Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بلاول کے صدقے – ذوالفقار علی

by اکتوبر 31, 2016 بلاگ
بلاول کے صدقے – ذوالفقار علی
Print Friendly, PDF & Email

weeping-bilawalکوئی عجیب لمحہ تھا۔کرب سے چھلکتا ہوا، درد سے لبریز اور ہجر کی مسافتوں میں کالی راتوں اور طوفانوں کا امین۔ بلاول جب رویا تو ایسے لگا جیسے کربل کا درد میرے وجود کی نس نس میں اتر کر مجھے چیر پھاڑ رہا ہو۔میری روح لرزاں و خونچکاں بیاباں زرد صحرا میں ماتم کناں ہو کر اپنے آپ کو لہولہان کر رہی ہو۔میری بوڑھی ماں نے جب بلاول کو یوں روتے دیکھا تو بے اختیار بھرائی ہوئی آواز سے کہا "تیڈے صدقے تھیواں ” اس کے بعد اس میں یہ ہمت نہ رہی کہ آگے کچھ بول سکے بس وہ بے اختیار بلک بلک کے روتی رہی ۔ گھر میں سناٹا چھا گیا سب لوگ بے سدھ ہو کر اپنے اپنے غم میں ایسے گم ہوئےجیسے آس پاس کچھ بھی نہ ہو ۔۔صرف اپنی اپنی ذات کی تنہائی اور آنکھوں میں آنسووں کے نیر۔میں سوچنے لگا یہ سب کیا ھے آخر بلاول کے رونے سے ہم سب اس طرح کیوں غمزدہ ہو گئے؟
کافی دیر سوچتے سوچتے میں ماضی کے جھرونکوں میں کھو گیا میں نے دیکھا کہ یزید تخت پہ براجمان ہے اور اہل بیت پیاس سے نڈھال سچ کو پیت پریت کا پانی پلا رہےہیں۔ میں نے دیکھا یونان کے بادشاہ سقراط کو زہر کا پیالہ پلا رہے ہیں اور سقراط مسکرا کے آئین اور قانون کی بالا دستی کیلئےموت کو گلے سے لگا رہا ہے ۔ میں نے دیکھا جرمنی کی روسا لکسمبرگ جنگ کی تباہ کاریوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے پھانسی پہ چڑھ رہی ہے مگر اسے اپنی جان کی پرواہ نہیں ۔ میں نے دیکھا سوفی سکال ،نازی ازم کے خلاف بولتے ہوئے تختہ دار پہ مسکرا رہی ھے ۔میں نے دیکھا موہن داس گاندھی عام لوگوں کی قتل و غارت کو روکنے کیلئے نبرد آزما ھے اور اپنے ہی لوگوں کے بیہمانہ اقدام سے تڑپ تڑپ کے جان دے رہا ہے۔ میں نے دیکھا جمال عبدالناصر ،سید قطب کو اسلئے قتل کر رہا ھے کہ اس نے اسلام کو عام لوگوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ میں نے مارٹن لوتھر کنگ کو سماجی حقوق کی تحریک کو دوام بخشنے کے جرم میں موت کو گلے لگاتے دیکھا۔میں نے بھگت سنگھ کو جیل کی اذیتیں سہتا اور مسکراتے ہوئے پھانسی پہ چڑھتے دیکھا۔ میں نے 12 سال کے بچے اقبال مسیح کو بچوں سے جبری مشقت کرائے جانے کے خلاف لڑتے ہوئے موت کو گلے سے لگاتے دیکھا اور میں نے محترمہ بی بی کو ہنستے مسکراتے امام ضامن کے ساتھ موت کی آغوش میں جاتے دیکھا۔ ایسے کتنے لوگ تھے جو بے دردی سے مار دیئے گئے مگر کیوں؟
اس کیوں کا جواب ڈھونڈنے کیلئے اگر تاریخ کا جائزہ لیں تو ایک چیز جو اس قتال کے پیچھے مشترک ہےاور وہ ہے، "کسی خطے کے اصل حکمرانوں کا اپنے اپنے ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقتدار کو دوام بخشنا۔” مرنے والے درد اور نظریات کی جو میراث چھوڑ کر گئے وہ میراث ہر اس شخص کے روح میں رچی ہے جن کا ضمیر مرا نہیں، جو آج بھی انسانیت کو مقدم سمجھتے ہیں، جو اپنوں کی قربانی سے واقف ہیں، جو ان عظیم لوگوں کا احترام کرتے ہیں، جن کے حقوق کیلئے ان بے شمار لوگوں نے قربانیاں دیں۔
پھر ایک اور سوال میرے ذہن میں ابھرا کہ کیا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا؟ یوں ہی اس کرہء ارض پر بسنے والی عوام جبر، بربریت، بھوک اور آزادی سے محروم رہے گی؟ ہم یوں ہی مقتدر قوتوں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہیں گے؟ ہماری مائیں یوں ہی اپنے پیاروں کی لاشوں پہ ماتم کناں ہو کر بین کرتی رہیں گی؟ یوں ہی جعلی لیڈر ہماری نسلوں کے جذبات سے کھیل کر اپنے آقاوں کو خوش رکھنے کیلئے کبھی انصاف کے نام پر تو کبھی کرپشن کے نام پر لڑواتے اور مرواتے رہیں گے اور اقتدار میں آ کر پلٹی کھاتے رہیں گے؟ اور پھر ھم کسی اور مسیحا کی تلاش میں قتل ھونے کیلئے بطور نرسری استعمال ہوں گے؟؟؟؟
یہ سوچتے ہوئے میری نگاہ میرے بچوں پر پڑی جو میرے ساتھ بیٹھے پریشان نظر آ رہے تھے۔ میں نے انکی آنکھوں میں دیکھا تو مجھے صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ بچے بہت معصوم ہیں اور یہی معصومیت ان کا مقدر لے ڈوبے گی۔میں نے نظریں نیچی کر لیں تو میرے کانوں میں ٹی-وی کی آواز آئی جس پر ایک صاحب پریس والوں سے خطاب کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے پرویز رشید اتنا بھولا تو نہیں ہے اس کے پیچھے شاہی خاندان کی سازش ہے۔ میں نے دیکھا میرے بچے اس کی باتوں کو دھیان سے سن رہے ہیں اور بلاول کے آنسو کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔
میں اس صورتحال سے نمٹنے کی ترکیب سوچ رہا تھا تو میں نے اپنے اردگرد کا جائزہ لیا تو مجھے نصاب کی کتابیں نظر آئیں۔مجھے بھانت بھانت کے ٹی-وی اینکر نظر آئے۔ مجھے نام نہاد دانشور نظر آئے ۔ مجھے بڑے بڑے پیٹ والے ملا نظر آئے ۔مجھے فوجی نظر آئے جو سویلین سے حساب مانگ رہے تھے۔ مجھے کھلاڑی نظر آئے جو سلیوٹ کر رہے تھے اور پش اپس لگا کے خراج تحسین پیش کر ریے تھے۔ مجھے سکول کے اساتذہ نظر آئے جو مقامی زبان کو پسماندگی کا استعارہ سمجھ کر بچوں کو ماں بولی بولنے سے منع کر رہے تھے۔ مذہبی جنونی اپنے اپنے شہداء کو اسلام آباد میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آئے۔مجھے بنی گالا بھی دکھائی دے رہا تھا۔ مجھے رائیونڈ بھی نظر آ رہا تھا اور ایک جانب پنڈی کے ایوان بھی میرا منہ چڑا رہے تھے۔ دماغ میں یہ سب منظر گھوم رہے تھے اور میں چکرا کے گرنے والا تھا کہ میری سب سے چھوٹی بیٹی نے کہا بابا گڑھی خدا بخش کہاں ہے؟ میں نے اسے سینے سے لگایا اور کہا بیٹا میرے دل کی دھڑکن سن رہی ہو۔ اس نے کہا آپ کے دل میں ہے بابا ۔۔میں اس کا جواب دیئے بغیر اٹھ کر باہر چلا گیا۔

Views All Time
Views All Time
315
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا کتاب دوستی پاگل پن ہے؟ - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: