Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماں | زرمینہ سحر

by مئی 19, 2017 بلاگ
ماں | زرمینہ سحر

کہنے کو تو حروف جب الگ ہوں تو کچھ نہیں ہوتے لیکن جب جڑ جائیں اپنے اندر کائنات سمیٹ لیتے ہیں۔ اور ماں جیسے لفظ کو محبت کا آب زم زم کہوں یا دعا کا سمندر، سمجھ نہیں آتا۔

رات گہری تھی، سولہویں کا چاند اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا کہ بادلوں سے اس کا حسن دیکھ کر رہا  نا گیا۔ میں دونوں کی اٹھکیلیاں دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی تو ساتھ بچھی چارپائی چرچرائی اور ماں کی آواز آئی "میرے پاؤں دبانا”، چاند اور بادلوں سے نظریں ہٹا کر میں نے ماں کا چہرہ دیکھا اور پاؤں دبانے لگی، تبھی آنسو سے بھیگا چہرہ نظروں کے سامنے آ گیا، جس کہ چہرے کی جھریاں بھی سہمی ہوئی تھی،

"ارے یہ ماں تو اپنے بیٹے کو اپنے قابومیں کر کے رکھنا چاہتی ہے”، کہیں دور سے آواز آئی۔

 "یہ زمین ہمارے نام نہیں کر رہی اسے گھر سے نکال دو”، ایک اور آواز نے سر اٹھایا۔

” بھائی ماں ہمارے پیسے پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے اسے مار دو تو پیسہ ہمارا”، کہیں کوئی فکر مند نظر آیا۔

” سنو یہ بڑھیا پاگل ہے تمہیں بسنے نہیں دے گی "کوئی سرگوشی کان میں پڑی۔۔۔

"یہاں سے دباؤ، پٹھے کھینچے گئے ہیں شاید پاؤں کے”، میری ماں کی آواز آئی اور میں ہر خیال جھٹک کر دلجمعی سے پاؤں دبانے لگی، آخری اولاد ہوں نا تبھی تو میرے حصے میں میری ماں آئی اور میں مسکرا کر اس کا تازہ خواب بھی ساتھ ساتھ سنتی گئی۔ جونہی درد میں افاقہ ہوا وہ نیند کے وادی میں پھر کھو گئی اور میں چاند بادلوں کی اٹھکیلیوں میں۔

 کچھ دیر بعد سسکنے کی آواز نے مجھے چونکایا، اور نقاش کی تصویر کو چومتے روتے ماں کی آنسو میں ڈوبی فریاد نے دل دبوچ لیا۔۔ اور "میرے مرنے پر بھی وہ نہیں آئے گا” کے جملے نے مجھے غمزدہ کیا۔۔ میں تو اس کا غم دنیا کے سامنے لانے گئی تھی لیکن دکھ میں اس کے ساتھ ہی بہہ گئی تھی، میرا کیمرہ مین ہنسنے لگا مجھے روتے دیکھ کر اور میں اس بد نصیب اولاد پر جس نے اپنی ماں کو تپتی دوپہر میں اس گھر سے باہر لا کھڑا کیا جہاں کبھی وہ اس کو اپنے بطن میں اٹھائے پھرتی تھی، جس کے آنگن میں بیٹے کے پہلے قدم کے نشان چوما کرتی، جہاں کے دو و دیواروں میں ماں کو پکارنے کی گونج آتی تھی، اور کونہ کونہ ننھے ہاتھوں کی نرماہٹ محسوس کرتا تھا، وہ کھڑی رہی اس گھر کا در بند ہونے پر اور کتنا وقت بیت گیا۔۔ لیکن آج۔۔۔ وہ ترس رہی ہے بیٹے کو چھونے کو، اس آس سے دروازے کی طرف دیکھتی کہ شاید نقاش کا چہرہ نظر آجائے اور پھر اسے سینے سے لگا کر اپنا ہر غم بھلا دے، اور میں اس ماں کا ہاتھ تھامے بیٹھی بس یہی سوچتی رہی کہ کہاں سے لاتے ہیں لوگ ماں کے دل پر پیر رکھنے کا حوصلہ، کیسے رہ رہا ہوگا وہ اپنی جنت کے بغیر، اس ماں کی آہ و پکار اور بے بسی سے میرا دم گھٹنے لگا تھا۔۔ کمرہ خوبصورت جیل جیسا تھا اور ہوادار ہونے کے باوجود مجھے سانس نہیں آرہا تھا۔۔ سوچیں بڑھ گئی تھیں یا تھم گئی تھیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا بس ماں پر ذہن اٹک گیا اور لبوں پر دعا آئی کہ خدا کسی ماں کو ایسی بد نصیب اولاد نا دے جو خود اپنے ہاتھوں سے جنت کو ٹھکرا دے۔۔۔۔

 

Views All Time
Views All Time
506
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: