Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مولوی | ذیشان حیدر نقوی

مولوی | ذیشان حیدر نقوی

عام انسان، مسلمان، عیسائی، ہندو یا پھر یہودی ہوتے ہیں۔ جب کہ مولوی صرف مولوی ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی مذہب، مسلک یا فرقے سے ہو۔ اسی طرح رہن سہن ،عادات و اطوار اور قیام و طعام کے معاملے میں سب مولوی آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔مولوی عام انسانوں کو ساری عُمر شراب اور شباب سے دور رکھتے ہیں جبکہ خود انہیں کے حصول کے لیئے آخرت کا انتظار کرتے ہیں۔ساری دنیا میں دیکھا گیا ہے کہ جب بھی عام قسم کے پندرہ بیس بندے کھانا کھانے لگیں تو وہ ضرور آپس میں لڑ پڑتے ہیں، جبکہ مولوی چاہیے بیس ہزار بھی ہوں وہ کبھی بھی نہیں لڑیں گے، البتہ وہ اپنا غصہ کھانے پر ضرور نکالتے ہیں۔
مولوی حضرات کو پورے کے پورے الجبرا میں صرف جبر اور تقسیم ہی پسند آتی ہے، اس لیئے وہ سارا زور، جبرسے تقسیم کرنے پر لگاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک مولوی صاحب امریکہ سے واپس آئے تو جمعہ کے خطبے میں ارشاد فرمانے لگے کہ یارو، میں نے وہاں دیکھا کہ شیعہ، سُنی،دیوبندی اور اہلحدیث ایک ہی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا اور پھر میری ایک ماہ کی محنت سے اب سب الگ الگ نماز پڑھتے ہیں۔ آپ اسی مثال سے اندازہ لگا لیں کہ مولوی کو تقسیم کیوں اتنی پسند ہے۔
کسی نے مولوی صاحب سے کثرتِ ازواج و کثرتِ اولاد کا سبب پوچھا تو بولے، میاں، اکثر اوقات ختم کا کھانا بچ جایا کرتا تھا اور مجھ سے رزقِ خدا کی یہ بے توقیری دیکھی نہیں جاتی تھی اس لیئے کُنبے میں اتنے افراد شامل کئے کہ اب کچھ بچ کر دکھائے۔
آپ دیکھیں کہ مُلکِ عزیز میں تمام سروسز کے ریٹ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، لیکن مولوی آج بھی پانچ سو میں نکاح و جنازہ پڑھا دیتا ہے بلکہ اگر ایک ہی جگہ پر نکاح کے بعد جنازہ یا جنازے کے بعد نکاح ہو تو ریٹ کچھ کم بھی کر لیتا ہے۔ ختم پڑھنے کے لیئے البتہ دیسی مرغ اور حلوے کے علاوہ کسی چیز پر تیار نہیں ہوتا۔
فوجی افسر اور ڈاکٹر کے علاوہ، مولوی ہی وہ واحد شخصیت ہے جو اپنے بیٹے کو بھی اپنا ہم پیشہ بنانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔
جسطرح ایک ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسطرح سب مولوی بھی برابر نہیں ہوتے، مگر جسطرح کھانا کھاتے وقت سب انگلیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں اسی طرح کسی ڈکٹیٹر کی محبت میں سب مولوی بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں، ایم ایم اے تو آپکو یاد ہی ہوگی۔
کہتے ہیں کہ جس گھر میں مستری ایک بار گُھس جائے، وہ گھر والوں کا کباڑہ کئے بنا وہاں سے نہیں نکلتا، ہم مولوی کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں۔
البتہ میرا دوست قمر، میرے خیالات سے پہلے پہل اختلاف رکھتا تھا اور مولوی حضرات سے والہانہ محبت کیا کرتا تھا۔ ایک بار مجھے دکھانے، جلانے اور اپنی شادی کی دعا کروانے کے لیئے اُس نے، اپنے ہم صحت مولوی صاحب کی دعوت کی اور دستر خوان پر انواع و اقسام کی ڈشز سجا دیں(دورغ بر گردن قمر، کوئی ستائیں کے قریب کھانے تھے)۔ مولوی نے اپنے سامنے اتنے کھانے دیکھے تو اُسے اپنی تنگ دامنی و تنگ شکمی کا نہایت بری طرح احساس ہوا، مولوی ابھی اسی احساس کے زیرِ اثر ہی تھا کہ قمر نے کہہ دیا مولوی صاحب دعا کروائیں تا کہ کھانا شروع کیا جا سکے، مولوی صاحب قمر پر قہر آلود نظر ڈالتے اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے گویا ہوئے کہ اللہ تجھے بھی بالکل اسی طرح مشکل میں ڈالے جس طرح تم نے مجھے مشکل میں ڈالا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کھاؤں اور کیا نہ کھاؤں۔ بس اُس دن سے قمر بھی میرا ہمنوا بن گیا ہے۔
یار لوگ گورنمنٹ کی نوکری کرنے سے زیادہ مولوی بننے کی کوشش کرتے ہیں، ایک صاحب سے وجہ پوچھی تو بولے کہ اس میں بہت سے فائدے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ریٹائرمنٹ کی کوئی فکر نہیں ہوتی، دوسرا یہ کہ سالانہ دو بونس ( چھوٹی اور بڑی عید)، تیسرا یہ کہ آخری عمر میں جب بیوی مُنہ نہیں لگاتی اور نہ لگانے دیتی ہے، تب دم درود کروانے والیاں میسر ہوتی ہیں تو بندے کا دھیان بٹا رہتا ہے۔
اب یہ بھی نہیں کہ سارے کے سارے مولوی ایسے ہوتے ہیں، بس ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد مولویوں کی وجہ سے باقی تمام مولوی بھی بدنام ہیں۔

mm
ذیشان حیدر نقوی کیمسٹری میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں۔ لیکن کمیسٹری جیسے مضمون پڑھنے کے باوجود انتہائی اچھا مزاح لکھتے ہیں۔
مرتبہ پڑھا گیا
562مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: