Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایک لڑکی – زرمینہ سحر

by اکتوبر 22, 2016 بلاگ
ایک لڑکی – زرمینہ سحر
Print Friendly, PDF & Email

zarmina-saharمیں نے ہمیشہ سنا تھا کہ میڈیا کی نوکری اچھی نہیں ہوتی۔ یہاں پر لوگ لڑکیوں کو کھانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے جب میں نوکری کی تلاش میں لاہور کی سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی تھی اور میڈیا ہاؤس والے مجھے میرے حجاب کی بنا پر رکھنے کو تیار نہ تھے تو مجھے ایک بینک میں نوکری مل گئی۔ نوکری کے چند دن میں ہی مجھے اندازا ہوا کہ میڈیا والے تو کچھ بھی ٹھرکی نہیں ہیں جتنے ٹھرکی یہ بینکرز ہیں۔ جو بندہ آپکی جیب سے پیسہ نکلوانے میں لمحے لگاتا ہے وہ لمحوں میں ایک لڑکی کو کہاں سے کہاں پہ پہنچا سکتا ہے۔ یہاں قصور ان لڑکیوں کا نہیں ہوتا جو حالات سے مجبور ہو کر گھر سے کمانے نکلتی ہیں بلکہ قصور ان مردوں کی نظروں اور ذہنیت کا ہے جو گھر سے نکلی لڑکی کو تازہ مال سمجھتے ہوئے باپ کا مال بھی سمجھ لیتے ہیں۔ خیر لگن تھی کہ مختصر عرصے کے دھکوں کے بعد میں نے بھی میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھ دئیے۔ یہاں آکر خود سے کیے وعدے اور کام کرنے کی عادت نے بہت کم وقت میں اچھا نام بنایا لیکن مسئلہ اب یہ ہوا کہ میرا انداز نازک اندام لڑکیوں جیسا نہیں تھا۔ لہزا میری باقیوں لڑکیوں کی طرح آؤ بھگت نہ ہوتی تھی اور میں خوش تھی اس بات سے کہ میرا کام میری پہچان ہونی چاہیے نا کہ ادائیں۔۔ خیر وقت گزرتا گیا اور مجھے ثابت کرتا گیا۔ گرمیاں اپنے اختتام کو ہیں اور رنگ کے ساتھ ساتھ صحت بھی بہتر ہوتی جا رہی ہے لیکن اب مسئلہ یہ کہ میرا وزن بڑھ گیا اور دیکھنے میں تھوڑی بہتر ہو گئی ہوں تو اب لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بننے لگی ہوں۔ لیکن یہاں لوگوں کے دوہرے معیار پر حیرت میں ہوں اور کئی طرح کی باتوں سے تنگ بھی۔۔ کہ میں رپورٹر ہوں لوگ جانتے ہیں مجھے، میں اپنی کوئی اچھی تصویر نہیں لگا سکتی کسی سوشل میڈیا پر کیونکہ میرے ساتھ کام کرنے والوں کو باہر کے لوگ کہتے ہیں کہ جی آپکی رپورٹر تو بہت بولڈ ہے۔ واہ کیا تصویریں لگاتی ہے۔ میں اپنی رپورٹر سہیلی کے ساتھ کوئی لگا لوں تو دس لوگ پوچھیں گے وہ سہیلی کون ہے پیاری سی؟ نام اور نمبر دے دو۔۔۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے .
عموما مردوں کے ساتھ کام کرنے والیوں کو تو انتہائی نچلے درجے کی عورت سمجھا جاتا ہے۔ کسی مرد سے زرا بات کرلے تو وہ اس کے ساتھ سیٹ ہے۔ معاشرے کا ہر مرد اسے ایسے دیکھے گا جیسے بس اسی کے لئے بنی ہوں۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ اگر ہمارے دیکھنے سے اسے اتنا ہی مسئلہ ہے تو گھر جا کر بیٹھے۔ نہ لگائے سوشل میڈیا پر تصویریں۔ نہ پہنے ایسے کپڑے۔ یہ نہ کرے۔ وہ نہ کرے۔ وہ لڑکی ہے اسے خود خیال ہونا چاہئیے اپنی عزت کا، وغیرہ وغیرہ۔۔
مجھے اپنی دوست کی ایک بات بہت اچھی لگی کہ یار اللہ نے صرف عورت کو ہی پردہ کرنے کا حکم نہیں دیا مردوں کو بھی اپنی نگاہ جھکانے کا حکم دیا ہے۔ اگر عورت کا نا محرم مرد کو دیکھنے پر گناہ ہوتا ہے تو بھئ مرد کو بھی تو اتنا ہی گناہ ہوتا ہے نا محرم عورت کو دیکھنے کا۔۔ یا اللہ نے سپیشل مردوں کو ہی معاف کرنا ہے بے پردگی پر ؟ عورت کرے گی تو وہ فاحشہ ہے بس۔۔۔
لیکن میرے نزدیک عورت ایک بہت باعزت مخلوق ہے کیونکہ اللہ کے بعد وہی خالق ہے۔ اور جو خالق کی عزت نہیں کر سکتا اسے عورت کو باپ کا مال سمجھنے پر یہ ضرور یاد رکھنا چاہیئے کہ مکافات عمل اسی دنیا میں ہوتا ہے اور اللہ کے وعدے کے مطابق یہ سب کچھ لوٹ کر مرد کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی تک ضرور آتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
1457
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بوذری کی مستی سے ملی سرشاری | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: