Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں کیا لکھوں..?-ذیشان حیدر نقوی

by جولائی 8, 2017 بلاگ
میں کیا لکھوں..?-ذیشان حیدر نقوی
Print Friendly, PDF & Email

میں پارہ چنار کا نوحہ لکھنا اور خود پڑھنا چاہ رہا ہوں مگر میں ایسا نہیں کر پا رہا۔ یوں لگتا ہے جیسے میرے ہاتھ شَل ہو گئے ہیں، جیسے میری زبان پتھر کی ہو کر رہ گئی ہے۔ جیسے میں بے حس ہو گیا ہوں۔ ایسا اس لیئے نہیں کہ میں اُن مظلوموں و بے کسوں کا درد محسوس نہیں کر پا رہا بلکہ محض اس لیئے کہ میری قبیل کے باقی ماندہ نوحہ خوانوں کی طرح میرے نوحے کو بھی اس بِنا پر نظر انداز کر دیا جائے گا کہ یہ سالا بھی شیعہ ہے تو شیعوں کے حق میں آواز اٹھائے گا۔ میری مزاحیہ تحریروں سے حظ اٹھانے والے بھی یک لخت فرقہ واریت کا لیبل مجھ پر چسپاں کر دیں گے۔ 
میں احمد پور شرقیہ حادثے کا شکار ہونے والوں پر بھی لکھنا چاہ رہا ہوں مگر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ اُن کو غریب کہہ کر حاکمِ وقت کو گالی دوں یا اُن کو لالچی اور جاہل کہہ کر اپنے آپ کو موجودہ دور کے بڑے دانشوروں کی صف میں شامل کر لوں۔
ایک عرصے سے بلوچوں پر بھی لکھنا کا ارادہ ہے، مگر یہاں بھی یہی بیڑی پاؤں میں پڑ جاتی ہے کہ اگر اُن کے حق میں لکھا تو کہیں "را” کا ایجنٹ قرار نا دے دیا جاؤں اور اگر، میرے لفظوں سے کچھ مخالفت کا تاثر پیدا ہو گیا تو قوم پرستوں کے ہاتھوں اپنی عزت کا جنازہ نکلتا ہوا کیسے دیکھوں گا۔
اگر میں حاکمِ وقت سے یہ سوال کر بیٹھوں کہ جنابِ عالٰی! ایسا کیوں ہے کہ آپ کا تیسرا دورِ اقتدار ختم ہونے کو ہے مگرآپ اپنے ملک میں ابھی تک ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں آپ خود اپنا علاج کروانا پسند کریں یا یہ پوچھوں کہ کوئی ایک تعلیمی ادارہ تو ایسا دکھا دیں جہاں آپ اپنے نواسوں اور پوتوں کو پڑھا کر فخر محسوس کریں۔ میں ایسا اس لئے نہیں کروں گا کہ فورا ہی مجھے ، دوسری سیاسی جماعت کا کارکن یا اُن کا تنخواہ دار ہونے کا الزام سہنا پڑے گا۔ جب مسئلہ سب کا ہے تو پھر میں کیوں ایسا سوال کروں۔
اگر میں سابق کپتان اور موجودہ سیاست دان کے غیر دانش مندانہ فیصلوں پر اپنی سمجھ کے مطابق اعتراض کروں تو میری سات پُشتیں پٹواری کہلواتی ہیں اور پھر بات صرف یہیں تک نہیں رُکتی بلکہ گالیاں دینے والے جب تک میری ماں اور بہن کو اس میں شامل نہ کر لیں اُنہیں چین نہیں پڑتا۔ سو میں سیاست بیزار ہی بھلا۔
اگر میں جنوبی پنجاب کے حق میں لکھوں یا بولوں تو مجھے پیپلز پارٹی کا پٹھو کہا جاتا ہے، وہی پیپلز پارٹی جس نے اپنے دورِ اقتدار میں جنوبی پنجاب کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا۔ اور اگر میں ایسا نہ کروں تو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی دھرتی کے غدار ہو۔ کوئی اُن لیڈروں کو غدار کیوں نہیں کہتا کہ جو ، جس کی مرضی حکومت ہو، حکومت میں ہی ہوتے ہیں۔ بلکہ کل ملتان کے ایک شعلہ بیان لیڈر کا (جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے بارے میں) بیان سُن کر میں حیران رہ گیا جو اپنی پیدائش سے لے کر آج تک کبھی وزیرِ خارجہ تو کبھی وزیرِ خزانہ رہا ہے اور اُسکا باپ گورنر پنجاب بھی رہ چکا ہے۔ کوئی اُنہیں تو غدار نہیں کہتا بلکہ سب لیڈر ہی کہتے ہیں۔
جب تک میں سعودی عرب کو گالیاں نہ دے لوں ، شیعہ مجھے شیعہ نہیں مانتے اور جب تک ایران کو ماں بہن کی گالیاں نہ دوں، پاکستانی، مجھے پاکستانی نہیں مانتے۔ 
میرے دوست کہتے ہیں کہ تم پاکستان میں بیٹھ کر سچ نہیں لکھ سکتے تو کسی دوسرے مُلک چلے جاؤ، وہاں بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانیوں کو جتنی مرضی گالیاں دو، کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔عرب ممالک میرے ویزے کی چھ درخواستیں محض اس لئے رد کر چکے ہیں کہ میں ایک سید ہوں اور والد صاحب کے نام میں نُور بھی آتا ہے اور حُسین بھی، سو وہ جب تک نُور اور حُسین کو نہیں مانیں گے مجھے ویزا نہیں دیں گے۔ یورپ جانے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ پاک ہستیوں کی توہین میرے خون میں شامل نہیں، سو امریکہ اور کینیڈا بھی مجھے ویزا دینے سے معذرت کر چکے ہیں۔
پہلے جب آنکھیں نم ہوتی تھیں تو آنکھوں کا پانی، آنسوؤں کا ذائقہ ہی دیتا تھا مگر اب تو یوں لگتا ہے جیسے تیزاب ہو کہ اگر وہ آنسو گالوں پہ گرے تو چہرہ جلا دیں گے اور اگر ضبط کیا تو دل پہ پھپھولے بن جائیں گے۔
سو! میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں مسخرہ ہی بھلا، کیونکہ جب لوگ مجھے بھانڈ کہتے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ یا اللہ تیرا شُکر ہے کہ کوئی مجھے غداریا خود کُش بمبار تو نہیں کہتا۔

Views All Time
Views All Time
872
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: