Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بلاعنوان – ذوالفقار علی

by نومبر 16, 2016 بلاگ
بلاعنوان – ذوالفقار علی
Print Friendly, PDF & Email

zulfiqar-aliپیارے پاکستانیو! کُڑھتے کیوں ہو ؟بچوں کی طرح کیا روز روز کا رونا روتے ہو ۔ خواہ مخواہ اپنی جان کھپاتے ہو حالانکہ ہم بطور "محب وطن فورس” اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دن رات مُلک کو عظیم سے عظیم تر بنانے میں لگی ہوئے ہیں۔
آپ کو پتا تو ہو گا اس مُلک کی حفاظت اور دیکھ بھال کا سارا کام نیشنل ایکشن پلان کے نام پہ ہم سورماؤں نے اپنے سر لے لیا ہے اور دن رات دُشمنوں کی کمر توڑنے میں ہمارے جانباز سپاہیوں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ اگرچہ را ، موساد اور این-ڈی-ایس نامی مکھیاں بھنبھناتی رہتی ہیں مگر ان مکھیوں کا بندوبست بھی ہم نے کر لیا ہے۔ ان کے تدارک کیلئے ہم نے وزیر اعلی بلوچستان اور وزیر داخلہ پاکستان کو متعین کیا ہوا ہے بہت جلد وہ مزید لمبی لمبی چھوڑ کر ان کا ناطقہ بند کر دیں گےپھر بھی آپ کو یقین نہ آئے تو ایشیئن ہیومن رائٹس کمیشن کی ہرزہ سرائی مُلاحظہ کر سکتے ہیں جس میں وہ الزام تراشیوں پہ اُتر آئے ہیں اور کہتے ہیں "جری روحوں” والوں نے شمالی وزیرستان نامی جنت میں ایک نامراد طالبان نامی "بے ضرر” مخلوق کو اسلحہ سپلائی نہ کرنے کے جُرم میں پورے بزنس سینٹر کو اُڑا دیا ہے۔ ان بد بختوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ تُم کون ہوتے ہو اسلام کے قلعے میں اپنی بانسری بجانے والے۔نا ہنجارو !باز آجاو ۔شاید آپکو علم نہیں کہ بینڈ بجانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ۔جب ہم بجاتے ہیں تو پھر بانسری کی آواز کوئی نہیں سنتا۔
کل ہم نے چائینا پاکستان اکنامک کوریڈور کا باقاعدہ آغاز کر کے اپنے نام کی تختی کُنداں کر دی ہے تاکہ سند رہے اور کوئی کسی شک میں مبتلا نہ رہے۔ یہ روڈ ہے روڈ، کوئی ایسی ویسی چیز نہیں جس کو نظر انداز کیا جا سکے۔ اس سیاہ رنگ کی سڑک کی برکات سے کالا دھن سفید ہو جائیگا۔ تقدیر کی سیاہ لکیریں مٹ جائیں گی اور ہر طرف دودھ کی نہریں بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے دل کو چیر کر آپکی دہلیز پر ہوں گی اور آپ انگشت بدنداں دیکھتے رہ جائیں گے۔
ارے نا شُکرو! بڑے مقصد کو پانے کیلئے چھوٹی چھوٹی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ہفتے میں ایک آدھ دھماکے میں جب بیسیوں لوگ مر جاتے ہیں تو سوشل میڈیا والے سر آسمان پہ اُٹھا لیتے ہیں حالانکہ ان عقل کے لٹھوں کو اتنا بھی نہیں پتا کہ طویل المدتی فائدہ اور تژویراتی گہرائی کے تناظر میں یہ قُربانیاں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ حالانکہ مرنے والے زندگی کی قید سے آزاد ہو کر پُھر کر کے جنت میں چلے گئے اور ادھر نا سمجھوں نے خواہ مخواہ "کاں کاں” مچا رکھی ہوتی ہے۔
شاہ نورانی لاہوتی والا واقعہ ہی دیکھ لیں، پچاس ، ساٹھ لوگ کیا مرے ان "مینڈکوں” نے سوشل میڈیا پہ اپنی ٹراں ٹراں سے آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے۔ حالانکہ شاعر مشرق نے کئی دہائیوں پہلے اس حادثے کا ادراک کر لیا تھا جس کو اکثر موقعوں پرمشہور خادم اعلی، قوم کو خواب غفلت سے جگانے کیلئے پڑھتے رہتے ہیں ، "اے طائر لا ہوتی! اس رزق سے موت اچھی”
مگر تمہارا وژن اُن جیسا کہاں جو تم اس نُکتے کی گہرائی پا سکو۔
ارے غدارو! اور اس وطن کے کُھلے دشمنو! اب جان لو ہمالیہ سے لمبا اور بحرالکاہل سے زیادہ "گہرا” دوست ہر قیمت پہ اس خطے کی تقدیر کو اُلٹ کے رکھ دے گا اور تُمہاری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جائیں گی پھر سمجھ آئیگی "گیم چینجر” تھیوری کی مگر اُس وقت سوائے پچھتانے کے ،تمہارے پاس کُچھ نہیں ہو گا اور تم صرف ہاتھ ملتے رہ جاو گے۔ بے شک عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں مگر تم نہیں سمجھو گے۔
ان نشانیوں میں سے ایک تازہ نشانی ہم نے گورنر سندھ کے طور پر عیاں کی ہے تاکہ تُم عبرت پکڑ سکو کہ ایک نحیف و ناتواں جسم پورے صوبے کا انتظامی بھار اپنے کندھوں پہ اُٹھا کے داخل ہسپتال ہے مگر اُس مرد نے اُف تک نہیں کی۔ ایک تُم ہو ہٹے کٹے ہڈ حرام ۔ ملک کیلئے عملی طور پر کُچھ کرنے کی بجائے دن رات ہماری رائج الوقت پالیسیوں سے کیڑے نکالتے رہتے ہو۔ ابھی بھی وقت ہے سُدھر جاو ورنہ "نا معلوم افراد” کے ذریعے واحد بلوچ کی طرح اُٹھوا لئے جاو گے اور پھر تُمہاری بیٹیاں ہمارے فعال اداروں کے دروازے کھٹکاتی اور بین کرتی پھریں گی کہ پلیز ہمارے "گم شُدہ” کو اپنی ہی عدالتوں سے سزا دلوا دو۔

Views All Time
Views All Time
245
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   میں بھی | شاہانہ جاوید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: