Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بچہ اور جمورا | ذیشان حیدر نقوی

بچہ اور جمورا | ذیشان حیدر نقوی

عام طور پراگر کسی سرزمیں پر کوئی ادیب، شاعر یا دانشور پیدا ہو جائے تو وہ زمین اور اُس پر بسنے والے لوگ خوشی سے اتراتے نہیں تھکتے۔ مگر کوٹ ادو کے ساتھ زیادتی یہ ہوئی کہ وہاں ایک ہی وقت میں دو ادیب نزول پا گئے (عام طور پر تو وفات پاتے ہیں)۔ ادیب بھی دونوں ایسے کہ جیسے غالب اور میر، یعنی دونوں میں سے ہر ایک سمجھتا ہے کہ وہ ہے تو سب ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ بھی کوٹ ادو کے باسیوں کی طرح پریشانی میں مبتلا ہوں کہ کون میر ہے اور کون غالب۔ذیل میں دونوں کی سحرانگیز و فکرانگیز، طلسماتی، کرشماتی، معجزاتی،کراماتی و جناتی شخصیت کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے کہ آپ کی رائے کوٹ ادو کے باسیوں کی الجھن کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

سید صدیف علی ثقلین گیلانی:
جیسا کہ نام کی طوالت سے ہی اندازہ ہو رہا ہے کہ موصوف نہ صرف کافی ادبی اور فکری شخصیت ہیں بلکہ بہت سی تہذیبوں کے اکلوتے امین ہیں۔ ان کی شخصیت کی خاص بات یہ ہے کہ آپ کو کسی طور بھی یہ اندازہ نہیں ہونے دیتے کہ یہ اصل میں کیا ہیں، کافی سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں(اس بات کا اندازہ ان کی پڑھی ہوئی کُتب اور اُن پر لکھے ہوئے ان کے کلمات سے ہوتا ہے)، لیکن مجال ہے کہ یہ اپنی گفتگو سے آپ کو ذرا بھی احساس ہونے دیں۔ تاریخ سے ان کو اتنا لگاؤ ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آپ دنیا میں کب تشریف لائے تو جھٹ سے جواب دیں گے کہ جب پاکستان میں چوتھا مارشل لاء لگنے کی تیاری ہو رہی تھی۔ تاریخ سے ان کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی ڈائری میں وہ تمام تواریخ لکھ رکھی ہیں جن میں انہوں نے کسی بد نصیب کریانے والے سے ادھار لیا تھا۔ میرے ایک سوال کے جواب میں فرمانے لگے کہ میں ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، اس لئے ادھار لے کر واپس نہیں کرتا تا کہ لوگ مجھے یاد رکھ سکیں۔ شاعری سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ اگر حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کر رہے ہوں تو لگتا ہے وصی شاہ کی کوئی نظم سُنا رہے ہیں۔ اور اگر شاعری سُنا رہے ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سعودی عرب میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو نہ ملنے والی نمائندگی پر نوحہ کناں ہیں۔ خود فرماتے ہیں کہ میں تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا ہوں، میں کبھی یقین نہ کرتا اگر انہیں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو پیڈیاشور(چھوٹے بچوں کا دودھ) پی کر سائیکل پر سواری کرتے ہوئے اپنی گناہ گار آنکھوں سے نہ دیکھا ہوتا۔کہتے ہیں کہ اپنا استاد میں خود ہوں، ان سے مل کر ان کے دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ ساری دنیا کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں اُس کی وجہ چہرہ مبارک پر اکلوتی آنکھ کی دست یابی ہے۔ بچوں میں یکساں مقبول ہیں، اس بات کا اندازہ ان کی حرکات و سکنات سے لگایا جا سکتا ہے۔

رضوان ظفر گورمانی:
خاندانِ گورمانیہ کے واحد پڑھے اور لکھے ہوئے چشم و چراغ ہیں (کم از کم موصوف خود ایسا سمجھتے ہیں)۔ اس کی دوسری وجہ ان کا ماسٹر چراغ دین سے پڑھنا یا لکھنا بھی ہو سکتی ہے۔ خود فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بزرگ نے خواب میں بشارت دی تھی کہ بیٹا بڑے ہو کر تم ادیب بنو گے۔ میں کہتا ہوں اب ادیب تو بن گئے ہیں، اللہ جانے بڑے کب ہوں گے۔
صحافت سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے، یعنی بنا کسی غرض کے کالم پہ کالم لکھتے رہتے ہیں۔ ان کا دل چاہے توکوٹ ادومیں پڑتی ہوئی گرمی کی وجہ سے سورج پر بھی کالم لکھ دیں کہ یہ بھی تختِ لاہور کی سازش میں برابر کا شریک ہے۔ ان کی خاص بات، روپے اور پیسے کے لالچ کے بغیر کالم لکھنا ہے، وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ موصوف کا اخبار ان کو روپیہ تو دور کی بات، ایک پیسہ تک نہیں دیتا۔ موصوف اور صدیف گیلانی ایک جگہ بیٹھ کر کبھی بھی نہیں لکھ سکتے، اب ظاہر سی بات ہے کہ تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھ کر دو بندے کیسے لکھیں گے۔ گورمانی صاحب، صدیف کو ایک ٹکے کا ادیب نہیں مانتے، یہی خیال صدیف کا اِن کے بارے میں ہے۔
گورمانی صاحب کی مادرِ علمی بھی صدیف گیلانی کی طرح وسیع و عریض ہے یعنی استاد کا کوئی پتہ نہیں۔ ایک ایسی امتیازی خوبی جو گورمانی صاحب کو ہم عصر ادیبوں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کے دوست امتیازی صاحب کے ساتھ بہت گہری دوستی ہے۔
اب یہ نہیں کہ گورمانی صاحب میں درج بالا صرف ایک ہی امتیازی خوبی ہے، ایک اور بھی ہے کہ ان کے کالمز کے نام کسی بھی طرح بڑے کالم نگاروں سے کم نہیں ہوتے، مثال کے طور پر، آلو کا فریب، کچے ٹینڈے، کچی لسی اور گرمی، بھنڈی کی فریب کاریاں اور دھنیا کی چٹنی قابلِ ذکر ہیں۔ موصوف کا ارادہ ہے کہ اپنا اخبار نکالیں گے، ان کے کالمز پڑھ کر سمجھ آ جاتی ہے کہ کیوں بضد ہیں (ایک دن تو واقعی، ایک آدمی کی جیب سے نکال لیا تھا)۔ فرماتے ہیں کہ میرا قلم ہی میرا ہتھیار ہے ، صدیف کی زخمی آنکھ دیکھ کر ان کے دعوے کی صداقت پر یقین ہو جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ وسیع القلب انسان ہوں، 2015 تک تھے، پھر آپریشن کروا کر ٹھیک ہو گئے۔ یار دوستوں کو ملتے جُلتے رہتے ہیں، یعنی دوستوں کے گھر جا کر مل آتے ہیں اور اگر کوئی دوست ملنے آ جائے تو پھر ہلتے جُلتے رہتے ہیں۔
جنت پر بھی صرف اپنا حق سمجھتے ہیں، وہ یوں کہ کل روزہ رکھا اور عین دوپہر کے وقت کسی کام سے باہر گئے تو دیکھا کہ ایک شخص پانی پی رہا ہے، اُدھر ہی مصلیٰ بچھایا اور لگے دعا کرنے کہ یا اللہ، اگر اس شخص کو میں نے جنت میں دیکھ لیا تو پھر لڑائی پکی۔
مُلک عزیز میں جس طرح سیاستدان اپنے گوشوارے چھپاتے ہیں، بالکل اُسی طرح گورمانی صاحب اپنی اکلوتی منکوحہ اور ایک عدد بچہ چھپاتے ہیں۔

ایک بار بجٹ کے قریب میں نے گورمانی صاحب سے عرض کی آپ موجودہ بجٹ پر اپنے رائے دیں، گورمانی صاحب روتے روتے زمین بوس ہو گئے اور ہوش و حواس سے بیگانے،کافی جتن کر کے ہوش دلانے کے بعد وجہ پوچھی تو گویا ہوئے، یار نقوی۔ تُو کائنات میں پہلا بندہ ہے جس نے میری رائے طلب کی ہے، ورنہ تو گھر میں کھانا بناتے ہوئے کوئی مجھ سے میری رائے نہیں پوچھتا۔
خود کو کنگ میکر کہتے ہیں، ایک سرائیکی دوست سے مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کَنگ ، سرائیکی میں لسی کو کہتے ہیں۔
ہمارا یہ ماننا ہے کہ اگر کبھی کوٹ ادو باقی مُلک سے الگ ہوا تو ان دونوں کی محنت سے ہی ہوگا۔

mm
ذیشان حیدر نقوی کیمسٹری میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں۔ لیکن کمیسٹری جیسے مضمون پڑھنے کے باوجود انتہائی اچھا مزاح لکھتے ہیں۔
مرتبہ پڑھا گیا
512مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: