Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میری بیوی | ذیشان حیدر نقوی

میری بیوی | ذیشان حیدر نقوی

کافی دنوں سے آپ احباب پڑھ رہے ہیں کہ ذیشان حیدر پر اُسکی بیگم مظالم کے پہاڑ توڑتی ہے۔ حقیقت کیا ہے ، آئیے میں آپکو بتاؤں۔
میری بیگم جیسی شفیق اور مہربان بیگم کوئی دوسری ہو ہی نہیں سکتی(کافی احباب کی بیگمات کو آزمانے کے بعد یہ متفقہ فیصلہ ہے میرا)۔
اتنی رحمدل خاتون میں نے اپنی ساری زندگی میں نہیں دیکھی کہ جو برتن دھلوانے کے بعد اور کپڑے دھلوانے سے پہلے، مجھے ایک گھنٹہ ریسٹ دینا نہیں بھولتی اور اگر کبھی غلطی سے میں اس ایک گھنٹے میں لیٹ جاؤں تو وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر، یہ کہہ کر مجھے اٹھا دیتی ہے کہ جانو! اگر آپ اسطرح درمیان میں گیلے کپڑوں کے ساتھ لیٹ جائیں گے تو پہلی بات یہ کہ آپ بیڈ شیٹ خراب کر دیں گے اور دوسری بات یہ کہ آپکو سرد گرم ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے(سبحان اللہ ، کیا بصیرت پائی ہے اس عظیم خاتون نے)۔۔ پھر اُسے اس بات کا بھی خیال ہوتا ہے کہ یہ ایک گھنٹہ فارغ بیٹھنے سے کہیں مجھے کَھلیاں نا پڑ جائیں اس لئے وہ مجھ سے بریک والے ایک گھنٹے میں زیادہ مُشقت طلب کام نہیں کرواتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ کبھی سبزی وغیرہ چھیل دی یا کسی بچے کا ڈائیپر بدل دیا یا پھر کسی بچے کو فیڈر بنا دیا. اگر یہ بھی نا ہوا تو چھوٹے بچے کو جُھولا وغیرہ جُھلا دیا ۔
وقت کی بہت پابند ہے. مَجال ہے جو ایک منٹ بھی ضائع کرے اس لئے جیسے ہی ایک گھنٹہ ختم ہوتا ہے فورا ہی نہایت پیار سے کہتی ہے کہ جانو اُٹھیں نا کپڑے دھو لیں، پھر کہیں لائیٹ ہی نا چلی جائے۔
مجھے بھی اس چیز کا بہت خیال ہوتا ہے کہ ہمارے واپڈا والے میری بیگم کی طرح ٹائم کے بہت پابند ہیں. ایک منٹ اِدھر سے اُدھر نہیں ہونے دیتے۔ کپڑے دھلائی کے فورا بعد چونکہ اِستری بھی کرنے ہوتے ہیں (آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنا جلدی کیسے سوکھ جاتے ہیں تو اسکا جواب یہ ہے کہ جو استری کرنے ہوتے ہیں وہ گُزشتہ کل والے ہوتے ہیں، جو میں دفتر سے گھر آتے ہی تاروں سے اتار کر رکھ دیتا ہوں، اور یوں میں بھی کافی ٹائم اینڈ انرجی مینجمنٹ اپنی بیگم سے سیکھ رہا ہوں)
میں گزشتہ سات سال سے اُس مہان عورت کی فہم و فراست کا قائل ہوں.مجھے آج تک نہ پتہ چل سکا کہ کونسے کپڑے ہاتھ سے دھونے ہیں اور کونسے واشنگ میں۔ اکثر سوچتا ہوں کہ اگر میری بیوی نا ہوتی تو میرا گھر کا کتنا معاشی نقصان ہوتا ۔
بچوں کی صحت کے بارے میں خاصی فکر مند رہتی ہیں.اُنکا خیال ہوتا ہے کہ جس جگہ پر بچے کھیلیں وہ جگہ جراثیم سے مکمل پاک ہو سو کام والی سے جھاڑو پونچھا نہیں کرواتی.کہتی ہیں کہ آپکے بچے ہیں سو فنائل لگا کپڑا بھی آپ ہی پھیریں فرش پر۔ میں بچوں کے بارے میں اُسکی فکر مندی دیکھ کر بہت مطمئن ہوتا ہوں۔
ایک ایک پائی بچاتی ہیں سو جب بھی اتوار بازار جائیں، مجھے بطورِ خاص ساتھ لیکر جاتی ہیں، کہتی ہیں کہ سبزیوں وغیرہ کے شاپر اٹھانے پر مزدور کو دس بیس دینے سے بہتر ہے کہ آپ اٹھا لیا کریں، اس سے آپکی ایکسرسائز بھی ہو جایا کرے گی اور پیسے بھی بچ جائیں گے.
اب آپ یقینا یہ بھی سوچ رہے ہوں کہ میری بیگم مجھ سے کھانا بھی بنواتی ہوگی تو اسکا جواب یہ ہے کہ بالکل بھی نہیں۔ امورِ کھانا داری میں میری ڈیوٹی صرف اتنی ہوتی ہے کہ پیاز اور لہسن چھیل دوں، یا پھر آگ جلا کر اُس پر ہانڈی رکھ دوں اور اسکے اندر گھی اور باقی ماندہ مصالحہ جات ڈال کر اچھی طرح ہلا دوں اور پھر وقتا فوقتا اُسے چیک کرتا رہوں، کبھی آنچ ذرا دھیمی کر دی تو کبھی تیز۔
آٹا گوندھنے سے روٹیاں بنانےتک، البتہ وہ کسی پر بھی اعتماد نہیں کرتی سوائے میرے۔۔ وہ کہتی ہے کہ مجھے آٹا گوندھتا دیکھ کر اُسے اپنے ابا مرحوم کی یاد آ جاتی ہے (اللہ مرحوم کی مغفرت کرے) کہتے ہیں کہ آٹا گوندھنے سے انکار ہی آنجہانی سُسر کا آخری پاپ ثابت ہوا تھا، شواہد بتاتے ہیں کہ ساس مرحومہ بھی میری زوجہ محترمہ کی طرح کافی سلیقہ شعار خاتون تھیں۔

mm
ذیشان حیدر نقوی کیمسٹری میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں۔ لیکن کمیسٹری جیسے مضمون پڑھنے کے باوجود انتہائی اچھا مزاح لکھتے ہیں۔
مرتبہ پڑھا گیا
827مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: