع کیں لیکن ان کو ہر بار شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور آخر کار اس راہ میں اپنی جان کی بازی لگاتے رہے۔ اس وقت کی حکومتوں نے ان کے جان ومال کو پامال کرنے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی تھی ۔ قابل ذکر ہے کہ سنہ 61 ھ کے واقعہ کربلا کے بعد مسلمانوں میں حق پسندی کا جذبہ بیدار ہوا ۔وہ بنی امیّہ کی ظالم اور فاسق و فاجر حکومت کے خلاف جد و جہد کے لئے بے تاب رہتے تھے اور جہاں انہیں کوئی رہبر ملتا تھا حکومت کے خلاف تحریک شروع کردیتے تھے ۔چنانچہ اس جانگداز واقعے کے بعد متعدد انقلابی تحریکیں سامنے آئیں جن میں صرد خزاعی کی قیادت میں توابین کی تحریک اور امیر مختار کی قیادت میں خون حسین علیہ السلام کے انتقام کی تحریک کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ان تمام انقلابی تحریکوں کا مقصد بنی امیہ کی ظالم حکومت کا خاتمہ کرنا تھا ۔ انہوں نے بنی امیہ کے ظلم وستم کا مقابلہ کرنے اور انقلاب امام حسین علیہ السلام کے ثمرات کے تحفظ کے لئے بنی امیہ کی حکومت کے خلاف تحریک کو جاری رکھا ۔ تاریخ میں رقم ہے کہ جب دوران جنگ زیدؒ بن علیؑ کہ پیشانی پر تیر لگا ۔لوگ ان کو ایک گھر میں اٹھا لے گئے اور انھوں نے وفات پائی اس طرح ٢ صفر 121 ھ کو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند حضرت زیدؒ شہید ہوئے ۔ تاریخ ابن الوردی میں ہے کہ عراق کے والی یوسف بن عمر ثقفی نے زید شہید کا دھڑ سولی پر چڑھا دیا دشمن کا جذبہِ انتقام اتنے ہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ دفن ہونے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکالاگیا اور سر کو جدا کرکے ہشام بن عبد الملک کے پاس بطور تحفہ بھیجا گیا ۔ایک روایت کے مطابق ہشام نے سر زید شہید دس ہزار درہم انعام کے طور پر دیئے اور لاش کو دروازہ کوفہ پر سولی پر آویزاں رکھا گیا ۔ تاریخ خمیس میں ہے کہ جب زید شہیدؒ کا برہنہ جسم دار پر چڑھا یا گیا تو مکڑی نے جالا لگا کر ان کی شرم گاہ کو چھپادیا۔ اس کے بعد لاش کوسولی سے اتار کر آگ میں جلا دیا گیا اور راکھ کو ہوا میں اڑا دیا گیا- جناب زید شہید کی شہادت کے ایک سال بعد ان کے بیٹے یحییٰ ابن زیدؒ بھی شہید ہوگئے ۔ اصابہ ابن حجر عسقلانی میں بروایت کوکبی سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ حکیم بن عیاش کلبی آپ لوگوں کو ہجو کیا کرتا ہے ۔ حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تجھ کو اس کا کچھ کلام یاد ہو بیان کر۔ اس نے دوشعر سنائے ( جن کا حاصل مقصود یہ ہے کہ) ہم نے زید کو شاخ درخت خرمہ پر سولی دیدی حالانکہ ہم نے نہیں دیکھا۔

یہ بھی پڑھئے:   شہر کوفہ کا محض ایک آدمی

جناب زید شہید ہوگئے اور ظالموں نے ان سر کاٹ کر ہشام کے پاس دمشق بھیج دیا ۔ وہاں یہ سر صدر دروازے پر معلق رہا ۔ اس کے بعد لاش کو سولی دی گئی اور پھر سولی سے اتار کر در کوفہ پر لٹکا دیا گیا ۔ اور چار برس تک مظالم کا یہ سلسلہ جاری رہا ۔ یہاں تک کہ لاش کو نذر آتش کردیا گیا ۔ دنیا کہتی ہے کہ واقعہ کربلا میں اتنے مظالم نہیں ہوئے ۔

روایات میں ہے کہ ہشام بن عبدالمالک کے حکم پر آپ کا سر مبارک تن سے جدا کیا گیا جب آپ کے سرمبارک کو آپ کے ساتھیوں کے سروں کے ہمراہ پہلے شام اور شام سے مدینہ لایا جا رہا تھا تو مدینہ کے راستے میں اردن میں حجاز اور شام کو متصل کرنے والی قدیم سلطنتی شاہراہ پر واقع موتہ کے شمال میں 22 کلو میٹر کے فاصلے پر قدیم شہر رومی میں واقع قصبہ میں جناب زید شہید کا سر مبارک کےدفن کا مقام ہے جس کا نام” ربہ” ہے جہاں حجاز اور شام کو متصل کرنے والی قدیم سلطنتی شاہراہ گزرتی ہے۔ مزار پر نصب ایک پتھر کی تختی پر کندہ تھا کہ یہ قبر مبارک زید بن علی علیہ السلام بن حسین علیہ السلام بن علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے جسے بندہ حقیر سلمان قانونی نے تعمیر کیا۔ یہ پتھر کی سل اب تک شہداء موتہ کے مزارات کے میوزیم میں موجود ہے۔ اس روایت کی مقامی افراد اب تلک تصدیق کرتے ہیں۔ معتبر تواریخ بھی اس بات کی تائیدکرتی ہیں کہ آپ کا سر مبارک مدینہ پہنچنے سے پہلے دفن ہوا۔ ان سروں کے دفن ہونے کےبعد یہ مقام مسلمانوں کے مبارک قبرستان میں تبدیل ہو گیا۔جہاں اب بہت سی شخصیات دفن ہیں۔ مصدقہ حوالوں کے مطابق فاطمی حکومت کے عہد میں یہاں روضہ تعمیر کیا گیا اور جس کی تجدید عثمانی حکومت کے سلطان سلیمان قانونی نے کی۔

Views All Time
Views All Time
325
Views Today
Views Today
5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: