Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پسند (حاشیے) | ذیشان حیدر نقوی

by جولائی 15, 2017 حاشیے
پسند (حاشیے) | ذیشان حیدر نقوی

میری اُس سے دوستی فیس بُک کے توسط سے ہوئی ، اور ہم دونوں نے جلد ہی باغِ جناح میں ملنے کا پروگرام بنا لیا۔

میں اُس دن بڑا تیار شیار ہو کر گھر سے نکلا، آخر کو پہلی بار جا رہا تھا کسی سے ملنے۔ بس اسی خوشی میں وقت سے بھی پہلے پہنچ گیا۔

اتنے میں وہ سراپاءِ قیامت باغ، جناح کے مرکزی دروازے پر اپنی بیش قیمت گاڑی سے اترکر خراماں خراماں چلتی ہوئی داخل ہوئی اور میں لوگوں کی پرواہ کیے بغیراُس کی طرف لپکا۔

اُسے پہلی نطر دیکھتے ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ ضرور کسی ارب پتی باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، برانڈڈ سوٹ، برانڈڈ جوتے، برمونٹ کی گھڑی، آئی فون، گویا ہر چیز اُسکی امارت کا مُنہ بولتا ثبوت تھی۔

اتنے میں ہم چلتے چلتے ایک قریبی بنچ پر جا بیٹھے، ابھی تک میری نظریں اُس کی نظروں کا طواف ہی کر رہی تھیں کہ اُس نے پہلی بار نظر بھر کر مجھے دیکھا اور دیکھتی رہ گئی ۔

میں جو اُس کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہا تھا، میں نے اُسکی نطروں کے تعاقب میں دیکھا تو اُس کی نظریں اپنی شرٹ پر ٹکی ہوئی پائیں۔

وہ میری حیرانگی بھانپ چکی تھی، سو وہ بولی "کتنی گھٹیا پسند ہے تمہاری، صاف پتہ چل رہا ہے کہ یہ شرٹ لنڈے سے خریدی ہوئی ہے۔ مجھے تمہاری پسند پر شرم محسوس ہو رہی ہے”

یہ بھی پڑھئے:   محبت اور پاکستان (حاشیے) | تنویر احمد

میں جو اُن لبوں کے وا ہونے پر، جانے کون کون سی امیدیں وابستہ کیے بیٹھا تھا، اپنے امیدوں کے محلات کی بلند و بالا عمارتوں کو زمیں بوس ہوتے دیکھ کر پہلے تو کچھ سمجھنے کے بھی قابل نا رہا، پھر جب دماغ کچھ سوچنے ، سماعتیں کچھ سُننے اور زبان کچھ کہنے کے قابل ہوئی تو میں اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے فون سے اسکی ایک تصویر بنائی اور اُسے کہا کہ ، "تم نے میری پسند دیکھنی ہے نا؟ تو دیکھواپنی یہ تصویر، اور رہی بات میری لنڈے کی شرٹ کی تو میں جاتے ہی قمرکو گولی ماردوں گا، کمینہ کل بڑے پیار سے یہ شرٹ لایا تھا اور کہہ رہا تھا کہ جانی یہ لے امپورٹڈ شرٹ یہ کل پہن کر جانا "

 

Views All Time
Views All Time
866
Views Today
Views Today
1
mm
ذیشان حیدر نقوی کیمسٹری میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں۔ لیکن کمیسٹری جیسے مضمون پڑھنے کے باوجود انتہائی اچھا مزاح لکھتے ہیں۔
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: